کیا آپ آزادی کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟


جب میں آزادی کے بارے میں اپنے خیالات اور تجربات کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں بچپن کی وہ یادیں ابھرتی ہیں جب میں تین چار سال کا تھا۔ ان دنوں ہم کوہاٹ کے ایک بڑے سے گھر میں رہتے تھے اور میرے پاس ایک ٹرائیسکل تھی۔ جب میں گلی میں بچوں کے کھیلنے کی آوازیں سنتا تھا تو دروازے کے پاس جاتا تھا لیکن جب اس بڑے سے دروازے پر ایک بڑی سی زنجیر دیکھتا تھا جو میری رسائی سے باہر تھی تو اپنی امی جان سے کہتا تھا

امی جان کیا آپ یہ دروازہ کھول سکتی ہیں؟
نہیں بیٹا
کیوں نہیں۔ میں باہر جا کر بچوں سے ساتھ کھیلنا چاہتا ہوں۔

نہیں بیٹا تم باہر نہیں جا سکتے۔ یہ جگہ محفوظ نہیں ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کوئی تمہیں اغوا کر کے نہ لے جائے اور مجھے تو پشتو بھی نہیں آتی۔

میں امی جان کی باتوں سے اداس ہو جاتا تھا۔
جب میری امی جان مجھے اداس دیکھتیں تو کہتیں۔

انتظار کرو۔ جب تمہارے ابو جان آئیں گے تو میں ان سے کہوں گی کہ وہ تمہیں اپنے بائیسکل پر بٹھا کر سیر کے لیے لے جائیں۔

مجھے یاد ہے کہ جب میں بڑے سے دروازے کی بڑی سی زنجیر نہ کھول سکتا تو ایسا محسوس کرتا جیسے میں ایک ایسا پرندہ ہوں جو کسی پنجرے میں بند ہو اور بے بس ہو۔

بچپن کے اس بے بسی کے احساس کی وجہ سے مجھے ساری عمر ان لوگوں سے ہمدردی رہی جو اپنی زندگی میں بے بس محسوس کرتے ہیں۔

چاہے وہ مشرقی عورتیں ہوں جنہیں اپنے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ملتی
چاہے وہ شاعر و دانشور ہوں جنہیں اپنے خوابوں اور آْدرشوں کی وجہ سے پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے
یا
چاہے وہ ذہنی مریض ہوں جنہیں نفسیاتی ہسپتالوں میں قید کر دیا جاتا ہے

پھر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری ہمدردی صرف بے بس انسانوں سے ہی نہیں ان جانوروں سے بھی ہے جن کے گلے میں زنجیر ڈال کر انہیں گھروں میں بند کر دیا جاتا ہے اور ان پرندوں سے بھی ہے جنہیں پالتو پرندے بنا کر پنجروں میں قید کر دیا جاتا ہے۔

ایسے جانور اور پرندے مقید ہونے کی وجہ سے اپنے ہم جنسوں اور ہم جولیوں سے کھیل نہیں سکتے۔

میں جب ان محصور پرندوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے ایک ایسے مالک کی کہانی یاد آتی ہے جو ہندوستان سے کینیڈا آتے وقت اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایک طوطا بھی لے آیا تھا اور اسے ایک پنجرے میں بند رکھتا تھا۔

جب وہ مالک ہندوستان کی سیر کے لیے جانے لگا تو اس نے نہ صرف اپنے بیوی بچوں سے پوچھا بلکہ اس طوطے سے بھی پوچھا کہ وہ اس کے لیے ہندوستان میں کیا خاص بات کر سکتا ہے؟

طوطے نے کہا تم ہندوستان میں میرے طوطے دوستوں کے پاس جانا انہیں میرا سلام کہنا اور ان سے میرے لیے کوئی مشورہ مانگنا

ہندوستان کے سفر کے آخر میں جب وہ مالک طوطوں سے ملنے گیا اور اس نے ہندوستانی دوستوں کو کینیڈا کے طوطے کا پیغام دیا تو اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ایک طوطا شاخ سے زمین پر گرا اور مر گیا۔

واپس آ کر جب مالک نے اپنے طوطے کو ساری کہانی سنائی تو اسے مزید حیرت ہوئی کہ اس کا طوطا بھی پنجرے میں گرا اور مر گیا۔

مالک وہ پنجرہ باغ میں لایا اس نے پنجرے کا دروازہ کھولا اور طوطے کو باغ کے گھاس پر پھینک دیا۔ جونہی طوطا زمین پر گرا وہ اٹھا اور اڑ کر درخت کی شاخ پر بیٹھ گیا۔

مالک بہت حیران ہوا۔ اس نے طوطے سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا تو طوطے نے کہا

میرے دوست طوطے نے پیغام بھیجا تھا کہ آزادی کے لیے مرنا ضروری ہے کیونکہ ہمیں آزادی کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ جو قربانی دینے کے لیے تیار ہوتا ہے اسے آزادی حاصل ہو جاتی ہے۔

میرے لیے ساری عمر آزادی بہت اہم رہی ہے
چاہے وہ پڑھنے کی آزادی ہو یا لکھنے کی آزادی
چاہے وہ ہجرت کی آزادی ہو یا سفر کی آزادی
چاہے وہ نفسیاتی آزادی ہو یا سماجی آزادی
چاہے وہ مذہبی آزادی ہو یا سیاسی آزادی

اپنے بچپن کے بند دروازے اور زنجیر کا تجربہ جہاں تکلیف دہ تجربہ تھا وہیں اس تجربے نے مجھے مظلوم و محصور انسانوں جانوروں اور پرندوں کے لیے ایک ہمدرد انسان بنا دیا ہے۔

جب میں مغرب میں آ بسا تو میں نے غیر روایتی زندگی اختیار کر کے اپنی آزادی کا بھرپور اظہار کیا۔ میں نے

روایتی خاندان کو چھوڑ کر فیمیلی آف دی ہارٹ تشکیل دی
روایتی مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہہ کر انسان دوستی کو گلے لگایا
روایتی اور ادویہ سے علاج کو الوداع کہہ کر گرین زون فلسفے کو اپنایا
روایتی مشکل گنجلک دشوار طرز تحریر سے کنارہ کش ہو کر عام فہم اور سلیس زبان میں لکھنا شروع کیا۔

میرے نزدیک ایک مخلص آزاد انسان نہ صرف اپنی آزادی کی حفاظت کرتا ہے بلکہ دوسروں کی آزادی اظہار و گفتار و کردار کا بھی احترام کرتا ہے۔

میں نے جب آزاد منش درویشانہ طرز زندگی اپنایا تو اپنے آپ کو پرسکون پایا۔
اسی لیے میں نے شعر لکھا تھا
عجب سکون ہے میں جس فضا میں رہتا ہوں
میں اپنی ذات کے غار حرا میں رہتا ہوں
اب میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں
کیا آپ کو بھی ایک آزاد منش زندگی عزیز ہے؟
کیا آپ اپنی آزادی کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں؟

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail