جون ایلیا، نوجوانوں کا نیا کیوپڈ
انسان ساری زندگی محنت کر کے اپنا ایک بت تراشتا ہے، اس شکل کا جیسا وہ خود کو دیکھنا چاہتا ہے۔ واحسرتا کہ خود اپنی باقی زندگی وہ اسی بت کو ٹکڑوں کی صورت میں گرتا دیکھتا ہے۔
کچھ کے ٹکڑے لوگ بھی دیکھ لیتے ہیں، جون ایلیا ایک ایسے ہی بت تھے جنہیں پاش پاش ہوتا خود وہ تو دیکھتے ہی رہے، ان کے سب ہم عصروں نے بھی دل بھر کے دیکھا۔
وہ اوائل عمری ہی میں ’دی جون ایلیا‘ کا رتبہ پا چکے تھے، ادھیڑ عمر تک بت بھی تراشا گیا لیکن اس کے بعد خود ہی اس کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھنے کی اذیت سے ان کی پوری شاعری عبارت ہے۔
ایک طرف جون اقرار کرتے ہیں کہ جسم کی خواہش ہوس ہے لیکن ساتھ ہی کہتے ہیں کہ ہاں بابا مجھ کو یہ چاہیے، ہر تیسری غزل میں ایک شعر پیالہ ناف کے گرد گھومتا ہے اور اکثر اوقات خیال بھی ایک ہی سا ہوتا ہے لیکن۔ یہ سب کچھ فینٹسی ہی رہا، جون ایلیا کو اپنی زندگی میں جسم کبھی اس طرح میسر نہ ہوا جیسے وہ چاہتے تھے۔ عظمتوں کے بلند ستون پہ براجمان بت کس طرح انسانوں والے ہتھکنڈے آزما سکتا ہے؟ کیسے وہ اقرار کرے کہ ہاں میری ضرورتیں عامیوں والی ہیں؟ لیکن اپنی شاعری میں وہ فانی انسان کے اتنے قریب آ جاتے ہیں کہ نئی نسل مرنے کے بعد ان کا ایک الگ بت تراش چکی ہے، نوجوانوں کا کیوپڈ، جون ایلیا!
حال انکار میں بہ صد اقرار / بے طرح کسمساتیاں لاؤ، جون ایلیا کے نو اشاعتہ آخری مجموعے میں ان کی ایک غزل ہے جس کا یہ پانچواں شعر ہے۔ اس پوری غزل میں اس قدر وحشت ہے، انسانی لمس کی خواہش اور جنس کا غلبہ ایسا شدید ہے جو ایک ناآسودہ انسان اوائل جوانی سے محسوس کرنا شروع ہوتا ہے لیکن اس کی شدت عمر کے آخری حصے میں اسی طرح بجھنے کے بجائے بھڑک اٹھتی ہے، تب اس غزل پہ ہوس کی بجائے تباہ کن انسانی ناآسودگی کا فتویٰ لگانا زیادہ آسان نظر آتا ہے۔
دنیا کی رائج اقدار دیکھیں تو جون ایلیا ایک ناکام اور بدنصیب ترین انسان تھے۔ ذاتی زندگی سے پردہ اٹھائیں تو درخت زرد جیسی نظم نکلتی ہے اور اس کے بعد آخری عمر کے حالات دیکھیں تو بس مایوسیاں ہیں اور ان سے لڑتا ایک شاعر، روز شراب پیتا ایک مفکر، روز محفل کا طالب ایک تنہا، روز موت کی خواہش سے لڑتی ایک زندگی اور اس دوران کی گئی خود کلامی کہ جسے ہم آپ شاعری کہہ رہے ہیں۔
انہیں علم تھا کہ اپنے حالات کو، خود کو، اپنی شاعری کو، اپنی زندگی میں کیش کیسے کروانا ہے۔ ان کا حلیہ، مشاعروں کے سٹیج پہ بالوں میں ہاتھ پھیرنا، انہیں پھر جھٹکا دینا، چٹکلے سنانا، نشے میں نہ ہوتے ہوئے بھی بے طرح باتیں کرنا، شعر پڑھتے ہوئے زانو پہ ہاتھ مارنا، بعض اوقات رو پڑنا۔ یہ سب کچھ وہ جون ایلیا کر رہا تھا جو سمجھدار تھا، لیکن بس اتنا کہ جو بن پڑے وہ کر جائے، جو نہ بن سکی، اس کا اظہار ان کے ہر ایک لفظ میں ہے، یہ شاعری نہیں ہے یہ حسرتوں کا مجموعہ ہے۔
انتظار حسین، شمس الرحمن فاروقی، عبداللہ حسین اور جملہ ادیب عصر خوش قسمت تھے کہ انہیں محمود الحسن جیسا ایک مجاور مل گیا جو آج تک ان کی یادیں سنبھالے ہے اور میڈیا کے جدید ذرائع پہ ہم سب کو ان کی یاد دلاتا رہتا ہے، دعائیں لیتا ہے، اداسی دیتا ہے۔
اسی طرح راشد اشرف ہیں جو کم یاب خاکے اور آپ بیتیاں ڈھونڈنے پر لگے تو سینکڑوں کی تعداد میں کتابیں چھاپ ڈالیں، ایسے ہی جون ایلیا کو بھی تو کوئی محمود الحسن، کوئی راشد اشرف ملنا چاہیے تھا، وہ مولا نے انہیں ان کی زندگی میں ہی عطا کیا اور اس کا نام خالد احمد انصاری (طول العمرہ) ہے۔
ایک مرتبہ جون ایلیا نے سٹیج پر کہا تھا کہ سلیم جعفری کی وجہ سے میرا ظہور ثانی ہوا، بلکہ شاید کتاب میں بھی دہرایا تھا، تو جون صاحب کا ظہور ثلاثہ اگر ممکن ہوا تو اس کی واحد وجہ خالد صاحب ہیں، بلکہ اسی رو میں دیکھیں تو نوجوانوں کے لیے جون ایلیا کو غیبت صغریٰ سے نکال کر لانا اور ڈیجیٹل تراش خراش کے ساتھ پیش کرنا بھی انہی کی وجہ سے ممکن ہوا۔
اس وقت جون ایلیا کا آخری مجموعہ میرے ہاتھ میں ہے۔ کتاب کھولتے ہی دونوں صفحوں پر جون صاحب کی ایک ڈیجیٹل تصویر ہے۔ سیدھے ہاتھ پہ کتابوں کا ایک ریک جس میں تفسیر ابن کثیر، فرہنگ آصفیہ وغیرہ اوپر ہیں اور آخری صف میں ان کی شاعری سمیت فرنود بھی موجود ہے، جو ان کی نثر کا مجموعہ ہے۔
ساتھ دیوار پہ کیلنڈر ٹنگا ہے، اس پہ لکھی سورہ عصر کی پہلی آیت ہے، نومبر 2002 ہے اور آٹھ تاریخ کے گرد دائرہ لگا ہوا ہے، گھڑی پہ شام کے چار بجے کا وقت ہے، شام یوں ہے کہ پیچھے موجود کھڑکی سے کمرے میں آتی روشنی جو سایہ بناتی ہے وہ ڈھلتے سورج کا ہے۔ میز پہ شراب کی ایک بوتل ہے، خالی گلاس اور شاہنامہ فردوسی ہے، دیواروں پہ جون ایلیا کی شاعری انہی کے سواد خط میں ٹنگی ہے، کچھ پرزے اس کے ہوا میں بھی معلق ہیں جو بس اب نیچے آئے کہ تب آئے، کونے میں رئیس امروہوی کی تصویر ٹنگی ہے اور میز سے دور اس تصویر کے قریب ایک آرام دہ صوفہ نما کرسی پہ افسردہ جون ایلیا سامنے کہیں دیکھ رہے ہیں۔
یہ جون ایلیا کی وفات کی تاریخ ہے اور یہی وقت کہ جب وہ آزاد ہوئے اس چیستان سے، اور نیچے انہی کے ہاتھوں ایک سطر لکھی ہے ’شاعری دوسروں کے خلاف ایک ایسی لڑائی ہے جو اپنے آپ سے لڑی جاتی ہے۔ ‘
اور آخری دو صفحوں پہ اسی کمرے کی ایک تصویر ہے جس میں کچھ بھی نہیں، بس دیواروں پہ جالے ہیں، جون صاحب کی کرسی پر ایک گلدستہ رکھا ہے اور کمرہ نرا خالی پنے کا سودا ہے، تھی وہ اک شخص کے تصور سے۔
یہ دونوں تصویریں خالد انصاری کی اس عقیدت کا مظہر ہیں جو ان کو آج تک جون ایلیا سے ہے اور جس کی وجہ سے میں نے کہا کہ جون کا ظہور ثانی اور غیبت سے باہر آنا لاریب کہ انہی کی وجہ سے ممکن ہوا۔
اب کتاب کھولتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ ہر صفحے پہ کوئی نہ کوئی شعر ہائی لائٹ کر چکا ہوں، کس کس شعر کی بات کروں، شعر پڑھنے میں مزہ دیتا ہے، شعر پہ بات کرنا، شعر کی تشریح کرنا، شعر کے فنی محاسن بیان کرنا یا پھر شعر کو عالم بالا ثابت کرنا انہی کو زیبا ہے جنہیں خدا نے اس کے لیے مختص کیا، مجھے جون ایلیا پسند ہیں، میں ان میں خود اپنا آپ دیکھتا ہوں، اس کتاب کے بے تحاشا شعر مجھے آئینہ دکھاتے ہیں، کیا یہ سب کہہ دینا کافی نہیں ہے؟
ہاں ’اڑاڑا دھم‘ جیسی ردیفیں یا ’کرشمہ ساز تر لونڈا‘ ایسے خیال ہیں جن پر فرصت سے بات کی جا سکتی ہے، قادر الکلامی اپنی جگہ ہے لیکن باقی کتاب کے موڈ سے یہ چیزیں کچھ ہٹ کے ہیں، یوں کہیے کہ روانی میں بندہ رُکتا ضرور ہے، اب رک کے سوچنا کیا ہے، وہ پڑھنے والے کی مرضی۔
جون ایلیا میں ایک شیعہ ذاکر اپنی پوری آب و تاب سے موجود تھا۔ مسئلہ اس علم کا تھا جس کا بوجھ کمر پہ لادے ہر عالم تشکیک کا شکار تو ہو جاتا ہے لیکن پوری طرح وہ اُدھر کا ہو پاتا ہے نہ ادھر۔ غالب کی تلمیحات میں بھی تشیع لغت کا پلا بھاری ہے لیکن جون کے یہاں آ کر تو شاعری کا عَلَم ہر دو غزلوں بعد امام باڑے کی فضا میں واپسی شروع کر دیتا ہے، آپ کو بار بار عود اور لوبان کی مانوس مہک آتی ہے، میر انیس کی لفظیات دماغ میں گونجتی ہیں، سچے بھائی کی آواز یاد آتی ہے، اور خیر یہ سب تھا بھی کیا؟ ایک ناآسودہ انسان کا نوحہ، جو پیدائشی جبر کے تحت قادر الکلام شاعر بھی ہو گزرا۔
دیر سے یاد میں آباد ہے نامِ عجبے
اک شمالِ عجبے، خیمہ شامِ عجبے
اور جون ذاکر کیوں نہ ہوتے؟ ان کی زندگی میں ان سے کس نے بدلہ نہیں لیا؟ ایک انسان جو فن کار ہے، شاعر ہے، لاپروا ہے، کج رو ہے، معاشی طور پہ بدحال ہے، اس سے اول تو رشتہ بنایا ہی کیوں جائے اور اگر بن گیا تو کیونکر نبھایا جائے، یہی دبدھا لے کر ان کا ہر ایک رشتہ ان کے ہاتھوں ایسے رخصت ہوا جیسے مٹھی سے ریت پھسلتی ہے، ایسا ہوتا ہے خاندان میں کیا؟ باقی پھر وقت بہتر انتقام لینے والا ہے۔
رہ گئی بات کہ جون ایلیا نوجوانوں کے لیے کیوپڈ کیوں ہوئے تو اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ واردات قلبی پر، ہجر پہ، خود کی تباہ حالی پہ، خون تھوکنے پہ، کلبیت پہ اور نہلزم پہ جتنا کچھ جون کے یہاں ہے وہی سب کچھ سوشل میڈیا پہ جنریشن زی کے بریک اپ، ٹراماز، ٹراما ڈمپنگ، لو بامبنگ، گھوسٹنگ، گیس لائٹنگ، بینچنگ وغیرہم اور ازاں بعد ان کے گِلوں کی صورت میں موجود ہے۔
جائیے اب ان اصلاحات کا مطلب ڈھونڈیے اور سمجھیے کہ نوجوان جون ایلیا سے ریلیٹ کیوں کرتے ہیں۔
باقی تمام ثقہ اور جید عالم کہ جو باب ایلیا میں سخن ناشناس ہیں وہ مجھے سان پہ رکھ سکتے ہیں، کیا بوریا نشیں کو ہوس تاج و تخت کی / کیا خاک آشنا کو غرض اسپ و فیل سے۔ ویسے بھی کیا میں اور مری جون فہمی کیا!
*** ***
دماغ میں بپا تقریب پذیرائی کے دوران آج با مورخہ پانچ جنوری 2025 پڑھا گیا

