پشتون جرگہ کے پشتون کہاں ہیں؟


سوشل میڈیا پر سوال کرنے والے منظور پشتون کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ پشتون کہاں ہیں؟ جبکہ منظور پشتون کے ساتھی اس کے جواب میں کہتے ہیں، کہ جن پشتونوں نے ہم سے وعدے کیے تھے وہ پشتون کہاں ہیں؟

میں صحافی اور پشتون مسئلہ سے متاثر اور منسلک ایک پشتون ہوں اس لیے یہ دونوں سوال مجھ سے بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ گزشتہ تین مہینوں میں بار بار کیا گیا۔ میں نے منظور احمد پشتون اور ان کے قریبی ساتھیوں سے جرگے کے اعلامیہ کے فوراً بعد رابطے کر کے ان کے آئندہ لائحہ عمل جاننے کے بارے میں جاننا چاہا، اور جب مجوزہ وقت گزر گیا، تو ایک بار پھر پوچھا، لیکن دوسری طرف سے مکمل خاموشی ہے۔ لیکن کوئی ایک مہینے سے ان کے قریبی سمجھے جانے والوں نے ایک ایسا جوابی بیانیہ عام کرنے کی کوشش کی ہے، جو انہی دو سوالوں کا جواب ہے، تو تین مہینوں کے انتظار کے بعد میں خیبر کے جرگے، اس کے اعلامیے اور اس کے بعد کی خاموشی پر، اور بلا واسطہ جوابی بیانیہ پر جو سمجھا ہوں، یہ اس کا تجزیہ ہے۔

میں بنیادی طور پر ایک پختون ہوں، لیکن پختون بارڈر کے دونوں طرف جس حالت میں جی رہے ہیں، اس صورت حال سے بالکل مطمئن نہیں ہوں۔ اس لیے صلح خیز، جنگ گریز، روشن فکر اور ترقی پسند پختون آواز جہاں سے اٹھتی ہے، میں اس پر دھیان دیتا ہوں، سنتا ہوں، اور جہاں تک ممکن ہو، ساتھ دیتا ہوں۔ کسی سیاسی جماعت کا رکن نہیں، لیکن اپنا وزن انہی جماعتوں کے پلڑے میں ڈال دیا کرتا ہوں، جو پختونوں کے فکری، معاشی، سیاسی، قومی، تعلیمی اور امن و امان سے تعلق رکھتی ہوں۔ جب پی پی پی بھی پورے وفاق کی نمائندہ جماعت نہیں رہی اور نون لیگ بھی پنجابی قوم پرست جماعت بن گئی ہے، تو پھر پختونوں کو بھی مصنوعی سیاسی پنیریوں کی پروردہ تخلیقات سے اجتناب کرنے کا حق پہنچتا ہے۔

پی ٹی آئی کا ایک خوبصورت تعلیم یافتہ لیکن غیر سیاسی بچہ ایک ویڈیو کلپ میں حالات کی ناسازگاری کا شکوہ کرتا ہوا کہتا ہے کہ جب سڑکوں پر نکل کر پولیس ہمیں مارے گی تو پھر ہم انقلاب کیسے لائیں گے؟

اے این پی بھی، جہاں سے الیکشن ہار جاتی ہے تو پارٹی بیانیہ یہی ہوتا ہے، کہ فلاں حلقے کے پختونوں نے ہمیں ووٹ نہ دے کر بہت بے غیرتی کی ہے، اچھا ہے جو ان کے ساتھ برا سلوک ہو رہا ہے۔ ہم نے ان کے لئے کون سی قربانی پیش نہیں کی ہے اور اپنی گزشتہ حکومت کے دوران ترقی کے کون سے پروجیکٹ نہیں کیے؟

سارے پختونوں کو غیر پارلیمانی سیاسی پلیٹ پر اکٹھا کرنے کے دعوے کرنے والی پی ٹی ایم کی صفوں سے بھی اب ایسی آوازیں آٹھ رہی ہیں، جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ جرگہ کہاں تک پہنچا؟ دو مہینے تو ہو گئے آگے کا لائحہ عمل کہاں ہے؟ تو جواب میں کہا جاتا ہے کہ جرگہ تو پختونوں کا تھا، پختونوں نے اتنے لاکھ لوگوں کا لشکر دینا تھا، ہمارا تو کوئی تعلق نہیں تھا، ہم تو محض جرگے کے سہولت کار تھے، اور آخر میں وہی جملہ کہ پی ٹی ایم نے پختونوں کے لئے کون سی قربانی نہیں دی۔

ترنول جاکر منظور پشتون نے جو تقریر کی تھی، جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا تھا، تو اس گرفتاری پر میں نے لکھا تھا، کہ یہ تو منظور نے گرفتاری کی فرمائش کی ہے۔ جب وہ جیل سے واپس آئے، تو میں نے یہی سوال انہی الفاظ کے ساتھ ان کے سامنے رکھا، تو ان کا جواب تھا، کہ میرے ساتھی جیلوں میں تکلیف میں تھے، میں نے ان کی خاطر ایسا کیا، آئندہ کے لئے میں اپنی تحریک کو منظم کروں گا اور کوئی ایسا کام نہیں کروں گا، جس کی وجہ سے میں خوامخواہ جیل چلا جاؤں۔

اس کے بعد انہوں نے پختونخوا کے تنظیمی دورے شروع کر دیے جس سے لگتا تھا کہ وہ اپنے ارادے پر عمل پیرا ہیں۔ لیکن پھر گِلہ مند وزیر کا سانحہ ہو جاتا ہے اور مرحوم کے جنازے میں، جم غفیر کے سامنے، وہ اچانک 11 اکتوبر کو پختونخوا میں ”پختون عدالت“ منعقد کرنے کا اعلان کرتا ہے، جس میں ”پختون قوم کے بارے میں پختون خود فیصلے کریں گے“ ۔

عدالت کے لفظ نے جو غلط فہمی تخلیق کرنی تھی، اور جو ہائپ بنانا مقصود تھا، وہ بن گیا۔ جس کو بیرونِ ملک بیٹھے ہوئے سوشل میڈیا کے، کی بورڈ جنگجوءوں نے مزید غلط فہمیوں کے ساتھ گوندھ کر اتنا وزنی بنا دیا، کہ جس نے تین معصوم کارکنان کی جان بھی لے لی اور اب اس کی وزن سے برسرِ زمین تو کیا سوشل میڈیا پر بھی، پی ٹی ایم رک رک کر سانسیں لے رہی ہے، بلکہ اس کے متحرک سوشل میڈیا ٹیم کے پاس پوسٹ کرنے کے لئے گِلہ مند مرحوم اور منظور پشتون کی چند تصاویر کے علاوہ کچھ نہیں بچا۔

ایک خوبصورت پختون (نقیب اللہ) کے قتل سے شروع ہونے والی تحریک، دوسرے خوبصورت پختون کے قتل پر جا کر نہ صرف منجمد ہو گئی ہے، بلکہ سارے قصور بھی ان پختونوں کے نکلے، جنہوں نے اس جرگے شرکت کی تھی۔

عوام کی بھیڑ اور لیڈرشپ کے درمیان بنیادی فرق یہ ہوتا ہے، کہ کسی بھی وجہ سے اکٹھی ہوئی بھیڑ، خود کو آتش بکف لشکر اور لیڈر اس کو انفرادی شرکت پر مشتمل تماشا سمجھتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، جو تماش بینوں کو لشکر بنا کر کسی مقصد کے تحت پیچھے لگا دے وہی لیڈر ہوتا ہے، لیکن جو تماش بینوں کو دیکھ کر خود پر قابو نہ رکھ سکے، اور ان کی طرح منہ زور خواہشات کا اسیر بن جائے، وہ جذبات انگیخت کرنے پر قادر جادوگر تو ہو سکتا ہے، کسی منزل کا مسافر نہیں۔

آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے علاوہ، محمود خان اچکزئی جس تیسرے نکتے پر بہت زیادہ ذہنی صراحت رکھتے ہیں، وہ یہ ہے کہ میں نے اپنے کارکنوں کو خصوصاً اور پختونوں کو عموماً کس طرح بھڑکائی ہوئی پرائی جنگ سے بچانا ہے۔ اور ان کے ان نکات کی میں نے ہمیشہ حمایت کی ہے۔

محسن داوڑ کہتے ہیں کہ کوئی عظیم مقصد سامنے ہو تو اس کے لئے خون بہانا جائز ہو جاتا لیکن خواہ مخواہ خود کو اور اپنے پیچھے آنے والوں کو آگ اور خون کے امتحان میں ڈالنا حماقت ہے۔

جیکٹ اور سینے کو برابر کرنے کی یک طرفہ ہلاکت خیز پالیسی نے اے این پی اور پختونوں کو جو نقصان پہنچایا ہے، وہ ناقابلِ تلافی اور سب کے سامنے ہے۔

منظور پشتون تو جنگ کے خلاف نکلے تھے، انہوں نے گڈ بیڈ اور ان کے ساتھ لڑنے والوں کی ہر لڑائی سے دستبردار ہو کر اعلان کیا تھا کہ ہم لڑائی کے خلاف ہیں، جس کی وجہ سے مجھ جیسے کمزور لوگوں نے بھی ان کے اس جرات مند کردار کا ساتھ دیا۔

جرگے کے آخری سیشن کے شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے، میں وہاں سے چلا گیا تھا، کیونکہ مجھے وہاں پر موجود مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کے ساتھ بات چیت کر کے، جو سمجھ آئی تھی، وہ یہی تھی، کہ لاکھوں کی لشکر بنا کر ہم خود لڑیں گے، اور پھر جب جرگے کا اعلامیہ جاری ہوا تو میں نے اپنے پیج پر لکھ دیا، کہ آپ تو جنگ کے خلاف نکلے تھے، اگر آپ نے ہمیں لڑانا ہی تھا، تو اس کے لئے اے این پی بہتر جماعت ہے، جس کے پاس قتل ہونے کا بیس سال کا تجربہ موجود ہے۔ (جرگے کے اعلامیہ میں عدالت کا کوئی لفظ نہیں تھا)

پہلا مطالبہ تھا ”دو مہینے کے بعد فوجی اور طالب اگر پختونخوا سے نہ نکلیں تو۔“

فوجی آپ کی مان کر اپنی بیرک چلا جائے گا، طالب کہاں جائے گا؟ وہ تو آپ کا ہمسایہ ہے۔ آپ کی مان کر وہ اپنی بندوق آپ کو دے بھی دیں، تو آپ قوم اور سیکورٹی فورسز کے خلاف اس کے کردہ جرائم کی سزا سے کیسے بچا سکتے ہیں؟ جو کام ایک منظم ریاست، اپنے بے پناہ وسائل کے ہوتے ہوئے عشروں میں نہیں کر سکی، وہ آپ کاشتکاروں، کلرکوں، اساتذہ، چھابڑی والوں، ٹیکسی والوں اور اس قبیل کے دوسرے حامیوں کے ذریعے کیسے کریں گے؟ کیا آپ جانتے نہیں کہ یہ جنگ ہماری نہیں، بین الاقوامی طاقتوں کی ہے؟ انہی طاقتوں کی جنہوں نے سوویت یونین کو روس بنا دیا ہے، جنہوں نے گورباچوف، حکمت یار، مسعود، ربانی، نجیب، ملا عمر، کرزئی اور اشرف غنی کو غیر ضروری اور غیر متعلقہ بنا دیا اور آج کے صاحبان جبہ و اقتدار کو کل غیر ضروری بنانے کے لئے بٹھایا ہوا ہے۔

آج آپ شکوہ کرتے ہیں کہ جرگہ میں شرکت کرنے والوں نے لاکھوں کی لشکر دینے کے وعدوں سے روگردانی کی ہے، ان سے پوچھیں، مجھ سے نہیں۔ تو کل جب آپ گیارہ اکتوبر کی ”عدالت“ کا اعلان کر رہے تھے، تو آپ نے اس سے پہلے کس کس سے مشورہ کیا تھا؟ اور گیارہ اکتوبر کیوں؟ بارہ یا تیرہ اکتوبر کیوں نہیں؟ آپ نے گیارہ اکتوبر کا اعلان اس وقت کر دیا تھا، جب آپ کے ساتھ کسی سیاسی جماعت یا شخص نے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ جرگہ آپ کا تھا، اعلان آپ کا تھا، پنڈال آپ کا تھا، جب آپ پر کریک ڈاؤن کر دیا گیا تو ان سب نے آپ کے گرد بیٹھ کر آپ کی حمایت کی تھی۔ آپ ان کو اپنی حمایت پر شرمندہ نہیں کر سکتے۔

میں نے جرگے سے پہلے ایک وی لاگ میں کہا تھا کہ جرگے میں کوئی نئی بات نہیں ہوگی، بلکہ یہ اس سے پہلے منعقدہ جرگوں کا تسلسل ہے، لیکن اس میں بھاری تعداد میں شرکت کر کے تاریخی بنایا جاسکتا ہے، جس پر میری ٹرولنگ کی گئی، کیونکہ تیار کردہ ماحول نے کچھ اور توقعات کو ہوا دی تھی۔

آج آپ سارا ملبہ پختون سیاسی جماعتوں اور جرگہ شرکا پر ڈالتے ہیں، لیکن آپ جانتے تھے، کہ مختلف علاقوں یا سیاسی جماعتوں سے آئے ہوئے اکثر لوگ، جرگے کے شرکا ہیں، آپ کو رہبر مان کر آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے نہیں ہیں، بلکہ آپ وہ نئی سیاسی تحریک ہے، جس سے دوسری سیاسی پارٹیاں خار کھاتی ہیں۔ پنڈال کے اندر کسی علاقائی ٹینٹ میں موجود لوگ، اخر کس طرح اپنے علاقے کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں، جو آپ کو لاکھوں کا لشکر مہیا کر دیں گے؟ وہاں آئے ہوئے بہت سارے لوگ، میری طرح اپنے کام سے چھٹی لیکر، قرض لیے ہوئے کرایہ سے پہنچے تھے، پھر وہ کس طرح کسی تصوراتی لشکر کے کمانڈر بنائے گئے؟ پھر جن سیاسی پارٹیوں کی پارلیمانی سیاست سے آپ متنفر تھے، ان کے کارکن اور ذمہ دار لوگ اپنی پارٹیوں میں رہ کر کس منطق کے تحت آپ کے جرگہ ممبران بن سکتے تھے؟

سوالات بیشمار اور کالم کا دامن تنگ ہے، لیکن آخری سوال یہ ہے، کہ جب آپ نے دو مہینے کا وقت دے دیا تو آپ نے ضرور سوچا ہو گا، کہ مطلوبہ نتیجہ برآمد نہ ہوا تو پلان بی کیا ہے؟ اور وہ صرف آپ جانتے ہیں۔ اگر جرگہ واقعی آپ کا نہیں تھا تو پھر پختون پلان بی ضرور جانتے ہوتے، اس کے بارے میں وہ آپ سے نہ پوچھتے۔

کسی بھی پارٹی، تنظیم یا تحریک کو حق حاصل نہیں کہ وہ ڈائن بن کر معصوم کارکنان کے خون سے اپنے چہرے کی سرخی بڑھائے، اور یہ اصول پختونخوا میپ، اے این پی، این ڈی ایم اور پی ٹی ایم پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani