ایک سفید جھوٹ: پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش سے ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان


ہم پاکستانی عجیب قوم ہیں۔ جس شاخ پر بیٹھتے ہیں اسے ہی کاٹنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

کم ہی بچے ایسے ہوتے ہیں جو ماں سے نفرت کریں۔ اگر ماں کی کسی بات سے اختلاف ہو یا بری لگتی ہو تو گھر کی چہار دیواری میں شور بھی مچا لیں گے۔ بحث اور بدتمیزی بھی کر لیں گے لیکن گھر کے باہر چوک یا محلے میں جاکر ماں کی برائیاں نہیں کریں گے۔ پاکستان بھی ماں جیسی ہی ہے چاہے ہم اس سے خوش ہوں یا نہ ہوں۔ چاہے وہ سگی ہوتے ہوئے بھی سوتیلی جیسا سلوک کرے۔ دوسرے بھائی یا بہن سے زیادہ پیار کرے اور ہمیں کم۔ پھر بھی اقدار کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ ماں کی برائیاں / کوتاہیاں یا اختلاف سرعام یا تو نہ آئے یا کم سے کم آئے۔ لیکن کیا کسی کو دیکھا ہے جو ماں کی سرعام برائیاں کرے اور وہ بھی جو اس میں موجود ہی نہ ہوں یا ماں کے دشمن کسی رشتے دار نے پھیلائی ہوں (یعنی ماضی کا لفظ سفید جھوٹ اور آج کی فیک نیوز ہوں ) ۔

موضوع کا عنوان بھی محض ایک سفید جھوٹ ہے یا زیادہ سے زیادہ آدھا سچ۔

سب سے پہلے تو اس دعوی کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں جس کی رو سے سال 2024 میں خود ریاست پاکستان کی طرف سے انٹرنیٹ بند کرنے سے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر سے زیادہ کا ”کنفرم“ نقصان ہو گیا۔

حاسد رشتے داروں کی طرف سے ماں جی پر لگایا گیا یہ الزام خود بچوں ہی نے محلے کے چوک اور بازاروں میں نہیں دہرایا بلکہ گھر کے بڑوں نے اسمبلیوں میں اور گھر کے پڑھے لکھوں نے اپنی تحریروں اور وی لاگ وغیرہ میں بغیر تحقیق دہرانے میں فخر محسوس کیا۔ وجہ وہی کے ماں کو بدنام کر کے چند لائیکس اور کچھ ڈالر ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

یہ الزام، دعوی یا رپورٹ ”ایک ویب سائٹ (ٹاپ ٹین وی پی این)“ کی طرف سے کیا گیا جو (غالباً) ایک برطانوی شہری انتونیو ارگیولاس نے 2016 میں قائم کی تھی۔ جس کا بنیادی مقصد لوگوں کو ”بہتر سے بہتر وی پی این ویب سہولت کے بارے میں آگاہ کرنا اور جعلی یا نقصان دہ وی پی این سے بچانا تھا“ ۔

انتونیو کی ٹیم ساتھ یہ تحقیق بھی کرتی ہے کہ کس ملک کے لوگ کم یا زیادہ وی پی این استعمال کرتے ہیں۔ کیوں استعمال کرتے ہیں۔ اس کی کیا وجوہات ہیں اور ساتھ ساتھ وہ یہ بھی سارا سال نوٹ کرتے ہیں کہ کن ممالک میں کب کب اور کیوں اور کتنی دیر تک انٹرنیٹ کی سہولت مکمل طور پر، عارضی طور یا کچھ موبائل ایپس یا ویب سائٹس کے لئے بند ہوئیں۔

اب جب اتنا کچھ ہوجاتا ہے تو وہ ساتھ میں یہ بھی ریکارڈ کرتے ہیں کہ اس سے اس ملک کے کتنے لوگ متاثر ہوئے اور اس سے ”ممکنہ یا فرضی“ طور پر کتنا نقصان ہوا۔ یقینی طور پر جب اس طرح کا مواد تحقیق کے طور پر شائع ہوتا ہے تو اس کے براہ راست اور بالواسطہ طور پر مختلف ممالک بھی ہدف بن جاتے ہیں جن میں چین، روس، برما، عراق اور پاکستان سر فہرست ہیں۔ اور ان ممالک کے کاموں اور ترقی میں کیڑے نکالنے والوں کو انسانی حقوق اور آزادی اظہار پر پابندی کے نام سے مخالفت کرنے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔

اسی ویب سائٹ پر یہ معلومات بھی موجود ہیں کہ مختلف ممالک یا ادارے کیسے انٹرنیٹ پر عارضی یا محدود پابندی لگاتے ہیں اور ”متاثرین انٹرنیٹ“ کیسے ان پابندیوں سے بچ سکتے ہیں۔

سال 2024 سے متعلق یہ متنازعہ رپورٹ یہاں پڑھی جا سکتی ہے جہاں 2023 اور اس سے پہلے کی رپورٹس بھی موجود ہیں۔

Government Internet Shutdowns Cost $7.69B in 2024

دو 2 جنوری کو جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق دنیا کے محض ”28 ممالک“ میں صارفین کو انٹرنیٹ کی ”مکمل یا عارضی“ معطلی کا 167 بڑے مواقع پر 193 مرتبہ سامنا کرنا پڑا۔ جس کی وجہ سے ”در اصل“ دنیا بھر کی معیشت کو 7 ارب 700 ملین ڈالر کا ”ممکنہ“ خسارہ دیکھنا پڑا۔ وہ جملہ پھر پڑھیں جو ویب سائٹ نے استعمال کیا۔

Government internet outages in 28 countries lasting almost 89,000 hours cost the global economy $7.69 billion in 2024.

ان 28 ممالک کی طرف سے سب سے زیادہ ”عالمی معیشت“ کو ممکنہ نقصان پاکستان کی وجہ سے ایک ارب 620 ملین ڈالر پہنچا (یاد رہے پاکستان کو نہیں جیسا کہ کئی لوگ دعوی کر رہے ہیں ) ۔

پاکستانیوں کو تو فخر ہونا چاہیے کہ الحمدللہ ہماری وجہ سے دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچا نہ کہ اس کا ماتم کریں کہ ہمارا نقصان ہو گیا۔

میرے پاکستان میں موجود گھر میں پورے سال ایک گھنٹہ بھی ایسا نہیں گزرا جب انٹرنیٹ بند ہوا ہو۔ کیوں کہ گھر، دو مختلف کمپنیوں سے انٹرنیٹ کے فائبر کنکشن سے منسلک ہے۔ اور یہ سارا سال چلتے رہے۔ جب کہ 8 فروری ہو یا دس محرم یا 26 نومبر اس رپورٹ کے مطابق میرے علاقے میں بھی انٹرنیٹ بند تھا۔ رپورٹ خود مانتی ہے کہ اس میں استعمال ہونے والے اعداد فرضی یا ممکنہ ہیں۔

اس رپورٹ میں ایک بہت بڑا سقم جو اس پوری رپورٹ کو ہی لگ بھگ ناقص بنا دیتا ہے وہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے 28 ممالک جہاں کے صارف کو انٹرنیٹ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ حیرت انگیز طور پر اس فہرست میں چین، افغانستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل شامل نہیں ہیں۔ کیوں؟

کیا واقعی ان ممالک میں انٹرنیٹ پر کوئی پابندی نہیں یا ان پابندیوں کی وجہ سے عالمی معیشت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا؟

امریکہ جہاں متعدد ویب سائٹس مثلاً نیپسٹر، وکی لیکس، پائریٹ بے، میگا اپ لوڈ، متعدد مالیاتی ویب سائٹس، این جی ایل، کیپ کٹ (مستقبل میں ٹک ٹاک) شامل ہیں۔ ان کو یہ ”ویب سائٹ“ ، اظہار رائے یا مواد / معلومات پر رسائی پر قدغن / پابندی میں شمار نہیں کرتا۔ پھر وہی سوال کیوں!

حیرت تو اس بات پر بھی ہے کہ 2024 میں اسرائیل نے بھی اپنے ملک میں متعدد ویب سائٹس، ڈیجیٹل ٹی وی چینلز اور عالمی اخبارات کی ویب سائٹس پر پابندی عائد کر رکھی تھی (جو شاید اب بھی ہو) اور اس کا رپورٹ میں کوئی تذکرہ نہیں۔ بقول سہیل وڑائچ صاحب، کیا یہ کھلا تضاد نہیں!

بہرحال یہ رپورٹ انٹرنیٹ پر 28 مخصوص ممالک کی جانب سے عائد پابندی کی وجہ سے عالمی معیشت کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لئے ایک اور ادارے کی تحقیق اور اعداد کو استعمال کرتا ہے جس کے مطابق پانچ مشہور ایپس سے ہونے والے خسارے کا تعین الگ سے کیا جاتا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ہر ملک کے لئے یہ اعداد الگ ہیں۔

ان 5 ایپس میں یوٹیوب، فیس بک، ٹویٹر، واٹس ایپ اور انسٹا گرام شامل ہیں (ٹک ٹاک نہیں جو کروڑوں لوگوں کے لئے کمائی کا ذریعہ ہے۔ پھر وہی سوال۔ کیوں! ) ۔

ویب سائٹ کے پاس یہ اعداد موجود نہیں کہ کسی ملک کے کتنے لوگ ان 5 ایپس کو استعمال کرتے ہیں۔ اس کی بجائے وہ صرف یہ اعداد استعمال کرتے ہیں کہ اس ملک یا علاقے کی کیا آبادی ہے اور اس میں کتنے لوگوں کو انٹرنیٹ کی (کسی بھی ذریعہ سے ) سہولت حاصل ہے۔ یوں اگر بالفرض پاکستان کی 21 کروڑ آبادی میں تقریباً 40 فی صد لوگوں کو موبائل یا انٹرنیٹ کی سہولت حاصل ہے تو متاثرین انٹرنیٹ لگ بھگ 84 ملین بن جائیں گے۔

اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اگر پانچ میں سے کسی ایک ایپ پر بھی پابندی لگ جائے تو عالمی معیشت کو پاکستان کی وجہ سے 4 ملین 2 لاکھ ڈالر فی دن فی ایپ نقصان ممکن ہے۔ یہ بھاٹا ریٹ ہے یعنی سب کا یکساں نقصان ہو گا۔ چاہے حقیقی صارف کی تعداد چند لاکھ ہو یا کروڑوں میں۔ یوں ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کی طرف سے عائد ٹویٹر پر پابندی کی وجہ سے 82 ملین صارف متاثر ہوتے ہیں (ہنسی) اور یہ نقصان 4 ملین 2 لاکھ ڈالر یومیہ ہو گا۔ (چاہے یو ٹیوب بند ہو یا واٹس ایپ یا فیس بک اور یا ایکس) اور اگر یہ پانچوں بند ہوجائیں تو عالمی معیشت کو یومیہ نقصان 21 ملین ڈالر ہو گا۔

اب چوں کہ پاکستان میں ٹویٹر پر فروری 2024 کے آخر سے پابندی ہے تو سال کے آخر تک 319 دن بنے اور بھاٹا ریٹ کے حساب سے صرف ٹویٹر پر پابندی کی وجہ سے الحمدللہ پاکستان نے اب تک عالمی معیشت کو ایک ارب 400 ملین ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔

جب کہ دل چسپ بات یہ بھی ہے کہ پاکستان سے وی پی این کے استعمال پر کوئی پابندی نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے۔ بیچ بیچ میں ٹیسٹنگ کے لئے بند کی جاتی رہی ہے، لیکن بدستور پابندی نہیں ہے۔ لطف دیکھیں کہ چین جہاں ٹویٹر / فیس بک موجود ہی نہیں وہاں ان سب بالخصوص ٹویٹر کی وجہ سے عالمی معیشت کا خسارہ صفر ہے۔ بہرحال اس رپورٹ سے منسوب یہ دعوی ہی غلط ہے کہ پابندی سے پاکستانی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو گیا۔ یہ اور بات کہ سرکاری اہل کار اتنے نا اہل ہیں کہ وہ نہ رپورٹ کو سمجھ سکے اور نہ معاملے کو سنبھال سکے۔

یہ رپورٹ فرضی طور پر دعوی کرتی ہے کہ پاکستان میں اگر انٹرنیٹ سارا دن بند ہو تو عالمی معیشت کو اس وجہ سے 53 ملین ڈالر یا 15 ارب روپے یومیہ کا نقصان دیکھنا ہو گا۔ اور یہ اعداد محض ممکنہ یا فرضی ہیں۔

اسی ویب سائٹ کے مطابق 2023 میں پاکستان کا انٹرنیٹ کی وجہ سے ممکنہ معاشی نقصان 237 ملین ڈالر رہا تھا۔

اصولاً دیکھا جائے تو یہ یعنی 2023 کا نقصان 2024 کے نقصان ( 220 ملین ڈالر) سے بھی زیادہ تھا (اگر ہم 2024 کے ٹویٹر کے خسارے کو منہا کر دیں ) ۔

(جاری ہے )

Facebook Comments HS

One thought on “ایک سفید جھوٹ: پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش سے ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان

Comments are closed.