امریکا اور پاکستان: دور کے ڈھول سہانے


دور کے ڈھول سہانے ہیں
صدیوں کے افسانے ہیں

:دور کے ڈھول سہانے ”اردو محاورہ بھی ہے جس کا مطلب دور سے چیزیں یا حالات زیادہ پرکشش یا بہتر لگتے ہیں، لیکن قریب جا کر حقیقت مختلف ہو سکتی ہے۔ امریکہ کے بارے میں ہمارے ہاں ایسی باتیں کی جاتی ہیں جس سے لگتا ہے سب کچھ امریکہ میں ہے، اس کی اقدار دنیا کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں جبکہ ہمارے پاس کچھ نہیں“ گرین کارڈ ”مل جائے تو سمجھا جاتا ہے کہ“ جنت ”مل گئی۔ ہمارا عالم یہ ہے کہ:

دن کو ہم رات جان لیتے ہیں
اس کی ہر بات مان لیتے ہیں!

امریکی سسٹم کی تصویر دو رنگی ہے ایک طرف امریکی سسٹم وہ ہے جس کا تذکرہ بل کلنٹن کی نئی کتاب Citizen: My Life After the White House میں ایک واقعے کی صورت میں ملتا ہے دوسری جانب اس کا سسٹم پاکستان جیسا ہی ہے۔ بل کلنٹن 8 برس امریکہ کے صدر رہے۔ مونیکا کیس میں پھنسے تو مقروض ہو گئے اور پھر لیکچرز دے کر اپنے قرض اتارے۔ وائٹ ہاؤس کے صدر کی حیثیت ہے انہیں ساری دنیا جانتی ہے۔ بل کلنٹن نے اپنی کتاب میں واقعہ لکھا ہے، کہ انہیں صدارت سے ہٹے ایک عرصہ ہو گیا تھا کہ

مشکلات کے شکار ایک سربراہ مملکت نے ان سے درخواست کی کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت فائنل کرانے میں ان کی مدد کریں۔ اُس ملک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف جن شرائط پر قرض دے رہا ہے وہ اتنی سخت ہیں کہ ان کے لئے بہت مشکلات پیدا ہوں گی۔ عوام پہلے ہی مہنگائی اور دیگر معاشی اور سماجی مسائل کی وجہ سے مشتعل ہیں ’اگر یہ شرائط مان لی گئیں تو پھر حالات مزید خراب ہوں گے۔ ان کی حکومت تو خطرے میں پڑے گی ہی لیکن عوام کے بپھرنے سے ملکی سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

آپ اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں کہ آئی ایم ایف نرم شرائط پر ہمیں قرضہ دے تاکہ ہم اپنے معاشی مسائل سے نپٹ سکیں‘ یا پھر آپ امریکی حکومت سے کہیں کہ وہ ہمیں قرضہ دے۔ کلنٹن نے ان سے کوشش کرنے کا کہا۔ یہ جارج ڈبلیو بش کا دور صدارت تھا۔ کلنٹن نے بش کو کال کرنے کے بجائے سیکرٹری خزانہ کو فون کیا اور انہیں کہا کہ وہ اُس ملک کی مدد کرنے کا کوئی آپشن دیکھیں۔ کلنٹن نے تفصیل سے انہیں پورا مسئلہ سمجھایا کہ اس ملک اور عوام کے کیا مسائل ہو سکتے ہیں۔

اگر امریکہ مدد کر سکے تو بہتر ہو گا۔ سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ وہ اس ایشو کو دیکھ کر اور صدر سے بات چیت کر کے انہیں جواب دیں گے۔ کہ سابق صدر بل کلنٹن کی طرف سے یہ درخواست آئی ہے۔ خیر ’دو تین دن بعد سیکرٹری خزانہ نے مجھے فون کر کے کہا کہ سوری! امریکہ اس معاملے میں اُس ملک کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ پھر وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا‘ کچھ عرصہ بعد اُس ملک کے معاشی حالات مزید بگڑ گئے، ہنگامے شروع ہو گئے اور ملک کے سربراہ کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔

بل کلنٹن کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تعلقات کا لحاظ رکھتے ہیں۔ ان کے دور صدارت میں امریکہ نے پاکستان کی F 16 طیاروں کی رقم روک رکھی تھی۔ نواز شریف نے 1998 ء میں وائٹ ہاؤس میں ان سے ملاقات میں یہ ایشو اٹھایا تو انہوں نے آدھی رقم واپس کرائی۔ باقی پیسوں کا شوکت عزیز نے گندم کا سودا کر لیا تھا۔ بل کلنٹن نے نواز شریف کی جنرل پرویز مشرف سے جان بخشی بھی کرائی جب وہ چند گھنٹوں کے لیے اسلام آباد میں رکے اور کہا کہ نواز شریف کے ساتھ وہ سلوک نہ ہو جو جنرل ضیا نے بھٹو کے ساتھ کیا۔

اس کے بعد ہی نواز شریف جلا وطنی اختیار کر کے سعودی عرب گئے۔ بل کلنٹن کا ذکر کردہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی سسٹم کسی کی خواہش پر کام نہیں کرتا۔ وہاں اداروں میں بیٹھے لوگ تمام معاملات میں امریکی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ سیکرٹری خزانہ نے کلنٹن کی خواہش کے بجائے امریکی مفادات کو سامنے رکھا۔ اب آپ دوسری جانب آئیں صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں ایف بی آئی کے سربراہ جیمز کو می سے اپنے خلاف جاری تحقیقات پر سوال کیا کہ تم میرے وفادار رہو گے۔

جیمز کو می نے جواب دیا کہ مجھ سے وفاداری نہیں بلکہ ایمانداری کی توقع رکھیں۔ اگلے دن ٹرمپ نے انہیں برطرف کر دیا۔ وہ بھی چپ چاپ چلے گئے ’حالانکہ ان کی ملازمت کے 3 سال باقی تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ کو بھی پاکستانی حکمرانوں کی طرح ایمان دار نہیں وفادار افسران پسند ہیں۔ پاکستان میں ایسی مثالوں کی بھرمار ہے۔ صرف دو واقعات ملاحظہ کریں۔ طارق کھوسہ (ڈی جی ایف آئی اے ) پاکستان سٹیل ملز کی کرپشن کی انکوائری کر رہے تھے۔

ایک دن صدر آصف زرداری نے کھوسہ صاحب کو فون کر کے وفاداری کا تقاضا کیا تو انہوں نے انکار میں جواب دیا اس کے بعد انہیں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ وہ ڈی جی ایف آئی اے سے نارکوٹکس کے سیکرٹری لگا دیے گئے۔ چند برس قبل میر زبیر محمود کو آئی جی سندھ لگانے کی مہم چلی۔ زرداری صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہیں پتہ چلا کہ میر زبیر محمود وہی ہیں جنہوں نے ان کے دوست کو سٹیل مل سکینڈل میں گرفتار کیا تھا۔ پھر میر زبیر آئی جی کہاں لگتے کیونکہ زرداری صاحب کو ایمان دار کے بجائے وفادار کی ضرورت تھی۔

ہم بار بار سنتے ہیں کہ پاکستان میں ہر جگہ لاقانونیت ہے ’سیاستدان کرپٹ ہیں۔ امریکہ میں اس سے زیادہ لا قانونیت دکھائی دیتی ہے۔ آئے دن سکولوں میں طلبہ و طالبات کا اپنے کلاس فیلوز کو قتل کرنا معمول ہے۔ امریکی سکولوں میں اوسطاً ہر ماہ شوٹنگ کا ایک واقعہ پیش آتا ہے لیکن امریکی حکومت یا کانگریس اس قتلِ عام کی وجہ سے بھی اسلحہ پر پابندی نہیں لگاتی‘ نہ ہی بندوق رکھنے کی عمر بڑھا کر 25 سال کرنے کو تیار ہے۔ گن لابی کی فتح کی وجہ کرپٹ سیاستدان ہیں۔

جن کی انتخابی مہم میں وہ فنڈنگ کرتی ہے۔ بارک اوباما سکول شوٹنگ واقعات پر روتے دیکھے گئے لیکن وہ بھی اسلحہ کنٹرول نہ کرا سکے۔ جو بائیڈن نے بھی مذمتیں کیں لیکن کچھ نہ کر سکے۔ امریکی سیاستدانوں کی مزید کرپشن دیکھنی ہو تو ڈونلڈ ٹرمپ کو دیکھ لیں جن کے تیس ’بتیس الزامات کا ٹرائل ہوا اور دیگر بہت سے الزامات بھی لگے۔ کچھ متنازع جنسی تعلقات پر سیٹل منٹس ہوئیں۔ اس کے باوجود وہ دوسری بار امریکہ کے صدر بن گئے۔

بائیڈن نے اپنی صدارتی میعاد ختم ہونے سے ایک ماہ قبل اپنے بیٹے کو صدارتی معافی دی جس پر الزام تھا کہ وہ یوکرین سے لاکھوں ڈالر اپنی فرم کے لیے لے رہا تھا۔ اس طرح ٹرمپ نے بھی اپنی بیٹی کے سسر کے جرم کو معاف کیا تھا۔ اب اس کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کیا جا رہا ہے۔ ایک اور داماد کے باپ کو فرانس میں سفیر لگانے کی خبریں زیر گردش ہیں۔ ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سیاستدان بھی وہی کچھ کرتے ہیں جو دنیا بھر کے سیاستدان کرتے ہیں۔

ذرا تصور کریں کہ پاکستان میں کوئی صدر یا وزیراعظم اپنے کسی بچے کو جیل جانے سے بچانے کے لیے معافی دے دے تو ہمارے ہاں کیسا طوفان آ جائے گا۔ امریکہ میں یہ ایک دن کی خبر ہوتی ہے اور پھر طویل خاموشی وفاداریوں نے اگر پاکستان کے سسٹم کو تباہ کر رکھا ہے تو کیا امریکا بج پائے گا۔ ہم امریکا کی چکا چوند میں سب بھول جاتے ہیں عافیہ صدیقی کے ساتھ جو ”انصاف“ ہوا وہ بھی دنیا کے سامنے ہے۔ جمہوریت کی مالا جپنے والے امریکا نے کیا ہمیشہ پاکستان اور دنیا میں آمروں کی مدد نہیں کی۔ ایوب خان سے مشرف تک تمام طالع آزماؤں کو اس نے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ اسی لیے کہتے ہیں ”دؤر کے ڈھول سہانے“ ہماری بدقسمتی دیکھئیے کہ ہم ہر امریکی تبدیلی سے اپنی کامیابی وابستہ کرلیتے ہیں جیسا کہ عشاق عمران کی رہائی ٹرمپ کے حلف اٹھانے سے نتھی کرلی گئی ہے۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “امریکا اور پاکستان: دور کے ڈھول سہانے

  • 10/01/2025 at 12:12 صبح
    Permalink

    نہایت شرم کی بات ہے کہ کسی اور کہ لکھے کالم کا 90 فی صد سرقہ کرکے اپنے نام سے چھاپ دیا۔
    لگتا ہے آپ ن لیگ کے نام لیوا ہیں۔

    • 10/01/2025 at 4:28 صبح
      Permalink

      چند سر پھرے پولیس افسران 3 جنوری رؤوف کلاسرا
      آپ اچھے‘ ہم برے 29 دسمبر رؤوف کلاسرا

Comments are closed.