وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کے الجہاد الجہاد کے نعرے
آزاد کشمیر میں صدر اور وزیرِ اعظم کے عہدے محض نمائشی ہیں۔ اور ان کے پاس کوئی خاص اختیار نہیں ہوتا۔ ایک ہی اسمبلی میں وزیرِ اعظم کے خلاف کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات لگتے ہیں، عدم اعتماد ہوتا ہے، عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوتی ہے، دوسرے شخص کو اقتدار سونپا جاتا ہے۔ اسی اسمبلی میں چند ماہ کے بعد پھر عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے پہلے والے شخص کو دوبارہ وزیرِ اعظم منتخب کر لیا جاتا ہے، جن پر کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات ہوتے ہیں۔ اور ووٹ دینے والے وہی لوگ ہوتے ہیں، اور ووٹ دلوانے والا کوئی اور ہوتا ہے۔
آزاد کشمیر میں عموماً اسی پارٹی کی حکومت بنتی ہے جس پارٹی کی ہم نام پارٹی کی حکومت اسلام آباد میں ہو یا اس کی کوئی ہم خیال پارٹی کی حکومت ہو۔ ایک دور میں مسلم لیگ آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس کو اپنی ہمنوا پارٹی مانتی تھی۔ جب مسلم لیگ پاکستان میں اقتدار میں آتی تھی تو مسلم کانفرنس آزاد کشمیر میں حکومت بناتی تھی۔ جنرل مشرف کے دور میں مسلم کانفرنس ملٹری ڈیموکریسی کو بہترین نظام قرار دینے لگی تو مسلم لیگ کی محبت اور شفقت کھو بیٹھی۔ اس طرح آزاد کشمیر میں مسلم لیگ نون کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مسلم کانفرنس کئی دہائیوں تک اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد بمشکل اپنی آبائی حلقے تک محدود ہو گئی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں بریگیڈیئر حیات خان کو اقتدار ملا، اور جنرل مشرف کے دور میں جنرل انور صدر بنے۔ اسی طرح جب پاکستان میں پیپلز پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اقتدار میں آتی ہے۔ پی ٹی آئی نے پاکستان میں حکومت بنائی اور آزاد کشمیر میں اپنی پی ٹی آئی بنائی۔ جس کا آزاد کشمیر میں پہلے کوئی وجود نہیں تھا اور اقتدار حاصل کیا۔ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی آزاد کشمیر بھی تقسیم کا شکار ہوئی اور اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔ آزاد کشمیر میں کل 53 نشستیں ہیں، جن میں چار مزید نشستوں کا اضافہ کیے جانے کی تجویز ہے۔ آزاد کشمیر میں 33 نشستیں، پاکستان میں آباد کشمیری مہاجرین کی 12 نشستیں ہیں، جن پر برائے راست انتخابات ہوتے ہیں، خواتین کی 5 مخصوص نشستیں ہیں، اور علماء و مشائخ، اوورسیز کشمیریوں اور ٹیکنوکریٹس کی ایک ایک نشست ہے۔ کل 53 ہیں۔ کشمیری مہاجرین کی پاکستان میں 12 نشستوں میں زیادہ تر نشستیں اسی پارٹی کے حصے میں آتی ہیں جو پاکستان میں اقتدار میں ہو۔ مخصوص نشستیں بھی من پسند لوگوں کو دی جاتی ہیں۔ چاہیے وہ ماضی میں طالبان کے ساتھ ہی کیوں نہ رہے ہوں۔ اور حکومت بننے کے بعد شاید ہی ایسا کوئی ممبر ہو جس کو وزیر نہ بنایا جاتا ہو۔
آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم چوہدری انوار الحق اس لحاظ سے منفرد رہے کہ پی ٹی آئی کے قیوم نیازی اور تنویر الیاس کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی کے مختلف دھڑے بننے کے باوجود۔ پی ٹی آئی کے تمام دھڑوں، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، مسلم کانفرنس، جموں کشمیر پیپلز پارٹی، غرض تمام پارٹیوں نے انھیں ووٹ دے کر وزیرِ اعظم بنایا۔ بہت سارے ممبران نے یہ کہا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ ان کو ووٹ دیں، اس لیے ووٹ دینا پڑا۔ گزشتہ 77 سالوں سے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں نے اپنے آقاؤں کی جی حضوری کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ یوں تو آزاد کشمیر کی اسمبلی کو قانون ساز اسمبلی کہا جاتا ہے، لیکن اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار حاصل نہیں۔ آزاد کشمیر میں اپنی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر پارٹیاں بنائی اور توڑی جاتی ہیں۔ آج کل موجودہ وزیرِ اعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف عدم اعتماد کی بازگشت ہے۔ اور مسلم کانفرنس کے مردہ گھوڑے میں دوبارہ جان ڈالنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ کیا اسی لیے چوہدری انوار الحق کو الجہاد الجہاد کے دورے پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ تاکہ مائی باپ خوش ہو کر اقتدار سے بے دخل نہ کریں۔ یا انیس سو اسّی کی دہائی میں کشمیر میں شروع کیے گئے آپریشن ٹوپیک کی طرح ایک بار پھر نیا آپریشن شروع کرنے کا منصوبہ تیار ہے۔ یا یہ آپریشن ٹوپیک کا ہی تسلسل ہے اور اس میں اب کچھ تیزی لائی جا رہی ہے۔ آپریشن ٹوپیک کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ سے دو لاکھ لوگ کشمیر میں مارے گئے۔ اسی جہاد اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے نام پر ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اب یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا۔ اور لداخ کو بھی ریاست جموں و کشمیر سے الگ کر کے ایک الگ یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا ہے۔ جب یہاں سے بندوق بردار وہاں جائیں گے تو جواب میں بھی بندوق ہی استعمال ہو گی۔ صوفی اسلام کے ماننے والے کشمیری جو کبھی اپنی انسان دوستی اور مہمان نوازی میں شہرت رکھتے تھے۔ اب دہشتگرد کہلائے جاتے ہیں۔ حالانکہ کشمیریوں کی اکثریت آج بھی انسانیت اور انسان دوستی پر یقین رکھتی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے پاس تو کشمیر کے مختلف حصوں پر کنٹرول ہے۔ لیکن سب سے زیادہ متاثر کشمیری ہوتے ہیں۔ جنھیں اپنی ہی ریاست کے مختلف حصوں میں سفر کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اور نہ ہی اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کی اجازت ہے۔ جو 1947 سے جبری تقسیم کا شکار ہیں۔ کشمیری نام نہاد لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا شکار ہیں۔ حکمران طبقہ اور طاقتور قوتیں اکثر مذہب کا بطور ہتھیار استعمال اپنے مقاصد کے حصول اور عوام کی توجہ ان کے اصل مسائل کی طرف سے ہٹانے کے لیے کرتے ہیں۔
آزاد کشمیر کی ٹوٹی پھوٹی کھنڈر نما سڑکیں اس سسٹم کے منہ پر طمانچہ ہیں، جس سسٹم کا چوہدری انوار الحق حصہ ہیں۔ اب لوگ اپنی مدد آپ کے تحت چندہ جمع کر کے سڑکیں، ہسپتال، پل، پارک اور پانی کی سکیمیں بنا رہے ہیں۔ یہ کتنی شرم کی بات ہے کہ ترقیاتی مد میں سالانہ اربوں روپے بجٹ میں مختص کیے جاتے ہیں، اور تقریباً آٹھ دہائیوں کا حساب لگایا جائے تو یہ چار ہزار مربع میل کا خطہ کتنا ترقی کر سکتا تھا۔ ترقیاتی بجٹ کے علاوہ بیرونِ ملک آباد لاکھوں کشمیری اربوں ڈالر زرمبادلہ بھیجتے ہیں، جو عوام کی ترقی اور فلاح و بہبود پر خرچ ہونے چاہئیں۔ جو کشمیری چندہ کر کے بنیادی انفراسٹرکچر بنا رہے ہیں، وہ ایک طرح سے اس کرپٹ نظام اور ان پر مسلط کردہ نا اہل حکمرانوں کی مدد کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کو چندہ کرنے کے بجائے ان نا اہل حکمرانوں سے سوال کرنا چاہیے کہ ترقیاتی مد میں بجٹ کے اربوں روپے کہاں گئے۔ تمھارے ترقی کے دعوے، جو بیرونِ ممالک کے دوروں میں کرتے ہو، زمین پر نظر کیوں نہیں آتے؟ جو لوگ چندہ جمع کر کے سڑکیں بنوا رہے ہیں، ان کی نیت اور خلوص پر ہمیں کوئی شک نہیں۔ لیکن کیا انہیں معلوم ہے کہ جو سڑکیں، پل، اسپتال، اور پارک وہ چندہ جمع کر کے بنواتے ہیں، ان منصوبوں کی مد میں بجٹ سے بھی رقم نکلوائی جاتی ہے؟
آزاد کشمیر کے بدبو دار اسپتال، جہاں دوائیں ناپید ہیں، اور تعلیمی اداروں کی زبوں حالی اس قدر شدید ہے کہ گریجویٹ اور ماسٹر ڈگری ہولڈرز کی اکثریت ایک درخواست بھی صحیح نہیں لکھ سکتے۔ رشوت خوری، بے روزگاری، لا قانونیت، اقربا پروری، کرپشن، مذہبی منافرت، اور انتہا پسندی کا فروغ؛ ساتھ ہی کالعدم تنظیموں کا اسلحہ لہراتے سرعام گھومنا انتہائی تشویشناک ہے۔
یہ نمائشی حکمران جب بیرونی ممالک کے دوروں پر جاتے ہیں تو کمال ڈھٹائی سے دعویٰ کرتے ہیں کہ آزاد کشمیر ایشیا کا سوئٹزرلینڈ بن چکا ہے۔ اکیسویں صدی انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ مقامی لوگ بنیادی سہولتوں کی کمی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکوں، اسکولوں کی زنگ آلود چھتوں، اسپتالوں میں گھومتی بکریوں اور دریاؤں اور ندی نالوں پر پلوں کی عدم موجودگی کے باعث ایک لوہے کے تار کے ذریعے بچوں کے اسکول جانے کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔ تو حقائق کے سامنے آنے سے ان کے ترقی کے دعوے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ یہ نمائشی حکمران اپنی نا اہلی اور عوام کے فوری مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ کبھی سیکولر، لبرل کشمیریوں اور آزادی پسندوں کے خلاف کفر، ملک دشمن اور غداری کے فتوے جاری کرتے ہیں۔ اور کبھی ”الجہاد الجہاد“ کے نعرے لگاتے ہیں۔
چوہدری انوار الحق کے الجہاد الجہاد کے نعروں کے بعد کچھ لوگ سوشل میڈیا پر بحث کر رہے ہیں۔ کہ ریاست نے جہاد کا اعلان کر دیا ہے۔ اب کوئی کیسے جہاد سے انکار کر سکتا ہے۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ کون سی ریاست؟ کہاں کی ریاست؟ آزاد کشمیر پر چار پاکستانی افسران حکمرانی کرتے ہیں : چیف سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، آڈیٹر جنرل، اور سیکریٹری صحت۔ جو یہاں کے اصل حکمران ہیں۔ آزاد کشمیر کی حکومت چیف سیکریٹری کی مرہون منت ہے۔ کوئی کشمیری ان عہدوں پر ترقی نہیں پا سکتا۔
یہ جو سات لاکھ سے زائد ملٹری ہے جس پر سالانہ ہزاروں ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، وہ جہاد جیسا مقدس فریضہ خود کیوں نہیں انجام دیتے؟ لڑنے کی ان کو ٹریننگ بھی ہے، مہارت بھی، ہتھیار بھی ہیں اور روپیہ بھی ہے۔ ہمارے معصوم بچوں کو ہی ہندوستان کی بہت بڑی اور تربیت یافتہ آرمی کے سامنے کیوں بھیجا جاتا ہے؟
سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ واہگہ بارڈر پر پاکستانی اور ہندوستانی روزانہ اکٹھے میوزک سنتے ہیں، ڈانس کرتے ہیں، سلامی دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کو آم، گلاب جامن، رس گلے، جلیبی اور مٹھائیاں تحفے میں دیتے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے انٹرنیشنل بارڈر پر تو امن ہے، وہاں سے کوئی جہاد کے لیے نہیں جا رہا۔ وہاں یہ ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرتے ہیں، جو کہ خوش آئند بات ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پورے خطے میں تجارت ہو، امن ہو اور یورپی یونین کی طرز پر نقل و حرکت کی آزادی ہو۔ منقسم ریاست جموں و کشمیر میں کشمیریوں کو آزادانہ نقل و حرکت آزادی اور تجارت کی اجازت ہو۔ لیکن یہ ریاست جموں و کشمیر، خاص طور پر آزاد کشمیر میں، الجہاد الجہاد اور دہشت گردی دہشت گردی کھیلتے ہیں۔
آزاد کشمیر کی سرزمین پر انتہا پسندوں کی سرگرمیاں اور انھیں ملی کھلی چھوٹ عالمی طاقتوں کی توجہ کا باعث بن رہی ہے۔ امریکہ، برطانیہ، روس، چین، اسرائیل اور فرانسں نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ خدشہ ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر ہمارے خطے میں آگ و بارود کا کھیل کھیلا جائے گا۔ کشمیریوں کو ان جہادیوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں سے سوال اٹھانا چاہیے کہ بقول ان کے 1988 سے سرینگر میں جہاد جاری ہے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ کسی بھی نامی گرامی جہادی تنظیم کے امیر یا سربراہ کے بچوں میں سے، اور نہ ہی کسی عسکری افسر کے بچوں میں سے، کسی کو شہادت کا رتبہ ملا؟ کیونکہ ان میں سے اکثر کے بچے بیرون ملک اور اندرون ملک اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، اور اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز ہوتے ہیں، بھاری بھرکم تنخواہیں اور مراعات لیتے ہیں۔ جہاد پر صرف غریبوں کے بچوں کو ہی بھیجا جاتا ہے۔ چلیں بچوں کو چھوڑیں، ان جہادی امیروں اور افسران میں سے خود بھی کسی کو شہادت کی سعادت حاصل نہیں ہوئی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ سوال کشمیریوں کو ان سے ہر چوک اور ہر چوراہے پر پوچھنا چاہیے۔ جو نوجوانوں کو جہاد کے نام پر اکسا رہے ہیں۔
یہ غلامی، بے روزگاری، ناقص گندم اور آٹا، جعلی ادویات، اور ملاوٹ شدہ دودھ، کوکنگ آئل، گلے سڑے پھل اور سبزیاں جو منہ مانگے داموں فروخت ہو رہی ہیں۔ یہ لاقانونیت، مذہبی منافرت اور دہشت گردی ہمارا مقدر نہیں، بلکہ یہ اس ذاتی پسند و ناپسند اور کرپٹ نظام کا نتیجہ ہے۔ جو وہاں مسلط ہے۔ یہ نمائشی حکمران اور ان کے آقا بنیادی اور فوری مسائل اور اپنی نا اہلی و ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مذہب کا استعمال کرتے ہیں اور لوگوں میں تفرقہ پیدا کرتے ہیں۔ اگر کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد بیرون ملک مقیم اور برسرِ روزگار نہ ہوتی، تو ہمارے لوگ تعلیم، روٹی، دوائی اور صاف پانی کے لیے ترستے ہوئے ہی مر جاتے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر یک زبان ہو کر انتہا پسندوں اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف مہم چلائی جائے۔ اور کہا جائے کہ آگ اور بارود کا یہ کھیل اب ختم ہونا چاہیے۔ ہندوستان اور پاکستان کب تک بارود خرید کر نفرت اور غربت پالتے رہیں گے؟ ریاست جموں و کشمیر کی جبری تقسیم اب ختم ہونی چاہیے تاکہ گزشتہ 77 سالوں سے منقسم خاندان ایک دوسرے سے مل سکیں۔ یہ ”الجہاد الجہاد“ اور ”القتال القتال“ کا کھیل اب ختم ہونا چاہیے۔
راولاکوٹ آزاد کشمیر میں خواتین کی تصاویر والے بل بورڈز، اشتہارات اور پوسٹرز اتارنے کی مہم اور تاجروں کو ڈرانا، دھمکانا اور مظفرآباد میں الجہاد کے نعرے لگنا ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ مقصد نوجوانوں کو ایک بار پھر جہاد کے لئے اکسانا ہے۔
چوہدری انوار الحق کو یہ نعرے لگانے کا مشورہ یقینی طور پر کسی بہت ہی سیانے نے ہی دیا ہو گا۔ کیونکہ نہ تو ان کو یہ اختیار حاصل ہے اور نہ ہی ایسے جذباتی نعروں اور بیانات کی ان کو اجازت ہے۔ لیکن شاید وہ اور ان کے ماسٹرز یہ بھول گئے کہ ان کی اور ان کے ساتھ کھڑے لوگوں کی ویڈیوز دنیا بھر میں دیکھی جا رہی ہیں اور ان پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہو گا۔ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو تشدد اور ”الجہاد الجہاد“ پر اکسانے پر انھیں اور ان کے آقاؤں اور مشیروں کو عالمی برادری کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔


