حاصل بزنجو نے کیا کہا تھا؟


”کس کو مبارکباد دوں اور کس چیز کی مبارکباد دوں آج اس ہاؤس (پارلیمنٹ) کا منہ کالا ہو گیا اس کی میں مبارک بادی کس کو دوں؟“

یہ تاریخی الفاظ آج سے چھے سال قبل میر جمہوریت میر حاصل خان بزنجو (مرحوم) کے اس وقت کے ہیں جب اکثریت میں ہونے کے باوجود راجہ ظفرالحق جھگڑا چیئرمین سینیٹ کے الیکشن حاجی صادق سنجرانی سے ہار گئے تھے۔ میر حاصل خان بزنجو نے اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو خبردار کیا کہ جمہور مخالف قابض طاقتور قوتیں پارلیمان کو بے توقیر کرنا چاہتی ہیں اسے بے توقیر ہونے مت دو، اس سے نقصان اس ملک اور اس کے عوام کا ہو گا، میر حاصل کا کیا، ”ایک ہی تو جان ہے تو لے یا خدا لے!“

لیکن افسوس کہ انہی بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت نے اپنے مفادات کے آگے اس ملک کے عمرانی معاہدے اور پارلیمانی نظام کو قصداً بے توقیر کرانے میں فرنٹ مین کا کردار ادا کیا۔ یہ جمہوری تاریخ کے سیاہ ترین دن ہیں۔

میثاقِ جمہوریت اور 18 ویں ترمیم کے بعد جمہوریت لنگڑی لولی ہی سہی پر اپنے قدموں پر چلنے کے قابل تو کسی حد تک بنی جس نے بوٹوں کی بربریت کو بند کر دیا جس کے نتیجے میں انہوں نے متبادل رستہ یعنی جوڈیشل ایکٹو ازم کی آڑ میں چھپی چند کالی بھیڑیوں کے ذریعے پارلیمان کی آئینی حیثیت اور بالادستی پر پے درپے حملے بھی کیے، سیاسی کارکنوں کا گھیراؤ کر کے انہیں جعلی مقدمات میں پابندِ سلاسل بھی کیا اور منتخب وزرائے اعظموں کو گھروں تک بھی بھجوایا۔

اس سب میں شامل خود کو پاکستان کی بڑی نام و نہاد جمہوری پارٹیاں کہنے والی قیادت نے فخریہ طور پر ہمیشہ سے باری باری سہولت کاری کا کردار ادا کیا اور اس جرم میں بھی شریک رہے ہیں۔

یوں تو ملک میں جمہوریت اور بالادست پارلیمان بذاتِ خود روزِ اول سے ایک خواب، ایک معمہ، ایک ہچکولے کھاتی ہوئی کشتی کی مانند رہے ہیں تاہم موجودہ پارلیمانی جمہوری سیاست کا بحران 2017 کے ”ڈان لیکس“ کے موقع پر اپنے آغاز سے انتہا کو پہنچ چکا تھا جس کے نتیجے میں اس وقت کے منتخب وزیراعظم کو چار دن کا مزید مہمان بنا کر جوڈیشل ایکٹوازم کے ذریعے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا اور اپنے پراجیکٹڈ کھلاڑیوں کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ ہموار کر کے باپ کا کردار بھی ادا کیا، جس کے بچے آج نا صالح بھی ہو چکے ہیں۔

جمہور مخالف قوتوں کا یہ پرانا وتیرہ رہا ہے کہ ہر پانچ سال بعد ایک نئی قسط جاری کرتے ہیں جس میں اسٹیج وہی پر کردار اور اداکار بدلتے رہتے ہیں بقول فیض احمد فیض ”نہ ان کی رسم نئی ہے اور نہ اپنی ریت نئی۔“

2018 کے جنرل الیکشن کے موقع پر پارلیمانی نظام کے بحران نے مزید جدت اختیار کی اب کی بار پرانے اداکاروں سمیت نئے اداکار بھی تین ماہ اور چھے ماہ کے ”تربیتی لیڈرشپ کورسز“ مکمل کروا کے اسٹیج پر اداکاری کے لیے اتارے گئے۔

بڑے بڑے طرم خان آخری مالی سال کے موقع پر کسی مخصوص فون کال کے انتظار میں رہتے تھے کہ کب اگلی پوسٹنگ کے لیے حکم نامہ صادر کیا جائے گا لیکن اب فرماں برداری کہ حد یہ ہے کہ تمام مالی سال کے امور کے لیے بھی اسی مخصوص فون کال کے انتظار میں رہتے ہیں۔

اسی کے تسلسل میں 2024 کے عام انتخابات میں ملک کی پارلیمانی سیاست کے ساتھ انتہائی بھیانک مذاق کیا گیا۔ دن کی روشنی میں جنرل الیکشن کو آکشن کے ذریعے منڈی لگا کر بیچا گیا اور اس کا سہرا بدنام زمانہ فارم 47 کے موجد کو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا طاقتور طلسماتی شیطانی فارم ہے کہ ووٹوں کی گنتی کو ایک چٹکی میں بدل دیتا ہے۔

انتخابات میں کامیابی کے اکثر خواہشمند امیدواران اب عوام میں ووٹ مانگنے کی بجائے مخصوص طلسماتی دروازے کے کھلنے کی انتظار میں رہتے ہیں جس کے دو چار چکر کاٹنے سے قبولیت متوقع ہوتی ہے۔ جس کی قیمت صرف کروڑوں روپیہ اور محض مردہ ضمیری اور ایجنٹ گیری ہے۔

آج نہایت شرم ناک طور پر پارلیمان انہی فارم 47 کے پیداوار مافیاز کے ہاتھوں یرغمال ہو چکا ہے اور اس کی مقدس دیواریں گرائی جا چکی ہیں۔ انتخابی عمل اب صرف ایک فارمیلٹی بن چکا ہے۔ عام لوگ خصوصاً نوجوان پارلیمانی سیاست سے بیزار ہو چکا ہے۔ بدامنی تاریخ کے عروج پر ہے۔ ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ غربت، مہنگائی، بیروزگاری اور جہالت آسمان کو چھو رہے ہیں۔ اداروں پر اعتماد کی جگہ نفرتوں نے لے لی ہے، ریاست اور شہریوں کے بیچ عمرانی معاہدے میں واضح دراڑیں پڑ چکی ہیں۔

مگر ”حِس“ ہمیشہ کی طرح کثرتِ حرص و ہوس میں ڈوبی بانسری بجا رہی ہے، باقی کیڑے مکوڑے جائیں بھاڑ میں!

Facebook Comments HS