چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو


سال 2024 چین کے تجویز کردہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کے اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے اہم رہا۔ دنیا میں بڑھتے ہوئے اتار چڑھاؤ کے باوجود بی آر آئی نے کیا بڑی پیش رفت کی ہے؟ اور علاقائی ترقی کو آسان بنانے اور عالمی معیشت کو مضبوط بنانے میں کیا کردار ادا کیا ہے؟

بی آر آئی نے اپنے دائرے کو وسعت دیتے ہوئے شام اور ارجنٹائن سمیت نئے اراکین کا خیر مقدم کیا۔ نئے ممالک کی بڑھتی ہوئی شرکت نشاندہی کرتی ہے کہ ممالک اپنی معاشی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ انفرا اسٹرکچر کی بات کریں تو بی آر آئی میں شامل ممالک میں سڑکوں، ریلوے، بندرگاہوں اور توانائی کے منصوبوں کی تعمیر سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کی ترقی دیکھی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) جو کہ ایک فلیگ شپ بی آر آئی منصوبہ ہے، نے کئی اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی ترقی دیکھی ہے، جیسے کہ گوادر بندرگاہ، گوادر ائر پورٹ اور توانائی کے مختلف منصوبے۔ اسی طرح، بی آر آئی نے انڈونیشیا میں جکارتہ بنڈونگ تیز رفتار ریلوے کی تعمیر میں سہولت فراہم کی ہے، جس سے توقع ہے کہ سفر کے اوقات میں نمایاں کمی آئے گی اور اقتصادی رابطے میں اضافہ ہو گا۔

عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق، بی آر آئی شریک ممالک میں تجارتی بہاؤ کو 4.1 فیصد تک بڑھا سکتا ہے اور عالمی تجارت کی لاگت کو کم کر سکتا ہے۔ یہ فوائد بہتر بنیادی ڈھانچے، اقتصادی رابطے میں اضافے اور تجارتی سہولت میں اضافے سے حاصل ہوں گے۔ بی آر آئی نے چینی کاروباری اداروں کے لئے بھی اپنی عالمی موجودگی کو بڑھانے، اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔

اس منصوبے کا ایک خاص حصہ چین یورپ مال بردار ٹرین ہے جو جنوب مغربی چین کے چونگ چھنگ سے صرف چند دنوں میں ٹرانس کیسپین بین الاقوامی نقل و حمل کے راستے سے جرمنی اور ہنگری سمیت یورپی ممالک پہنچتی ہے۔ چین نے ٹرانس کیسپین بین الاقوامی ٹرانسپورٹیشن کوریڈور کی تعمیر کو اعلیٰ معیار کی بیلٹ اور روڈ کی ترقی کی حمایت کے لیے آٹھ بڑے اقدامات میں سے ایک کے طور پر اجاگر کیا ہے۔ یہ ایک فلیگ شپ سروس ہے جو چین کے تجویز کردہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) میں اپنا کردار ادا کرتی ہے کیونکہ اس سے پورے یوریشین براعظم میں ایک نیا ریل سمندری تجارتی راستہ کھلتا ہے، جو وسطی ایشیا کے لینڈ لاک ممالک کو اپنی معیشتوں کو بڑھانے کے مزید مواقع فراہم کرتا ہے۔ چین یورپ کی مسلسل بڑھتی ہوئی ریل فریٹ سروس اس بات کا واضح مظہر پیش کرتی ہے کہ کس طرح بی آر آئی نے علاقائی رابطوں کو بڑھایا اور گزشتہ 11 سالوں میں تجارتی اور اقتصادی تبادلوں کو آسان بنایا ہے۔ یہ سروس نومبر 2024 میں اپنی 100,000 ویں ٹرین چلانے کے موقع پر، اب 25 یورپی ممالک میں بکھرے ہوئے 227 شہروں اور 11 ایشیائی ممالک کے 100 سے زیادہ شہروں سے منسلک ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران، چین یورپ مال بردار ٹرینوں نے مشرقی چین کے تجارتی مرکز ای وو سے 2.1 ملین قسم کی چینی ساختہ اشیاء بی آر آئی کے شراکت دار ممالک کو پہنچائی ہیں۔ ان اشیا میں آٹوموبائل اور پرزے، فوٹو وولٹک مصنوعات اور مشینری شامل ہیں۔

حالیہ برسوں میں، بی آر آئی تعاون کے بہتر فریم ورک کے تحت عالمی سمندری روابط میں نمایاں توسیع ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر، بحرالکاہل کے دوسری طرف، پیرو کی چانکی بندرگاہ شنگھائی کے لیے براہ راست راستہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے جو لاطینی امریکہ میں تاریخی بی آر آئی منصوبے کے 14 نومبر کو آزمائشی آپریشن شروع ہو جانے کے بعد ایک ہفتے میں دو کنٹینر جہاز چلائے گی۔ چانکے پورٹ کو 2024 میں بی آر آئی انفراسٹرکچر کنیکٹوٹی کے تحت سب سے زیادہ اسٹریٹجک اور بامعنی پیش رفت قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ چین اور پیرو کے درمیان تجارت کے ایک اہم مرکز کے طور پر بندرگاہ کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے، ”یہ اہم رابطہ پہلے چلی، ایکواڈور، کولمبیا اور ایشیا کے درمیان کارگو کی نقل و حرکت کو نمایاں طور پر اپ گریڈ کرے گی، جس سے چین، جاپان، جنوبی کوریا کے ساتھ ساتھ ایشیا پیسیفک کے دیگر ممالک کے ساتھ اہم روابط قائم ہوں گے۔ پیرو کی مصنوعات کے علاوہ، برازیل کے سویابین، خام لوہے، اور گوشت اور کولمبیا کی کافی کے ساتھ، مستقبل میں اس نئے شپنگ روٹ کے ذریعے ایشیا میں بھی اشیا پہنچیں گی جس سے لاطینی امریکہ کے خطے کو ایشیاء پیسیفک اقتصادی انضمام کے ذریعہ فائدہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔

چین کے اسٹیٹ کونسل انفارمیشن آفس کی طرف سے جاری کردہ ایک وائٹ پیپر کے مطابق، ”چھ کوریڈور، چھ راستے، اور متعدد ممالک اور بندرگاہوں“ پر مشتمل فریم ورک کی بنیاد پر، ایک کثیر درجے کا انفراسٹرکچر نیٹ ورک اب شکل اختیار کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک لوگوں کے درمیان ثقافتی اور عوام سے عوام کے تبادلے کو مضبوط کرنے کے علاوہ بی آر آئی شراکت داروں کے درمیان وسیع تر تعاون کے لیے ایک ٹھوس بنیاد رکھ رہا ہے۔ گزشتہ سال کی کامیابیوں کا ذکر کیا جائے تو نہ صرف چین یورپ مال بردار ٹرینوں کی کل تعداد نے 1 لاکھ سے تجاوز کیا ہے بلکہ چین لاؤس ریلوے کے کارگو نقل و حمل کے کل حجم نے بھی 50 ملین ٹن سے تجاوز کیا ہے۔ اس کے علاوہ نیو ویسٹرن لینڈ سی کوریڈور کے تحت چلنے والی ٹرینوں کی سالانہ تعداد نے پہلی بار 10 ہزار سے تجاوز کیا ہے اور بحیرہ کیسپین کے اس پار چین یورپ براہ راست ایکسپریس کھول دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ چین کرغزستان ازبکستان ریلوے کی تعمیر کا آغاز ہوا ہے اور چین ویت نام کراس بارڈر ریلوے اور ملائیشیا ایسٹ کوسٹ ریلوے جیسے اہم منصوبوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

سو، ان تمام کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس بڑے اور اہم منصوبے نے اب تک دنیا کے 150 ممالک کو آپس میں جوڑنے میں اپنا خاطر خواہ حصہ ڈالا ہے اور اس میں شامل ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد اس منصوبے کو دنیا کے کسی بھی اور بڑے منصوبے سے ممتاز کر رہی ہے جو یقیناً اس منصوبے پر دنیا کے اعتماد کا اظہار ہے۔

Facebook Comments HS