جسٹن ٹروڈو کا استعفیٰ


 

کینیڈا کے ہینڈسم وزیرِ اعظم جناب عزت مآب جسٹن ٹروڈو نے استعفیٰ دے دیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس استعفے کی ڈیمانڈ ان کی اپنی ہی پارٹی کی طرف سے کی گئی۔ وزارتِ عظمی سے استعفے کے ساتھ ساتھ لبرل پارٹی کی سربراہی سے بھی استعفیٰ دے دیا۔ 2015 ء سے اب تک قریباً ایک دہائی کینیڈا پر راج کرنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی راج کیا۔ تین انتخابات جیتے۔ ان کی شخصیت ایک کرشماتی شخصیت ثابت ہوئی مگر ایک کینیڈین صحافی لیزا کا کہنا تھا کہ کرونا وبا کے دنوں اور اس کے بعد سے جسٹن ٹروڈو صاحب سے معیشت سنبھالی نہ جا سکی، منہگائی میں ہوشربا اضافہ ہوا، قوتِ خرید کم ہوئی، رہائشی سہولیات بہت مہنگی ہوئیں، امیگریشن پالیسیوں میں نرمی سے بہت سے کرائسز کا سامنا کرنا پڑا، مجموعی معاشی اشاریے خسارے کا شکار رہے اور سب سے بڑھ کر عوام شاید اب تازہ ہوا کا جھونکا چاہتے تھے۔ کینیڈا کے عوام شروع میں جسٹن ٹروڈو کے فین ہوئے مگر پھر دنیا بھر میں بڑھتی ان کی مقبولیت جبکہ پیشہ ورانہ نا اہلی کی وجہ سے بد دل بھی ہوئے۔ ایک شہری نے تو یہاں تک بھی کہہ ڈالا کہ شاید یہ فیصلہ انھیں سال پہلے کر لینا چاہیے تھا۔

جسٹن ٹروڈو کے استعفے کا ایک اہم محرک دسمبر میں ان کی فنانس منسٹر کرسٹی فری لینڈ کا مستعفی ہونا بھی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ٹروڈو صاحب بھی کرسمس کی چھٹیوں میں اسی فیصلے کے حوالے سے متفکر رہے اور بالآخر آج یہ دَور بھی ختم ہوا۔ کرسٹی فری لینڈ بھائی صاحب کے پہلے دور میں نائب وزیرِ اعظم بھی رہ چکی ہیں اور ٹروڈو کے بعد لبرل پارٹی کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ کی مضبوط متوقع امیدوار بھی ہو سکتی ہیں۔ ٹروڈو کے بعد وزارتِ عظمیٰ کے دوسرے مضبوط ترین امیدواروں میں مائیکل کارنی بھی شامل ہیں جو سٹیٹ بینک آف انگلینڈ اور سٹیٹ بینک آف کینیڈا کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔

یہاں ایک بڑی دلچسپ صورتحال بھی بنتی نظر آتی ہے۔ جسٹن ٹروڈو صاحب بقول لیزا کے کینیڈا کو معاشی طور پر اتنا مضبوط نہیں بنا سکے جتنا ان کے ہینڈسم ہونے کے باعث ان سے توقع کی جا رہی تھی، نیز ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے دورِ حکومت میں بھی کینیڈا اور ٹروڈو کا مذاق اڑایا، اسے اپنی 51 ویں ریاست قرار دیا اور اب صدر بنتے ہی ٹرمپ صاحب کے عزائم میں کینیڈا کی مصنوعات پر % 25 ٹیرف لگانا بھی شامل ہے جس سے کینیڈا کی برآمدات کو خاطرخواہ دھچکا لگے گا اور جو پہلے سے ہی غیر یقینی معیشت کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو گا۔

کینیڈا میں نئے انتخابات اکتوبر میں ہونا تھے، مگر اب دیکھیے کہ وہ پہلے ہوتے ہیں یا لبرل پارٹی تب تک اپنا کوئی اور نمائندہ وزیرِ اعظم بنواتی ہے تا کہ اس دورانیے میں ٹروڈو جی کی وجہ سے پارٹی کو پہنچے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔

یہاں اہم بات یہ بھی ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ پاکستان میں عوام عمومی طور پر جسٹن ٹروڈو کو بہت پسند کرتے ہیں اور شاید اس کی وجہ ان کا ہینڈسم ہونا، پاپولر لیڈر ہونا اور اقلیتوں کے ساتھ ایک آدھ بار گھل مل جانا بھی ہے مگر لیڈر کا کام صرف اتنا نہیں ہوتا، اس کے علاوہ بہت کچھ ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو کسی لیڈر کو جھیل رہے ہوتے ہیں، وہی جانتے ہیں کہ ان پر کیسا عذاب مسلط ہوا یا ان پر رحمت ہوئی۔ اگلے نے ٹِکا کر دس سال لگائے ہیں، خوب شہرت سمیٹی ہے اور اب اپنی مرضی سے استعفیٰ دے کر جا رہا ہے تو ایسے میں خواہ مخواہ پریشان ہونے یا خدائی خدمت گاروں کی طرح ترس کھانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔

Facebook Comments HS