کرم معاہدہ اور نیشنل ایکشن پلان
جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
بٹ نہ جائے تیرا بیمار مسیحاؤں میں
قتیل شفائی کا یہ شعر ہمارے سماج پر پورا اترتا ہے کیوں یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جب بھی اس مملکت خداداد میں جب بھی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے اس وقت کوئی نہ کوئی پلان یا معاہدہ کر کے متاثرین کی وقتی دادرسی کر دی جاتی ہے لیکن حقیقت میں رات گئی بات گئی والا سلسلہ چل پڑتا ہے اور پھر ایک کے بعد ایک سلسلہ در سلسلہ مختلف سانحات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن پھر بات وہی کہ ہم ماتم کناں ہو جاتے ہیں اور بڑی دھوم سے سوگ منا لیتے ہیں لیکن سانحات کے سدباب کے لیے کوئی عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں۔
ہم سے قاتل کا ٹھکانہ ڈھونڈا نہیں جاتا
ہم بڑی دھوم سے بس سوگ منا لیتے ہیں
ہم سانحہ مشرقی پاکستان ہو، سانحہ آرمی پبلک سکول ہو، سانحہ کرم ہو، اسی طرح قیام پاکستان سے لے کر آج 2025 کے آغاز تک کوئی سانحہ نہیں جس پر ہم نے سوگ منا کے کمیشن نہ بنایا ہو لیکن عمل درآمد سب کے سامنے۔ لیکن اگر یہی سوال اٹھایا جائے تو ہماری ریاست جس کا کردار دن بدن اک جلاد باپ جیسا ہوتا جا رہا ہے جو سوال اٹھانے پہ اپنی ہی اولاد کا سر قلم کرنے پہ آ جاتی ہے۔
بولوں اگر میں جھوٹ تو مر جائے گا ضمیر
کہہ دوں اگر میں سچ تو مجھے مار دیں گے لوگ
ان سانحات کی بنیادی وجہ ہمارے معاشرے میں مطلق العنانیت کی سوچ ہے جو ہر فرد اور ہر ادارے میں پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، مذہبی شدت پسندی و انتہاپسندی ہے جس کی آبیاری ضیاء الحق کے دور میں اک منظم سازش کے تحت پورے پاکستان میں اور خصوصاً کرم ایجنسی میں اس کی جغرافیائی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے کی گئی۔
2014 میں سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد پاکستان کے تمام سٹیک ہولڈرز نے باہمی ہم آہنگی سے نیشنل ایکشن پلان 2014 منظور کیا جس کے 20 نکات پر اتفاق رائے قائم کیا گیا۔
1۔ دہشتگردی کے واقعات میں ملوث گرہوں کو سزائے موت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
2۔ 2 سال کے لیے فوج کی قیادت میں سپیشل کورٹس کا قیام
3۔ اسلحہ بردار گروپوں کی ممانعت اور شدت پسند تنظیموں پر پابندی
4۔ نیکٹا کو مضبوط کرنا
5۔ اور فرقہ ورانہ اور مذہبی شدت پسندی سے آہنی ہاتھوں سے نبٹنا شامل تھا۔
اب ارباب اختیار سے میرا یہ سوال ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کہ دس برس بیت جانے کے بعد بھی اس پر عمل درآمد کیوں نہ ہو سکا۔ کرم ایجنسی کو دہشتگردوں اور اسلحے سے کیوں پاک نہ کیا جا سکا۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل طور پر عملدرآمد اسی وقت ممکن ہے جب تک ہم اپنے ملک کے سلامتی کے اداروں کے ہاتھ مضبوط نہیں کرتے اور ریاست ایک روشن خیال بیانیہ کی ابتدا نہیں کرتی اور سماج کی رواداری اور عدم برداشت کی تربیت نہیں کرتی اس وقت تمام باتیں لا حاصل ہیں۔
خون ناحق بہت پی چکی یہ زمیں
اب کوئی دن میں یہ خوں اُگلنے کو ہے
ختم ہو جائے گی یہ تماشا گری
وقت پلٹے گا روز جزا کی طرح

