محمد فاروق بمبے والا (1940 ۔ 2024)
16 جولائی 2023، اتوار کے دن ملک کے عظیم گیت نگار حضرت تنویرؔ نقوی کے صاحبزادے شہبازؔ تنویر نقوی مجھے اپنے ساتھ محمد فاروق بمبے والا صاحب کے پاس لائے۔ سلام دعا کے بعد سب سے پہلا سوال میرے ذہن میں آیا وہ یہ کہ اِن کو بمبئی والا کیوں کہتے ہیں؟ کیا یہ بمبئی سے آئے تھے؟ شاید کوئی تعلق وہاں کی فلمی دنیا سے ہو گا!
” بمبئی والا صاحب! پہلے تو یہ بتائیے کہ آپ کو بمبے والا کیوں کہتے ہیں؟“ ۔
” بمبے والا مجھے اس لئے کہتے ہیں کیوں کہ میں نے بمبئی میں کافی عرصہ گزارا۔ ویسے میں لال کھو، اندرون موچی گیٹ، لاہور کا رہنے والا ہوں۔ میں 1957 میں لاہور سے بمبئی چلا گیا تھا۔ جب گیا تو دلیپ کُمار صاحب کے پاس ہی گیا جو پشاور کے رہنے والے تھے۔ اِس خاندان کے ساتھ ہمارے خاندانی تعلقات تھے۔ اس سے پہلے میں ریڈیو پاکستان لاہور سے غزلیں گاتا تھا۔ اس وقت فنکشن بہت زیادہ ہوتے تھے۔ آپ کو پتا ہی ہے لطیف صاحب! اُس زمانے میں لاہور میں پلے بیک سنگر کوئی تھا ہی نہیں۔ اگر کوئی تھا تو وہ علی بخش ظہور اور منور سلطانہ تھیں! یہی پلے بیک سنگر ساری فلم انڈسٹری کے مالک تھے! سلیم رضا، منیر حسین، رُشدی اور مہدی حسن بعد میں آئے“ ۔
اولین استاد، استاد چھوٹے غلام علی خان صاحب
” ابھی آپ نے گلوکاری کی بات کی تو کیا آپ نے کسی سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی؟“ ۔
” ابھی پاکستان نہیں بنا تھا۔ میں سات آٹھ سال کا تھا۔ میرے ایک چچا عبد العزیز نے ریکارڈوں والا باجا رکھا ہوا تھا۔ وہ بیگم اختر، زہرہ جان انبالہ والی، شمشاد بیگم وغیرہ کے گانے لاتے تھے۔ اِن گانوں کو سُن سُن کر میرا بھی شوق بڑھ گیا۔ میری آواز تو جو تھی سو تھی جب میں 10 سال کا ہوا تو جونہی چچا گھر سے جاتے توں ہی میں یہ گانے لگا کر خوب سُنتا اور اُن کے ساتھ گاتا۔ وہ گانے مجھے ازبر ہو گئے۔ پھر جب 12 سال کا ہوا تو لوگوں نے کہا کہ اس بچے کی تو آواز بہت اچھی ہے لہٰذا اس کو ضائع نہ کریں۔ یوں میں 14 سال کی عمر کو پہنچا تو میرے ایک اور چچا عبد الحلیم نے کہا کہ مجھے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس بچے کو کسی اچھے استاد کی ضرورت ہے۔
یوں سب سے پہلے میں نے استاد چھوٹے غلام علی خان صاحب کی شاگردی اختیار کی۔ استاد چھوٹے غلام علی خان صاحب کون تھے؟ وہ محمد رفیع کے بھی استاد تھے! میرے چچا نے استاد چھوٹے غلام علی خان صاحب کو گھر بُلوایا۔ انہوں نے مجھے سُن کر کہا کہ یہ لڑکا بہت اچھا گانے والا ہے۔ گانا تو میں پہلے ہی گا رہا تھا اب کلاسیکی موسیقی کی تربیت حاصل کرنے کا مرحلہ شروع ہوا ”۔
حسن لطیف لَلِک سے پہلی ملاقات
” میں پہلے یہ عرض کر دوں کہ میرے دوست لَلِک سے میری ملاقات کیسے ہوئی! 1954 میں ایک نمائش منٹو پارک لاہور میں منعقد ہوئی جہاں اب مینارِ پاکستان ہے۔ تب میرے ایک چچا نور الٰہی، یونیورسٹی سے ایم ایس سی کر رہے تھے۔ انہیں بھی میرے گانے کا پتا لگا تو وہ مجھے نمائش میں لے گئے۔ میں نے وہاں گانے سنائے جس سے میرا نام ہو گیا۔ حسن لطیف لِلَک نے مجھے سنا اور کہا کہ یہ فاروق نام کا لڑکا جو گا رہا ہے یہ بہت اچھا سِنگر ہے اِس کو کس طرح مِلا جائے؟ انہیں بتایا گیا کہ اس نے دو تین دن سے نمائش میں تھرتھلی پھیلائی ہوئی ہے۔ کہنے لگے کہ میں نے اسے مل کر جانا ہے۔ ان سے کہا گیا کہ ابھی وہ باہر آتا ہے تو آپ سے ملاقات کرا دی جائے گی۔ لِلَک صاحب میرے پاس آئے اور اپنا تعارف کرایا کہ میں میوزک ڈائریکٹر ہوں۔ آپ پاکستان کے بڑے اچھے سنگر ہیں اور آنے والے وقت میں اور بڑے ہوں گے! میں نے شکریہ ادا کیا۔ اس پر کہنے لگے کہ آپ نے کل صبح ناشتہ میرے گھر کرنا ہے ”۔
نیشنل میوزک اکیڈمی
” دوسرے دن میں ان کے گھر، واقع کریم پارک چلا گیا۔ انہوں نے مجھے ناشتہ کروایا۔ پھر مجھے کہا کہ 2 میکلوڈ روڈ پر نیشنل میوزک اکیڈمی کے نام سے ہماری اکیڈمی ہے آپ نے کل اُدھر آنا ہے۔ انہوں نے جا کر اپنی اکیڈمی میں جہاں ریاض شاہد، منیر ؔنیازی، علا الدین ، حسن طارق، طالش اور کئی لوگ تھے، میری تعریف کی کہ اس لڑکے کو میں نے سنا ہے اور کل بلوایا ہے۔ اِس کو ذرا سُننا! میں دوسرے دن وہاں گیا تو یہ تمام افراد بیٹھے ہوئے تھے۔ حسن لطیف لَلِک صاحب مجھے کہنے لگے کہ آپ ذرا گانا سنائیں۔ میں نے باجا پکڑا اور گایا۔ پھر وہاں بیٹھی شخصیات نے میری تعریف کی۔ مجھے کہا گیا کہ آپ پاکستان کے بہت بڑے سنگر ہوں گے۔ ہماری سب فلموں کے گانے آپ گائیں گے! پھر منیر ؔنیازی نے ایک گانا میرے (گانے کے) لئے لکھا :
جس نے میرے دل کو درد دیا
اُس شکل کو میں نے بھلایا نہیں
پھر میں راگ جونپوری میں کچھ سنا رہا تھا تو منیرؔ نیازی کہنے لگا کہ آپ یہ سناتے جائیں تو میں اس پر بول لکھ رہا ہوں۔ پھر انہوں نے لکھا:
رات ہے کتنی گہری کالی
دُکھ کی بات سجھانے والی
دور دور کی آوازوں میں
اُجڑے گھروں میں رہنے والی
مجھے کہا گیا کہ آپ کو یہاں روزانہ آنا ہے۔ میں پھر روزانہ وہاں جانے لگا۔ اس دوران منیرؔ نیازی نے کئی گانے لکھے ”۔
” حسن لطیف صاحب نے آپ کو کسی فلم میں کیوں نہیں گوایا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” اس وقت اُن کے پاس اتنی فلمیں نہیں تھیں۔ حسن طارق نئے تھے۔ ریاض شاہد کی تو ابھی شروعات ہی تھیں۔ منیرؔ نیازی بھی نئے تھے۔ پھر میں نے ان سے ہنس کر کہا کہ میں نے تو بمبئی چلا جانا ہے لہٰذا اگر گانے ہوئے تو میں گا جاؤں گا! “ ۔
بمبئی جانے کا شوق
” آپ کو بمبے جانے کا شوق کیوں ہوا؟“ ۔
” بمبئی جانے کا شوق یوں ہوا کہ میں نے جب رفیع صاحب، نوشاد صاحب، شنکر جے کِشن اور دوسروں کے گانے سنے تو پکا ارادہ کر لیا کہ میں نے بھی بمبئی جا کر گانا ہے! “ ۔
محمد رفیع صاحب لاہور میں
” آپ کی اندرون شہر لاہور میں محمد رفیع صاحب سے کبھی ملاقات ہوئی؟“ ۔
” محمد رفیع تو 1942 میں لاہور سے چلے گئے تھے۔ میں تو 1957 میں بمبئی گیا۔ محمد رفیع کے والد صاحب حاجی علی محمد باورچی تھے ؛ پکوائی کا کام کرتے تھے۔ ہمارا اُن کے ساتھ 1920 سے تعلق تھا۔ یہ میرے والد صاحب کے دوست تھے اس لئے آنا جانا بھی تھا۔ یہ 1956 کی بات ہے۔ ایک دفعہ کسی کام سے میں اپنے والد کے ساتھ جو ٹھیکیداری کرتے تھے، محمد رفیع کے والد کے گھر گیا تو میں نے حاجی صاحب سے پوچھا کہ سنا ہے رفیع بھائی آیا ہوا ہے۔
تو مجھے کہنے لگے کہ فاروق بیٹا! تجھے نہیں پتا؟ وہ اپنے بچوں کو لے کر لاہور آیا ہے! کل فلیٹیز ہوٹل میں آ کر مِل لینا۔ تو دوسرے دن میں اپنے بھائی گلزار حسین (م) کے ساتھ وہاں گیا۔ محمد رفیع اور ان کے چھوٹے بھائی محمد صدیق ہوٹل کے برآمدے میں کھڑے تھے۔ حاجی صاحب نے آواز دی رفیع اِدھر آ تیرا بھائی فاروق آیا ہے، اس کو مل لے! انہوں نے اوپر سے کہا کہ میاں جی، فاروق بھائی میں آتا ہوں! وہ گلے ملے۔ گپ شپ لگائی۔
میرے والد کا پوچھا۔ وہ فلیٹیز سے پرنس ہوٹل میں منتقل ہو رہے تھے۔ رفیع صاحب نے مجھے کہا کہ رات کوایک گانے کا پروگرام ہے، حاجی صاحب نے کہا کہ رفیع یہ (فاروق) بہت اچھا گاتا ہے اس کو سُن لینا! رفیع صاحب نے مجھے کہا کہ میرے پروگرام میں آنا۔ ہم رات کو وہاں گئے۔ گانا وغیرہ ہوا! اس طرح وہ 6 دن لاہور میں رہنے کے بعد بچوں کو لے کر واپس بمبئی چلے گئے۔ پھر میں نے 1957 میں تیاری کر لی کہ بمبئی جانا ہے۔ یوں میں اسی سال بمبئی پہنچ گیا“ ۔
رفیع صاحب کی کہانی کا سب سے اہم کردار عبد الحمید مُغل
” گویا آپ نے طے کر لیا کہ میں نے اپنی قسمت بمبئی میں جا کر ہی بنانا ہے؟“ ۔
” لطیف صاحب! میرا تو شروع ہی سے یہ پروگرام تھا کہ میں نے اِدھر رہنا ہی نہیں! میں آپ کو ایک بات بتا تا ہوں۔ رفیع صاحب کو بمبئی لے کر جانے والا بازارِ حکیماں کا رہنے والا عبد الحمید مُغل تھا۔ رفیع صاحب نے تو شیخوپورہ نہیں دیکھا تو وہ بمبئی کیسے چلے گئے؟ میں نے کئی بار اخباروں، ریڈیو اور ٹی وی پر یہ بات بتائی ہے۔ یوں میں بھی بمبئی پہنچ گیا۔ محمد رفیع صاحب مجھے ملے۔ اس کے بعد طلعت محمود، منّا ڈے سے بھی ملاقاتیں ہوئیں“ ۔
موسیقار فیروز نظامی اور محمد رفیع
” فیروز نظامی صاحب رفیع صاحب کی کہانی میں لازم ہیں! کیا ان سے آپ کی بمبئی جانے سے پہلے ملاقات ہوئی؟“ ۔
” میں حقیقت بتاتا ہوں باقی سب جھوٹ بولتے ہیں! محمد رفیع کے پہلے استاد، استاد چھوٹے غلام علی خان صاحب تھے۔ فیروز نظامی صاحب میرے استاد بھائی تھے۔ یہ خان صاحب سردار خاں کے شاگرد تھے۔ میں بھی سردار خان کا شاگرد ہوا۔ اس وقت نظامی صاحب آل انڈیا ریڈیو دہلی میں پروڈیوسر تھے۔ یہ خود کلاسیکل اور لائٹ بھی گاتے تھے۔ وہ اندرون بھاٹی گیٹ لاہور کے رہنے والے اور کرکٹر نذر محمد کے بڑے بھائی تھے۔ ایک مرتبہ وہ دہلی سے لاہور آئے تو رفیع صاحب کے بڑے بھائی دین محمد جو گانے کو زیادہ پیار کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ نظامی صاحب آئے ہوئے ہیں لہٰذا رفیع کو اُن کا شاگرد کروا دیتے ہیں تو وہ وہاں فلموں میں گانا گا لے گا۔ ابھی تو بمبئی کی بات ہی کہیں نہیں تھی! نظامی صاحب اپنے گھر جا رہے تھے ان سے دین محمد صاحب نے کہا کہ میرے بھائی رفیع کو گانے کا بڑا شوق ہے۔ اس پر نظامی صاحب بولے کہ میں تو دہلی میں رہتا ہوں۔ بہرحال اصرار کے بعد انہوں نے رفیع صاحب کو اپنا شاگرد کر لیا اور خود دہلی چلے گئے“ ۔
شریف غزنوی
” عبد الحمید مغل پڑھا لکھا اور بہت ہوشیار آدمی تھا۔ اس نے رفیع صاحب کو کہا کہ چلو اب ہم دونوں دہلی چلیں! انہیں دہلی چھوڑنے کون گیا تھا؟ اس کا نام شریف غزنوی تھا! “ ۔
” کیا ان کا کوئی تعلق رفیق غزنوی صاحب سے تھا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” جی ہاں! شریف غزنوی، رفیق غزنوی صاحب کو اپنا استاد مانتے تھے۔ یہ دونوں اندرون بھاٹی گیٹ کے تھے۔ شریف غزنوی جیسی ’ہیر‘ پاکستان میں کسی نے نہیں گائی! اب عبد الحمید مغل کے کہنے پر شریف غزنوی محمد رفیع اور اُن کو لے کر دہلی چلے گئے۔ شریف غزنوی میرے بھی دوست اور بھائیوں جیسے تھے۔ آل انڈیا ریڈیو دہلی میں محمد رفیع کو لے کر شریف صاحب جب فیروز نظامی صاحب سے ملے تو وہ بہت حیران ہوئے کہ تم لوگ یہاں بھی آ گئے! تو انہیں کہا گیا کہ نظامی صاحب آپ تو ہمارے استاد ہیں۔ ہمیں تو آپ کے پیچھے آنا ہی تھا! اس پر نظامی صاحب نے کہا کہ بھئی میں تو بمبئی جا رہا ہوں! اس کے بعد عبدالحمید رفیع بھائی کو لے کر بمبئی پہنچ گئے“ ۔
ایک اہم سوال
” اب میں آپ سے ایک سوال کرنے لگا ہوں! یہ بڑا اہم سوال ہے جس کا جواب کسی کو نہیں پتا! میں کہتا ہوں محمد رفیع 1942 میں لاہور سے چلے گئے۔ یہ بمبئی کی فلمی دنیا کے اُفق پر 1946۔ 1947 میں طلوع ہوئے۔ اس بیچ 5 4۔ سال کدھر رہے؟ وہ کسی کو نہیں پتا۔ مجھے پتا ہے! لوگ کہتے ہیں بتاؤ؟ میں کہتا ہوں کہ میں کیوں بتاؤں؟ حالاں کہ محمد رفیع میرے بڑے اچھے دوستوں میں ہیں۔ بھائیوں جیسے ہیں۔ ہم دونوں ایک ہی رینج کے گانے والے ہیں۔
یہ میرے پیچھے ایک تصویر ہے۔ یہ علی بخش قصوری طبلہ نواز ہیں! فلموں میں جانے سے پہلے لاہور میں یہ ہی محمد رفیع کو گھما گھما کر متعارف کرواتے تھے۔ رفیع صاحب ان کے بغیر نہیں گاتے تھے۔ علی بخش قصوری رفیع صاحب کو لاہور شہر میں روشناس کروانے والا ہے۔ اس نے لاہور میں میرے ساتھ 16 سال طبلہ بجایا۔ داتا صاحب دربار کے سامنے ’کھِڑ کھِڑی پیر‘ کے مزار پر خادم حسین لنگڑا ( جن کی ٹینکی پھٹنے پر ٹانگ ضائع ہو گئی تھی) ہوتے تھے۔
وہ خود اتنا بڑا سنگر تھا کہ رفیع صاحب کو کم ہی گانے دیتا تھا۔ رفیع صاحب کا گھر بلال گنج میں تھا۔ یہ بلال گنج سے نکل کر سیدھا کھِڑ کھِڑی پیر آ جاتے جو نزدیک ہی تھا۔ وہاں گانا گاتے پھر اندرون موچی گیٹ، چوک نواب صاحب پر ایک اندرون کے شوقین لوگوں نے کلب بنا ہوا تھا وہاں چلے جاتے۔ ان لوگوں نے علی بخش قصوری سے کہا کہ ہمیں کبھی کوئی اچھی آواز سناؤ! انہوں نے فوراً کہا کہ میرے پاس ایک لڑکا محمد رفیع ہے اس کو سنواتا ہوں۔ پھر قصوری صاحب ہفتے کے ہفتے رفیع صاحب کو وہاں لے جانے لگے۔ وہاں ’کُکَڑ کمیٹی‘ تھی جس کے تحت ہر ہفتے کے دن پروگرام ہوتے! “ ۔
محمد رفیع کی کہانی کے پانچ گُمشدہ سالوں کا راز
” بمبے والا صاحب! تو آخر اِن پانچ سالوں کا کیا راز ہے؟“ ۔
” وہ بھی میں آپ کو بتا ہی دیتا ہوں (ہنستے ہوئے ) نہیں جی نہیں! رفیع تو میری جان تھا ہمارا آپس میں بڑا پیار تھا۔ ان کی پہلی کامیاب فلم ’جُگنو‘ ( 1947 ) تھی۔ ویسے ’انمول گھڑی‘ ( 1946 ) میں بھی نوشاد صاحب کی موسیقی میں اِن کا ایک گیت تھا۔ تو میں عرض کر رہا تھا کہ نورجہاں کو نظامی صاحب نے کہا کہ میرا ایک شاگرد ہے رفیع، میں نے اس سے ایک دو گانا لینا ہے : ’یہاں بدلا وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے۔ ‘ ، نورجہاں نے کیا کہنا تھا۔
آپ نے پوچھا تھا کہ بیچ کے ان چار سے پانچ سالوں کا کیا راز ہے؟ تو عرض ہے اس عرصہ میں رفیع صاحب نے بمبے میں جا کر بہت تکلیفیں اٹھائیں! اُس وقت بہت سی باتیں تو محمد رفیع کے بھائی کو بھی معلوم نہیں تھیں۔ یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ رفیع صاحب کا کوئی شاگرد ہے تو یہ سب جھوٹ بولتے ہیں۔ رفیع صاحب کا کوئی شاگرد نہیں! اگر عبدالحمید مغل ساتھ نہ ہوتا تو رفیع صاحب فوراً ہی واپس آ گئے ہوتے! “ ۔
” ارے! “ ۔ مارے حیرت کے میرے منہ سے نکلا۔
” جی ہاں! کھانے پینے کی تنگی اور رہنے کی کوئی جگہ نہیں! بڑی بڑی مصیبتیں تھیں۔ رفیع صاحب مجھے خود کہتے کہ فاروق! میں نے بمبئی میں بہت تکلیفیں کاٹیں! کہتے کہ میں نے فلمی کورَس میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ اس وقت پلے بیک سنگر خان مستانہ ( وفات 1972 ) اور جی ایم دُرّانی (غلام مصطفے ٰ درانی 1919 سے 1988 ) کا طوطی بولتا تھا۔ جی ایم دُرّانی اور خان مستانہ کے پیچھے میں نے کورس میں گانے گائے۔ بہرحال مجھے عبد الحمید مغل نے بتایا کہ رفیع صاحب کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ لاہور سے چلتے وقت حاجی صاحب (رفیع صاحب کے والد) نے کہا تھا کہ اگر تم کامیاب ہو گئے تو پھر لاہور آنا نہیں تو سمندر میں ڈوب کے مر جانا! ”۔
” او ہو! اتنی بڑی بات! “ ۔ میں نے کہا۔
…………………………
(جاری ہے )





