انٹرنیٹ بندش: معیشت اور آزادی پر حملہ
جب دنیا ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے، پاکستان جیسے ملک میں انٹرنیٹ کی بندش کا بڑھتا ہوا رجحان ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان سال 2024 میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کی بندش سے ہونے والے مالی نقصانات کے لحاظ سے دنیا بھر میں سرِفہرست رہا، جہاں 1.62 ارب ڈالر کا نقصان معیشت کو اٹھانا پڑا۔ یہ نقصان خانہ جنگی کا شکار ممالک جیسے سوڈان اور میانمار کے نقصانات سے بھی زیادہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان بندشوں کا کوئی حقیقی جواز ہے؟ اور اگر ہے تو کیا یہ جواز معیشت، آزادی اور عوامی فلاح پر پڑنے والے منفی اثرات کو تقویت دیتا ہے یا کم کرتا ہے؟
رپورٹ کے مطابق، سال 2024 میں پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش کے 18 بڑے واقعات پیش آئے، جن کی مجموعی مدت 9,735 گھنٹے رہی اور ان سے تقریباً 8 کروڑ 29 لاکھ صارفین متاثر ہوئے۔ یہ واقعات زیادہ تر انتخابات، احتجاج دبانے، اور معلومات پر قابو پانے کے لیے کیے گئے۔
سب سے زیادہ نقصان دہ واقعہ 18 فروری 2024 کو پیش آیا جب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ (سابقہ ٹویٹر) پر پابندی عائد کی گئی۔ اس ایک دن کی پابندی سے پاکستان کو 1.34 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اسی طرح بلوچستان کے ضلع گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کے دوران 16 جولائی سے 21 اگست تک انٹرنیٹ کی بندش جاری رہی، جس سے 864 گھنٹوں میں معیشت کو 1.18 کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔
یہ اعداد و شمار یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ انٹرنیٹ بندشیں صرف وقتی پابندیاں نہیں بلکہ ایک قومی مسئلہ ہیں جو معیشت کے ساتھ ساتھ سماجی ترقی کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔
انٹرنیٹ بندشوں کے معاشی نقصانات کے تخمینے کے لیے NetBlocks کے تیار کردہ Cost of Shutdown Tool (COST) کا استعمال کیا گیا، جو ملک کے جی ڈی پی، بندش کی مدت، اور متاثرہ آبادی کی شرح کو مدنظر رکھتا ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں معیشت پہلے ہی بحرانوں کا شکار ہے، انٹرنیٹ بندش کا مطلب یہ ہے کہ آئی ٹی سیکٹر، فری لانسنگ انڈسٹری، اور ای کامرس جیسی صنعتیں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ آئی ٹی برآمدات، جو پاکستان کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں، ان بندشوں کے باعث زوال پذیر ہیں۔ نوجوان، جو فری لانسنگ کے ذریعے زرمبادلہ کما رہے تھے، انٹرنیٹ کی غیر دستیابی کے باعث اپنی نوکریاں کھو رہے ہیں یا بین الاقوامی گاہکوں کا اعتماد کھو رہے ہیں۔
انٹرنیٹ کی بندش صرف معاشی نقصان تک محدود نہیں بلکہ یہ سماجی نقصان بھی پہنچاتی ہے۔ انٹرنیٹ آزادیِ اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہے، جہاں لوگ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ تاہم، جب انٹرنیٹ بند ہوتا ہے، تو یہ تمام مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔
احتجاج یا انتخابات کے دوران انٹرنیٹ بندش کا مطلب ہے کہ عوام کی آواز دبائی جا رہی ہے۔ حکومت کا یہ رویہ شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
Top 10 VPN۔ com کے ریسرچ سربراہ سائمن میگلیانو کے مطابق، ”انٹرنیٹ بندش نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام آزادی اظہار پر قدغن اور معیشت کو خود سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔“
پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندشوں نے نہ صرف ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو بھی متاثر کیا ہے۔ دنیا بھر میں انٹرنیٹ بندشوں کے 167 واقعات پیش آئے، جن میں پاکستان سرفہرست رہا۔ یہ صورتحال عالمی سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے لیے پاکستان کو ایک غیر مستحکم اور ناقابلِ اعتبار ملک کے طور پر پیش کرتی ہے۔
حکومتیں عام طور پر انٹرنیٹ بندش کا جواز امتحانات میں نقل روکنے، احتجاج دبانے، یا سیکیورٹی وجوہات کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ تاہم، یہ جواز عام طور پر حقیقت سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ بندش کے نتائج عموماً سیکیورٹی مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید بڑھاتے ہیں، کیونکہ لوگ غیر قانونی یا خفیہ ذرائع کی طرف رخ کرتے ہیں۔
یہ سوال اہم ہے کہ کیا انٹرنیٹ بندش واقعی مسائل کو حل کرتی ہے؟ یا یہ مسائل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے؟ اگر احتجاج کو دبانے کے لیے انٹرنیٹ بند کیا جاتا ہے، تو اس سے عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھتی ہے۔ اگر معلومات پر قابو پانے کے لیے انٹرنیٹ بند کیا جاتا ہے، تو یہ حکومت کی عدم شفافیت کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ انٹرنیٹ بندش کا رجحان معیشت، سماجی ترقی، اور آزادیِ اظہار کے لیے تباہ کن ہے۔ حکومت کو درج ذیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے :
متبادل حکمت عملی تیار کی جائے جو معیشت اور آزادی کو نقصان پہنچائے بغیر کام کرے۔
عوام کے ڈیجیٹل حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور آزادیِ اظہار پر قدغن لگانے سے گریز کیا جائے۔
عالمی معیارات کے مطابق پالیسیاں اپنائی جائیں جو ٹیکنالوجی اور معیشت کو فروغ دیں۔
ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنایا جائے تاکہ معیشت کو ترقی دی جا سکے اور عوام کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
انٹرنیٹ کی بندش ایک وقتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مسلسل چیلنج ہے جو پاکستان کی معیشت، سماجی ترقی، اور عالمی تشخص کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک ترقی یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں انٹرنیٹ بندش جیسے اقدامات کو ترک کر کے ایک ایسا ماحول بنانا ہو گا جو ترقی، شفافیت، اور آزادی کو فروغ دے۔
یہ وقت ہے کہ ہم خود سے سوال کریں : کیا ہم اپنے حال اور مستقبل کو انٹرنیٹ بندشوں کے اندھیروں میں جھونکنے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟



قبلہ خالی تحقیق ہی کچھ نہیں ہوتی معاملے کو سمجھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
محترم سید مجاہد علی نے بھی چند دن پہلے اسی معاملے پر لے دے کی تھی جس کا حقیقت سے کوئی خاص تعلق نہیں۔
پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش اسی طرح سے ہے جیسے 26 نومبر کو سینکڑوں لوگ اسلام آباد میں ماردیئے گئے تھے۔
جس طرح یہ بھی غلط ہے کہ اس دن کوئی نہیں مرا اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ انٹرنیٹ کے حوالے سے سب کچھ ٹھیک بھی نہیں۔ لیکن یہ سب چلتا رہتا ہے۔
میں اسی تبصرے کو کاپی پیسٹ کررہا ہوں۔
–
حقیقت یہ ہے کہ جس رپورٹ کا حوالہ دیا گیا کہ پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوگیا اس میں بے انتہا خامیاں ہیں۔
میں نے اس پوری رپورٹ کے حصے بخرے کئے ہیں۔
میرے گھر میں پورے سال ایک گھنٹہ بھی ایسا نہیں گزرا جب انٹرنیٹ بند ہوا ہو۔
جب کہ 8 فروری ہو یا دس محرم یا 26 نومبر اس رپورٹ کے مطابق میرے علاقے میں انٹرنیٹ بند تھا۔
رپورٹ خود مانتی ہے کہ اس میں استعمال ہونے والے اعداد hypothetical ہیں۔
–
بہرحال اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اگر ٹوئٹر یا فیس بک یا یو ٹیوب یا انسٹا گرام یا واٹس ایپ کسی ایک کی بھی سہولت عارضی طور پر بھی بند ہو یا مکمل طور پر۔۔۔۔۔۔ بھاٹا ریٹ فی دن معاشی نقصان۔۔۔۔۔ 4 ملین 2 لاکھ ڈالر فی ایپ ممکن ہے (یعنی کسی ایک کی وجہ سے) اگر یہ پانچوں بند ہونگی تو صرف انکا اثر 21 ملین ڈالر یومیہ ہوسکتا ہے۔ اس کے مطابق ٹوئٹر یوٹیوب فیس بک سب کے نقصان برابر ہیں۔
–
یہ رپورٹ اسی تناظر میں فرض کرتی ہے کہ چونکہ ٹوئٹر 319 دن سے بند ہے اس لئے پاکستان کو ایک ارب 300 ملین ڈالر تک کا نقصان ممکن ہے ہوا ہو۔ جب کہ میرا ماننا ہے کہ اگر کسی نے ٹوئٹر استعمال کرنا ہو تو کس نے وی پی این کے استعمال سے روکا ہے ؟
–
چاہیں تو مفت استعمال کریں یا چند ڈالر ماہانہ کے عوض۔ سب ممکن ہے اور نہ پہلے غیرقانونی تھا اور نہ اب ہے۔
–
دوسری طرف لطف دیکھیں کہ چین جہاں ٹوئٹر موجود ہی نہیں وہاں کا ٹوئٹر کی وجہ سے خسارہ صفر ہے۔
–
یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ میں ٹوئٹر استعمال نہیں کرتا لیکن جب وی پی این بھی عارضی طور پر پاکستان میں بند ہوئے تھے تب بھی مجھے ٹوئٹر کی سہولت حاصل تھی !
–
بہرحال یہ اعداد غلط ہیں یہ اور بات کہ سرکاری اہل کار اتنے نااہل ہیں کہ وہ معاملے کو سنبھال نہیں پارہے۔
–
یہ رپورٹ فرضی طور پر دعوی کرتی ہے کہ پاکستان میں اگر انٹرنیٹ سارا دن بند ہو تو معاشی نقصان 53 ملین ڈالر یا 15 ارب روپے یومیہ ہوگا۔ یہ اعداد محض ممکنہ یا فرضی ہیں۔
–
واضح رہے اسی ویب سائٹ کے مطابق 2023 میں پاکستان کا انٹرنیٹ کی وجہ سے ممکنہ معاشی نقصان 237 ملین ڈالر رہا تھا۔
–
اصولاً دیکھا جائے تو یہ یعنی 2023 کا نقصان 2024 کے نقصان سے بھی زیادہ تھا۔
پچھلے سال 2024 میں کل ممکنہ نقصان 1.62 بلین ڈالر رہا (اگر اس میں سے ٹوئٹر کا حصہ 1.4 بلین ڈالر منہا کردیا جائے) تو 220 ملین ڈالر بنتا ہے۔
–
اس رپورٹ سے پاکستان کی ساکھ کو وہی نقصان پہنچایا ہے جو غلام سرور وزیر ہوابازی کے بیان سے پی آئی اے اور پاکستان کو پہنچا تھا۔ ٹوئٹر کے پاکستان میں استعمال نہ ہونے سے کون سی قیامت اجاتی ہے؟
–
ممکن ہے اس میں پیچھے کسی کا ہاتھ ہو تاکہ پاکستان کی آئی ٹی سروس کی وجہ سے ساکھ کو نقصان پہنچایا جاسکے۔
–
اس رپورٹ میں ایک اور زبردست خامی یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ٹوئٹر کے متاثرہ صارف آٹھ کڑوڑ تیس لاکھ بتائے گئے ہیں۔ بچارا ایلون مسک خوشی سے مرنہ جائے گا ؟
—-
ٹوئٹر (ایکس) کے ریکارڈ کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایکٹو یوزر چند لاکھ ہیں اور پچھلے سال پابندی سے پہلے پانچ چھ لاکھ تک ایکٹو تھے باقی یا تو بوٹ تھے یا ان ایکٹو۔
جب کہ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں متاثرین ٹوئٹر سوا آٹھ کڑوڑ ہیں۔