خبردار! آپ کا بینک اکاونٹ خالی ہو سکتا ہے
ارضِ پاکستان میں ویسے تو کچھ بھی محفوظ نہیں کہ حکومتی ادارے "بڑے بھائی” کی سرپرستی میں عوامی فلاح و بہبود کی "دیگر” سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ایسے میں فِشنگ (Phishing) اور آن لائن فراڈ کی بڑھتی ہوئی وبا ایک تشویشناک اور سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ جس رفتار سے ڈیجیٹل بینکاری اور آن لائن لین دین روزمرہ کا معمول بنتے جا رہے ہیں، اسی تیزی سے شاطر مجرم اور موقع پرست عناصر بھی عوامی لیڈران اور رہبرانِ مملکت کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جدید ترین حربوں کے ذریعے عوام کو لوٹنے کے نِت نئے حربے ایجاد کر رہے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ جرائم پیشہ گروہ وسیع پیمانے پر بلا خوف و خطر اپنی سرگرمیوں سے سرِعام لوٹ مار کا بازار گرم کر کے لاوارث عوام کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو رہے ہیں کہ اس نظام میں وہ واقعی عوام ہیں۔ اس مجرمانہ پیش رفت کے جن "فوائد” سے عام شہری "لطف اندوز” ہو رہے ہیں ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں ہمارے حکمران اپنی محنت کی کمائی سے محروم ہو جانے والوں پر اس جرم کے نتیجے میں معاشرے میں باہمی اعتماد کی فضا مجروح کرنے کا الزام نہ دھر دیں۔ ایسے میں عوام کو "سواری اپنے سامان کی حفاظت خود کرے” کے مصداق ہوشیار باش ہو جانا چاہئے اور "بوٹوں تلے” روندے ہوئے اداروں کے ناتواں کاندھوں پر تکیہ کرنے کے بجائے خود انحصاری پر توجہ کرنی چاہئے۔
اس تحریر میں ہماری کوشش ہوگی کہ اس بڑھتے ہوئے مسئلے کا تجزیہ کر کے یہ واضح کرنے کی کوشش کریں کہ جرائم پیشہ افراد کے آن لائن فراڈ کے طریقہ ہائے واردات کیا ہیں ، ان کے شر سے کیسے بچا جا سکتا ہے اور فراڈ ہونے کی صورت میں کیا اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔
فِشنگ کی اصطلاح انگریزی کے لفظ "Fishing” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے مچھلی پکڑنا۔ جس طرح ماہی گیر مچھلیوں کو پکڑنے کے لیے چارہ ڈالتا ہے، بالکل اسی طرح فِشنگ کرنے والے مجرمین بھی مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو اپنے جال میں پھانستے ہیں۔ یہ حربے انتہائی مکارانہ اور پر فریب ہوتے ہیں، اور اکثر اوقات عام آدمی کے لیے ان کی اصلیت کو پہچاننا اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے جتنا نو مئی کے واقعات میں ملوث شر پسند عناصر کو۔
پاکستان میں فِشنگ کے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
دھوکے باز کسی معتبر ادارے، جیسے کہ بینک، سرکاری محکمہ، یا کسی قابل اعتماد آن لائن سروس کی نقالی کرتے ہوئے آپ کو ای میلز بھیجتے ہیں۔ ان ای میلز میں اکثر آپ کے اکاونٹ سے متعلق کسی مسئلے کا ذکر ہوتا ہے، جیسے کہ اکاءونٹ بلاک ہو جانا، پاس ورڈ ایکسپائر ہو جانا، یا کسی انعام کا لالچ۔ ای میل میں ایک لنک دیا جاتا ہے جس پر کلک کرنے سے صارف ایک جعلی ویب سائٹ پر پہنچ جاتا ہے، جو کہ اصل ویب سائٹ کی ہو بہو نقل ہوتی ہے۔ وہاں صارف سے اپنی ذاتی معلومات (جیسا کہ ای میل اور پاس ورڈ وغیرہ) درج کرنے کو کہا جاتا ہے، جو کہ دھوکے بازوں کے ہاتھ لگ جاتی ہیں۔
ای میلز کی طرح، دھوکے باز جعلی SMS پیغامات (سمی شنگSmishing ) کے ذریعے بھی لوگوں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔ ان پیغامات میں بھی کسی مسئلے کا ذکر ہوتا ہے اور ایک لنک دیا جاتا ہے جس پر کلک کرنے سے صارف ایک جعلی ویب سائٹ پر پہنچ جاتا ہے۔
یا یہ کسی بینک یا سرکاری ادارے کا نمائندہ بن کر فون کال کرتے ہیں اور مختلف بہانے بنا کر صارف سے اس کی ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طریقہ واردات کو وِشنگ (Vishing) کہتے ہیں۔ یہ کالز اکثر اوقات انتہائی پر اعتماد انداز میں کی جاتی ہیں اور کال وصول کرنے والے شہری کو اس قدر ذہنی دباو میں لایا جاتا ہے کہ وہ دھوکے باز کی ہدایات پر عمل کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ چنانچہ افواہوں اور مبینہ دھمکیوں سے خائف ہوکر لوگ خود ہی مجرموں کو (OTP)، ڈیبٹ کارڈ کی تفصیلات یا آن لائن بینکنگ کا یوزر نیم اور پاس ورڈ فراہم کر دیتے ہیں۔
اسی طرح دھوکے باز سوشل میڈیا پر جعلی پیجز بناتے ہیں اور ان پر ایسے اشتہارات چلاتے ہیں جو کہ لوگوں کو کسی انعام یا آفر کا لالچ دیتے ہیں۔ ان اشتہارات پر کلک کرنے سے صارف ایک جعلی ویب سائٹ پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس سے اس کی ذاتی معلومات مانگی جاتی ہیں۔ یہ لوگ اصلی ویب سائٹس کی ہو بہو نقل تیار کرتے ہیں اور انہیں انٹرنیٹ پر چلاتے ہیں۔ ان ویب سائٹس پر اکثر اوقات کسی خاص آفر یا ڈسکاونٹ کا اعلان ہوتا ہے جس سے لوگ متوجہ ہوتے ہیں۔ وہاں صارف سے اپنی ذاتی معلومات درج کرنے کو کہا جاتا ہے جو کہ دھوکے بازوں کے ہاتھ لگ جاتی ہیں۔
اس طرح کی وارداتوں میں نفسیاتی حربوں سے شکار کو پھنسانے کی سازش یعنی سوشل انجینئرنگ کی جاتی ہے۔ اکثر وارداتیے اس طرح کے الفاظ استعمال کر کے آپ کو بوکھلاہٹ کا شکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ” آپ کا اکاءونٹ بند ہونے والا ہے، فوری تصدیق کریں” یا پھر "ہم اسٹیٹ بینک کی طرف سے رابطہ کر رہے ہیں، آپ کی رقم خطرے میں ہے، فوراً پاس ورڈ فراہم کریں” وغیرہ۔ روزنامہ ٹریبیون کے مطابق، ایف آئی اے نے صرف 2023 میں ایک لاکھ سے زائد سائبر کرائم کی شکایات موصول کیں، جن میں سے تقریباً 60 فیصد صرف فِشنگ سے متعلق تھیں۔ مزید براں، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (PTA) کے ایک سروے کے مطابق، موبائل فراڈ، بالخصوص سمی شنگ کے ذریعے گزشتہ برس تقریباً پچاس ملین روپے کا مالی نقصان ریکارڈ کیا گیا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے نظام میں عام لوگوں کے تحفظ کا میکانزم اس قدر ناقص ہے کہ متعدد متاثرین اول تو قانونی چارہ جوئی سے گریز کرتے ہیں، اور اگر کرتے بھی ہیں تو انہیں سرکاری دفاتر کے اتنے چکر لگوائے جاتے ہیں کہ وہ دل برداشتہ ہو کر اپنے نقصان پر انا للہ پڑھ لیتے ہیں اور فراڈیے بے خوف و خطر اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔
اس ضمن میں ایف آئی اے کی مختلف رپورٹیں یہ انکشاف کرتی ہیں کہ بہت سی وارداتوں میں براہِ راست بینک کے اہلکار یا کال سینٹر ایجنٹ ملوث ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، گوجرانوالہ میں پکڑے گئے ایک منظم گروہ نے اعتراف کیا کہ ایک نجی بینک کا منیجر انہیں صارفین کے ذاتی کوائف اور بینک اکاونٹ کی تفصیلات مہیا کرتا تھا۔ ایسے منظم دھوکے باز گروہ دیہی علاقوں میں فرنچائز شاپس کھول کر لوگوں سے انگوٹھے لگوا کر جعلی سمیں ایکٹیویٹ کرتے ہیں اور انہیں آن لائن ٹرانزیکشن میں استعمال کرتے ہیں۔ مزید ستم ضریفی دیکھئے کہ نادرا کا بائیو میٹرک تصدیقی نظام بھی اتنا کمزور ہے کہ آپ جاز کیش یا ایزی پیسہ جیسے آن لائن بینکنگ اکاونٹس بنانے کے لیے کسی شخص کی ذاتی معلومات درج کر کے اس کی بائیو میٹرک تصدیق کے لیے کسی کے بھی فنگر پرنٹس استعمال کریں تو اکاونٹ کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ یوں ریاستی اداروں کی سنگین غفلت، جو شہریوں کی حساس معلومات کے تحفظ میں ناکامی اور فرسودہ ڈیٹا پروٹیکشن پالیسی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، بدستور برقرار ہے جبکہ ان فراڈیوں کے پاس وافر سرمایہ، سیاسی اثر و رسوخ اور ”اندر کے لوگوں“ تک رسائی موجود رہتی ہے۔ اگرچہ متعدد ملزمان پر چھاپوں کے دوران ایف آئی اے کی ٹیموں پر حملے بھی ہوئے،مگر حیران کن طور پر بہت سے مجرموں کو ایسے چھاپوں کی پیشگی اطلاع مل جاتی ہے اور وہ فرار ہو جاتے ہیں۔
قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ اس قدر کھلی مالی بدعنوانی کے خلاف حکومت، اسٹیٹ بینک یا نادرا جیسے بڑے قومی ادارے بھی اصلاحی اقدامات کا محض اعلان کرتے ہیں، لیکن ان اعلانات کو عملی جامہ پہنانے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ محض بیانات جاری ہو جاتے ہیں، ڈیٹا سکیورٹی کے معیارات مقرر کر دیے جاتے ہیں، لیکن ان پر کسی قسم کا موثر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔ حالانکہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ آن لائن بینکنگ اکاونٹس کے استعمال میں بائیومیٹرک تصدیق، ڈیوائس رجسٹریشن اور صارفین کو ایس ایم ایس الرٹس جیسے حفاظتی اقدامات اختیار کیے جائیں۔ مگر بد قسمتی سے ہمارے بینک نا صرف ایسی مشکوک ٹرانزیکشنز کو روکنے میں ناکام ہیں بلکہ صارفین کے اکاونٹس کا ڈیٹا اور رقم بھی ان کے شر سے محفوظ نہیں۔ ہمارے بینکوں کے اس شرمناک کردار پر یہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ
راہزنوں سے تو بچ نکلا تھا
راہبروں نے آن گھیرا ہے
یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ ہمارے عوام کی اکثریت معاشی اور تکنیکی اعتبار سے کمزور ہے۔ بہت سے لوگ تو روزگار اور غربت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ اس لئے کوئی بیرونِ ملک کی کسی شہزادی یا امیر بیوہ کی طرف سے ملنے والی رقم کا منتظر ہے تو کوئی لاٹری نکلنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ کوئی آن لائن نوکری کی تلاش میں سرگرداں ہے تو کسی کو قرض کے بوجھ سے چھٹکارا پانے کا آسان حل کسی ایسی فراڈ اسکیم کے جھانسے میں لے آتا ہے۔ کوئی خود کو بیرونِ ملک سے کسی کا رشتہ دار ظاہر کرکے رقم طلب کرتا ہے،تو کوئی کسٹم ڈیوٹی کے نام پر پیسے اینٹھ لیتا ہے کہ آپ کا پارسل ایئرپورٹ پر رکا ہوا ہے، رقم بھجوا دیں تاکہ پارسل چھڑوا کر آپ کے گھر پہنچا دیا جائے۔ ایسے لاتعداد واقعات روزانہ پیش آتے ہیں جن میں لوگ ’قسمت آزمائی‘ کے چکر میں اپنی رقم گنوا بیٹھتے ہیں۔ اس نفسیاتی کمزوری اور فوری دولت کمانے کی خواہش کو دیکھتے ہوئے دھوکے باز انہیں دلفریب جھانسوں میں پھانس لیتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں عوام اپنی حفاظت کیسے یقینی بنائیں؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی کال، میسج یا ای میل پر اندھا اعتماد نہ کریں۔ کبھی بھی اپنا ATM پن، یوزر نیم، پاس ورڈ، یا CNIC کی تفصیلات کسی اجنبی کو نہ بتائیں۔ اگر کوئی اپنے آپ کو بینک کا نمائندہ ظاہر کر رہا ہے تو فوراً فون منقطع کر دیں اور خود بینک کے مصدقہ ہیلپ لائن نمبر پر کال کرکے صورتحال معلوم کریں۔ یاد رکھیں کہ کوئی بھی بینک کبھی بھی صارف کا پاس ورڈ یا OTP نہیں مانگتا۔ اگر کوئی ایسا مطالبہ کر رہا ہے تو وہ یقینا دھوکے باز ہے۔ اسی طرح یہ غلط فہمی بھی ذہن سے نکال دیں کہ فون کال بینک کے آفس نمبر سے آئے تو وہ مستند ہوگی؛ ہیکرز اور جعل ساز سافٹ سم (Soft SIM) اور ماسکنگ کی تکنیک سے کسی بھی سرکاری یا بینک نمبر کو آپکی موبائل اسکرین پر ظاہر کروا سکتے ہیں۔ کسی نامعلوم لنک پر کلک نہ کریں، غیر مصدقہ ایپس (خصوصاً .apk قسم کی فائلیں) ڈاون لوڈ نہ کریں، ہر وقت اپنا اینٹی وائرس اپ ٹو ڈیٹ رکھیں، اور واٹس ایپ، جی میل، سوشل میڈیا وغیرہ کے لیے بھی دو سطحی (Two Factor Authentication) حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔ اگر کوئی غیر متوقع کال موصول ہو تو فوری طور پر رقم یا معلومات فراہم کرنے کی غلطی ہرگز نہ کریں، بلکہ سوچ سمجھ کر بینکوں اور سرکاری اداروں سے دوبارہ تصدیق کریں۔ جو لوگ خود کو انتہائی مجبور ظاہر کریں یا کسی ”شاندار موقع“ کا لالچ دیں تو فوراً سمجھ جائیں کہ اکثر یہ سنہری موقع انہی کے لیے ہوتا ہے، آپ کے لیے نہیں۔
اگر کسی دھوکے کا شکار ہو جائیں تو بلا تاخیر متعلقہ بینک کو مطلع کریں اور اپنا اکاونٹ بلاک کروائیں۔ اس کے بعد سائبر کرائم سیل (FIA) میں شکایت درج کروائیں۔ اگر بینک تعاون نہ کرے تو 45 روز کے بعد آپ بینکنگ محتسب سے رجوع کر سکتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (PTA) کی ہیلپ لائن 080055055 پر بھی مشکوک نمبرز کی شکایت درج کروا کر انہیں بلاک کروایا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، FIA کے آن لائن پورٹل complaint.fia.gov.pk اور ہیلپ ڈیسک helpdesk@nr3c.gov.pk یا 1991 پر کال کر کے بھی اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ زیادہ سنگین مقدمات کے لیے براہِ راست قریبی سائبر کرائم زون کے دفتر جا کر درخواست دی جا سکتی ہے۔ اپنے ساتھ ہونے والی دھوکہ دہی کو پوشیدہ رکھنے کے بجائے فوراً رپورٹ کریں، تاکہ آئندہ مراحل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ معلوم ہو سکے کہ فراڈ کا دائرہ کار کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔
اس تمام تر صورتحال میں ہمارے لئے ایک اہم سبق یہ ہے کہ ماقی ماندہ معاملاتِ زندگی کی طرح ” اپنے ڈیجیٹل ڈیٹا اور ذاتی معلومات کی حفاظت کے ذمہ دار بھی عوام خود ہی ہے “۔ لہٰذا جتنی جلدی ممکن ہو ڈیجیٹل جہالت سے نجات حاصل کریں۔


