رودرہیم جنسی اسکینڈل۔ برطانوی پاکستانیوں کے لئے تمغۂ ندامت


تحریر: ڈاکٹر خرم نیازی
بتاریخ 4 فروری 2017 ء

مقدمہ کی سماعت ختم ہوئی، فاضل جج نے شواہد، گواہوں کے بیانات، وکلاء کے دلائل اور جیوری کی رائے کی روشنی میں 32 سالہ بشارت کو بیس سال، اس کے 36 سالہ بھائی ناصر کو ساڑھے چودہ سال اور ان کے تیسرے بھائی 34 سالہ طیب کو دس سال قید کی سزا سنائی۔ جبکہ بقیہ تین ملزمان کو گیارہ سے تیرہ سال قید کی سزا سنائی۔ کچھ ہی دیر میں کمرۂ عدالت سزا پانے والوں کے اللہ اکبر کے واشگاف نعروں سے گونج رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ مجرمان کسی تحریک آزادی کے قائدین ہوں یا ان سے ایسا کوئی کارنامہ سرزد ہوا ہو جس پر ان کے اہل خانہ، ہم قوم اور ہم مذہب افراد یا آنے والی نسلیں فخر سے جھومتی رہیں۔ لیکن اصل میں یہ سب برطانیہ کے علاقے رودرہیم میں جاری اس بدنام ترین اسکینڈل کے گھناؤنے کردار تھے جس میں برسہا برس کم سن سفید فام بچیوں کو اپنے جال میں پھنسا کر ان پر ہر طرح کا جنسی تشدد کیا گیا تھا۔

رودرہیم ساؤتھ یارکشائر کا ڈھائی لاکھ آبادی والا چھوٹا سا شہر ہے جہاں کی آٹھ فیصد آبادی کا تعلق پاکستان سے ہے اب یہ شہر دنیا بھر میں بچیوں کے جنسی استحصال کی علامت بن چکا ہے۔ گو اس جرم میں 2010 ء میں بھی آٹھ پاکستانی نژاد مردوں کو سزا سنائی جا چکی تھی لیکن پھر دو سال بعد ٹائمز اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ نے ایک طوفان برپا کر دیا جس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستانی مردوں کے منظم گروہ مسلسل ہزاروں سفید فام کم عمر بچیوں کو اپنی جنسی درندگی کی بھینٹ چڑھاتے جا رہے ہیں لیکن حقیقت کا علم ہونے کے باوجود حکام نے ناصرف کارروائی کرنے سے گریز کیا بلکہ جرم کی یہ کہہ کر پردہ پوشی کی کہ کہیں ’پاکستانی‘ ، ’ایشیائی‘ اور ’مسلم‘ کے الفاظ استعمال کرنے سے ان پر نسلی منافرت کرنے اور نسل پرستی کے شعلوں کو ہوا دینے کا الزام نہ لگ جائے۔ یاد رہے کہ برطانیہ میں نسل پرستی کا الزام لگنا ایک کلنک کا ٹیکہ سمجھا جاتا ہے۔ بعد ازاں پروفیسر الیکسز جے کی سربراہی میں ایک بہت بڑی آزاد انکوائری کا آغاز کیا گیا جس نے اپنی رپورٹ اگست 2014 ء میں پیش کی۔

159 صفحات کی اس رپورٹ میں بڑے ہی دہلا دینے والے انکشافات سامنے آئے۔ پتہ چلا کہ کم ازکم 1400 سفید فام بچیوں کو جن کی عمریں 11 سے 16 برس کے درمیان تھیں اور جن میں سے ایک تہائی کا تعلق بکھرے ہوئے گھرانوں سے تھا باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے ان سے بڑی عمر کے پاکستانی مردوں کی منظم ٹولیوں نے پہلے پیار بھری باتیں کر کے جھوٹی محبت کے جال میں پھنسایا۔ شراب، منشیات، سستے تحائف اور سپورٹس کاروں میں سیر کا لالچ دے کر ان کا دل مٹھی میں کیا پھر ان پر مجرمانہ حملے کیے اور بعد میں بلیک میل کر کے جسم فروشی اور دوسرے پاکستانی مردوں کی جنسی خواہشات پوری کرنے پر مجبور کیا۔

سنہرے جال میں پھنسی بچیوں نے جب بھی ان بندھنوں کو توڑ کر بھاگنے کی کوشش کی تو انہیں اور ان کے خاندانوں کو دھمکیاں دیں۔ گھروں پر حملے کیے ، ان کی کم عمر بہنوں کو اغوا کر کے ایک دوسرے کے سامنے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا، پیٹرول ڈال کر لائٹر سے آگ لگانے سے ڈرایا گیا، جنسی مناظر کی فلمیں بنا کر پھیلا دی گئیں وغیرہ وغیرہ۔ رپورٹ پڑھ کر یقین نہیں آتا کہ اتنے خوفناک جرائم کا ارتکاب انگلستان جیسے ملک میں جہاں قانون کی حکمرانی ہے، کھلے عام ہوتا رہا۔

ان ٹولیوں میں سگے بھائی، چچا، ماموں، نوجوان، بوڑھے سب شریک تھے۔ ایک ہی لڑکی کو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ اور پھر دوسرے شہر میں موجود ’صارفین‘ تک پہنچایا جاتا۔ ٹیکسی ڈرائیوروں کی ایک مافیا بھی اس مکروہ کاروبار میں شریک گناہ تھی۔ ایک گیارہ سالہ بچی جسے اس گھناؤنے کھیل میں پھنسایا گیا بارہ سال کی عمر میں ماں بن چکی تھی۔ ان گنت کم عمر بچیوں سے ان کا بچپن، معصومیت اور اعتبار سب چھین کر انہیں قبل از وقت حمل، اسقاط، زچگی اور تنہا ماں بننے کے اندھے کنوؤں میں دھکیل دیا گیا۔

حکومت کی لاکھ احتیاط کے باوجود کہ کہیں ملک بھر میں مسلم دشمن یا پاکستانی دشمن فسادات نہ پھوٹ پڑیں، رودرہیم کے واقعات کی بازگشت پورے ملک میں سنائی دی۔ یہ شرمناک حقیقت سامنے آئی کہ پاکستانی مردوں کے یہ گروہ پورے ملک میں سرگرم عمل ہیں جو جنسی استحصال کے 77 میں سے 67 کیسز میں ملوث نکلے۔ یہ مرد سفید فام ’بچی‘ کو آسان اور جائز شکار سمجھتے ہیں۔

2013 ء میں مسلم وومن نیٹ ورک نے اس تاثر کی نفی کے لئے کہ ایشیائی اور مسلم عورت اس نوعیت کے جنسی استحصال سے محفوظ ہے ایک انکوائری رپورٹ مرتب کی جس میں 35 واقعات کو زیر بحث لایا گیا جن میں 9 سال سے لے کر 35 برس کی خواتین کو شکار بنایا گیا تھا۔ ان واقعات میں بھی دو تہائی سیاہ کار پاکستانی تھے جبکہ بقیہ بنگالی یا افغانی تھے اس رپورٹ میں تحریر ایک واقعہ جو ایک جواں سال لڑکے کی زبانی ہے توجہ سے پڑھئے :

” میرے دوست نے مجھے کال کر کے کہا کہ یار فوراً میرے گھر آ جاؤ ایک زبردست سرپرائز ہے۔ جب میں وہاں پہنچا تو بیٹھک میں پندرہ لڑکے بیٹھے تھے۔ میرے دوست نے کہا تم سیڑھی سے اوپر کمرے میں جاؤ تمہارا سرپرائز وہیں ہے۔ میں جب اوپر بیڈروم میں گیا تو ایک دوسرا دوست ایک بیس سالہ پاکستانی عورت کے ساتھ مصروف کار تھا۔ باری باری تمام دوست اس خاتون سے مستفید ہوتے رہے۔ اپنی باری کا انتظار کرتے لڑکے فون کر کے دوسرے دوستوں، کزنز اور انکل کو بھی بلاتے جاتے تا کہ وہ بھی اپنی مردانگی کا ثبوت پیش کرسکیں۔

کچھ بزرگوار بھی آ پہنچے۔ دو جو پیشے سے ٹیکسی ڈرائیور تھے باری کا انتظار کیے بغیر سیدھے اوپر چلے گئے۔ ایک بڑے میاں نے کہا کہ میں اپنے بیٹے کو بلا رہا ہوں تاکہ اس کی بھی پریکٹس ہو جائے۔ کچھ دیر میں ان کا پندرہ سالہ نونہال سکول یونیفارم میں آ پہنچا۔ ہماری باریاں لگتے ہوئے جب چھ گھنٹے ہو گئے تو میں پریشان ہو گیا کہ کہیں لڑکی جان سے ہی نہ چلی جائے۔ یہ خیال بھی آیا کہ اب اس سے شادی کون کرے گا؟ اس لڑکی کو پیسے کی ادائیگی نہیں کی جاتی بس اس کا خیال رکھا جاتا ہے اور اگر رات دیر ہو جائے تو اسے گھر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کام کے لئے پیر، بدھ اور جمعہ کے دن مخصوص ہیں لیکن بعض دوست جمعہ کو یہ سرگرمی نہیں کرنا چاہتے کیوں کہ جمعہ مبارک دن ہے اور اس دن انہیں مسجد جانا ہوتا ہے“

مذکورہ بالا دونوں انکوائری رپورٹس میں اتنے بڑے پیمانے پر ایک ہی کمیونٹی کی طرف سے جنسی استحصال میں مصروف ہونے کے اسباب پر بھی غور کیا گیا ہے۔ جہاں پروفیسر جے کی رپورٹ میں نشانہ بننے والی بچیوں کے لئے سپورٹ کا ناکافی انتظام، پولیس اور سیاسی انتظامیہ کے مجرمانہ غفلت آمیز رویوں کو نشانۂ تنقید بنایا گیا ہے وہیں مسلم وومن نیٹ ورک نے مرد کی بالادستی پر مبنی پاکستانی سماجی اقدار کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جہاں عورت کی ہر بات اور ہر عمل پر نکتہ چینی کی جاتی ہے اور ان پر پابندی لگانا اور ہاتھ اٹھانا برا نہیں سمجھا جاتا۔

وہ ٹین ایجر جو اس ماحول میں پروان چڑھتے ہیں وہ ساری عمر عورت کو تحقیر آمیز نظر سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے ان ثقافتی اقدار کا تعین بھی کیا جو عورت کے ثانوی اور غیر اہم کردار پر منتج ہو رہی ہیں جن میں عزت کے نام پر عورت کو صدائے احتجاج سے روکنا، صنف نازک پر ہر غلطی کا الزام عائد کرنا، عورتوں سے صرف تابعداری کی توقع کرنا، زبردستی اور کم عمر کی شادی، نرینہ اولاد کو زیادہ اہمیت اور اولیت دینا، لڑکیوں پر باندیاں عائد کرنا، لڑکی کی جسمانیت اور جنسیت کو خاندان کی عزت کہہ کر دبانا اور چھپانا، مذہبی رہنماؤں کا مرد ہونا، خاندانوں میں مرد کی زیادتی پر خاموشی یا معاونت اختیار کرنا، جنسی معلومات کی کمی، والدین اور بچوں میں بے تکلفی کے فقدان اور دوسری اقوام اور مذاہب کے لئے منفی اور متعصبانہ سوچ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔

رودرہیم کے انسانیت کو لرزہ دینے والے واقعات کے تناظر میں پولیس کمشنر اور علاقے کے رکن پارلیمان سمیت متعدد اہم شخصیات مستعفی ہوئیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ برطانوی پاکستانیوں نے پاکستانی سیاسی کلچر یہاں بھی درآمد کر لیا ہے۔ اب معاملہ کی حساسیت اور صحیح اور غلط کی تفصیل میں جائے بغیر اپنے بندے کی حمایت کرنے کا رواج پایا جاتا ہے مساجد اور کمیونٹی رہنما منفی اور قدامت پرست اقدار کی مذمت کرنے کے بجائے انہیں بچانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگاتے ہیں اور جو شخص تھوڑی سی جرات کا مظاہرہ کرے اس کی زندگی حرام کردی جاتی ہے۔

خود پاکستان میں دو دہائی پہلے تک پڑھے لکھے اور ان پڑھ آدمی اور دیہی اور شہری پس منظر کے افراد کی سوچ میں خاصا فرق نظر آتا تھا۔ آہستہ آہستہ بنیاد پرست لٹریچر کے طفیل مغرب دشمنی اور عورت مخالف خیالات کا ایک ملغوبہ لوگوں کے ذہنوں میں داخل کر دیا گیا۔ اب کم عمر خواتین کو بیاہنے یا عورت کی مناسب پٹائی کرنے جیسے معاملات کے حق میں مین سٹریم میڈیا میں دلائل دیے جاتے ہیں۔ بہانے بہانے سے بچیوں کے لئے تعلیم کو غیر ضروری ثابت کیا جاتا ہے اور برسرروزگار خواتین کے کردار پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔

اردو ڈرامہ سے پاکستانی سماج کی عکاسی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی بار بار عورتوں کو حقیر ثابت کرنے والی پوسٹس شیئر کی جاتی ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کی صنفی مساوات پر بنائی گئی تازہ ترین رپورٹ میں جہاں برطانیہ کو اٹھارہویں نمبر پر رکھا گیا ہے وہیں پاکستان پست ترین پوزیشن یعنی 144 نمبر پر دکھائی دیتا ہے۔ برطانیہ میں ہونے والے شرمناک واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرون ملک بسے پاکستانی نژاد افراد اپنے وطن کے حالات کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments