ذہنی امراض یا آسیب، شیاطین اور جادو کے اثرات
جادو، آسیب اور نظر بد کا تصور بہت قدیم ہے۔ زمانہ قدیم سے بہت سے امراض خصوصاً ذہنی امراض کا علاج دم، جھاڑ پھونک سے ہوتا آ رہا ہے۔ سائنس کی بے تحاشا ترقی بھی اس توہم پرستی کو روک نہیں سکی۔ اسی طرح سوشل میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم پر جہاں مصنوعی ذہانت کے کرشمے نظر آ رہے ہیں وہیں توہم پرستی کا پودا بھی خوب پنپ رہا ہے۔
تمام ذہنی امراض کو بادی النظر میں دیکھا جائے تو یہ ایسے پیچیدہ مظاہر اور ظاہری کرداروں کے ساتھ سامنے آتے ہیں کہ عام انسان نہ تو خود ان کو سمجھ سکتا ہے اور نہ ان کی وجوہات قابل فہم ہوتی ہیں۔ دوسرے ان کا علاج بھی بہت پیچیدہ ہوتا ہے کہ معالج بھی سمجھ نہیں پاتے۔ اور علاج کی دستیابی اور اخراجات بھی ہر ایک کی پہنچ میں نہیں ہوتے۔ ان امراض میں ایک مشترک بات یہ ہے کہ نہ سمجھ میں آنے والے عوامل کی وجہ سے انسان ان کو جادو، شیطان اور آسیب کے ان دیکھے عوامل سے جوڑ دیتے ہیں۔ اسی لئے لوگ روحانی عاملوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
ذہنی امراض خواہ ہلکی نوعیت کے ہوں یا شدید نوعیت کے مثلاً شیزوفرینیا، بائی پولر ڈس آرڈرز، ڈپریشن ہو یا اینزائٹی ڈس آرڈر یا پرسینلٹی ڈس آرڈرز؛ ابھی تک ان کی طرف انسانوں کا رویہ توہم پرستی پر ہی مبنی ہے۔ حتیٰ کہ تعلیم یافتہ افراد بھی طویل علاج اور علاج کی پیچیدگیوں کی وجہ سے انہیں غیر مرئی عناصر یعنی شیاطین اور جن بھوتوں اور جادو ٹونے سے جوڑتے ہیں۔
لیکن خوش آئند بات ہے کہ علم نفسیات نے میڈیکل سائنس اور سائیکاٹری کے اشتراک سے اس آسیب، جادو اور شیاطینی وجودوں کا کھوج لگا لیا ہے اور ان ذہنی امراض کو بھی سائنس کی بنیادوں پر پرکھتے ہوئے ان کو سب سے پہلے امراض کہا ہے اور دیگر جسمانی امراض کی طرح ان کی وراثتی، حیاتیاتی اور سماجی و ماحولیاتی وجوہات کی تفصیل بیان کی ہے۔ جب علم نفسیات ان تمام ذہنی امراض کے پیچھے کار فرما حیاتیاتی، جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل کو وجوہات کے طور پر پیش کر کے ادویات، اور نفسیاتی طریقہ علاج کو پیش کرتی ہے تو توہم پرستی کا بت توڑنے کی کوشش کامیاب نظر آتی ہے۔ خوش آئند بات ہے کہ اب لوگوں تک یہ آگاہی پہنچ رہی ہے اور لوگ ذہنی امراض کے علاج کی طرف رفتہ رفتہ مائل ہو رہے ہیں۔
شدید ذہنی امراض جیسے شیزو فرینیا، بائی پولر ڈس آرڈرز اور ڈپریشن جو اپنی نوعیت میں خالصتاً نفسیاتی پہلو لئے ہوئے ہیں ادویات اور متوازی سائیکو تھیراپی کی مدد سے شاید اتنے پیچیدہ نہیں رہے۔ اور لوگوں نے سمجھنا شروع کر کے انہیں تسلیم کر لیا ہے لیکن دوسری طرف ہلکی نوعیت کے امراض جنہیں نیوروسس کے عنوان کے تحت رکھا جاتا ہے ؛ ان میں اینزائٹی اور اس سے منسلک پینک اٹیک یا خوف و ہراس کے دورے اور ہلکی نوعیت کا ڈپریشن وغیرہ شامل ہیں اور ان کا علاج بھی آسان ہے نفسیاتی معالج ادویات یا ادویات کے بغیر تھیراپی سیشن میں مریض کو صحت مندی کی طرف لے آتے ہیں۔ لیکن بسا اوقات یہ دیکھنے میں آتا ہے جب یہ نیوروسس (Neurotic Didorders) کسی فرد کے جسم کو متاثر کرنا شروع کرتے ہیں۔ یعنی کسی بھی وجہ سے ہونے والی اینزائٹی، دباؤ یا سٹریس فرد کو اس حد تک متاثر کرتی ہے کہ وہ رد عمل کے طور پر جسمانی بیماریوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔
یہ درست ہے کہ زندگی میں ہر فرد کسی نہ کسی مقام پر بہت سی مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور ان سے نکل بھی آتا ہے۔ اور کبھی یہ مشکلات شدید نوعیت کی بھی ہوں تو بھی اپنے مضبوط اعصاب کی مدد سے مقابلہ کرتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ مشکلات اور مصائب طویل عرصے تک رہیں یا کوئی فرد اپنی حد سے بڑھی حساسیت یا کمزور اعصاب کی وجہ سے ان حالات کا ذہنی طور پر مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اور کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کا کمزور جسمانی نظام اس طویل المدت دباؤ یعنی سٹریس اور خوف و ہراس کا متحمل نہیں ہو سکتا ایسے میں اس کا نفسیاتی دباؤ اور اینزائٹی ڈس آرڈرز اس کو جسمانی بیماریوں میں مبتلا کر سکتے ہیں یعنی نفسیاتی امراض جسمانی امراض میں تبدیل ہو کر ظاہر ہوتے ہیں یا پہلے سے موجود جسمانی امراض جو ابھی تک ظاہر نہ ہوئے ہوں اور تشخیص نہ ہوئے ہوں ان میں شدت، اضافے اور طوالت کا باعث بنتے ہیں۔ انہیں سائیکو سومیٹک ڈس آرڈرز کہا جاتا ہے۔
دراصل یہ وہ جسمانی بیماریاں ہیں جن کی وجوہات نفسیاتی ہوتی ہیں لیکن یہ جسمانی عوارض میں بدل جاتی ہیں ؛ اس لئے ان کو نفسیات کی اصطلاح میں کنورژن ڈس آرڈرز بھی کہا جاتا ہے۔ یہ امراض بچوں، بڑوں مردوں عورتوں کسی کو بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کو سمجھنے کے لئے کلینیکل مثالوں پر نظر ڈالنی ہوگی۔
1۔ ایک خاتون بار بار فیملی ڈاکٹر کے پاس جاتی ہیں اور ڈاکٹر کو اپنی بیماریوں کی طویل فہرست بتاتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہیں جسم میں درد رہتا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ بخار ہو اور تھرمامیٹر بھی ہلکا بخار ظاہر کرتا ہے اور یہ بخار ایک سال سے ہے۔ انہیں سردی بھی محسوس ہوتی ہے کہ گرمی کے موسم میں بھی کپکپاہٹ ہوتی ہے۔ ان کی بصارت دھندلی رہتی ہے اور آنکھوں سے پانی نکلتا ہے جیسے انہیں آشوب چشم کی بیماری لاحق ہو۔ بسا اوقات انہیں لگتا ہے کہ وہ بصارت سے محروم ہو گئی ہیں۔ اکثر انہیں دست لگ جاتے ہیں۔ پیشاب بار بار آتا ہے
گردن اور پٹھوں میں کھنچاؤ اور بازوؤں میں اکڑن رہتی ہے اور وہ روزمرہ کے گھریلو کام کاج سے تھکاوٹ محسوس کرتی ہیں۔ چکر آتے ہیں اور سر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دماغ خالی پن کا شکار ہے کچھ عرصے سے انہیں بلڈ پریشر اور شوگر کا مرض بھی لاحق ہو گیا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ ان کے بازو سن رہنے لگے اور وہ فالج زدہ محسوس کرنے لگی۔ جسم میں سوئیاں چبھتی محسوس ہوتی ہیں۔
خاتون کو جلدی بیماریوں کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ خارش اور جسم پر اچانک ابھرنے والی الرجی اور دھپڑ جو خود بخود غائب ہو جاتے۔ ان کی جلد جو بہت صحتمند تھی اب وہ مرغی کی کھال جیسی ہو گئی ہے، ہاتھ پاؤں کھردرے ہو گئے۔ ان کا تھائرائیڈ اور دیگر نسوانی ہارمون کا نظام بھی بگڑ گیا۔ ماہواری میں بے قاعدگی ہونے لگی۔ پھر انہیں پیشاب اور مثانے کا انفیکشن بار بار ہونے لگا۔ ارتکاز توجہ کی کمی کی وجہ سے وہ اپنی ذہنی قابلیتوں کا درست استعمال کرنے سے قاصر ہو گئیں۔
اسی طرح ایک بچہ سکول میں بیٹھے بیٹھے کارڈیک اریسٹ کی وجہ سے بار بار ایمرجنسی لایا جاتا۔ ایک خاتون کو بار بار سینے میں درد اور انجائنا کی تکلیف نے تنگ کر رکھا تھا۔ تنگی سانس، اور سانس پھولنے کی تکلیف بھی رہنے لگی۔ بہت سی صورتوں میں آٹو امیون سسٹم متاثر پایا گیا۔ کئی صورتوں میں باقاعدہ ہارٹ اٹیک، فالج اور سٹروک بھی ہوسکتے ہیں۔ پھیپھڑوں کی بار بار تکالیف اور مسلسل اور طویل اور مہلک بات کینسر تک بھی پہنچا سکتی ہے جب مریض مستقل سٹریس میں رہتا ہے اور سٹریس جسم میں کورٹیسول کے لیول میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔
ایک نوجوان لڑکی بلوغت کی عمر کے کچھ سالوں بعد طویل عرصے تک قے آنے کی تکلیف میں مبتلا رہتی ہے۔ ایک بچہ بار بار نزلہ زکام اور دمہ کی کھانسی میں مبتلا رہتا ہے۔ ایک نوجوان معدے کے السر اور منہ کے چھالوں کی تکلیف جھیلتا ہے۔ کچھ نوجوان گھر میں مار پیٹ اور تشدد پر اتر آتے ہیں۔ ایک خاتون ہر وقت ہسٹیریائی انداز میں مسلسل غصے کی کیفیت میں بولنے کے مرض میں مبتلا ہو گئیں اور اس کے برعکس ایک دوسری خاتون نے مکمل چپ سادھ لی۔ ہسٹیریائی دورے بھی اس میں شامل ہیں۔ کچھ افراد کے وزن میں میں تیزی سے اتار چڑھاؤ بھی دیکھا جاتا ہے۔
ایک خاتون سالہا سال تک ایسے ناقابل علاج جسمانی دردوں میں مبتلا رہیں جو ابتداء میں تشخیص نہ ہو سکا لیکن آخر کار فائبرو ملیجیا کی تشخیص ہوئی۔
بہت سی خواتین ٹانگوں کی بے چینی یعنی (Restless Leg Syndrom) میں مبتلا پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح ایک مریض بہت اونچی آواز میں ڈکار لیتا ہے اور سالہا سال سے اس ناگوار تکلیف میں مبتلا ہے۔ کچھ افراد میں خوف و ہراس اور گھبراہٹ کے دورے پڑتے ہیں۔ مردوں میں بھی یہ تمام بیماریاں ظاہر ہوتی ہیں۔ کوئی ایک شخص ہر وقت کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے اتنا چڑچڑا اور بیزار رہتا ہے کہ اس کی گھریلو، معاشرتی اور معاشی زندگی متاثر ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
ایسے مریض مستقل لاحق رہنے والی جسمانی بیماریوں اور علاج کی طوالت سے تنگ آ کر روحانی معالجین کی طرف رجوع کرتے ہیں تو توہم پرستی کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں جب روحانی معالج ان بیماریوں کو آسیب کہہ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن خوش قسمتی سے انہی افراد کو اگر باقاعدہ ڈاکٹر کے پاس لایا جاتا ہے تو طبی معالجین ان آسیب زدہ اور شیطانی اور جناتی اثرات کے ان مریضوں کو نفسیاتی معالجین کی طرف ریفر کرتے ہیں جو سائیکو تھیراپی سے علاج کے دوران ان آسیب، جنات، جادو اور شیاطین کا بت توڑتے ہوئے ان کو سٹریس، اینزائٹی، ڈپریشن، دباؤ، اور دیگر نفسیاتی بیماریوں کا نام دیتے ہوئے مریض اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ مل کر ان کے اندرونی اور بیرونی یعنی ماحولیاتی عوامل کا کھوج لگاتے ہیں جو ان جنات، جادو اور شیاطین کے ماسٹر مائنڈ ہوتے ہیں اور خفیہ طور پر ان نفسیاتی بیماریوں کے جسمانی مظاہر یا علامات کے اصل کار فرما ہوتے ہیں۔
ایک اچھا تھیراپسٹ مریض کے ساتھ اچھے پیشہ ورانہ تعلق کے ساتھ ان خفیہ عوامل کو پہچاننے اور ان کا مقابلہ کرنے کی سائنسی فضا قائم کرتے ہیں۔ اس مرحلے پر مریض کو باور کرایا جاتا ہے کہ وہ مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ ایسے عناصر سے بر سر پیکار ہے جو اسے جسمانی دکھوں میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ اور کوگنیٹو تھیراپی کے ذریعہ ان سے نمٹنے اور صحت مند ہونے کے اقدامات سکھائے جاتے ہیں۔
مثلاً سٹریس، اینزائٹی، ڈپریشن وغیرہ یہ نفسیاتی امراض اپنی وجوہات کی بناء پر الگ الگ حیثیت رکھتے ہیں جیسے قدرتی آفات سے پیدا شدہ صدمات مثلاً کسی پیارے کی موت، بیماری، جدائی یا جدائی کا خوف یا صدمہ۔ کسی معاشی و معاشرتی مسائل کا طویل عرصے تک ساتھ رہنا مثلاً بے روزگاری، امتحانات میں ناکامی، بار بار کوششوں کے باوجود انٹرویوز میں ناکامی۔ ازدواجی زندگی کی مشکلات مثلاً لڑائی جھگڑا، شریک حیات کی بے وفائی، علیحدگی کا خوف یا حقیقتاً طلاق کے حادثے سے دوچار ہونا۔ علیحدگی کی صورت میں بچوں سے جدائی یا بچوں سے والدین سے جدا ہوجانا۔ گھروں میں شدید گھٹن کا ماحول۔ ہنسنے کھیلنے اور تفریح کے مواقع نہیں ملتے۔ بچوں کے سامنے والدین کا ہر وقت لڑائی جھگڑا۔ بہن بھائیوں میں طویل عرصے تک کسی مسئلے پر ناراضگی اور ملاقات کی کوئی صورت نہ نکلنا۔ بچوں کے مسائل مثلاً تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جانا، غلط راستوں پر چل کر بے راہ روی کا شکار ہونا۔ اولاد کی شادیوں کی ناکامی اور مغربی معاشروں میں اولاد کا اقدار سے ہٹ جانا وغیرہ۔ ترک وطن اور ہجرت اور تنہائی یا بچوں اور بہن بھائیوں کا دوسرے ممالک میں جا بسنا وغیرہ۔ سماجی تنہائی کی طوالت اور سماجی روابط کا ناپید ہونا۔ زہریلے ماحول کا دباؤ بھی ذہنی اور جسمانی امراض میں اضافے کے عوامل میں سے ایک ہے۔
علم نفسیات نے بڑے خفیف اور بلیغ طریقے سے زہریلے افراد کی اس طرح نشاندہی کی ہے کہ جنات، شیاطین اور آسیب قرین از قیاس نہیں لگتے لیکن یہ کوئی آسمانی مخلوق نہیں انسانوں کا ہی روپ ہیں۔ علم نفسیات نے باقاعدہ اور سائنسی اسلوب کے ساتھ کلینکل سائیکولوجی کے دائرہ مطالعہ میں پرسنیلٹی ڈس آرڈر کے تحت لا کر ان کے ظاہری اور باطنی رویوں پر بحث کی ہے۔ ان میں سے دو ڈس آرڈرز ایسے ہیں جن کے بارے میں اب کثرت سے بات ہونے لگی ہے اور لوگ جاننا شروع ہو گئے ہیں۔ یقیناً یہ بھی خوش آئند بات ہے۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کسی ماحول، یا گھر میں ایسے کسی ایک، دو یا بہت سے لوگوں کی موجودگی دوسرے افراد پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے۔
نارسزم اور سائیکو پیتھ بیمار افراد یا مجرمانہ خصائل کے لوگوں کا وہ گروہ ہے جو کلینیکل نفسیات میں ناقابل علاج مریض ہیں۔ کبھی کبھی پورا خاندان ہی نارسسٹک کلٹ بن جاتا ہے اور اس بیمار کلٹ کے دائرہ کار میں ایک یا کئی افراد کو ایسے نفسیاتی دباؤ اور زہر سے شکار کرتا ہے کہ ایک یا بہت سے افراد بیک وقت اوپر بیان کی ہوئی جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو کر کرب سے گزرتے ہیں۔ ان زہریلے افراد کے تحکمانہ بے حس، گھمنڈی، فریبی، جھوٹے اور شریر رویوں سے ایک فرد مسلسل دباؤ کی وجہ سے بہت سے جذباتی ری ایکشن کی وجہ سے کنفیوز ہوتا چلا جاتا ہے اور ماحول کے تمام افراد اس وکٹم کو ذہنی مریض کہنا شروع ہو جاتے ہیں نتیجتاً وہ بے بسی میں بیمار رہنا شروع ہوجاتا ہے جو یقیناً نارسسٹ اور سائیکو پیتھ جیسے شیاطین اور آسیب انگیز افراد کا تحفہ ہے۔
اس ضمن میں لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ بہت چابک دستی اور حکمت عملی سے ان افراد سے یا تو چھٹکارا پالیں یا ایسی مہارتیں سیکھیں جن سے وہ ان افراد کے درمیان رہتے ہوئے بھی خوش گوار رہ سکیں۔ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ زہریلے افراد اپنے حسد کی وجہ سے کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتے بلکہ ان کو خوشیوں، محبتوں اور دوستی کا قاتل سمجھا جاتا ہے جیسے شیطان ہر خوشی کو سبوتاژ کرتا ہے، دو افراد میں پھوٹ ڈالتا ہے، تنہا کر دیتا ہے۔ اور غم میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اور یہ بات واضح ہو کہ خوشی کا متضاد غم، فکر اور اندیشے جسمانی صحت کے قاتل ہیں۔ اور یہ زہریلے افراد وائرس کی طرح اپنا زہر اگل کر اچھے بھلے صحت مندوں کو بیمار کرنے کے خفیف وائرس ہیں۔ جن کا علاج وکٹم اپنے علاج سے ہی شروع کر سکتا ہے۔
لہذا علم نفسیات کے اس بیان کی روشنی میں ان شیاطینی عوامل کے مقابلے کے لئے سائنسی اپروچ کو اپنایا جائے خواہ وجوہات کچھ بھی ہوں۔ ہر بیماری کے لئے اس کی وجوہات سے آگاہی حاصل کی جائے اور سیلف ہیلپ اور اجتماعی مدد کے ذریعہ آسیب کی توہم پرستی سے نکل کر امراض سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ماہرین نفسیات سے رجوع کیا جائے۔
اپنی مدد آپ کے تحت سائیکو سومیٹک ڈس آرڈرز کے مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ تنہائی سے بچیں لیکن سکوت کو ترجیح دیں۔ موسیقی کو اپنی خوراک بنائیں۔ اپنی پسند کے ہم خیال دوست بنائیں۔ اپنی جسمانی صحت اور صحت مند طرز زندگی اپنائیں۔ یوگا، میڈیٹیشن، ورزش، لمبی سبک واک، سورج کی روشنی، آکسیجن کا خیال رکھیں۔ تفریح، پکنک، مشاغل، ادب فنون لطیفہ کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔ اچھی کتب کا مطالعہ کریں۔ جھیلوں، قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا اہتمام کریں۔ نفرت، حسد اور حاسدین سے دور رہیں، غم اور ناشاد رہنے سے گریز کریں۔ اپنے من پسند لوگوں سے گپیں لگائیں۔ دکھ اگر غم ہے تو ہنسی علاج غم ہے اور ذہنی صحت کا ضامن۔


