تباہ حال ایڈورڈ کالج اور گورنر کی بے توجہی

ایڈورڈ کالج پشاور صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ یہ صوبے میں معیاری تعلیم کی پہچان ہے۔ مگر جس طرح برصغیر سے انگریز جانے کے بعد جو کچھ ہم پاکستانیوں نے ریلوے نظام کے ساتھ کیا وہی کچھ 2014 میں انگریز پرنسپل جانے کے بعد پاکستانی انتظامیہ نے ایڈورڈ کالج کے ساتھ کیا۔ نہ صرف یہ کہ اس کا تعلیمی معیار تباہ کر دیا بلکہ یہاں بد انتظامی، اقربا پروری اور مفاد پرستی کے وہ نظارے دیکھنے کو ملے کہ سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ پانچ سال میں وقتاً فوقتاً مختلف اداروں اور ذمہ دار افراد نے اس طرف توجہ دلانے کی کوششیں کی ہے مگر نتیجہ صفر ہے۔
مثلاً انڈیپینڈنٹ جیسے عالمی ادارے نے اپنی 23 مئی 2024 کی اشاعت میں اپنی سٹوری کو عنوان دیا ہے۔ ( ایڈورڈ کالج پشاور میں جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیاں عروج پر ہے ) اس کہانی میں پوری تفصیلات ہے کہ کس طرح غیر اخلاقی حرکتیں اور منشیات کا استعمال اور کاروبار ہو رہا ہے۔ اسی طرح دی نیوز انٹر نیشنل نے اپنی 23 جولائی 2024 کی اشاعت میں ایک تفصیلی سٹوری کو عنوان دیا ہے ( ایڈورڈ کالج کے ایکٹنگ پرنسپل اور وائس پرنسپل کی ترقی پر سوالات)
ان دونوں عہدیداروں کی ترقی پر جو سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ یہ ہے کہ انھوں نے گریڈ 19 سے 20 میں ترقی کے لئے نہ صرف یہ کہ متعلقہ رولز کو فالو نہیں کیا ہے۔ بلکہ عدالتی حکم امتناع اور بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ منعقدہ 2 اگست 2024 کو اس سابقہ اجلاس کی میٹنگ منٹس کو اس وجہ سے نامنظور کیا گیا کہ اس پر مجاز اتھارٹی سے دستخط نہیں لئے گئے تھے۔ یاد رہے کہ 21 جون 2023 کو کالج کے بورڈ آف گورنرز کا بجٹ اجلاس تھا جس میں پرنسپل نے خاموشی کے ساتھ اپنی ترقی کی منظوری بھی ڈال دی تھی۔
نشاندہی ہونے پر بعض ممبران نے اس کی اس لئے مخالفت کی تھی کہ بجٹ اجلاس میں صرف بجٹ کے معاملات پر بات ہوتی ہے۔ اور اس طرح ان دونوں پروموشنز پر مزید سوالات یہ ہیں کہ کس طرح ایک شخص اپنی ترقی کے لئے ہونے والے اجلاس میں بحیثیت ممبر دستخط کر سکتے ہیں؟ کس طرح ایک غیر مجاز شخص اس اہم اجلاس میں شریک ہوسکتے ہیں جس میں اتنے اہم فیصلے ہونے ہو؟ کس طرح ایگزیکٹیو کمیٹی اور بورڈ آف گورنرز کی منظوری سے پہلے ہی ایک شخص اپنی ہی ترقی کا نوٹیفیکیشن جاری کر سکتا ہے؟
درجہ بالا دو میڈیا اداروں کے علاوہ چند ماہ پہلے کالج ہذا ہی کے 108 فیکلٹی ممبران میں سے 86 ممبران کی دستخط سے ایک قرارداد پاس کر کے گورنر خیبر پختونخوا کو ارسال کی گئی ہے جس میں کالج انتظامیہ پر بدانتظامیوں اور بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد مطالبہ کیا گیا ہے کہ کالج کا غیر جانبدارانہ اور آزاد مالی، تعلیمی اور انتظامی آڈٹ کرایا جائے۔ اس کے علاوہ اسی کالج کے ایک پروفیسر نے اس ترقی کو عدالت میں چیلینج کیا تھا جہاں سے انہیں حکم امتناع بھی ملا تھا۔
لیکن پروفیسر کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے اس کیس کی نوعیت تبدیل ہو گئی اور ترقی پانے والے پرنسپل اور وائس پرنسپل جوں کے توں کام کرتے رہے۔ ایک اور پروفیسر صاحب کئی بار غیر قانونی کاموں کی نشاندہی کے لئے گورنر صاحب کو خطوط لکھ چکے ہیں۔ مگر گورنر صاحب اپنے وعدوں کو ہی بھلا بیٹھے ہیں۔ اپنی تعیناتی کے چند دن بعد ایک پوڈ کاسٹ میں سہیل اصغر خان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کھل کر ایڈورڈ کالج کے حالات پر تنقید کی اور کہا کہ اس کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس کو درست کرنا ہے۔ اسی طرح 24 اگست 2024 کو بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں گورنر نے ہدایت کی کہ اگلی میٹنگ سے پہلے پہلے مستقل پرنسپل کی تعیناتی کے لئے سپریم کورٹ ہدایات کی روشنی میں اقدامات کیے جائے۔ اس کے علاوہ بھی گورنر مختلف مواقع پر کالج کی موجودہ انتظامیہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں مگر سوال یہ ہے۔ کہ صوبے کا آئینی سربراہ جو اب تک درجنوں یونیورسٹیوں کا چانسلر تھا خوش قسمتی یا بدقسمتی سے وہ اختیارات بھی صوبائی حکومت نے ان سے لے لئے اب ایڈورڈ کالج وہ واحد ادارہ ہے جس کو درست کرنے کا اختیار براہ راست گورنر کے پاس ہے۔
مگر پشتو محاورے کی مانند کہ چھوٹے بچوں کا کوئی کام بھی نہیں ہوتا ہے مگر فارغ بھی نہیں ہوتے ہیں۔ یہی حال گورنر خیبر پختونخوا کا ہے۔ کہ ایک طرف صوبائی حکومت کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے ان کا حقیقت میں کوئی کام نہیں ہے۔ یونیورسٹی اجلاسوں اور کانووکیشنز میں شرکت ان کا واحد کام تھا جو وزیر اعلی نے ان سے لے لیا۔ انھوں نے اپنے لئے یہ مصروفیات ڈھونڈی ہے کہ ہفتے کے دو دن گورنر ہاؤس میں مختلف تنظیموں اور لوگوں سے ملاقاتیں کر کے فوٹو سیشنز کرتے ہیں۔ تین دن اسلام آباد میں یار دوستوں سے ملنے اور غمی خوشی کے لئے مختص ہیں جبکہ باقی دو دن کراچی یا پنجاب میں مزارات پر حاضری اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔
ہم اس تحریر کے ذریعے ان کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ پورے صوبے کا واحد ماڈل ادارہ جس کو توجہ دینا اور درست کرنا براہ راست آپ کا اختیار بلکہ ذمہ داری ہے۔ اور جو گورنر ہاؤس کے پڑوس میں واقع ہے اگر تمام حالات و معلومات کے بعد بھی آپ 8 مہینے گزرنے کے باوجود نہ مستقل پرنسپل تعینات کر سکتے ہیں نہ خراب حالات کا سد باب۔ تو باقی صوبے اور حالات کا اللہ ہی حافظ ہے۔

