اجنبی آنکھ سے تین قطرے


نئے سال کی سرد شامیں جب مختصر دن کے نرم و نازُک سورج کو خُدا حافظ کے پیغام دے رہی ہوتی ہیں تو جدید دور کے بنتے بِگڑتے حالات سے بے خبر ایک نوجوان اس سورج کو کچھ الگ انداز سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس ڈوبتے سورج کو وہ ایک ایسی ڈوبتی ہوئی کشتی سے جوڑ رہا ہوتا ہے جس کے مُسافر گہری نیند میں مدہوش ہوں۔ وہ نہ جانے کیوں خُشک آنکھوں میں ایک ہلکی نرم و نازُک اشک کے ایک چھوٹے سے قطرے میں ایک دلفریب دنیا کی بے پناہ رنگوں بھرے نادانیوں کو ظُلم کے پنجرے میں بند اس قدر بے بس دیکھتا ہے کہ جو سخت اذیتوں کو ہنسی مذاق میں اُڑا دیتے ہیں۔ وہ اس قطرے میں رقص و سرور کرتے وہ نوجوان دیکھ رہا ہوتا ہے جن کے سامنے جنازے اور ہاتھ میں تلوار جس کی نوک پر اُس کا اپنا خون ٹپک ٹپک کے اُسی سرزمین کے سینے کو سیراب کر رہا ہوتا ہے، جسے سالوں پہلے اُس کے آبا و اجداد نے خون کی ندیاں بہا کر حاصل کیا تھا۔ ستم ظریفی تو یہ کہ وہ اپنے اُن دشمنوں سے داد لے رہا ہوتا ہے جن کی تلوار اُس کے اپنے ہاتھ سے اپنے ہی خون میں تر محفلِ رقص کی نظروں کا مرکز ہے۔ ڈوبتے سورج کو دیکھتے نوجوان کی آنکھوں سے یہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے اور سرزمینِ بلوچستان کے سینے میں غائب ہوجاتا ہے۔ اور پھر ایک آنسو ایک چھوٹے سے قطرے میں الگ دنیا بسائے اُس کی سوچوں کا محور بن جاتا ہے۔ اس قطرے میں نوجوانوں کا ایک ایسا گروہ ہوتا ہے جو وطن عزیز کے سینے سے نکلے ہر خزانے کو بانٹ کر اپنے لیے ایک سانس غنیمت سمجھتے ہیں۔ یہ ہر اُس خزانے کو دیکھنے سے محروم ہوتے ہیں جو اُن کے اجداد کی امانتوں کا واحد صلہ ہے۔ یہ نوجوان نواب اکبر بُگٹی کا نظریہ روند دیتے ہیں، وہ بابا خیر بخش کے فلسفے بھول جاتے ہیں۔ وہ سرزمینِ بلوچستان کے بلوچوں سے نبرد آزما ہو کر ہر شخص سے بھاری بھرکم محصول وصول کر کے خود پر فخر کرنے لگتے ہیں مگر بے بنیاد محل کب اپنا وجود برقرار رکھ پاتے ہیں۔ نوجوان کی آنکھ سے یہ قطرہ بھی نکل کر زمین کی گود میں غائب ہوجاتا ہے اور پھر ایک قطرہ اُس کی جگہ لے لیتا ہے جس کے نمکین وجود میں اُن نوجوانوں کا خاکہ رقص کرنے لگتا ہے

جس کا قصور گُزرے تمام لوگوں سے بڑا اور افسوسناک ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جس کے ہاتھ میں قلم اور کتابیں دور سے پڑھے لکھے نوجوانوں کا پتا دیتے ہیں مگر ان کے دامن میں ایک الگ تاریک وجود بھی ہے جو سرزمینِ بلوچستان کی تمام محرومیوں کے واحد ذمہ دار ہیں۔ یہ وہ نوجوانوں کا گروہ ہے جو ہاتھ میں قلم اور کتاب تو لیے پھرتے ہیں مگر ان کے دماغ اپنے مستقبل کے سِوا کسی چیز پر سوچنے سے قاصر ہیں۔ یہ ظُلم کو دیکھ کر خاموش رہنے والے وہ سپاہی ہیں جو اپنے ہتھیاروں کو استعمال کرنا نہیں جانتے۔ یہ وہ بد نصیب مُسافر ہیں جو سمندر کی سخت لہروں کا مقابلہ کرتے کشتی پر سُوراخ کر کے خود اپنے سمیت تمام مسافروں کو گہرے پانی میں ڈبو دیتے ہیں۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ قطرہ بھی پُر نم آنکھ سے جُدا ہو کر ان سرد ہواؤں میں جھومتے ہوئے سرزمینِ بلوچستان کو نئے سال کی سرد شاموں کو الگ انداز میں دیکھنے والے ایک نوجوان کے دل کی وہ آگ بیان کر رہا ہوتا ہے جس کی ایک چنگاری دنیا کے تمام ظُلمتوں پر بھاری پڑ جائے۔ یہ وہ آنسو ہیں جو تاریک راتوں کے گرد آلود ریگستانوں میں وقتی طور پر غرق ہو جاتے ہیں مگر کس دور اندیش دانشور کو پتا کہ یہ تین قطرے وقت کی آندھیوں کا راستہ موڑ دینے کی قوت رکھتے ہیں۔ یہ وہ قطرے ہیں جو ماضی کے خون سے زیادہ طاقتور، تلوار سے زیادہ تیز کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Facebook Comments HS