شادی شدہ عورت کا نشہ


ایک تحقیق کے مطابق اگلے کچھ سالوں میں غیر شادی شدہ خواتین کی تعداد بڑھ جائے گی۔ وہ اپنی تعلیم کیرئیر اور ذاتی زندگی پہ فوکس کریں گی ایسی تحقیق کرنے والے مردوں پہ تحقیق کا حصہ ہی غائب کر دیتے ہیں۔ چلیں، اس تحقیق کو درست مان لیا تو ثابت ہوا کا شادی کا سارا نظام اصل میں معاشی نظام ہی ہے۔ وہ عورت چلا لے یا مرد چلا لے۔ مرد کو نظام چلانے کے لئے ساتھی کا اضافی لالچ دیا گیا ہے۔ عورت نظام چلاتی ہے تو یہ اضافت ختم ہو جاتی ہے۔ چاہے وہ شوہر رکھ کر گھر چلا رہی ہو۔ ایسے میں اگر تحقیق یہ ثابت کر رہی ہے کہ یہ کوئی جذباتی نظام زیست نہیں ہے تو اچھی بات ہے ایک نسل کو قربانی ہی دینا پڑے گی تو کیا ہوا؟ بڑی بڑی جنگوں میں عورتیں ہی ایسی قربانیاں دیتی آئیں ہیں۔ انہیں کے دم قدم سے سکون و گھر داری ہوتی ہے۔ مرد تو زمین پہ جنگ کا سامان رہا ہے جس کا کام عورت کو تحفظ او ر ضروریات زندگی فراہم کرنا ہے۔ اس سارے نظام میں نظام زیست و کائنات چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔

یہ سب خیالات یوں امنڈ آئے کہ آمنہ مفتی اور تحریم عظیم نے اپنے اپنے بلاگ میں شادی کے حوالے سے بات کی جس میں مجموعی نکتہ نظر یہی ہے کہ شادی کسی کی بھی ہو اس میں شادیانے والی بات نہیں ہے اس لیے اس کو شاد جیسے لفظ سے منسلک کر کے سنہری رشتے میں ٹانکا گیا ہے۔ اس میں شامل ہونے والے اور باہر رہ جانے والے دونوں قسم کے لوگوں کا خوشی سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے اس لئے جو خوش ہوتا ہے ان کو وہ اس لمحے اچھا نہیں لگ رہا ہوتا حالانکہ وہ خود بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی اس لمحے ایسے ہی خوش تھے۔ اب وہ لطیفہ یا چھیڑ بن گئے ہیں تو کیا ہوا؟ شادی شادی ہوتی ہے ایسا وہی سوچتے ہیں جس نے نبھانی ہوتی ہے جس نے نبھا کے عمر بیتا دی ہوتی ہے۔

لیکن ہم ابھی جس بڑی تعداد کو دیکھ رہے ہیں وہ ان مڈل ایچ طلاق یافتہ عورتوں کی ہے جن کو شوہر کی دی گئی طلاق یا خلع کے برس ہا برس بعد ساتھی کی کمی محسوس ہو رہی ہیں۔ مرد طلاق کے بعد جلد دوسری شادی کر لیتا ہے۔ عورت کے لئے شادی انا کا مسئلہ نہیں ہوتی۔ اسے تحفظ کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔

طلاق یافتہ خواتین ایک مرد کے ساتھ زندگی گزار چکی ہوتیں ہیں شادی اچھی نہ بھی چلی ہو مرد و عورت کو تجربہ کار کر دیتی ہے۔ شادی شدہ خواتین کو مرد کے کمزور نکتوں کا علم ہوتا ہے۔ مڈل ایج کی بڑھتی طلاق یافتہ تعداد اور یہ نکتہ جب سوشل میڈیا کے گلیمر سے ضرب کھاتا ہے تو یہ سب خواتین اپنے ہنر آخری بار ضرور آزما لیتی ہیں۔ غیر شادی شدہ یا ناتجربہ کار عورت کو یہ ہنر مندی نہیں آتی کہ وہ مرد کی کمزوری پہ پیر کیسے اور کب رکھے۔ شاید چند ہی سال میں ہمارے سامنے ایسے اعداد و شمار ہوں گے کہ ہنر مندی و تجربہ کاری کتنی ضروری اور اہم ہے۔

تو معاشرے میں اس وقت جو شادی شدہ اور غیر شادی شدہ معاشی مرد پہ جو جنگ لڑی جا رہی ہے وہ ان خواتین کی تجربہ کاری کی بنیاد پہ لڑی جا رہی ہے۔ ان کا ہارمونل سسٹم ایکٹو ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ بھی ان کی معاونت کرتا ہے۔ مرد کے ہارمونز کو ایکٹو کرنے کا ہنر بھی ان کو آتا ہے لہذا ان ماداؤں کو نر تلاشنا مشکل نہیں ہوتا کہ ان کو سب گر آ چکے ہوتے ہیں۔ ایسے میں معاشی نظام کی تقسیم کا رخ اپنی طرف موڑنا بھی ان کو خوب آ چکا ہو تا ہے۔ جذبات کا استعمال بھی یہ سیکھ چکی ہوتی ہیں جس بریک اور کلچ پہ ان کا پیر جوانی میں نہیں بیٹھتا تھا اب وہ پیر پریشر بریک پہ بھی استعمال ہونے لگتا ہے۔ خاندانی لفاظی بھی پہلے سسرال سے ہی سیکھ لی ہوتی ہے یوں پہلا سسرال ان کو دوسرا سسرال تلاشنے اور برتنے کا تجربہ دیتا ہے۔

تو جناب من یہ ان خواتین کا دور ہے جو اپنے پہلو میں ایک ناتجربہ کار شوہر کو تجربہ فراہم کر رہی ہوتیں ہیں۔ ان رشتوں کی لذت تو ہوتی ہے مٹھاس نہیں رہتی کہ ان کی بنیاد میں لالچ ہوتا ہے۔ یہ سماجی معاہدہ ہے اسے یونہی غیر جذباتی چلانے کی عمر بھی یہی ہوتی ہے۔ مڈل ایج میں والدین اپنے آخری سفر پہ جا رہے ہوتے ہیں۔ بہن بھائی اپنے گھروں میں مصروف ہوتے ہیں۔ جو عورت اپنے قدموں اور عزت پہ کھڑی نہیں ہوتی اس کے پاس یہی حل بچتا ہے کہ وہ اپنا سابقہ تجربہ استعمال کرتے ہوئے سلیقے سے اس دنیا میں اپنے رہنے کی جگہ بنا لے۔ اس میں کون کہاں مسلا جائے، کچلا جائے، اس کو اپنے سپرم کی طرح اس وقت یہ پرواہ نہیں ہوتی۔ اس وقت وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہوتی ہے جو عین فطری ہے مگر صرف اب یہ سوچیئے کہ بقا کی سفاک جنگ میں کتنے سپرم اپنی کمزوری سے کچلے جاتے ہیں

یہی حال اس بقا کی جنگ لڑتی خواتین نے معاشرے میں کر رکھا ہے ہر دوسرے گھر میں آپ کو، ہمیں ایک ایسی کہانی مل جاتی ہے کہ میاں بیوی کی اچھی بھلی زندگی چل رہی تھی، بیٹا اچھی بھلی نوکری پہ لگا ہی تھا، بھائی سے سہیلی کی اچانک ملاقات ہی تو تھی، فیس بک پہ محبت ہوئی تھی، انسٹا پہ تولے ماشے کا ریٹ ہی تو پوچھا تھا، ٹک ٹاک پہ ایک کاجل والی آنکھوں کی باپردہ فوٹو ہی تھا جس پہ دل آیا تھا اور معلوم ہوا ایک بے وفا، بے غیرت، بے حیا، کمینہ، غیر ذمہ دار انسان جوانی میں چھوڑ گیا تھا۔ اس نے طلاق دے دی تھی۔

چلیں اب ان سے پوچھیں ”اس بے وفا انسان کی دوسری شادی ہو گئی؟“ تو معلوم ہو گا بالکل ہو گئی اور اب تو اس فلاں ابن فلاں کمینے انسان کے اتنے بچے ہیں۔

سوچیں وہ اب بھی تو نبھا رہا ہے۔ اب آپ کہیں گے بلیم گیم شروع کر دی۔ جان من ہمت رکھیں ناں تصویر کا یہ رخ دیکھنے کی بھی ہمت رکھیں۔ اگر مرد کی طرف سے دوسری عورت اور شادی کی بات کرتے ہوئے ایک سچائی سامنے آ رہی ہے تو اس کے پس پشت بھی تو ایک عرصہ سے ایک سچائی ان کی ماں بنی ہوئی ہے۔

اس سارے قصے میں تین چار زندگیاں تباہ برباد کرنے میں ایسے نکمے مرد و عورت کئی سال لگا دیتے ہیں۔ سوتیلے بچوں کی تعداد بڑھاتے ہابیل قابیل اپنی شعلہ جوانی کو بچاتے بچاتے کئی یوسف و یہودا کی قیامت بچا کر جاتے ہیں۔ شادی شدہ کا ٹیگ لگانے کا سماجی دباؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ انسان طلاق یافتہ کا ٹیک لگا لیتا ہے۔

کیا اپ نے سوشل میڈیا پہ نوجوان اور ادھیڑ عمر مردوں کی ایسی ویڈیوز دیکھی ہیں؟ جن میں وہ شادی شدہ عورت کے نشے پہ بات کر رہے ہوتے ہیں۔ جن میں وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ وہ تو چار بچوں کی ماں پہ دل ہار چکے ہیں اسی کی طلاق کروا کے اس سے شادی کریں گے۔ اگر نہیں دیکھا تو جلد اس نشے کا لفظ اور آگ آپ کے گھر تک پہنچ سکتے ہیں کیونکہ یہ نشہ ہی ہے جیسا نشہ مردوں نے ایک وقت تک سماجی سازی میں کیا ہے۔ جس وجہ سے سماج آج یہاں تک پہنچا ہے۔ مکافات ہو گیا ہے آج شادی شدہ عورت کی چاک پہ ہے اور آپ کے گھر کی مٹی آگ پہ ہے۔
بس یہی کہنا بچ جائے گا ”او میں تو لٹ پٹ گیا“ ۔

ایسے مردو خواتین سے ہزار گنا بہتر وہ مرد و خواتین ہیں جنہوں نے شادی نہیں کی۔ اپنا معاشی، سماجی بوجھ خود اٹھایا۔ ان پہ بھی یہی سماجی دباؤ ہو گا۔ انہوں نے بھی یہی معاشی کمی برداشت کی ہو گی مگر اس سماجی دباؤ میں آ کر انہوں نے اپنی اور دوسری تین چار زندگیاں خراب نہیں کیں۔ وہ زیادہ بہادر اور ذمہ دار لوگ ہوئے ناں، جن کو یہ علم تھا کہ شادی ایک سماجی دباؤ ہے اگر اس کو سماج کو دکھانے کے لئے کرنا ہے تو اسے بہتر تنہائی کی پرواز ہے۔ ان کو علم تھا کہ شادی ایک معاشی برتاؤ ہے، وہ نہیں اٹھا سکتے تو کیا ہوا۔ تنہا تو رہ سکتے ہیں۔ کیا ان مردوں کو یہ نہیں کہا گیا ہو گا کہ عورت کے مقدر سے دولت آتی ہے؟ کیا بڑی عمر کے سب غیر شادی شدہ مرد نکمے اور غریب ہیں؟ کیا غیر شادی شدہ خواتین کھا کے نہیں سوتیں؟ یا ان کو جوتوں و کپڑوں کی کمی ہو جاتی ہے یا غذائی قلت کا سامنا ہوتا ہے؟

مرد آخر عمر میں پھر بھی ہار مان جاتا ہے کیونکہ عام طور پہ بھی مرد کے پاس پیسہ آ جائے تو وہ دوسری عورت کا ہی سوچتا ہے۔ ماں کی گود سے نکلنے کے بعد ، کمائی کی سوچ کے ساتھ ہی اس کے ذہن میں دوسری عورت ہوتی ہے۔ شادی تو پھر ایک شرلی پٹاخا ہے۔ لیکن عورت جس نے ایک بار تنہائی کاٹ لی ہو وہ نامناسب مرد کا نہیں سوچتی جب کہ وہ معاشی مستحکم بھی ہو۔

لیکن اس کے برعکس ایک بار شادی شدہ عورت بھی، شادی شدہ مرد کی طرح دوسری بار شادی کے بندھن میں آنا چاہتی ہے اور بجھتے دیے کی عمر میں اس کی عمر کا شعلہ ایک بار بھڑکتا اور ابھرتا ضرور ہے اور ایسے میں کسی کا بھی گھر زد میں آ سکتا ہے۔ لاس انجیلس کی آگ کی طرح ان شادی شدہ شعلوں کی تعداد نے معاشرے میں توازن کو خراب کیا ہوا ہے اسے یونہی آگ لگے گی تو نیا معاشرہ تشکیل پائے گا۔

آگ راکھ ہونے تک تو لگی رہتی ہے۔ سماج تشکیل ہونے تک تو کباڑ ہی ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS