کہاں ہے نابالغوں کے لئے اصلاحی انصاف؟
جووینائل جسٹس سسٹم ان بچوں سے نمٹنے کے لئے ہے جن سے قانون سے متصادم کوئی کام ہوا ہو۔ یہ سخترسمی عدالتی کارروائی کی بجائے بچوں کے لئے دوستانہ طریقہ کار اور ڈائیورژن فراہم کرتا ہے۔ یہ کم عمر مجرموں کی بحالی اور معاشرے میں ان کے دوبارہ انضمام پر توجہ مرکوز کرتا ہے تا کہ وہ مستقبل میں ایک ذمہ دار شہری کے طور پر زندگی گزار سکیں۔ نوعمروں کے لئے انصاف کے انتظام کے مخصوص طریقہ کار معاشروں میں وقت کے ساتھ ارتقاء پذیر ہیں۔ تاہم بچوں کے جرم کا تصور نیز ان کے لئے خصوصی ٹرائلز اور ادارے برطانیہ میں انیسویں صدی کے وسط میں قائم کیے گئے تھے۔
نابالغ مجرموں کے ساتھ ہمدرد اور اصلاحی سلوک کرنے کی منطق اقوامِ متحدہ کے معاہدہ برائے حقوق اطفال (UNCRC) کے آرٹیکل 37 اور 40 میں بھی موجود ہے جس کا پاکستان 1990 سے رکن ملک ہے۔ بچوں کے لئے انصاف کے خصوصی طریقہ کار کا خیال ان کو انسانوں کا ایک کمزور گروہ قبول کرتے ہوئے ٗ ملزم کے ساتھ ہمدردانہ سلوک کرنا ہے۔ ان بچوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جانا چاہیے جو UNCRCکی دفعات کے خلاف نہ ہو۔
اقوامِ متحدہ کی بچوں کے حقوق پر کمیٹی نے 2016 میں پاکستان کی پانچویں متواتر رپورٹ کے جائزے کے نتیجے میں جووینائل جسٹس سسٹم پر ناکافی قانون سازی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ 2018 میں پاکستان کے تیسرے Universal Periodic Review کی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان نابالغوں کے انصاف کے لئے بین الاقوامی معیارات کے پیش نظر ضروری اقدامات کرے۔ پاکستان نے جنیوا میں پیش کی گئی اس سفارش کو قبول کیا۔
لہذا اسی سال مئی میں جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ، 2018 آیا۔ اس کی منظوری بین الاقوامی وعدوں کی تعمیل میں ایک قابلِ فخر عمل تھا۔ اب مقامی اور بین الاقوامی قانون کا تقاضا ہے کہ پاکستانی بچوں کو انصاف کے اصلاحی چہرے کا سامنا ہو۔ بد قسمتی سے جب حالات ان کے قابو یا سمجھ سے باہر ہونے کی وجہ سے وہ قانون سے متصادم ہو جائیں تو وہ ایک مضبوط جووینائل جسٹس سسٹم کا سامنا کریں اور اس ایکٹ کے فوائد سے فیض یاب ہو سکیں۔
جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ، 2018 اٹھارہ سال سے کم عمر ایسے فرد کی حفاظت کرتا ہے جو قانون سے متصادم ہو۔ یہ بچے کے بہترین مفاد کو پیش نظر رکھتا ہے۔ جس کا مطلب ہے مقدمے اور حراست کے دوران لئے گئے کسی بھی فیصلے کی بنیاد بچے کے بنیادی حقوق اور ضروریات، شناخت، سماجی بہبود، جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی نشوونما کو یقینی بنائے گی۔ اس قانون میں ڈائیورژن کا تصور شامل کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ کسی نو عمر کے سماجی، ثقافتی، معاشی، نفسیاتی اور تعلیمی پس منظر کی بنیاد پراس پر جرم کی ذمہ داری اور اس سے سلوک متعین کرنے کا متبادل عمل بغیر رسمی عدالتی کارروائی کا سہارا لئے اختیار کیا جاتا ہے۔
ڈائیورژن کے لئے ہر ضلع کے لئے جووینائل جسٹس کمیٹی قائم کرنے کی ضرورت ہے جس میں ایک حاضر سروس جوڈیشل مجسٹریٹ، ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر، متعلقہ سیشن جج کا مقرر کردہ لوکل بار کا وکیل اور پروبیشن افسر یا سوشل ویلفیئر افسر شامل ہوں۔ کمیٹی پولیس، استغاثہ یا جووینائل کورٹ کے ریفر کیے گئے کیس کو ڈائیورژن کے ذریعے ایک ماہ کے اندر نمٹا دے گی۔ جس شخص کے خلاف جرم کیا گیا ہو کمیٹی اس کی مرضی سے نقصان کی تلافی، جائیداد کی واپسی، تحریری یا زبانی معافی، کمیونٹی سروس، کارروائی کے اخراجات اور جرمانے کی ادائیگی، نو جوانوں کے بحالی مرکز میں خدمت، تحریری اور زبانی سرزنش کو عمل میں لاتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ کرے گی۔
جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ، 2018 کے مطابق گرفتار نابالغ کو خاص آبزرویشن ہوم میں رکھ کر پولیس سپرنٹنڈنٹ یا سب ڈویژنل پولیس افسر کی نگرانی میں سب انسپیکٹر تک کا افسر پوچھ گچھ کرے گا جو پروبیشن افسر یا سوشل ویلفیئر افسر کی مدد سے ہو گی جس نے سماجی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرنا ہوتی ہے۔ اس قانون کے مطابق کسی بچے کو ہتھکڑی نہیں لگائی جا سکتی، بیڑیاں نہیں پہنائی جا سکتیں، مزدوری کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، حراست کے دوران جسمانی سزا نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی کسی بچے کو سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
آرٹیکل 13 کی تعمیل کرتے ہوئے کسی نابالغ کی شناخت ذرائع ابلاغ پر ظاہر نہیں کی جا سکتی۔ اس قانون کے مطابق اگر اس بات کی معقول بنیاد ہو کہ کسی نابالغ کی رہائی کے بعد اسے کسی خطرے یا مجرموں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو اسے کسی موزوں شخص کے پاس یا پروبیشن افسر کی زیرِنگرانی جووینائل بحالی سنٹر میں رکھا جائے گا۔ نابالغ کو کسی بھی صورت کسی تھانے یا جیل میں پولیس کی تحویل میں نہیں رکھا جائے گا۔
یہ قانون ہر ملزم بچے اور ہر جرم کا شکار بچے کو ریاست کے خرچ پر قانونی امداد حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔ جووینائل جسٹس سسٹم (ترمیمی) ایکٹ، 2022 کے بعد یہ قانون بیان کرتا ہے کہ وزیرِ اعظم متعلقہ ہائی کورٹ کے ساتھ مشاورت سے یہ قانون آنے کے تین ماہ کے اندر جووینائل کورٹس قائم یا نامزد کرے گا۔ ہر جووینائل کورٹ کا اختیار ایک یا دو ضلعوں تک ہو گا اور یہ جرم نوٹس ہونے کے بعد چھ ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ کرے گی۔
اس ایکٹ کے آنے سے پہلے جووینائل جسٹس سسٹم آرڈیننس 2000 میں ملزم بچیوں کے تحفظات کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ اس کے برعکس جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ، 2018 کا آرٹیکل 17 کہتا ہے کسی بھی بچی کو کسی صورت بھی مرد پولیس افسر کے ذریعے گرفتار یا تفتیش نہیں کیا جائے گا۔ نا ہی کسی مرد افسر کی نگرانی میں پروبیشن پر چھوڑا جائے گا۔ اسے ایسے تصدیق شدہ جووینائل بحالی سنٹر میں رکھا جائے گا جہاں بچیوں کے لئے خصوصی انتظام ہو۔
مندرجہ بالا نکات کو دیکھتے ہوئے جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ، 2018 کو بچوں کے تخفظ کے حوالے سے ایک مناسب قانون کہا جا سکتا ہے لیکن پچھلے چھ سالوں میں اگر اس پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے تو کئی سوال اٹھتے ہیں۔ ابھی تک اس قانون کے قواعد و ضوابط صرف اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے لئے بنے ہیں۔ پچھلے سالوں میں صرف 13 چائلڈ پروٹیکشن کورٹس بنیں۔ اگرچہ یہ مخصوص جووینائل کورٹس نہیں تھیں تاہم ان عدالتوں نے بچوں کو انصاف دینے کے لئے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
بد قسمتی سے پشاور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے نے ان عدالتوں سے نابالغوں کے مقدمات سننے کا دائرہ اختیار ختم کر دیا۔ اعلیٰ عدالتی حکام نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں مجموعی طور پر تمام صوبوں میں تمام ایڈیشنل سیشن ججوں کو نابالغوں کے ججوں کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ جو مخصوص جووینائل کورٹس کی خصوصی ضروریات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا ہے۔
کسی بھی ضلع میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نابالغوں کے لئے انصاف کے معاملے میں اسٹیک ہولڈر بننے اور کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ پروبیشن افسران کی کمی اس قانون کے نفاذ کی راہ میں ایک اور رکاوٹ ہے۔ ملک کے ہر ضلع میں کم از کم ایک پروبیشن افسر بچوں کے لئے مخصوص ہونا چاہیے۔ اس ایکٹ کی منظوری کے چھ سال بعد 13 دسمبر 2024 کو لاہور کے لئے جووینائل جسٹس کمیٹی کا قیام عمل میں آیا ہے۔ پچھلے سالوں میں ملک کے دیگر حصوں میں آٹھ کمیٹیاں بنائی گئیں جو کہ غیر فعال ہیں۔ پاکستان میں لگ بھگ 166 اضلاع ہیں اور یہ قانون تقاضا کرتا ہے کہ ہر ضلعے میں ایک بھر پور فعال کمیٹی موجود ہو۔
پاکستان نے چھٹی اور ساتویں مشترکہ رپورٹ اگست 2023 میں اقوامِ متحدہ کے معاہدہ برائے حقوق اطفال کی کمیٹی کو جمع کروائی ہے۔ رپورٹ 5 فروری 2024 سے اقوامِ متحدہ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ نابالغوں سے انصاف کے بارے میں بات کرتے ہوئے رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ مختلف صوبوں اور علاقوں میں نابالغوں کو مفت قانونی امداد بہم پہچانے کے لئے کتنے وسائل مختص کیے گئے ہیں؟ کتنے مخصوص آبزرویشن ہومز اور نو عمروں کی بحالی کے مراکز قائم کیے گئے ہیں؟ نابالغوں کے کتنے مقدمات عدالتوں میں زیرِ التواء ہیں؟ نابالغوں کے کیسز کے تیز ٹرائل کے لئے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ UNCRCکے General Comment 24 کی رہنمائی میں اس قانون کو پوری طرح نافذ کرنے کی فوری ضرورت ہے۔
جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ، 2018 کے آنے کے بعد اس بات کی قانونی بنیاد مو جود ہے کہ انصاف کے اصلاحی نکتہ نظر سے اقدامات متعارف کروائے جائیں، اداراتی تبدیلیاں کی جائیں۔ ہمارے معاشرے اور نظامِ عدل نے طویل عرصے تک تعزیرات/ سخت سزاؤں کا طریقہ استعمال کیا ہے جس کے مثبت نتائج سامنے نہیں آئے۔ یہ وقت ہے کہ ٹینڈر اور اصلاحی انصاف کے نکتہ نظر کو نابالغوں کے انفرادی کیسوں میں موقع دیا جائے جو معاشرے کے ساتھ ساتھ نظام کی بیماریوں کا بھی علاج ہے۔


