بلاک بسٹر: عروج، زوال اور نیٹ فلکس کے ہاتھوں شکست کی داستان


یہ کہانی ہے ایک ایسی کمپنی کی ہے جو ایک وقت میں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا بے تاج بادشاہ تھی۔ بلاک بسٹر، جو کبھی ویڈیو رینٹل کا مترادف سمجھا جاتا تھا، اپنی ناقابلِ یقین کامیابیوں کے باوجود وقت کے ساتھ نہ بدلنے کی وجہ سے تاریخ کے اوراق میں دفن ہو گیا۔ اس کی جگہ نیٹ فلکس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے لے لی، جو جدید ٹیکنالوجی اور صارفین کی بدلتی عادات کو سمجھنے میں کامیاب رہے۔

بلاک بسٹر (جسے پہلے بلاک بسٹر ویڈیو کہا جاتا تھا) ایک امریکی ملٹی میڈیا برانڈ ہے۔ اس کاروبار کی بنیاد ڈیوڈ کک نے 1985 میں ایک گھریلو ویڈیو رینٹل شاپ کے طور پر رکھی تھی، لیکن بعد میں یہ ایک پبلک اسٹور چین بن گیا جس میں ویڈیو گیم کے کرائے، ڈی وی ڈی بذریعہ میل، اسٹریمنگ، ویڈیو آن ڈیمانڈ اور سنیما تھیٹر شامل ہیں اور جلد ہی یہ کمپنی ویڈیو رینٹل انڈسٹری کا سب سے بڑا نام بن گئی۔ 1990 کی دہائی تک، بلاک بسٹر کے اسٹورز دنیا کے 25 سے زائد ممالک میں موجود تھے۔ 2004 تک، بلاک بسٹر کے تقریباً 10,000 اسٹورز تھے اور یہ سالانہ تقریباً 6 بلین ڈالر کا بزنس کر رہا تھا۔ کمپنی کے پاس 84,600 سے زائد ملازمین تھے اور یہ ایک ایسا برانڈ بن چکا تھا جسے ہر شخص جانتا تھا۔

کامیابی کا ماڈل: کسٹمر کے قریب رہنا

بلاک بسٹر کا کاروباری ماڈل بنیادی طور پر فزیکل اسٹور پر مبنی ویڈیو رینٹل سسٹم پر انحصار کرتا ہے جہاں گاہک سائٹ پر موجود ایک بڑی انوینٹری سے فلمیں کرائے پر لیں گے، فی کرایہ پر فلیٹ فیس ادا کرتے ہوئے، زائد المیعاد واپسی کے لیے لیٹ فیس کے ساتھ؛ انہوں نے بڑے پیمانے پر ”بلاک بسٹر“ فلموں کے تصور کا فائدہ اٹھایا، جس میں نئی ریلیز اور مقبول عنوانات کا وسیع انتخاب پیش کیا گیا، اکثر فلموں تک جلد رسائی کو محفوظ بنانے کے لیے تقسیم کاروں کے ساتھ خصوصی معاہدوں کے ساتھ۔

1997 میں نیٹ فلکس کا آغاز ہوا۔ ابتدا میں نیٹ فلکس نے ڈی وی ڈی رینٹل کے ذریعے کام شروع کیا، لیکن جلد ہی اس نے سبسکرپشن ماڈل متعارف کروا کر صنعت کو بدل دیا۔ نیٹ فلکس نے ڈیجیٹل اسٹریمنگ کا آغاز کیا، جو ایک ایسا قدم تھا جس نے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ نیٹ فلکس کے ماڈل کی چند اہم خصوصیات یہ تھیں :

1۔ آن ڈیمانڈ اسٹریمنگ: نیٹ فلکس نے صارفین کو یہ آزادی دی کہ وہ جب چاہیں، جو چاہیں دیکھ سکیں۔
2۔ سبسکرپشن ماڈل: صارفین کو بار بار ادائیگی کے بجائے ماہانہ سبسکرپشن کے ذریعے آسانی دی گئی۔

3۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال: نیٹ فلکس نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے صارفین کی پسند کے مطابق مواد تجویز کرنے کا نظام متعارف کرایا۔

بلاک بسٹر کی چند بڑی غلطیوں میں سے ایک غلطی یہ تھی کہ اس نے ڈیجیٹل تبدیلی کو نظر انداز کیا خصوصاً جب نیٹ فلکس نے 2000 میں بلاک بسٹر کو خریدنے کی پیشکش کی، تو بلاک بسٹر نے اسے ٹھکرا دیا۔ اس وقت نیٹ فلکس کی قیمت صرف $ 50 ملین ڈالر تھی۔ بلاک بسٹر کی مینجمنٹ نے نیٹ فلکس کے ڈیجیٹل ماڈل کو نظر انداز کیا اور اپنی توجہ فزیکل اسٹورز پر مرکوز رکھی۔ ”اگر آپ ان کو شکست نہیں دے سکتے تو ان میں شامل ہو جاؤ“ کی منطق کی طرف رجوع کیا۔ نیٹ فلیکس کے بانی ریڈ ہیسٹنگز نے 2000 میں Blockbuster کے ایگزیکٹوز سے ملاقات کی۔ Blockbuster کے ایگزیکٹوز نے یہ پیشکش مسترد کر دی اور اس تجویز پر ہنس کر کمرے سے باہر چلے گئے۔ ان کا خیال تھا کہ نیٹ فلیکس ایک چھوٹا سا بزنس ہے جو ان کے لیے خطرہ نہیں بن سکتا، کیونکہ اس وقت Blockbuster ایک بڑی کمپنی تھی، جس کی مالیت 4 بلین ڈالر سے زیادہ تھی اور اس کے 10,000 اسٹورز تھے۔ جبکہ آج نیٹ فلیکس کی مارکیٹ ورتھ 376 بلین ہے۔

بلاک بسٹر کی ایک غلطی لیٹ فیس کے مسئلہ کو وقت پر حل نہ کرنا تھا۔ بلاک بسٹر نے صارفین سے لیٹ فیس کے نام پر بھاری چارجز لیے، جو اسے صارفین کی نظروں میں غیر مقبول بنانے کا سبب بنے۔ نیٹ فلکس نے اس کے برعکس کوئی لیٹ فیس نہ رکھنے کا اعلان کر کے صارفین کو اپنی طرف مائل کر لیا۔

بدلتے رجحانات کو سمجھنے میں ناکامی بھی بلاک بسٹر کی ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ بلاک بسٹر وقت کے ساتھ نہ چل سکا۔ جب صارفین نے ڈیجیٹل مواد کو ترجیح دینی شروع کی، تو بلاک بسٹر کے فزیکل اسٹورز ایک بوجھ بن گئے۔

بلاک بسٹر کی تباہی کی بہت بڑی وجہ اس کا مالیاتی بحران بنا کیونکہ 2004 میں بلاک بسٹر کا قرضہ بڑھ کر $ 1.2 بلین ڈالر ہو گیا۔ یہ مالیاتی مسائل کمپنی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔

2010 میں بلاک بسٹر نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کیا۔ 2013 تک، بلاک بسٹر کے تقریباً تمام اسٹورز بند ہو چکے تھے۔ آج، صرف ایک بلاک بسٹر اسٹور موجود ہے جو ایک یادگار کے طور پر کام کر رہا ہے۔

طلباء اور کاروباری حضرات کے لیے اس کہانی میں بہت بڑا سبق ہے۔

1۔ جدت کو اپنانا ہر ایک کے لئے بہت ضروری ہے۔ کسی بھی کاروبار کے لیے وقت کے ساتھ بدلنا ضروری ہے۔ اگر آپ اپنی حکمت عملی میں جدت نہیں لائیں گے، تو آپ اپنی جگہ کھو دیں گے۔

2۔ آگے بڑھنے کے لئے صارفین کی ضروریات کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ کامیاب کاروبار وہی ہے جو اپنے صارفین کی بدلتی ضروریات کا خیال رکھے۔

3۔ ٹیکنالوجی کا استعمال خصوصاً وقت کے تقاضوں اور بدلتے حالات کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی کو اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ نیٹ فلکس نے یہ کر کے کامیابی حاصل کی، جبکہ بلاک بسٹر نے اسے نظر انداز کیا۔

4۔ لچک اور موافقت ہمیشہ کاروبار کو اگلے دور میں لے کر جانے میں مدد دیتی ہے۔ سادہ لفظوں میں اگر میں بات کروں تو کاروبار میں لچک اور تبدیلی کو قبول کرنا کامیابی کی کنجی ہے۔

بلاک بسٹر کا زوال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کامیابی کبھی مستقل نہیں ہوتی۔ مارکیٹ کی ضروریات کو سمجھنا اور وقت کے ساتھ بدلنا ہر کاروبار کے لیے ضروری ہے۔ نیٹ فلکس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے ثابت کیا کہ ٹیکنالوجی اور صارفین کی ترجیحات کو نظر انداز کرنا کسی بھی کامیاب کمپنی کو زوال کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS