ریاست الور: جس کے راجہ نے چھ رولز رائس کاریں خرید کر صفائی پر لگا دی تھیں


جب میں سوہن لال صاحب سے باتیں کر رہا تھا تو اس وقت ہم ایک مرتبہ پھر اترپردیش میں داخل ہوچکے تھے اور آگرہ کے مغرب سے گزر رہے تھے۔ ہمارے مشرق میں اتر پردیش کا شہر آگرہ اور مغرب میں ایک امیر ریاست الور واقع تھی۔ الور کو الوار بھی لکھا جاتا ہے۔ الور شہر، بھرت پور سے سو کلو میٹر سے زائد فاصلے پر واقع ہے۔ الور شہر کا ذکر بارہا سنا تھا۔ ہمارے پاکستان میں ایک مشہور شاعر، تابش الوری بھی گزرے ہیں۔ انھوں نے اپنے شہر کا نام پاکستان بھر میں متعارف کروایا۔ اسی ریاست کے ایک والی کے بارے میں یہ بھی سننے کو ملا کہ ایک مرتبہ لندن میں رولز رائس کار کے شوروم پر گئے تو وہاں کے سیلز مین نے ان کی مناسب آؤ بھگت نہ کی جس پر وہ ناراض ہو گئے اور انھوں نے چھ رولز رائس خرید کر ہندوستان میں اپنے شہر کی صفائی کرنے پر لگا دیا۔ ایسا ہی بہاولپور ریاست کے والی نواب صادق عباسی نے بھی کیا تھا۔ مختلف راجاؤں کے ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں۔ کئی راجاؤں نے اپنی ذاتی پسند اور نا پسند کی وجہ سے عجیب و غریب حرکات کیں۔ اس شہر اور ریاست کی بھی ایک اپنی ہی تاریخ ہے، جس کا مختصر ذکر یقیناً آپ کو پسند آئے گا۔

الور شہر، دلی کے جنوب میں 150 کلومیٹر اور جے پور سے شمال کی طرف 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سیاحت کے نقطۂ نظر سے الور ایک اہم جگہ ہے۔ اس علاقے میں متعدد قلعے، جھیلیں اور ان کے علاوہ بھی کئی قابلِ ذکر مقامات موجود ہیں۔ تاریخ میں اس شہر کے نام کی کئی وجوہات ملتی ہیں۔ جن میں سے ایک تو یہ ہے کہ ہزار سال قبل یہاں سلووا قبیلہ آباد تھا۔ جس کی وجہ سے اسے سالوا پور کہتے تھے جو بگڑ کر الور بن گیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس شہر کا نام علاوال خان میواتی جس نے راجپوتوں کو شکست دے کر اس علاقے پر قبضہ کیا تھا کی وجہ سے ہے۔ مجھے پہلی بات زیادہ درست لگتی ہے۔ حالیہ تحقیق کے مطابق گیارہویں صدی میں مہاراجہ الغراج جو امبر کے مہاراجہ کاکیل کا بیٹا تھا اس علاقے کا حاکم تھا۔

الور شہر کی دلچسپ بات اس علاقے سے وید تہذیب کا آغاز ہے۔ ہندوستان کی تاریخ پڑھتے ہوئے میں نے یہ جانا کہ ہندوستان کے شمال مغربی، مغربی اور جنوبی علاقوں جس میں موجودہ پاکستان کے علاقے بھی شامل تھے میں ایک قدیم ترین تہذیب جسے وادیٔ سندھ کی تہذیب کے نام سے یاد کیا جا تا ہے، موجود تھی۔ اب تک میں نے جو بھی لکھا ہے اس کے مطابق مدراس، مہاراشٹرا، گجرات، مدھیہ پردیش، راجستھان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بھی اس تہذیب کے آثار ملتے ہیں۔ جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب علاقے ایک ہی طرح کی تہذیب اپنائے ہوئے تھے۔ میں نے ان کا مختصر ذکر بھی کیا ہے۔ میں نے یہ بھی لکھا ہے کہ مختلف مقامات سے ملنے والی چیزوں سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ ان کا تعلق ہندومت، جین مت یا کسی اور مذہب سے تھا بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے ہاں خدا کا تصور ہی نہیں تھا۔

تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آج سے تقریباً چھ ہزار سال قبل ہندوستان کے شمال مغربی علاقوں میں وید تہذیب کا آغاز ہوا۔ اس تہذیب کا آغاز کرنے والے آریا نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ اسے ہندو تہذیب کا آغاز بھی کہا جاتا ہے۔ ابتدا میں سب زبانی باتیں تھیں لیکن بعد میں انھیں تحریر میں لایا گیا تو ایک زبان وجود میں آئی۔ ہندو کہتے ہیں کہ ان کی کتاب گیتا چھ ہزار سال پرانی ہے۔ اس کتاب کے علاوہ بھی بے شمار تحریریں ملتی ہیں۔ جنہیں ہم وید کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

اب تک جو میں سمجھا ہوں، اس کے مطابق وادیٔ سندھ کی تہذیب اور ویدک تہذیب کے درمیان کوئی رابطہ نظر نہیں آتا۔ وہ درمیانی عرصہ کتنا تھا اور اس میں کیا کچھ ہوتا رہا اس بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں۔

الور شہر کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس شہر کے رہنے والوں نے ویدک تہذیب کا آغاز کیا اور ہندو مت کی بنیاد رکھی۔ اس وجہ سے الور شہر بہت ہی اہم علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور ممکن ہے کہ وہ بھی درست اور یہ بھی درست ہو۔ اس علاقے پر کئی ہندو راجاؤں نے حکومت کی۔ تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کسی دور میں مہاراجہ سورج مل جاٹ کا خاندان بھی یہاں حکومت کرتا تھا۔ راجہ پرتاپ سنگھ نے یہاں پر موجود الور قلعے پر قبضہ کیا جو جاٹوں کے قبضہ میں تھا اور جدید الور کی بنیاد رکھی۔ ایک اور شخص جو الور کے قریب ہی گاؤں کا رہنے والا تھا، جس کا نام ہیم چندر وکرمادتیہ جسے عرف عام میں ہیمو کے نام سے یاد کیا جاتا تھا نے بھی اس علاقے کی شہرت میں بے حد اضافہ کیا۔

آپ کے علم میں ہے کہ بابر نے 1526 ء میں لودھی کو شکست دے کر دلی پر قبضہ کیا تھا اس کے ابتدائی دور میں ہیمو نے بھی دلی کے تغلق آباد علاقے میں مغل افواج کو شکست دینے کے بعد 1556 ء میں دلی پر قبضہ کر لیا اور اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ اسے پانی پت کی دوسری جنگ میں مغلوں نے شکست دی اور پھانسی دے دی اور یوں شمالی ہندوستان میں بھی مغل حکومت مستحکم ہو گئی۔ یہ وہ آخری ہندو راجہ تھا جو دلی کی گدی پر بیٹھا تھا۔ اس طرح یہ تمام علاقے مغلیہ سلطنت کا حصہ بن گئے۔ اس واقعہ کے 391 سال بعد تقسیم ہند کے نتیجے میں پہلی مرتبہ دلی کا حکمران کوئی ہندو بنا۔

الور کے ہندوؤں نے مغلیہ سلطنت کے زوال میں انگریزوں کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا جس کے نتیجہ میں جب انگریزوں کا اس علاقے پر قبضہ ہو گیا تو انھوں نے 1770 ء میں مقامی راجپوتوں کو الور اسٹیٹ قائم کر کے دی اور پرواہ سنگھ کو اس کا راجہ بنا دیا۔ یہ انگریزوں کی سب سے زیادہ وفادار ریاستوں میں سے ایک تھی۔ اس کے والیان انگریز کی فوج میں باقاعدہ عہدہ دار بھی تھے۔ الور ریاست پونے دو سو سال تک قائم رہی۔ اس دوران کئی لوگ گدی پر بیٹھے۔ ان میں سے میں کچھ کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

مہاراجہ سر جیئے سنگھ وہی راجہ ہیں جنہوں نے رولز رائس خرید کر صفائی پر لگائی تھیں۔ ان کے دور میں پولیس کے محکمے کی تنظیم نو کی گئی۔ انھوں نے شہنشاہ ایڈورڈ ہشتم کے دربار میں بھی شرکت کی۔

1907 ء میں انھوں نے ریاست الور کی سرکاری زبان کو اردو سے ہندی میں تبدیل کر دیا۔ میرے لیے یہ ایک نئی بات تھی کہ اس ریاست کی سرکاری زبان اردو تھی۔ اس کی تصدیق یہاں کے سکوں پر اردو میں لکھی ہوئی تحریر سے بھی ہوتی ہے۔ میرے لیے یہ ایک دلچسپ بات تھی کہ اردو جسے مسلمانوں کی زبان سمجھا جاتا تھا ایک ایسی ریاست کی سرکاری زبان قرار پائی جہاں مسلمان اقلیت میں تھے۔

جنگ عظیم اوّل میں الور کے راجہ نے انگریزوں کی بے حد فوجی امداد کی۔ جس کے بدلے یکم جنوری 1915 ء کو مہاراجہ کو برطانوی فوج میں اعزازی لیفٹیننٹ کرنل اور یکم جنوری 1921 ء کو آنریری کرنل مقرر کیا گیا۔ جنگ کے خاتمے پر انھیں کئی دوسرے القابات سے بھی نوازا گیا۔ ان کی علمی قابلیت کی وجہ سے وہ ہندوستان کے نمائندے کے طور پر 1923 ء میں لندن میں منعقدہ امپیریل کانفرنس میں بھی شریک ہوئے اور چیمبر آف پرنسز کی ایک گول میز کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ جئے سنگھ پولو کے بہترین کھلاڑی تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ہندو فلسفے کے عالم بھی سمجھے جاتے تھے ان کا انتقال 1937 ء میں پیرس میں ہوا۔ مہاراجہ تیج سنگھ ریاست الور کے آخری حکمران تھے۔ ان کے دور کی نمایاں خصوصیات میں سب سے پہلے ان کی تعلیم سے دلچسپی ہے۔ ان کے دور میں کئی سکول کھولے گئے اور انھیں اپ گریڈ بھی کیا گیا۔ انھوں نے کئی ہاسٹل بھی بنوائے۔ ان کے دور میں سنسکرت کالج بھی بنایا گیا۔

میں نے ریاست الور کی تاریخ پڑھتے ہوئے کئی لوگوں کی تحریریں پڑھیں جن میں یہ لکھا گیا تھا کہ بھرت پور اور الور کے راجاؤں نے تقسیم ہند کے وقت ان لوگوں کی سرپرستی کی جو مسلمانوں کا قتل عام کرنے میں پیش پیش تھے۔ خاص طور پر الور میں موجود راجپوت مسلمانوں کے قتل کا الزام بھی ریاست کے حکمرانوں پر ہے۔ تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کے واقعات اس سے قبل بھی ہوتے رہے ہیں۔ خاص طور پر راجہ بختاور سنگھ کے دور میں تو مساجد گرانے، نماز پر پابندی اور قبروں کی بے حرمتی بھی ہوتی رہی ہے۔ اس کی تفصیل :

Alwar ’s Long History of Hindutva Casts a Shadow Even Today کے عنوان سے کنان سرینیواسان نے ایک جرنل WIRE میں لکھی ہے۔

الور میں واقع قلعہ بالا بھی اپنی ایک انوکھی تاریخ رکھتا ہے۔ یہ وہ قلعہ تھا جہاں مسلمانوں کے قبضہ سے پہلے انسانی جانوں کی قربانی دی جاتی تھی۔ یہ الور قصبے کے قریب ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ پندرہویں صدی کے آخر میں خانزادہ علاوال خان نے راجپوت راجہ کو شکست دے کر اسے حاصل کیا۔ مغلیہ سلطنت کے مرکز، دلی کے پاس ہونے کی وجہ سے بہت جلد یہ قلعہ بھی ان کے قبضے میں چلا گیا۔ پھر حسن خان میواتی نے اسے دوبارہ سے تعمیر کیا۔ اس دوران یہاں بسنے والے راجپوت، جنوبی ہند کی طرف نقل مکانی کر گئے۔ تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ درد بدر ہوتے ہوئے پٹنہ تک پہنچ گئے۔ اس دوران کچھ لوگ ان علاقوں میں بس بھی گئے جہاں پانی ملا یا زمین اچھی لگی۔ بہار اور مہاراشٹرا کے علاوہ جنوبی ہندوستان کے دور دراز علاقوں میں واقع کئی عمارتیں اور مندر بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ لوگ ان علاقوں تک بھی آئے تھے۔ انھوں نے مغلوں کی ماتحتی کی بجائے خود ساختہ ملک بدری کو ترجیح دی۔

Facebook Comments HS