اقبال، شبلی اور عطیہ بیگم کی عشقیہ مکتوباتی تثلیث


امتداد زمانہ کے ساتھ سائنس، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی روز افزوں ترقی کی وجہ سے روزمرہ زندگی میں مکتوب نگاری کی وہ اہمیت نہ رہی جو کسی زمانے میں ہوا کرتی تھی۔ سرکاری سطح پر خطوط کے بین الاداراتی ارسال اور تبادلے کے سوا، نجی اور ادبی مکتوب نگاری کی روایت تقریباً معدوم ہو چکی ہے۔

اگرچہ خط بالمشافہ ملاقات کا نعم البدل نہیں ہو سکتا، تاہم خیالات اور محسوسات کی ترسیل کی بنا پر اسے آدھی ملاقات ضرور کہا جاتا ہے۔ ایک زمانے میں کوسوں دور رہنے والے عزیزوں، رشتہ داروں اور دوستوں کے درمیان خطوط نگاری ملاقات کا اہم ذریعہ ہوا کرتی تھی۔ جس کی بنا پر اردو نثر میں نہ صرف سلاست اور روانی در آئی، بلکہ کثیر تعداد میں نجی خطوط باقاعدہ اُردو ادب کا حصہ بھی بن گئے۔ ہر نجی خط مکتوباتی ادب کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔ صرف وہ خطوط اس درجہ بندی میں شامل ہوسکتے ہیں جن میں سیاسی مباحث، مذہبی مناظرے، سوانحی مواد، علمی مضامین، لسانی تجزیے، ادبی فن پارے اور ذاتی نوعیت کے دل چسپ مخفی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہو۔ تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے بھی مکتوباتی ادب کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

دنیا کے اکثر سیاست دان اور اشرافیہ کی طرح ادبا اور شعرا بھی اپنی تخلیقات کی روشنی میں بہت مہذب اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل نظر آتے ہیں، کیونکہ ان کی شعری، نثری اور فنی تخلیقات کا تعلق زیادہ تر عوام الناس کے ساتھ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کے حقیقی چہرے پر دائمی پردہ رہتا ہے۔ اس کے برعکس، نجی زندگی میں وہ یکسر مختلف نظر آتے ہیں۔ نجی نوعیت کے خطوط میں وہ اپنے نہایت قریبی ہمراز سے اپنے خیالات، جذبات اور احساسات کا بے ساختہ اور بے تکلف اظہار کرتا ہے۔ اسی برہنہ حقیقت نگاری کی بنا پر مشاہیر ادب کے بعض نجی خطوط ان کی سیرت کے آئینہ دار تصور کیے جاتے ہیں۔ اس نوع کے ذاتی خطوط کے مطالعے سے ادبی ذوق کی تسکین اور مطالعے کی وسعت کے ساتھ ساتھ لکھاریوں کو تحقیق اور تنقید کے میدان میں غوطہ زنی کا موقع بھی مل جاتا ہے۔

اردو ادب میں مکتوب نگاری کا باقاعدہ سلسلہ فارسی ادب کے زیر اثر شروع ہوا۔ اب تک غالب، اقبال، حالی، شبلی، مہدی افادی، ابو الکلام آزاد اور دیگر ممتاز ادیبوں کے خطوط کے مختلف مجموعے شائع ہوچکے ہیں، لیکن اُردو ادب میں شبلی، عطیہ بیگم اور اقبال کے رومان انگیز نجی خطوط نے منظر عام پر آتے ہی کہرام مچا دیا ہے۔ ان خطوط کے مندرجات سے شبلی اور اقبال کے عطیہ بیگم کے ساتھ عشق اور رومان کی تصدیق ہوتی ہے۔ اقبال نے عطیہ فیضی بیگم کے نام خطوط انگریزی زبان میں لکھے ہیں، لیکن بعد ازاں قارئین کی دلچسپی کے پیش نظر مختلف لکھاریوں نے ان خطوط کے اردو ترجمے کر کے شائع کروا دیے ہیں۔

عطیہ بیگم کو فارسی، عربی، ترکی، انگریزی اور اردو زبان پر مکمل عبور رکھنے ; ادب، مصوری اور موسیقی کے ساتھ شغف رکھنے ; اور اقبال اور شبلی سے دوستانہ روابط رکھنے کی وجہ سے بہت جلد شہرت عام اور بقائے دوام حاصل ہوئی۔ عطیہ بیگم 1877 کو ترکی کے شہر استنبول میں ایک متمول فیضی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد حسن علی آفندی تاجر تھے اور سلطنت عثمانیہ کے خلیفہ سے قریبی روابط بھی رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے ان کی تعلیمی تربیت بھی اچھے طریقے سے ہوئی اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے وہ انگلستان بھی چلی گئیں۔ عطیہ کی اقبال سے پہلی ملاقات 1907 میں ہوئی۔ عطیہ بیگم کی پرکشش اور روشن خیال شخصیت، غیر معمولی ذہانت، پر اعتماد لہجہ، لچکیلی آنکھیں، دراز قد اور مختلف ادبی اور فلسفیانہ موضوعات پر مضبوط گرفت کی وجہ سے بہت سے فرزندان ہند ان کی زلفوں کے اسیر تھے۔ اقبال اور شبلی بھی بہت کم عرصے میں عطیہ بیگم پر فریفتہ ہو گئے۔ بعد ازاں ان کے درمیان خطوط اور ملاقاتوں کا ایک طویل سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔

1947 میں عطیہ بیگم نے بہ نفس نفیس متذکرہ خطوط کو ادبی دنیا کے سپرد کر کے اعلیٰ ظرفی اور ادب دوستی کا ثبوت دیا۔ ان خطوط کی اشاعت کے بعد جب قارئین ادب نے اقبال اور شبلی کو نئے رومانوی روپ میں دیکھا تو انگشت بدنداں رہ گئے کہ سیرت النبی، المامون، الفاروق اور الغزالی کے مصنف ایک سخت گیر عالم مولانا شبلی نعمانی اور شاعر مشرق، خودی کا پیامبر، عشق مصطفیٰ کا موید اور اسلامی تعلیمات کا پرچارک اقبال، کیسے عشق مجازی کے آگے بے بسی کی علامت بن گئے۔ تاہم شبلی کے برعکس، اقبال شاعرانہ تکلفات اور انشا پردازی کے داؤ پیچ سے کام لیتے ہوئے اپنی محبت کے واضح اظہار سے دامن بچانے میں کامیاب ہو گئے۔

اقبال نے عطیہ بیگم کے نام پہلا خط 1907 میں لکھا۔ بعد ازاں 1910 تک مائی ڈیر مس فیضی یا مائی ڈیر مس عطیہ کے نام سے چند خطوط اور منظر عام پر آئے۔ ان خطوط میں دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب اور ہمراز نظر آتے ہیں۔ ایک مکتوب میں عطیہ فیضی کو لکھتے ہیں :

”آپ جانتی ہیں کہ میں آپ سے کوئی بات راز نہیں رکھتا۔ میرا ایمان ہے ایسا کرنا گناہ ہے۔“

ایک اور خط میں اقبال اپنی ذاتی محرومیوں اور ازدواجی مشکلات کا ذکر انتہائی رازدارانہ طریقے سے کچھ یوں کرتے ہیں :

”براہ کرم مجھے اس یاوہ گوئی کے لیے معاف فرمایئے گا۔ میں ہمدردی کا طالب نہیں ہوں۔ میں تو صرف یہ چاہتا تھا کہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرلوں۔ آپ کو میرے بارے میں سب کچھ معلوم ہے۔ اسی سبب میں نے اپنے جذبات کے اظہار کی جرات کی ہے۔ یہ راز کی بات ہے براہ کرم کسی سے کہیے گا نہیں!“

علاوہ ازیں، دیگر نجی خطوط میں بھی ایک دوسرے سے گلے شکوے، طعنے، ملامت نامے، بہانے، تاویلات اور غلط فہمیوں کے ازالے کے بھرپور تذکرے ملتے ہیں۔ ایک خط میں عطیہ بیگم کو تاویلات پیش کرتے ہوئے فلسفہ خودی کا پیامبر اقبال بذات خود اپنی ذات سے بے خبر مشرقی حسن و جمال کے سامنے دست نگر دکھائی دیتے ہیں۔ اس حوالے سے اقبال کا ایک اردو شعر جو انھوں نے عطیہ بیگم کو کسی محفل میں لفظ ”پرائیویٹ“ کی احتیاط کے ساتھ لکھ کر دیا تھا، ملاحظہ ہو:

عالم جوش جنوں میں ہے روا کیا کیا کچھ!
کہیے کیا حکم ہے، دیوانہ بنوں یا نہ بنوں؟

میرا اندازہ ہے کہ عطیہ نے دیوانہ بننے کا مشورہ دیا ہو گا۔

اقبال کے برعکس، شبلی نے سلیس نثری طرزِ تخاطب کو نہ صرف اظہار کا وسیلہ بنایا بلکہ ان کے مکتوبات بنام عطیہ بیگم کے ہر لفظ سے عشقیہ جذبات کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔ مولانا شبلی بغیر کسی تکلف کے اپنے مکاتیب میں عطیہ بیگم کو ”عزیزی“ ، ”خاتون محترم“ اور ”قرۃ العینی“ سے مخاطب کرتے تھے۔ ایک مکتوب میں آپ کے بجائے تم کہہ کر اپنائیت کی ساری حدیں پار کرلی ہیں :

”معاف کیجئے گا میں آپ کے بجائے تم کا لفظ لکھوں گا۔ آپ کے لفظ میں بیگانہ پن ہے۔“

شبلی کی محبت دیگر مکاتیب میں بھی لاکھ ضبط کے باوجود شدت اختیار کرتی ہے۔ ایک مکتوب کا اقتباس ملاحظہ ہو:

”قرۃ العین، تمہارا خط جو مدت کے بعد ملا تو بے ساختہ میں نے آنکھوں سے لگا لیا اور دیر تک پڑھتا رہا۔ افسوس کہ دیر تک ملنے کی امید نہیں۔“

عطیہ کی طرف سے جب تین مہینے بعد جوابی خط موصول ہوا تو مولانا شبلی خوشی سے پھولے نہ سما سکتے ہوئے یوں کھل اٹھے :

”مدت کے بعد تم نے یاد کیا، دفعتاً بہت سے مردہ خیالات زندہ ہو گئے۔“

شبلی نے اپنے مکاتیب میں عشقیہ جذبات کا اظہار انتہائی رنگین اور والہانہ انداز میں کیا ہے۔ وہ عشق کی راہ میں دین و دنیا سب کچھ واری کرنے کے قائل نظر آتے ہیں۔ بمبئی میں عطیہ بیگم کے ہاں قیام کے دوران میں لکھے گئے قطعے کے تین اشعار ملاحظہ ہوں :

کسی کو یاں خدا کی جستجو ہوگی تو کیوں ہوگی
خیال روزہ و فکر وضو ہوگی تو کیوں ہوگی
جو دو دن بسر کرے گا اس قصر معلی میں
اسے خلد بریں کی آرزو ہوگی تو کیوں ہوگی
کہاں یہ لطف، یہ منظر، یہ سبزہ، یہ بہارستان
عطیہ! تم کو یاد لکھنو ہوگی تو کیوں ہوگی

عطیہ بیگم نے بعد میں ایک خط کے ذریعے شعر میں نام کا ذکر کرنے پر مولانا سے جب ناراضی کا اظہار کیا تو اس پر مستزاد وہ لکھتے ہیں : ”غیر آدمی کیوں کر جان سکتا ہے کہ میں نے تمہارا نام لیا۔ اس لیے تم کو رنج کرنے کی کیا وجہ؟ بہر حال آئندہ نہ لکھوں گا۔“

تاہم عالمی طور پر شہرت یافتہ دونوں مشاہیر کے مخصوص مذہبی پس منظر رکھنے کے باوجود گوشت پوست کے انسان کے ساتھ جذبہ محبت زندہ دلی کی علامت ہے، کیونکہ محبت کے بغیر آدمی اپنی ہی لاش کے مزار کی مانند ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “اقبال، شبلی اور عطیہ بیگم کی عشقیہ مکتوباتی تثلیث

  • 08/01/2025 at 4:53 صبح
    Permalink

    بہت پرانی کہانی جس پر اب ہنسی بھی نہیں آتی ہے کیوں کہ آج کے یو ٹیوبر اس کو ایسے سنسنی بناکر اچھالتے ہیں کہ سر پیٹے کو دل کرتا ہے۔

    اقبال کے جس شعر کا آپ نے یہاں حوالہ دیا

    عالم جوش جنوں میں ہے روا کیا کیا کچھ!
    کہیے کیا حکم ہے، دیوانہ بنوں یا نہ بنوں؟

    اس کی حقیقت یہ ہے کہ دسمبر 1931 میں علی گڑھ یونیورسٹی والے اقبال پر زور دے رہے تھے کہ وہ علی گڑھ میں پروفیسری کا عہدہ قبول کرلیں۔ اقبال انکاری تھے۔
    واقفان حال نے مختلف لوگوں سے سفارش اور اصرار کیا جن میں 54 سالہ عطیہ فیضی رحمان بھی شامل تھیں۔
    اقبال اس وقت بمبئی میں تھے جب عطیہ کا اصراری پیغام ملا۔ جواباً اقبال نے یہ شعر لکھ کر بھیجا۔
    یعنی کیا میں پاگل ہوں !

    اور پرائیویٹ اسی لئے لکھ دیا تاکہ علی گڑھ کے لوگوں کو علم نہ ہو وگرنہ وہ لوگ ناراض جائیں گے اس میں عاشقی معشوقی کا کون سا تعلق ہے وہ بھی جب دونوں 55 ساٹھ سال کی عمر کو پہنچے ہوئے تھے اور اقبال کی بیماری بڑھ رہی تھی۔

Comments are closed.