سرویکل کینسر۔ بچہ دانی کے مونہہ کا سرطان


muhammad salim gujranwala

انسانی بچہ دانی ناشپاتی کی شکل جیسی ہوتی ہے، جو کہ پیٹ کے نچلے حصے میں ہوتی ہے۔ اس میں جنین تخلیق پاکر بڑھتا ہے۔ خواتین میں بچہ دانی کے مونہہ کے سرطان کی شرح چوتھے درجے پر ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے ہر سال ماہ جنوری کو سرویکل کینسر کی آگاہی کے لیے مختص کیا ہوا ہے جس کا مقصد اس کینسر کی روک تھام کر کے خواتین کو اس موذی مرض سے بچا کر ان کی قیمتی زندگی کی حفاظت کرنا ہے۔

سرویکل کینسر، بیضہ دانی اور چھاتی کے سرطان کی طرح موروثی نہیں بلکہ جنیاتی ہوتا ہے، یعنی یہ سرطان خواتین کی سرویکس کے خلیوں کے جینز میں تبدیلیوں کے باعث ہوتا ہے جس کا باعث ہیومن پیپیلوما وائرس سے پیدا شدہ سرویکس کی سوزش ہوتی ہے۔ یہ سرطان زیادہ تر شادی شدہ خواتین میں ہوتا ہے جن میں سرویکس کی اکثر سوزش اور عفونت رہتی ہے۔

سرویکس کینسر سے بچاؤ کے لیے ہیومن پیپیلوما وائرس کے خلاف موثر حفاظتی ویکسین بن چکی ہے جو 9 سے 14 سال کی عمر کی بچیوں کو دو دفعہ لگا کر انہیں اس سرطان سے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں متعدی بیماریوں کے خلاف بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں کے کسی بھی قومی پروگرام میں یہ حفاظتی ٹیکہ شامل نہیں ہے جس کی وجہ اس کی قیمت کا زیادہ ہونا ہے جو پانچ ہزار روپے فی ٹیکہ ہے۔ قیمت زیادہ ہونے کے باعث یہ ٹیکہ پاکستان میں عام طور لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے جس کے باعث اس کی فراہمی بھی زیادہ آسان نہیں ہے۔

سرویکل سرطان کے مریض زیادہ تر نچلے پیٹ کے درد، ماہواری یا ماہواری کے بغیر زیادہ خون کا بہنا اور ہم بستری کے بعد خون آنے کی علامات کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس آتے ہیں۔ ایسے مریضوں کو ڈاکٹر فورا نچلے پیٹ کا الٹرا ساونڈ کروانے کا مشورہ دیتے ہیں جس سے فوری تشخیص یا تشخیص کی جانب رہنمائی ہوجاتی ہے جس کو کچھ مزید جانچ پڑتال کے بعد پرکھا جا سکتا ہے۔

شادی شدہ خواتین میں اس سرطان کی پکی تشخیص کے لیے پیپ ٹیسٹ تجویز کیا جاتا ہے جس میں سرویکس کے اندر سے رطوبت اور خلیوں کا نمونہ لے کر اس کو سرطان کے لیے جانچا جاتا ہے۔

شادی شدہ خواتین میں یہ ٹیسٹ 21 سے 29 سال کی عمر میں ہر تین سال بعد کیا جاتا ہے، 30 سے 64 سال کی عمر میں ہر پانچ سال بعد کیا جاتا ہے اور 65 سال کی عمر کے بعد بوقت ضرورت کیا جاتا ہے۔

سرویکل کینسر سے بچاؤ کے لیے متعلقہ حصے کی صفائی ستھرائی، حفظان صحت کے اصولوں پر کاربند ہونا، ہیومن پیپیلوما وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کروانا اور مقررہ وقت کے بعد پیپ ٹیسٹ کرواتے رہنا بہت ضروری ہیں۔

بچہ دانی کے مونہہ کے سرطان کا علاج بیماری کی خطرناکی کی نوعیت کے حساب سے ہوتا ہے۔ اس میں انسدادِ سرطان کی ادویات، ریڈیو تھیراپی اور زیادہ تر مریضوں میں بچہ دانی، بیضہ دانیوں سمیت پیٹ کے نچلے حصے کی بافتوں کی مکمل جراحی کر دی جاتی ہے۔

سرطان کے بارے میں ایک عمومی نکتہ یہ ہوتا ہے کہ اس مرض کی تشخیص جتنی جلد ہوگی اتنا ہی اس کا علاج کامیاب اور سہل ہو گا۔

اسی لیے ہر سرطان کی جلد تشخیص کے لیے ماہرین طب نے مختلف قسم کے تشخیصی معیار اور جانچ کے طریقے وضع کیے ہیں جن کے باعث ابتدا میں ہی بیماری کی تشخیص ہو جاتی ہے اور اس کا علاج کامیاب اور سہل ہو جاتا ہے اور مریض کو کم از کم تکلیف اور پریشانی لاحق ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS