بچوں کا جنم ہوس کا نتیجہ یا افزائش نسل کے مقدس جذبے کا ماحصل؟


معصوم بچے کی پہلی کلکاری گھر کے آنگن میں فطرت کی طرف سے ایک نئی خوبصورتی کی نوید ہوتی ہے، اس معصومانہ سی چہک کے سامنے دنیا بھر کی دھنیں یا راگ ماند سے پڑنے لگتے ہیں، فطرت کا یہ ننھا سا مہمان تمام تر دنیاوی نفرتوں، کدورتوں اور تعصبات سے ماورا ہوتا ہے۔

وہ نہیں جانتا کہ اس کی تخلیق کے پیچھے کون سی کہانی کار فرما ہے یا کس حادثے کے نتیجے میں وہ دنیا میں آیا ہے، کیا وہ محبت کی نشانی ہے یا ہوس کی؟

اس کے تخلیق کار اسے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ دنیا میں لائے ہیں یا خاندان والوں کی نظروں میں مہان، گھبرو یا ہیرو بننے کے چکروں میں لائے ہیں؟

وہ رضامندی سے اس دنیا میں آیا ہے یا چھپن چھپائی کا نتیجہ ہے؟

وہ اس حقیقت سے بھی بے نیاز ہوتا ہے کہ اس کے جنم پر سماج اسے حلالی کہے گا یا حرامی؟ وہ کسی کی گود میں پلے بڑھے گا یا کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا جائے اور جانور اسے نوچ کھائیں گے؟

استعارہ انسانیت عبدالستار ایدھی نے اسی سفاکیت کی وجہ سے ہی تو پنگھوڑا مہم کا آغاز کیا تھا، گندگی کے ڈھیروں کے قریب پنگھوڑے رکھ کر ساتھ میں التجا کی گئی تھی کہ اپنے معصومین کو گندگی میں پھینکنے کی بجائے پنگھوڑے میں رکھ جائیں، ہم اس معصوم کی دیکھ بھال کر لیں گے۔

عبدالستار ایدھی کا کہنا تھا کہ وہ ان معصوم لاوارثوں کو اپنا نام دے گا، نجانے کتنے معصومین کو اس استعارہ انسانیت نے اپنا نام دے کر انہیں سماجی پہچان عطا کی تھی، جس کے نتیجے میں انہیں پارسان سماج کے غم و غصے کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس درویش نے پرواہ نہیں کی۔

اس ایک اکیلے شخص کے اندر سماج کی غلاظتوں کو ڈھانپنے کا حوصلہ موجود تھا، وہ انسانوں کو انسان کی نظر سے دیکھتا تھا اور انہیں فرشتہ ہرگز نہیں سمجھتا تھا۔

انسان بھی کیا خوب ہے؟ دنیا بھر کے کم و بیش کام باقاعدہ منصوبہ بندی سے کرتا ہے لیکن تخلیق کا عمل جو اہمیت کے حساب سے انتہائی ذمہ دارانہ اور حساس ترین نوعیت کا ہوتا ہے بغیر کسی منصوبہ بندی کے سرانجام دیتا ہے۔

ایدھی جی خوب جانتے تھے کہ یہاں محبت کا نام صرف فیشن کے طور پر لیا جاتا ہے ذمہ داری اور فریضہ کے طور پر نہیں، جنسی ہوس مٹانے کے لیے لونڈے لپاڑے معصوم بچیوں کے جذبات سے کھلواڑ کرتے ہیں اور حمل ٹھہرنے کی صورت میں خاتون کو بیچ چوراہے تنہا چھوڑ دیتے ہیں یا وقت گزاری کے بعد اپنے ہوس کی نشانی کو کوڑے کے ڈھیر کے حوالے کر کے چلتے بنتے ہیں۔

ان کے اندر اتنا حوصلہ نہیں ہوتا کہ وہ سماج کے سامنے اس بات کا اقرار کریں کہ دنیا میں آنے والا ننھا مہمان انہی کے پیار کی نشانی ہے جسے وہ فراخدلی سے قبول کرتے ہیں، اگر ساتھ کھڑے رہنے کا حوصلہ اور عزم نہیں رکھتے تو دوسروں کی زندگیوں سے کھلواڑ کیوں کرتے ہو؟

چلیں یہ تو چھپن چھپائی والی محبت کا احوال ہوا لیکن جو پورے دھوم دھڑکے سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتے ہیں کیا وہ آداب محبت سے آشنا ہوتے ہیں؟

کیا وہ تہذیب محبت کے رازوں سے آشنا ہوتے ہیں، محبت کی مالا کو پرونے کے لیے کیا وہ پیار بھرے انمول سے جذبات، شائستگی و نفاست سے بھرے ہوئے خوبصورت سے لب و لہجے کا گیان یا سمجھ بوجھ رکھتے ہیں؟

نہیں جناب، اس طرح کی لوی ڈوی والی نزاکتیں یا تکلفات تو وہاں ہوا کرتی ہیں جہاں دو انسان شعوری طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں، یہاں تو شادی خاندان کے بڑے بزرگوں کا بھرم رکھنے اور خاندانی تسلسل کو آگے بڑھانے کے لیے کی جاتی ہے۔

مرد خاندان کا بھرم رکھنے کے لیے شادی تو کر لیتا ہے لیکن اس کا دل کہیں اور اٹکا ہوا ہوتا ہے، بیوی کے ساتھ سیکس کے پیچھے جو مقصد ہوتا ہے وہ بچے پیدا کرنے کی حد تک ہوتا ہے، یہ ایک طرح کا بے روح سا تعلق ہوتا ہے جس میں وجائنا اور عضو تناسل کا اتصال تو ضرور ہوتا ہے لیکن دل و دماغ اور جسم بے نیاز یا لاتعلق رہتے ہیں۔

جسمانی راحت اور پُرسکون انزال کے لیے یہی مرد دوسری خواتین کی قربت ڈھونڈتا ہے، ظاہر ہے یہ عیاشی یا سہولت بھی مرد کو اپنے مردانہ اسٹیٹس کی وجہ سے میسر رہتی ہے، خاتون تو متبادل بارے سوچ بھی نہیں سکتی، ذلت، بدکردار اور بے شرم ہونے کا کوڑا اس قدر بے رحمی سے برسے گا کہ اس کی آنے والی نسلیں تک یاد رکھیں گی۔

چوائس، جنسی تسکین یا ٹریگر پوائنٹس یا مختلف پوز و پوزیشن بارے بتانے کا حق تو صرف مرد کو حاصل ہوتا ہے، خاتون اس متعلق منہ کھولے گی تو بے شرم اور بدکردار کہلائے گی۔

لطف اندوزی کے بعد پیدا ہونے والا بچہ بھی خاتون کے حوالے اور مرد سرکار عضو تناسل کھجاتے ہوئے دوسرے شکار کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں، حیرت کی بات ہے وہ پھر بھی بچ بچا کر خود کو سماج میں ڈھال لے گا لیکن خاتون کا کیا جس پر بدکردار اور حرام کی اولاد کو جنم دینے کا دھبہ چسپاں ہو چکا ہے اور اسے قبر تک یہ داغ بھگتنا پڑے گا۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ عیاشی اس نے خود سے کی ہے یا اس کے ساتھ کوئی شریک بھی ہوتا ہے؟
اگر دو انسان شریک ہیں تو پھر ایک بدکردار کیسے ہو سکتا ہے دونوں کیوں نہیں؟

پیدا ہونے والے بچے کا کیا قصور جسے کوڑے کے ڈھیر پر چھوڑ دیا جاتا ہے، اگر سنبھال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو، دل پشوریاں کرنی ہیں تو نشانی کو قبول کرنے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے، اگر ذمہ داری نہیں لے سکتے تو انسانیت کی تذلیل بھی مت کریں۔

Facebook Comments HS