پی ایچ ڈی یورپ اور ہم (2)


ہم دیبرسن ہنگری پہنچ کر کورین ہاسٹل میں ایک رات گزار چکے تھے، کمال صاحب کے کمال سے استفادہ کرنے سے معذرت بھی کر چکے تھے اور عجیب لباس میں ہنگری کی پہلی صبح کی بادِ صبا سے لطف اندوز ہو کر واپس آئے، ناشتے کی سبیل کی اور پھر رجسٹریشن کے متعلق سوچنے لگے۔ عمیر بھائی نے حُسام صاحب سے رابطہ کیا، حُسام صاحب کا تعلق عراق سے تھا اور دیبرسن یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے، عمیر بھائی نے حسام سے فیس بک کے ذریعے رابطہ کیا تھا البتہ حسام نے ہمیں کمال کی طرح کمال نہیں دکھایا بلکہ بالکل بے لاگ مدد کی، انہوں نے ہمیں مین بلڈنگ آنے کا کہا۔

یونیورسٹی کی مین بلڈنگ 1932 میں تعمیر ہوئی تھی جبکہ یونیورسٹی کی بنیاد سولہویں صدی عیسوی میں ریفارمڈ کالج آف دیبرسن کے طور پر 1538 میں رکھی گئی، یہ کالج علاقے میں تعلیم کا مرکزی کردار ادا کرتا رہا، دیبرسن شہر کی کل آبادی 2 لاکھ نفوس ہے جبکہ یونیورسٹی کے طالبعلم تقریباً 30000 سے زیادہ ہیں جن میں سے 7300 کے قریب بین الاقوامی طلبہ ہیں جن کا تعلق 130 ممالک سے ہے، دیبرسن کا وجود نویں صدی عیسوی میں ملتا ہے جبکہ اسے شہر کا درجہ 1235 میں عطا ہوا۔ یہاں کی زیادہ تر آبادی کیلونسٹ، رومن کیتھولک یا گریک کیتھولک عیسائی مذہب کے ماننے والے ہیں۔ دیبرسن نام کا مطلب زندہ یا حرکت ہے یہ نام ترکش زبان سے مطالق ہے جب کہ سلووک زبان کے مطابق دیبرسن کے معنی ’اچھی زمین‘ کے ہیں۔ زمین تو و اقعتاً بہت اچھی ہے، بہت زرخیز اور آلودگی سے پاک، لوگ ملنسار، خوب صورت اور خاموش طبع کرائم ریٹ نہ ہونے کے کے برابر۔ اِس 2 لاکھ نفوس کے شہر میں 2 ٹرام لائنز ہیں یعنی لاہور جیسی اورنج ٹرین جیسی 2 ٹرینیں اور 45 کے قریب بسوں کے روٹس جس میں الیکٹرک بسیں بھی شامل ہیں۔ دیبرسن کا تعلق ہنگرین گریٹ پلین ریجن سے ہے اور ہارتوباجی نیشنل پارک اس کے قریب ہے۔ دیبرسن 1858 سے 1693 تک سلطنت عثمانیہ کی حکومت کے تحت ڈویژن بھی رہا۔ پہلی جنگ عظیم کے ہارنے کے بعد دیبرسن کا بہت سارا علاقہ رومانیہ کو دے دیا گیا، دونوں عظیم جنگوں میں ہنگری یا ماجارستان (ہنگری کا دوسرا نام) جرمن ساتھی ہونے کی بنا پر جنگ ہارنے والوں میں سے تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں دیبرسن قریبا 70 فی صد تباہ ہو گیا تھا۔ اکتوبر 1944 میں دیبرسن شہر کے قریب گھمسان کی جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں 20 اکتوبر 1944 کو سوویت بلاک نے دیبرسن کو فتح کر لیا۔ دیبرسن کی تعمیر نو زیادہ تر اسی دور میں ہوئی۔ جس ہاسٹل میں ہم قیام پذیر رہے وہ بھی سوویت حکومت کے دوران ہی تعمیر ہوا تھا۔ 23 اکتوبر 1956 میں دیبرسن سے ہی انقلاب کا آغاز ہوا، پہلی جانی قربانیاں دیبرسن کے رہائشیوں نے ہی دیں کہ یہاں پولیس نے انقلابیوں پر گولی چلائی، یہ انقلاب 12 دن تک رہا اور ہزاروں جانوں کا نذرانہ ماجارستان (ہنگری) کے رہائشیوں نے پیش کیا کہ سوویٹ فوجیوں نے ٹینکوں اور توپوں سے اس انقلاب کا خاتمہ کر دیا۔ 1991 تک ہنگری سوویت تسلط میں رہا ویسا ہی تسلط جیسا ہم پر امریکہ کا ہے اور ہم آزادی کے مغالطے میں غلطاں ہیں۔ یعنی ہمارے ہاں بھی غلامی کے آئین بدلتے رہے، آزادی وازادی تو کبھی ہم نے حاصل کی ہی نہیں۔ جناب افتخار عارف کے مطابق:

شہرِ بے مہر میں لب بستہ غلاموں کی قطار
نئے آئینِ اسیری کی بِنا چاہتی ہے

یہ تو تھا دیبرسن کی تاریخ کا مختصر احوال اب ہم اپنی داستان کی جانب واپس پلٹتے ہیں ہم نے حسام بھائی کو بمشکل تلاش کر ہی لیا۔ مشکل اس لئے کہ ہمارے پاس نہ ہنگری کا موبائل کنکشن تھا اور نہ انٹرنیٹ، پہلی بار ہم نے یونیورسٹی کی پر شکوہ بلڈنگ دیکھی تو اس کی ہیبت ہم پر طاری ہو گئی۔ حسام بھائی ہمیں انٹرنیشنل آفس لے کر گئے وہاں ہماری ملاقات مِس اِبویا سے ہوئی انہوں نے ہمیں انتظار کا کہا اور اسی دوران یورپ کی سیاہ کافی جو اپنے رنگ کے ساتھ ساتھ ذائقے میں بھی کالی کلوٹھی بلکہ تلخ تھی آفر کی۔ کالی کافی کی چُسکی سے ہمارے ذائقے بدذائقہ ہو گئے، خیر قریباً 2 گھنٹے کی تگ و دو کے بعد خُدا خُدا کر کے رجسٹریشن مکمل ہوئی، یورپ نے ہمیں دیگر اسباق کے ساتھ ساتھ صبر اور تحمل بھی بہت سکھایا کہ یہاں سکون اور طمانیت کے ساتھ بہت انتظار کرنا پڑتا ہے۔ رجسٹریشن کے بعد اب رہائش کی تلاش اگلا کٹھن مرحلہ تھا کہ رہائش کے ایگریمنٹ کے بغیر نہ تو امیگریشن ہو سکتی تھی اور نہ موبائل کی سِم مل سکتی تھی۔ رہائش کے لئے ہمیں حسام بھائی ’گریٹ فاریسٹ‘ پراپرٹی آفس لے کر گئے وہاں، مسٹر جو ’نے ہمارا استقبال کیا مسٹر جو اس کاروبار کے مالک تھے وہ ایک خوش شکل طویل قامت اور متناسب جُثہ کے ادھیڑ عمر شخص تھے، انہوں نے ہمیں ایک خوبرو اور جوان ہنگرین دوشیزہ کے حوالے کر دیا ان حسین خاتون کو دیکھ کر فیض صاحب کے کچھ اشعار بے ساختہ ذہن میں آئے

وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاں
وہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاں
ہزار فتنے تہ پائے ناز خاک نشیں
ہر اک نگاہ خمار شباب سے رنگیں
شباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیں
وہ ہونٹ فیض سے جن کے بہار لالہ فروش
بہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بہ دوش
گداز جسم قبا جس پہ سج کے ناز کرے
دراز قد جسے سرو سہی نماز کرے

جوں ہی ہمارے نظارے کا خمار ٹوٹا ہمیں مظفر وارثی مرحوم کی معروف غزل کے 2 اشعار یاد آئے

بدن شوقین کم پیراہنی کا
در و دیوار پر پردہ پڑا ہے
حواس و ہوش ہیں بیدار لیکن
ضمیر انسان کا سویا پڑا ہے

اُن حسین و جمیل دوشیزہ نے ہمیں اپنی کمپیوٹر کی اسکرین پر مکانات و فلیٹس کے آپشن دکھانا شروع کیے، وک ہمیں مکانوں کی تصویریں، کرایہ، محل وقوع، یونیورسٹی سے دوری، بس اور ٹرام اسٹاپ سے فاصلہ وغیرہ بتاتی گئیں اور ہم مسلسل توجہ سے دیکھتے اور سنتے گئے، ہمیں 2 مکان درکار تھے ایک مکان میں اشتیاق بھائی، عمیر صاحب اور مجھے قیام پذیر ہونا تھا جب کہ ایک اسٹوڈیو اپارٹمنٹ میڈم سحر ذوالفقار صاحبہ کے لیے درکار تھا، حافظ اسماعیل صاحب نے اپنے کسی اور جاننے والے کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہم مکانات کے آپشن دیکھ رہے تھے کہ اس دوران اشتیاق بھائی اور مجھے فِطری حاجت کے لئے استنجاء خانہ جانا پڑا، مسئلہ یہ تھا کہ یورپ کے واش رومز میں مسلم شاور نہیں ہوتے بلکہ ٹشو پیپر ہوتے ہیں یعنی یورپ کی مہذب اقوام گَند کو دھونے سے پونچھنے کو ترجیح دیتی ہیں ان کے نزدیک یہ زیادہ ہائی جینک ہے۔ ہم ایک بوتل ہمیشہ ساتھ رکھتے تھے کہ ہم دھونے کو ہی مناسب سمجھتے تھے، مسٹر جو کے واش روم میں ہم سے کچھ پانی گر گیا اور اس پر ہمارے جوتوں سے کچھ مٹی مل کر کیچڑ سا واش روم سے باہر آ گیا، اشتیاق بھائی وائپر لے کر صاف کرنے لگے تو مسٹر جو نے ان کے ہاتھ سے وائپر زبردستی لے لیا اور خود کمپنی کے سی ای او ہو کر بھی صاف کرنے لگے، ہم ان کی اس اخلاقی ادا سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

(جاری ہے)

Facebook Comments HS

2 thoughts on “پی ایچ ڈی یورپ اور ہم (2)

  • 08/01/2025 at 2:02 شام
    Permalink

    آپ تو پانی کی بوتل ہی رکھتے تھے۔
    ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو پاکستان میں ایک شاہر ہمیشہ جیب میں رکھتے۔ جب نماز کا وقت آتا۔ بیت الخلا میں جاکر زیرجامہ اس میں منتقل کرتے۔ وضو بناتے اور بعد نماز جیسے تھے شاپر خالی کردیتے۔

    باقی نو کمنٹس کہ
    لکم دینکم ولی دین

    ان میں سے متعدد حلال کھانے اور اس کی تفصیل میں جانے کے لئے اپنا اور دوسروں کے گھنٹے ضائع کرنے کو احسن سمجھتے۔ مگر بنت مغرب ہو یا مشروب مغرب دیکھ کر ان کا اسلام ۔۔۔ نیند میں چلا جاتا تھا۔

  • 10/01/2025 at 6:32 شام
    Permalink

    سر، آپ کی یہ تحریر نہایت دلچسپ اور معلوماتی ہے۔ دیبرسن کی تاریخ، ثقافت اور ذاتی تجربات کو آپ نے جس انداز میں پیش کیا ہے، وہ قاری کو مکمل طور پر کہانی میں محو کر دیتا ہے۔ خاص طور پر تاریخی پس منظر اور ذاتی مشاہدات کا امتزاج تحریر کو اور بھی جاندار بنا دیتا ہے۔ مسٹر جو کا اخلاق اور مدد کا ذکر نہایت خوبصورتی سے کیا گیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ انسانیت اور اخلاقی اقدار سرحدوں سے بالاتر ہوتی ہیں۔ یہ نہ صرف ایک سفر نامہ ہے بلکہ ایک فکری تجربہ بھی ہے جو زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔ بہت ہی شاندار اور متاثر کن تحریر!

Comments are closed.