ہمارے دو محبوب شاعر: ظفر زیدی اور مصطفیٰ زیدی


خالد سہیل کا خط

قبلہ و کعبہ حامد یزدانی صاحب

جب ہم دونوں مل کر اپنی کتاب ”مشترکہ محبوبہ“ مرتب کر رہے تھے تو مجھے یہ جان کر خوشگوار حیرت اور مسرت ہو رہی تھی کہ ہم نے مل کر جو ادبی کام کیا ہے اس میں خطوط ’کالم اور انٹرویو سبھی شامل ہیں۔ اس کتاب نے مجھے یہ تحریک دی کہ میں آپ کے ساتھ ادبی محبت ناموں کا سلسلہ جاری رکھوں تا کہ آپ کی ادبی لیاقت و ریاضت و ظرافت کا بھی تخلیقی اظہار ہوتا رہے اور آپ کے پرستار بھی آپ کے ادب پاروں اور فن پاروں سے محظوظ و مسحور ہوتے رہیں۔

چند دن پیشتر ایک صبح مجھے اپنے ڈرامہ نگار دوست جاوید دانش کا غیر متوقع فون آیا۔ کہنے لگے ”اگر آپ کی اجازت ہو تو میں آپ کا فون نمبر ریحانہ زیدی کو دے دوں؟ وہ رضا زیدی کی بیگم اور مشہور شاعر ظفر زیدی کی بھابی ہیں۔ وہ آپ سے کچھ مشورہ کرنا چاہتی ہیں۔“ میں نے کہا کہ ضرور دے دیں۔
ریحانہ زیدی کا فون آیا تو کہنے لگیں ”میرے شوہر فوت ہو گئے ہیں اور میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔“ میں اس شام ان سے ملنے گیا تو وہ سیاہ قمیص شلوار اور دوپٹہ پہنے سوگ منا رہی تھیں۔ میں نے جب ان سے پوچھا کہ ہماری ملاقات کب اور کہاں ہوئی تھی تو کہنے لگیں کہ آج سے پچیس برس پیشتر جاوید دانش کے ہاں ایک دعوت میں ملاقات ہوئی تھی اور میں آپ کی ہمدرد طبیعت سے متاثر ہوئی تھی اس لیے جب میں دکھی ہوئی تو آپ سے مشورے کا خیال آیا۔

مشورے کے بعد میں نے انہیں بتایا کہ میں ظفر زیدی کی شاعری کا مداح ہوں۔ میں نے ان کے بارے میں ایک مضمون بھی لکھا تھا جو ’ہم سب‘ پر شائع بھی ہوا تھا۔ ہم ابھی گفتگو کر ہی رہے تھے کہ رضا زیدی کے بھائی فرخ زیدی تشریف لے آئے اور انہوں نے مجھے ظفر زیدی کے حوالے سے مرتب کردہ کتاب ”اک شجر ایسا“ تحفے کے طور پر دی۔ اس کتاب میں ظفر زیدی کی شاعری کے علاوہ ان کی ڈائری کے اوراق اور ادیب دوستوں کے مقالے بھی شامل ہیں۔ کتاب کا نام ظفر زیدی کے مشہور شعر سے لیا گیا ہے جو کچھ یوں ہے

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
جس کا ہمسایے کے آنگن میں بھی سایا جائے

میں نے فرخ زیدی کو بتایا کہ میں خود تو کبھی ظفر زیدی سے نہیں ملا لیکن جو ادیب دوست ان سے ملے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ بھی ایک درویش منش انسان تھے اور میری طرح اپنے کندھے پر ایک بیگ لیے پھرتے تھے اور درویش کی اس زنبیل میں اپنے اشعار بھی اور اپنے پسندیدہ شاعروں کے پسندیدہ اشعار بھی پرچیوں پر لکھ کر ڈال دیتے تھے۔ چونکہ وہ ان کاغذوں پر اپنا نام نہیں لکھتے تھے اس لیے بعض دفعہ یہ جاننا مشکل ہو جاتا تھا کہ یہ ان کا اپنا شعر ہے یا کسی اور کا۔

حامد یزدانی صاحب

اگر آپ نے ظفر زیدی کی شاعری نہیں پڑھی تو اب ضرور پڑھیں وہ ایک اچھے شاعر ہی نہیں ایک ہمدرد اور فراخ دل انسان بھی تھے۔ جب ان کی بڑی بہن کو گردے کی ضرورت پڑی تو انہوں نے اپنا گردہ تحفے کے طور پر اپنی بہن کو پیش کیا۔ اس آپریشن سے ان کی بہن کی جان تو بچ گئی لیکن وہ خود کومپلیکیشنز سے اتنے بیمار ہوئے کہ فوت ہو گئے۔

ظفر زیدی کی شاعری میں موت کے حوالے سے کئی نادر اشعار اور نظمیں موجود ہیں۔ میں صرف ایک شعر اور ایک مختصر نظم پیش کرتا ہوں تا کہ آپ کو ان کی سوچ اور فکر کی انفرادیت کا اندازہ ہو۔ فرماتے ہیں

میں آج مرتا کہ دو چار دس مہینے بعد
یہ سانحہ تو بہر حال ہونے والا تھا

نظم

مجھے ایسے لگ رہا ہے
کہ تم اب مر رہے ہو
دیکھو
میز پر جلتی ہوئی
موم بتی بجھا دو
کہیں ایسا نہ ہو
کہ تم مر جاؤ
اور یہ موم بتی
جلتی رہ جائے

ظفر زیدی کے حوالے سے مرتبہ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ اس میں غلطی سے ایک قطعہ ایسا بھی چھپ گیا ہے جو ظفر زیدی کا نہیں بلکہ مصطفیٰ زیدی کا ہے جو کچھ یوں ہے

لمبی چوڑی سڑک کے دامن میں
قمقمے سہمے سہمے جلتے ہیں
جیسے اکثر بڑے گھرانوں میں
فاقہ کش رشتہ دار پلتے ہیں

یہ قطعہ پڑھ کر مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ مصطفیٰ زیدی میرے ہی نہیں ظفر زیدی کے بھی پسندیدہ شاعر تھے ورنہ وہ ان کا قطعہ کسی پرچی پر لکھ کر اپنے بیگ میں نہ رکھتے۔

حامد یزدانی صاحب

مصطفیٰ زیدی کی شاعری اور خودکشی کے بارے میں بھی میں نے ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا جو ’ہم سب‘ میں چھپا تھا۔ میں سمجھتا ہوں مصطفیٰ زیدی اردو کے ایک منفرد شاعر تھے۔ میں یہاں ان کی انفرادیت کی صرف دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔

عورت اور مذہب

مصطفیٰ زیدی کے عورت اور مذہب کے بارے میں خیالات تصورات اور نظریات اردو کے روایتی شاعروں سے بہت مختلف تھے۔ اردو کے روایتی شاعر جب عشق کی بات کرتے ہیں تو ابہام رہتا ہے کہ وہ عشق مجازی ہے یا حقیقی۔ عشق مجازی ہے تو وہ کسی مرد سے ہے یا عورت سے کیونکہ وہ مذکر کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اردو کے روایتی شاعر کا محبوب یا محبوبہ ایک خیالی محبوب ہوتا ہے۔ اس کی محبوبہ ایک فینٹسی ہوتی ہے جس کا حقیقت کی دنیا سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ اردو شاعر خیالوں کی دنیا میں محبوبہ کے عشوہ و غمزہ و انداز و ادا سے اٹکھیلیاں کرتا ہے، ہجر کے دکھے سہتا ہے اور مرنے کے بعد محبوبہ کی گلی میں دفن ہونے کی تمنا رکھتا ہے۔ اردو شاعر کا المیہ یہ بھی ہے کہ اس کی محبوبہ اس کی شریک حیات نہیں بنتی اور اس کی بیوی اس کی محبوبہ نہیں ہوتی۔

اس کے مقابلے میں مصطفیٰ زیدی کی محبوبہ ایک گوشت پوست کی انسان تھی۔ جس کا نام شہناز گل تھا۔ مصطفیٰ زیدی کے دیوان ’کوہ ندا‘ اور ان کی کلیات میں شہناز گل کے نام سے کئی نظمیں چھپ چکی ہیں۔ میں ان نظموں میں سے صرف تین اشعار پیش کرتا ہوں تا کہ آپ ان کی رومانوی شاعری کا ذائقہ چکھ سکیں۔ فرماتے ہیں

فنکار خود نہ تھی میرے فن کی شریک تھی
وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی

اس پہ کھلا تھا باب حیا کا ورق ورق
بستر کی ایک ایک شکن کی شریک تھی

دنیا میں ایک سال کی مدت کا قرب تھا
دل میں کئی ہزار قرن کی شریک تھی

اردو کے روایتی شاعر خدا اور مذہب کے بارے میں بھی روایتی باتیں کرتے ہیں۔ میر تقی میر نے بغاوت کی تو کہہ دیا

میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

مصطفیٰ زیدی جب مذہب اور خدا کے بارے میں نظمیں لکھتے ہیں تو ان میں نفسیاتی سماجی اور فلسفیانہ پہلوؤں کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ ان کی نظم ’کوہ ندا‘ کے دو بند حاضر خدمت ہیں

ایہا الناس چلو کوہ ندا کی جانب
ہر طرف ایک ہی انداز سے دن ڈھلتے ہیں
لوگ ہر شہر میں سائے کی طرح چلتے ہیں
اجنبی خوف کو سینوں میں چھپائے ہوئے لوگ
اپنے آسیب کے تابوت اٹھائے ہوئے لوگ
ذات کے کرب میں، بازار کی رسوائی میں
تم بھی شامل ہو اس انبوہ کی تنہائی میں
تم بھی اک بادیہ پیما ہو خلا کی جانب
رات بھر جاگتے رہتے ہیں دکانوں کے چراغ
دل وہ سنسان جزیرہ کہ بجھا رہتا ہے

لیکن اس بند جزیرے کے ہر اک گوشے میں
ذات کا باب طلسمات کھلا رہتا ہے
اپنی ہی ذات میں پستی کے کھنڈر ملتے ہیں
اپنی ہی ذات میں اک کوہ ندا رہتا ہے
صرف اس کوہ کے دامن میں میسر ہے نجات
آدمی ورنہ عناصر میں گھرا رہتا ہے
اور پھر ان سے بھی گھبرا کے اٹھاتا ہے نظر
اپنے مذہب کی طرف اپنے خدا کی جانب
ایہا الناس چلو کوہ ندا کی جانب

مصطفیٰ زیدی کی یہ خوبصورت اور پرمغز نظم پڑھ کر مجھے اپنا ایک شعر یاد آ گیا آپ بھی سن لیں

میں اپنی ذات کی گہرائیوں میں جب اترتا ہوں
اندھیروں کے سفر میں روشنی محسوس کرتا ہوں

میرا خیال ہے مصطفیٰ زیدی کا اشارہ بھی اسی داخلی روشنی کی طرف تھا۔
مصطفیٰ زیدی کی آواز اردو کے باقی شعرا سے جداگانہ آواز ہے۔ ان کا لہجہ بھی جداگانہ ہے اور انداز اظہار بھی جداگانہ ہے۔ مصطفیٰ زیدی اپنی زندگی میں تو مقبول نہ ہوئے لیکن مرنے کے بعد شہناز گل کے سکینڈل اور عابدہ پروین کی گائی ہوئی غزل

کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی
مضبوط کشتیوں کو کنارا نہیں ملا

کی وجہ سے مشہور ہو گئے۔ بدقسمتی سے میرے دونوں محبوب شاعر جوانی میں فوت ہو گئے۔ اس حوالے سے مصطفیٰ زیدی کا یہ شعر یاد آ رہا ہے

اب جی حدود سود و زیاں سے گزر گیا
اچھا وہی رہا جو جوانی میں مر گیا

حامد یزدانی صاحب!

میں نے آپ کو اپنے دو محبوب شاعروں کی باتیں سنا دیں۔ اب آپ مجھے بتائیں کہ آپ کا اردو کا پسندیدہ شاعر کون اور کیوں ہے؟

آپ کا مداح
خالد سہیل
جنوری دو ہزار پچیس

حامد یزدانی کا جوابی خط

! محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب
آداب و تسلیمات

آپ کی عنایتِ مسلسل ہے کہ آپ اپنے پسندیدہ موضوعات اور شخصیات پر لکھتے ہوئے اپنے اس مداح کو بھی یاد رکھتے ہیں اور محبت سے دعوت تبصرہ و مکالمہ بھی دیتے ہیں۔ اِس بار آپ نے اپنے دو محبوب شعرا پر قلم اٹھایا ہے اور پھر مجھ سے میرے پسندیدہ اردو شاعر کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ بہت نوازش۔

میرا پسندیدہ شاعر کون ہے؟ اس ذکر سے پہلے کیوں نہ یہ بتا دوں کہ آپ کے یہ دو پسندیدہ شاعر جو دونوں اتفاق سے ’زیدی‘ ہیں مجھے بھی اچھے لگتے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ ظفر زیدی صاحب کا شعر جس کا آپ نے حوالہ بھی دیا ہے اور جس سے دوسری کتاب کا نام بھی اخذ کیا گیا ہے :

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

برسوں پہلے میری نگاہ و سماعت سے گزرا تھا اور پھر ویب سائٹ ’ریختہ‘ پر ان کا شعری مجموعہ ’زخم زخم اجالا‘ پڑھنے کا بھی موقع ملا اور ’ہم سب‘ پر ظفر زیدی صاحب کے بارے میں آپ کا مضمون بھی جس کی مدد سے ان کی شخصیت اور شاعری کے اہم پہلووں سے کچھ نہ کچھ آشنائی ممکن ہو گئی۔ براہِ راست ملاقات تو خیر میری بھی ان سے کبھی نہ ہو سکی۔ بس یہی حرف کے وسیلہ سے تعارف کی صورت بنی جس پر میں اپنے تئیں بہت خوش ہوں۔ ان کی شاعری اور ان پر مضامین پر مشتمل جو کتاب ”اک شجر ایسا“ سامنے آئی ہے اسے سرسری ہی دیکھا ہے۔ اس میں ان کی شاعری اور توصیفی مضامین ملے جلے ہیں۔ اور ان پر لکھنے والوں میں کئی بڑی ادبی شخصیات بھی شامل ہیں۔ جیسے شمس الرحمٰن فاروقی، محمد علی صدیقی، ڈاکٹر انیس اشفاق، شان الحق حقی، افتخار عارف اور کئی دیگر۔

ان کا مجموعہ پڑھتے ہوئے جو اشعار اُس وقت کی میری کیفیت کو بھائے انھیں میں نے لکھ تو لیا تھا مگر افسوس، وہ مکمل انتخاب اس وقت سامنے نہیں۔ تاہم مجموعی احساس اور تاثر جو قلب و ذہن پر نقش ہوا وہ یہی تھا کہ یہ ایک حساس و فراخ دل و دماغ رکھنے والے باصلاحیت تخلیق کار کی سخن کاری ہے جس کے ہاں فکر کا گداز بھی ہے اور اظہار کی ندرت بھی۔ ایک ایسی ندرت جو روایتی صنائع بدائع کی بوجھل آرائش سے بے پروا ہوا کے ایک تازہ مگر مہکتے ہوئے جھونکے کی طرح، قطعی فطری انداز میں، قاری کے دل کے تار چُھو کر گزر جاتی ہے۔ اُن کے موضوعات میں جیسا کہ آپ نے بھی اشارہ کیا جہاں تنہائی، موت اور یک گونا اداسی نمایاں ہے وہاں انسان کے زمینی رشتوں کی اہمیت بھی بہت روشن ہے۔ ان کے ہاں موضوعات کا تنوع کتنا شان دار ہے! مثلاً یہ چند اشعار دیکھیے

تمھیں بھی روز کہانی وہی سنانی ہے
مجھے بھی خواب کوئی دوسرا نہیں ملتا
اور کچھ دیر اسے روند کے خوش ہو جاؤں
آنکھ کھلتے ہی یہ سورج مِرے سر پر ہو گا
ہلکی سی بوچھار نے سارے نقش مٹا ڈالے
رنگ ہماری تصویروں کا کتنا کچا تھا

ہم دیکھتے ہیں کہ روایتی تغزل سے دامن کشی کے باوصف ان کے ہاں غزل کے کیسے کیسے عمدہ اشعار دمک رہے ہیں۔ وہ باہر کے موسموں کو اپنے اندر کے موسم کی کسوٹی پر پرکھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی نظموں غزلوں میں رچا بسا جذب و کیف کا کمال بھی ہمیں مسحور کر دیتا ہے۔

گزشتہ برس ظفر زیدی صاحب کی یاد میں منعقدہ محفل مشاعرہ کا دعوت نامہ ممتاز شاعرہ حمیرا رحمان صاحبہ کے توسط سے ملا تھا مگر اچانک درپیش آ جانے والی ایک نجی مجبوری کے باعث میں چاہتے ہوئے بھی اس میں شرکت سے محروم رہا جس کا مجھے افسوس ہے۔

ڈاکٹر صاحب

جہاں تک آپ کے دوسرے محبوب شاعر جناب مصطفیٰ زیدی کا تعلق ہے تو ان کی شخصیت اور شاعری سے اردو دنیا میں کون واقف نہ ہو گا! میری خوش بختی یہ ہے کہ مجھے بھی آپ کی طرح ایک علم دوست ادبی گھرانے کی فضاؤں میں سانس لینے کا اعزاز حاصل ہے۔ چناں چہ ناموں کی حد تک تو اردو کے لگ بھگ سبھی قابلِ ذکر شعرا و ادبا سے تعارف بچپن اور لڑکپن ہی میں ہو گیا تھا مگر کلاسیکی اساتذہ کے بعد جن شعرا کو شوق سے اور ’مکمل‘ طور سے پڑھا ان میں اقبال کے ساتھ ساتھ جوش، ن۔ م۔ راشد، میرا جی، مجید امجد، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی اور مصطفیٰ زیدی شامل ہیں۔ یہ سبھی شعرا اپنے اپنے انداز میں متاثر کرتے ہیں۔ ان کے فنی محاسن پر بات کرنے کی مجھے تاب نہیں۔ ہاں، ایک ذاتی سا واقعہ آپ کو سنا دیتا ہوں۔ والد صاحب کے ایک دیرینہ شاعر دوست تھے طفیل ہوشیار پوری صاحب۔ یہ دونوں دوست مل کر مدتوں ایک ادبی جریدہ لاہور سے شائع کرتے رہے جس کا نام ”محفل“ تھا۔ خیر، تو میں اپنے بھائیوں کے ساتھ والد صاحب سے ملنے اس رسالہ کے دفتر اکثر جایا کرتا تھا۔ طفیل صاحب کو ہم ’تایا جی‘ کہا کرتے تھے۔ تایا جی کو جب خبر ہوئی کہ میں بھی شعر کہنے لگا ہوں تو انھوں نے مجھے اپنے پاس بلایا اور بڑے پیار سے سمجھانے لگے کہ مجھے ابھی اپنی پوری توجہ رسمی تعلیم پر صرف کرنا چاہیے اور یہ کہ ’شاعری واعری‘ کا شوق پورا کرنے کو تو عمر پڑی ہے۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے دکھ بھرے لہجہ میں بولے ”سچ پوچھو تو اِس معاشرہ میں شاعر کا مقام ہی کیا ہے! کوئی عزت نہیں اس کی۔“ میں ادب سے خاموش کھڑا تھا۔ پھر اچانک وہ جوش سے بولے ”دیکھو، بیٹا۔ اگر شاعر بننا ہی ہے تو عام شاعروں جیسے نہ بننا۔ مصطفیٰ زیدی جیسے بننا۔ مصطفیٰ زیدی جیسے۔“

میری زیدی صاحب کی شاعری سے شناسائی تو تھی مگر تایا جی کے شعری اسلوب اور مصطفیٰ زیدی کی شاعری کے انداز میں بُعد کے باعث مجھے فوری سمجھ نہ آیا کہ وہ انھیں میرا آئیڈیل بنانے پر کیوں تُلے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا وہ خود ہی گویا ہوئے ”مصطفیٰ زیدی نے اس معاشرہ میں اپنا مقام بنایا اور میں دیکھتا تھا کہ وہ مشاعرے میں آتے تو سبھی ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے اور واپسی پر انھیں کار تک چھوڑنے جاتے تھے۔ عام شاعروں کو تو اچھے مشاعروں میں شرکت کے لیے سفارشیں کروانا پڑتی ہیں۔“

تایاجی سماجی مرتبہ اور تخلیق کار کے تعلق پر جو بات مجھے سمجھانا چاہتے تھے وہ اس وقت تو میرے پلے نہ پڑی مگر بعد میں جب زندگی کے حقائق سے سابقہ پڑا تو ان کا مطلب کھلنے لگا۔ ویسے ان کی نثر میں بھی جابہ جا اس المیہ کا احساس ابھرتا ہے کہ سرکاری ملازمت اور تخلیقی ذہن کی آپس میں کچھ بنتی نہیں۔ میرے بعض شاعر دوست مصطفیٰ زیدی کے لیے بھی مرتضیٰ برلاس کا یہ مصرع ازراہِ تفنن پڑھا کرتے تھے :

شاعروں میں افسر ہیں، افسروں میں شاعر ہیں

ڈاکٹر صاحب

آپ نے مصطفیٰ زیدی صاحب کی شاعری کی خصوصیات کی جانب بھرپور اور بلیغ اشارے کیے ہیں۔ ان کی نظمیں غزلیں بھی روایتی اردو شاعری میں تربیت کے باوصف جدید موضوعات اور تازہ طرزِ اظہار اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں۔ اور پھر انھوں محبوب کا تصور جو ابتدا سے ’محجوب‘ چلا آ رہا تھا اُسے بے نقاب کر کے ایک جیتے جاگتے انسان کی طرح مخاطب کرنے کی رسم کو آگے بڑھایا۔ اور محبوب کی صنف کا اعلان کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کی۔ بے باکی کا یہ چلن اردو غزل میں پہلے اس طرح رائج نہ تھا۔ مگر پھر بعد میں اسے خوب پذیرائی ملی۔ مصطفیٰ زیدی صاحب کی شاعری سے کیا کیا عمدہ اور پرتاثیر سنجیدہ حوالے آپ نے اپنے خط میں دیے ہیں۔ واہ۔ واہ۔ واہ۔

یہاں میں تحریر کا ’ذائقہ‘ بدلنے کے لیے ازراہِ تفنن اپنے لڑکپن کا ایک واقعہ سنانا چاہتا ہوں۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے دنوں کی بات ہے۔ میں سالِ اول کا طلب علم تھا۔ سردی کا موسم تھا۔ پروفیسر سلیم اختر صاحب (جو ابھی ڈاکٹر نہیں ہوئے تھے ) کا اردو کا پیریڈ ختم ہوا تو میں انگلش ڈیپارٹمنٹ کے باہر دھوپ میں کھڑے ان طلبہ کے ساتھ جا شامل ہوا جو انگریزی کے پروفیسر اور فکاہیہ کالم نگار مظفر بخاری صاحب کو گھیرے ہوئے تھے۔ کسی نے ان سے اردو کے پسندیدہ شاعر کا پوچھا تھا۔ اور پروفیسر صاحب کچھ صاف جواب دینے کے بجائے بات کو بس ”گھمائے“ جا رہے تھے۔ جس پر ایک دوسرے طالب علم نے انھیں مصطفیٰ زیدی کا یہ شعر سنایا:

انھی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مِرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

اور پوچھنے لگا کہ اس تازہ تر اور خوب صورت شعر کا خالق یعنی مصطفیٰ زیدی کیا اردو کا سب سے اہم جدید شاعر نہیں ہے؟ یہ واضح سا سوال سن کر پروفیسر صاحب لمحہ بھر تو خاموش رہے پھر مسکراتے ہوئے بولے :

مصطفیٰ زیدی اردو کا سب سے اہم شاعر ہے یا نہیں اس پر فتویٰ دینا میرا کام نہیں۔ مگر تم نے اس شعر کا حوالہ دیا ہے تو چلو سردست اسی پر بات کرلیتے ہیں۔ تمھیں پتھروں کے مقابلہ میں کہکشاں پر محبوب کا پاؤں دھرنا بہت حسیں تصور لگ رہا ہو گا۔ ہے نا؟ تو عزیزانِ من! ڈکشنری ہمیں بتاتی ہے کہ لفظ کہکشاں دراصل ’کاہ کشاں‘ ہی کی ایک صورت ہے اور آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ دو الفاظ کا مرکب ہے۔ یعنی ’کاہ‘ اور ’کشاں‘ ۔ ”ہم سب دل چسپی سے پروفیسر صاحب کی بات سن رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے ’کاہ‘ گھاس کا تنکہ اے بلیڈ آف گراس ہوا اور ’کشاں‘ فارسی میں کھینچنے کو کہتے ہیں جسے انگریزی میں آپ پُل کرنا کہیں گے۔ تو جناب! گھاس کو بزور زمین سے اکھاڑنے پر جو مٹی گارے کے چھینٹے اُڑ کر یہاں وہاں بکھر جاتے ہیں اسی کی مناسبت سے آسمان پر بے ترتیب بکھرے ان ستاروں کے منظر کو ’کاہ کشاں‘ سے تعبیر کر دیا گیا۔“ ہم طلبہ اب آنکھیں جھپکا رہے تھے۔ پروفیسر صاحب نے اپنی آنکھوں میں کھیلتی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی بات جاری رکھی ”تو عزیزانِ من! شاعر اپنی محبوبہ سے کہہ یہ رہا ہے اگر اس کا بس چلتا تو وہ اسے پتھروں کے بجائے کیچڑ بھرے راستے سے آنے کی دعوت دیتا۔ تو یہ کیسا پیار ہوا؟ اب تم خود ہی سوچو۔ میں تو چلا۔ میری تو کلاس کا وقت ہو گیا ہے۔“ پروفیسر صاحب نے نیم قہقہہ بلند کیا تھا اور اسٹیٹ افسر کے دفتر کے پاس سے اوپر جاتی سیڑھیوں کے طرف قدم بڑھا دیے۔ ہمارا قہقہہ بلند ہونے میں چند سیکنڈ اور لگے تھے۔

ڈاکٹر صاحب

زمانۂ طالب علمی کا یہ پرمزاح واقعہ سنانے کا مقصد آپ کے اور ہزاروں شائقینِ ادب کے محبوب شاعر کی اہمیت کو کم کرنا ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ بتانا ہے کہ اس زمانے میں بھی جہاں ادب کے طالب علم مصطفیٰ زیدی کی شاعری کے مداح تھے وہاں اساتذہ بھی ان کے اشعار سے اپنے اپنے ذوق کے مطابق حظ اٹھا رہے تھے۔ جہاں سنجیدہ تحقیقی و تنقیدی اذہان ان کی شعری پرتوں اور خصائص پر کام کر رہے تھے وہیں طنز و مزاح کے رسیا قلم کار ان کی شخصیت کی انفرادیت اور اشعار کی معنویت پر تبصرے کر رہے تھے۔ پاک ٹی ہاؤس میں حلقہ ارباب ذوق کا اجلاس ہو یا ’فنون‘ و ’ماہِ نو‘ کے دفاتر میں غیر رسمی ادبی گفتگو، ریڈیو پاکستان ہو یا پی ٹی وی، اورینٹل کالج ہو یا گورنمنٹ کالج ہر علمی ادبی مرکز میں ان کی شاعری اور شخصیت پر بات ہوتی تھی۔ گویا وہ اس عہد میں زیرِ بحث آنے والی ایک اہم ادبی شخصیت تھے۔

’ریستوران‘ ، ’آخری بار ملو‘ ، ’آواز کے سائے‘ اور ’رات سنسان ہے‘ جیسی خوب صورت نظموں سے ہٹ کر ان کی کچھ غزلیں جو گائی بھی گئیں انھیں بہت شہرت حاصل ہوئی۔ جیسے :

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
ہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ
کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے
غم دل مِرے رفیقو، غم رائگاں نہیں ہے
آندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملا
دل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملا
جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی
مدتوں اپنے بدن سے تِری خوشبو آئی

ڈاکٹر خالد سہیل صاحب

آپ کے پسندیدہ دو شاعروں کے حوالہ سے آپ کے ادبی محبت نامے کا ایک ’قلم برداشتہ‘ جواب تو میں نے قلمبند کر دیا ہے مگر اس میں آپ کے اس سوال کا جواب تو دے ہی نہیں سکا کہ اردو شعرا میں میرا پسندیدہ شاعر کون ہے؟

چلیے، اس کا ذکر اگلے خط پر اُٹھا رکھتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟

آپ کا دوست
حامد یزدانی
گیارہ جنوری سن دو ہزار پچیس

Facebook Comments HS