چند دن قدیم تاریخی روایات کی سرزمین ملتان میں (4)
بہاؤ الدین زکریا کے مزار کے احاطہ کے باہر قاسم باغ میں بنی چھوٹی سی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کر کے میں باہر نکلا۔ بہت سے خواتین و حضرات اپنے بچوں کو لے کر قاسم باغ کی سیر کو آئے ہوئے تھے۔ بہاؤ الدین زکریا ؒ اور حضرت شاہ رکن عالم ؒ کے مزارات کی حالت دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ پنجاب حکومت اور محکمہ اوقاف ان تاریخی اہمیت کی حامل ان جگہوں پر کتنی توجہ دے رہا ہے۔ میں جب واپس پنجاب پولیس کے دفتر کے مرکزی دروازے پر پہنچا تو مجھے وہاں ایک توپ نظر آئی جس کو دو فٹ اونچے چبوترے پر نصب کیا گیا ہے۔ ساڑھے تین فٹ لمبی چھے انچ قطر کی یہ توپ 1807 ء میں برطانیہ کی رائل گن فیکٹری میں تیار ہوئی جو 18 پاؤنڈ وزنی گولہ دو ہزار گز دور تک پھینکنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ یہ توپ انگریزوں نے ہندوستان میں مختلف ریاستوں کو فتح کرنے کے لیے بہت سی جگہوں پر استعمال کی۔ ملتان کا قلعہ فتح کرنے کے لیے انڈین برٹش آرمی نے اسے ملتان میں سکھوں کے خلاف جنگ میں استعمال کیا۔ 2 جنوری 1849 ء کو اس توپ کی گولہ باری سے دہلی گیٹ کی جانب سے شہر کی فصیل مسمار ہو گئی اور دیوان مول راج کی گرفتاری کے ساتھ ہی ملتان پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا اور یوں ملتان پر سکھوں کی عمل داری کا خاتمہ ہو گیا۔ توپ کو تازہ رنگ و روغن کیا گیا ہے۔ توپ کے ساتھ اس سے متعلق ایک معلوماتی بورڈ نصب ہے جس کی لکھائی اب مٹتی جا رہی ہے۔
زم ذمہ آرٹ گیلری
ملتان شہر قدیم ترین روایات کا امین ہے۔ ہزاروں سال پرانے شہر ملتان کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے قاسم باغ میں حضرت شاہ رکن عالم کے مزار کے دائیں جانب زم ذمہ آرٹ گیلری تعمیر کی گئی جو قلعہ کے مغربی سمت والی دیوار کے ساتھ ہے۔ دو منزلہ عمارت ملتانی طرز تعمیر کو مد نظر رکھ کر بنائی گئی ہے۔ پہلی منزل میں ملتان کے مختلف تاریخی واقعات پر مشتمل تصویری گیلری ہے۔ فرش کے درمیان میں علاقہ میں پہناوے اور رہن سہن کے حوالہ سے ایک تھیم بنائی گئی ہے جس کے اردگرد لکڑی کی ایک دیوار بنائی گئی ہے۔ دیواروں پر بیرونی حملہ آوروں یونانی بادشاہ الیگزینڈر، محمد بن قاسم، شیرشاہ سوری اور مختلف برطانوی حکمرانوں کی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں۔ ملتان کی تاریخ پر لکھا ہوا ایک بورڈ بھی ایک دیوار کے کونے پر لگا ہوا ہے۔ دوسری منزل پر آرٹ اور دستکاری اور ظروف پر مشتمل ایک نگار خانہ ہے جس میں مختلف برتن اور دستکاری الماریوں میں رکھے گئے ہیں۔ گیلری کی بالائی چھت سے ملتان شہر کا دلفریب نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں سے غروب آفتاب کا منظر انتہائی دیدہ زیب ہوتا ہے۔
گیلری کی انتہائی خستہ حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ اربابِ بست و کشاد اس کو تعمیر کر کے بھول گئے ہیں یا پھر اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کسی انتہائی ان پڑھ اور جاہل فرد کو سونپ دی ہے۔ گیلری میں داخلے کا ٹکٹ بیس روپیہ کا ہے۔ ٹکٹ گھر بند تھا، ایک نوجوان دروازے کے باہر کرسی ڈال کر ٹکٹ ہاتھ میں لئے بیٹھا تھا۔ جانے والے رستے کو ایک بانس رکھ کر بند کیا ہوا تھا۔ میں نے ٹکٹ خریدا اور بانس کو پھلانگ کر گیلری کے اندر داخل ہوا۔ گیلری کے فرش پر مٹی کی تہہ دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا اس کی صفائی کیے ہوئے مہینوں گزر چکے ہیں۔ دیواروں پر آویزاں تصاویر بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ ثقافتی ماڈل کے گرد بنی لکڑی کی باڑ ٹوٹ کر گر چکی ہے۔ دوسری منزل پر جانے والی سیڑھیاں بھی انتہائی گرد آلود تھیں۔ دوسری منزل پر کوریڈور میں رکھے شو کیس کی حالت بھی خراب تھی۔ اس کے اندر رکھے ہوئے ظروف بھی گرد آلود نظر آئے۔ دیگر شو کیس بھی مخدوش حالت میں نظر آئے۔ قاسم باغ اور ملتان قلعہ کا ایک ماڈل بھی شو کیس میں رکھا ہوا ہے۔ اتنے بڑے بڑے سیاست دانوں کے شہر میں وسطی پنجاب کے قدیم ترین شہر ملتان کی ثقافت کو اجاگر کرنے والی زم ذمہ آرٹ گیلری کی مخدوش حالت دیکھ کر انتہائی افسوس ہوا۔ ملتان شہر کی انتظامیہ بھی اس گیلری کی حالت سے بے خبر نظر آتی ہے۔ گیلری کی بالائی چھت سے شہر کا نظارہ بہت بھلا لگا۔ چھت پر ایک نوجوان سے تصویر بنانے کو کہا۔ اس نے میری توقع کے خلاف بہت اچھی تصاویر بنائیں۔ موبائل فون واپس کرتے وقت پوچھنے لگا۔ چاچا۔ بڑا ودھیا موبائل ہے، کتنے لاکھ کا ہے۔ گیلری سے باہر آنے کا راستہ مختلف ہے۔ سیڑھیاں اترتے وقت بائیں جانب کا راستہ سفید شیشہ لگا کر بند کیا ہوا ہے۔ اس سفید شیشے پر گیلری دیکھنے کے لیے آنے والوں نے اپنے دستخط ثبت کرنے کے علاوہ مختلف فقرے بھی لکھے ہوئے تھے۔ کسی بلوچ صاحب نے اپنی محبوبہ کا نام بھی لکھ رکھا تھا۔ مجموعی طور پر گیلری کی مخدوش حالت دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا۔ گیلری سے باہر نکل کر میں پارکنگ میں آیا۔ پارکنگ کے احاطہ کے ساتھ خالی جگہ پر بہت سے کبوتر بیٹھے دانہ چگ رہے تھے۔ زیادہ تر کبوتر سرمئی رنگ کے تھے۔ ایک صاحب ہاتھ میں کبوتروں کے دانے کا تھیلا ہاتھ میں پکڑے کھڑے تھے۔ وہ چھوٹے چھوٹے لفافوں میں دانے فروخت کر رہے تھے۔
قاسم باغ سے نکل کر میں شاہ شمس کے مزار پر جانا چاہتا تھا لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے واپس آنا پڑا۔ حسین آگاہی روڈ پر بہت زیادہ رش تھا۔ راستے میں سڑک پر لگی پرندوں اور جانوروں کی منڈی میرے لیے ایک نئی بات تھی۔ جب میں گھر پہنچا تو بارات کے استقبال کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ مختصر سی بارات سیالکوٹ سے تین بجے پہنچی تو نکاح کے بعد کھانا لگا دیا گیا۔ تین گھنٹے بعد شام کو سات بجے بارات دلہن کو لے کر واپس روانہ ہو گئی۔ (ملتان شہر کی کچھ اور باتیں اگلی اور آخری قسط میں )


