سڑک سے رشتہ


گھر سے نکلتے ہی باہر کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں، پہلا رابطہ سڑک سے ہوتا ہے، فاصلے طے کرنے میں مدد دیتی ہے، پیدل یا کسی سواری پر منزل کی طرف ہم چل پڑتے ہیں، زندگی کے معمولات کی تکمیل کے لئے بھی انہیں راستوں پر چلتے ہیں۔

آج کا دن کیسے گزرے گا، کیا کچھ کرنا ہے، سٹوڈنٹس اپنے تعلیمی ہدف اور آفس، کاروبار، فیکٹری اپنے کام پر جانے والے بھی اپنی سوچوں کے گھوڑے دوڑاتے جاتے ہیں، خوشی، غمی میں شرکت ہو، اپنے، پیاروں سے میل ملاقات کا بہانہ ہو، یہی راستے کام آتے ہیں،

سب آگے بھاگ رہے ہوتے ہیں، جیسے میراتھن ہو، کبھی پاس سے گزرنے والے یا آگے جانے والوں پر نگاہ پڑتی ہے، کبھی بالکل لاتعلق ہو کر پاس سے گزر جاتے ہیں، ہم گھروں سے اپنی فکر اور پریشانی ساتھ لے کر نکلے ہوتے ہیں، کندھے پر کتابوں اور اپنے سامان کے علاوہ ذہنوں میں اپنے ہدف کی سوچ کا بوجھ اٹھایا ہوتا ہے، کبھی اس سڑک کے بارے میں بھی خیال گیا کہ اس کے گڑھے، رکاوٹیں اور تکلیف دہ راستے کتنا پریشان کرتے ہیں، ان راستوں کی اہمیت کا کبھی احساس نہیں ہوا، کئی راہیں ہمیں خوشی دیتی، کچھ پر سفر کرتے دکھی اور غمگین ہو جاتے ہیں، صاف وجہ ان سے وابستہ خوشگوار اور تلخ واقعات اور یادیں ہوتی ہیں۔ ان سڑکوں راستوں سے شناسائی، واقفیت اور جیسے دوستی کا تعلق بھی ہو جاتا ہے، اپنے کام کی تکمیل کے بعد گھر لوٹتے اکثر بہت راحت اور خوشی محسوس ہوتی ہے کیونکہ اپنے ٹھکانے اور مسکن تک پہنچنا فطری طور پر بھلا لگتا ہے۔

سڑک مواصلات کا ذریعہ کہلاتی ہے، یہ ہمیں بہت کچھ سکھاتی اور معلومات تک رسائی کے علاوہ نئے تعلقات بنانے میں بھی معاون ہوتی ہے۔ ہمیں سڑک پر قدم رکھتے کئی قوانین اور قواعد کا بھی خیال آ جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اکثر لوگ دعائیں بھی سفر کے دوران کرتے ہیں۔ مطلب زندگی کا سفر بھی شاید انہیں راستوں میں کہیں ہو رہا ہوتا ہے۔

سڑک سے دوستی اچھی ہے لیکن بہت محتاط انداز میں۔

Facebook Comments HS

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 153 posts and counting.See all posts by nauman-yawar