افغانستان: سیاسی عدم استحکام، ترقیاتی منصوبے اور انسانی المیہ


افغانستان میں مسلسل اقتدار کے لیے جاری جنگ نے ملک کے عوام کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ اشرف غنی کے دورِ حکومت میں افغانستان کو معاشی سطح پر مضبوطی کی طرف گامزن کرنے کی کوشش کی گئی، اور مختلف ممالک کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا گیا۔ جس میں تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ شامل ہے جس کے شریک ممالک ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، اور بھارت تھے۔ دوسرا بڑا منصوبہ کاسا۔ 1000 منصوبہ تھا جس میں کرغیزستان، تاجکستان، افغانستان، اور پاکستان شامل تھے۔ تیسرا چابہار بندرگاہ منصوبہ تھا جس میں ایران، ہندوستان، اور افغانستان شریک تھے۔ چوتھے نمبر پر لاجسٹک اور ریلوے منصوبہ تھا، جس میں ایران اور افغانستان کے درمیان ریلوے کا منصوبہ شامل تھا۔ پانچواں علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ معاہدہ تھا، جبکہ چھٹے نمبر پر لَپِس لازُولی راہداری شامل تھی۔ ساتواں پانی کے ذخائر اور ڈیم منصوبے تھے۔

ان منصوبوں کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو روزگار ملا۔ تاہم، اشرف غنی کے دور میں اعضاء (خصوصاً گردوں ) کی غیر قانونی خرید و فروخت پر پابندی اس لیے نہیں لگائی جا سکی کیونکہ ملک معاشی طور پر اتنا مضبوط نہیں تھا۔ اشرف غنی کی حکومت کا موقف تھا کہ جب یہ مختلف منصوبے کامیاب ہو جائیں گے، تب ملک معاشی طور پر مضبوط ہو جائے گا، اور پھر ایسے مسائل کے حل کے لیے ایک موثر لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ لیکن اس دوران افغانستان میں طالبان قابض ہو گئے۔ پھر تقریباً تمام ترقیاتی منصوبوں پر کام روک دیا گیا، جس کی وجہ سے عوام مزید بے روزگار ہو گئے۔

2021 میں انڈیپنڈنٹ اردو نے بھی اس سنگین مسئلے کو رپورٹ کیا۔ ایران کی سرحد کے قریب واقع شہر ہرات کے رہائشی نورالدین نے بتایا کہ مجھے اپنے بچوں کی خاطر یہ قدم اٹھانا پڑا کیونکہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ نورالدین کا کہنا ہے کہ طالبان کی حکومت آنے کے بعد افغانستان میں بے روزگاری میں شدت آ گئی کیونکہ بیرونی ممالک سے آنے والی امداد جو افغانستان کے لیے کچھ سہارا تھی، بند ہو گئی۔ نورالدین نے بتایا، میں ایک فیکٹری میں کام کر رہا تھا لیکن جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کر لیا تو میری تنخواہ میں فوراً 3,000 افغانی (تقریباً 30 سے 40 ڈالر) تک کمی کر دی گئی۔ اس کمی کی وجہ سے مجھے فیکٹری کا کام چھوڑنا پڑا، اور اچھی نوکری کی تلاش میں ایسی نہج پر پہنچ گیا کہ بچوں کے پیٹ کی خاطر اپنا ایک گردہ بیچ دیا، جو انسانیت کے لیے شرم کا مقام ہے۔ ”

19 سالہ شکیلہ، جو دو بچوں کی ماں ہے، کہتی ہے کہ خاندان پر قرضے کی وجہ سے اس نے اپنا ایک گردہ 1,500 ڈالر میں فروخت کر دیا۔ طالبان حکومت ملک کے معاشی حالات کو بہتر بنانے کے بجائے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں لگانے میں مصروف نظر آتی ہے۔

افغانستان میں آج کل ایک گردے کی قیمت 1,500 ڈالر سے 2,000 ڈالر کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔ پہلے افغانستان کے شہر ہرات میں لوگ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے گردے بیچ رہے تھے، جس کی وجہ سے ہرات کو ”ایک گردے والوں کا گاؤں“ کہا جانے لگا۔ سال 2024 کے اختتام پر افغانستان کے پورے ملک میں گردوں کی خرید و فروخت کی خبریں رپورٹ ہو رہی ہیں۔ ایک طرف کمزور معاشی حالات، اور دوسری طرف ایسے اقدامات ہیں جو ملک کو مزید نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

اب یہاں اگر دیکھا جائے ایک طرف تو لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں اور دوسری طرف غیر شرعی جو اسلام میں بالکل اجازت نہیں کہ آپ اپنے اعضاء بیچ دو کیونکہ یہ آپ کے اعضاء آپ کے نہیں بلکہ یہ رب کائنات کے امانت ہے رب کے امانت میں خیانت کے بارے میں ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس کی سزا کتنی زیادہ ہوگی۔ افغان طالبان تو شرعی حکومت کے دعویدار ہیں لیکن کبھی کرسی پر فائز سربراہ نے بھوکا رہ کر حضرت عمر کی یاد تازہ کرتے لیکن نہیں بس شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں ہم اس سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انسانی اعضاء کی خریداری میں پہلے سے بہت اضافہ ہو چکا ہے۔

افغان عوام، خاص طور پر کمزور طبقات، شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں، یہاں تک کہ اپنے اعضاء بیچنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ہرات جیسے شہروں کو ”گردے والوں کے گاؤں“ کا نام ملنا معاشرتی تباہی کی نشاندہی کرتا ہے۔ طالبان حکومت نے ملک کے معاشی مسائل کے حل پر توجہ دینے کے بجائے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس سے سماجی ترقی مزید رک گئی ہے۔

تاہم، طالبان کی شرعی حکومت کے دعوے کے باوجود، عملی اقدامات کی کمی نے عوام کو مزید مایوسی میں دھکیل دیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے مثالی حکمرانوں کے اصولوں کو فراموش کرتے ہوئے موجودہ قیادت شاہانہ طرزِ زندگی اپنائے ہوئے ہے، جس سے عوام کے مسائل مزید بڑھ گئے ہیں۔

یہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغانستان میں معاشی بہتری کے لیے فوری اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو بے روزگاری، غربت، اور غیر انسانی رویوں جیسے مسائل سے نجات دلائی جا سکے۔

Facebook Comments HS