محمد فاروق بمبے والا ( 1940 سے 2024 ) دوسری قسط
تحریر و ترتیب شاہد لطیف
اور بات بن گئی
” جی! پھر ان دونوں نے ایکا کر لیا کہ جیئں یا مریں، اب تو بمبئی میں کچھ کر کے ہی جانا ہے! اس طرح رفیع صاحب آگے آئے۔ پھر فلم ’جگنو‘ ( 1947 ) میں نظامی صاحب نے ان سے گانا لیا۔ اس سے پہلے فلم ’انمول گھڑی‘ ( 1946 ) میں نوشاد صاحب نے ’تیرا کھلونا ٹوٹا بالک۔‘ لیا۔ لیکن فلم ’جگنو‘ والا گانا زیادہ مقبول ہو۔ فلم بھی ہِٹ ہوئی۔ یوں آہستہ آہستہ فلمیں آتی گئیں۔ 1948 میں فلم ’میلہ‘ آ گئی“ ۔
” اداکار علا الدین والی؟“ ۔ میں نے پوچھا۔
” جی ہاں! اس میں علا الدین نرگس کا باپ ہے۔ اس فلم میں رفیع صاحب کا ایک ہی گانا تھا ’یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے۔ ‘ ۔ یہ گانا اور فلم بھی ہٹ ہو گئی۔ پھر فلم ’انداز‘ ( 1949 ) آئی۔ اس میں لتا کے ساتھ ان کا دوگانا تھا۔ یہ فلم سُپر ہٹ رہی۔ اس کے بعد فلم ’بیجو باورا‘ ( 1952 ) میں نوشاد صاحب نے رفیع صاحب سمیت بہت سے گلوکاروں کو لیا۔ ویسے نوشاد صاحب نے طلعت محمود، مکیش سمیت سبھی گلوکاروں کے ساتھ کام کیا لیکن یہ طے ہو گیا کہ اونچی آواز میں گانے محمد رفیع کی آواز میں بنائیں گے! “ ۔
میرا بمبئی جانا
” گویا جب آپ 1957 میں بمبئی گئے تب رفیع صاحب نے ایک مقام بنا لیا تھا“ ۔ میں نے پوچھا۔
” جی ہاں! اس وقت محمد رفیع بمبئی فلم انڈسٹری میں اپنا مقام بنا چکے تھے! بڑے ’سیٹ‘ تھے۔ وقت کے سب ہی میوزک ڈائریکٹر اِن کو اپنی فلموں میں لیتے“ ۔
” کیا آپ نے خود کسی فلم میں گانے کا نہیں سوچا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” میں بتاتا ہوں! میں سب سے پہلے بمبئی دلیپ صاحب کے گھر آیا۔ اُن کے سب سے بڑے بھائی نور محمد کو ملا۔ اُن کے چچا غلام محمد گُل جی میرے والد صاحب کے بھائی بنے ہوئے تھے“ ۔
” پھلوں کا کام وہی کرتے تھے؟“ ۔ میں نے پوچھا۔
” جی ہاں وہی کرتے تھے! یہ فروٹ کمیشن ایجنٹ تھے۔ ایک دفعہ جب وہ لاہور آئے تو میں نے ان سے کہا کہ چچا! میں بمبئی جانا چاہتا ہوں۔ وہ کہنے لگے تمہیں نہیں جانے دیا جائے گا کیوں کہ تم شیطان ہو! وہاں بڑے شیطان ہو جاؤ گے۔ میں نے کہا کہ چچا! میرا تو لاہور میں گانے میں کافی نام ہے۔ میں یہاں مزید نہیں رہنا چاہتا۔ پھر میرے والد صاحب نے بھی چچا غلام محمد گُل جی سے کہا کہ فاروق کا لاہور میں کافی نام ہے۔ لطیف صاحب! رفیع کے بمبئی جانے سے پہلے ’کھِڑ کھِڑی پیر‘ مزار والے خادم حسین جو لاہور میں رفیع کو گانے نہیں دیتا تھا وہ اب میرے ساتھ بیٹھتا تھا۔ اس نے مجھے سُن کر کہا کہ یہ اپنے زمانے میں سب سے بڑا سنگر ہو گا! ہماری ( رفیع صاحب اور میری) گانے کی ایک ہی رینج تھی“ ۔
دلیپ صاحب کے گھر میں
” بہرحال دلیپ کمار کے بڑے بھائی نور محمد خان کے پاس گیا۔ کہنے لگے کہ ٹھیک ہے کل یوسف (دلیپ کُمار) کے پاس چلیں گے! “ ۔
” اگلے دن وہ مجھے دلیپ کمار کے گھر پالی ہِل باندرا لے گئے۔ وہ رات کسی فلم کی شوٹنگ کر کے سو رہے تھے۔ نور محمد صاحب نے آواز دے کر اُٹھایا کہ لاہور سے فاروق آیا ہے! دلیپ صاحب سیدھی دھوتی، جیسے ہم لاہور میں باندھتے ہیں، باندھے کمرے سے مسکراتے ہوئے باہر آئے۔ میں ان سے گلے ملا۔ اندر بٹھایا جہاں رمیش سہگل بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ اس وقت ایک بڑے فلم ڈائریکٹر تھے۔ میں دلیپ کمار کو مل کر اتنا خوش ہوا کہ بتا نہیں سکتا! وہاں باجا (ہارمونیم) تو نہیں البتہ ایک ستار پڑی ہوئی تھی“ ۔
” کیا دلیپ صاحب ستار بجاتے تھے؟“ ۔ میں نے تجسس سے پوچھا۔
” باقاعدہ تو نہیں لیکن تھوڑا بہت شوق پورا کرتے تھے۔ مجھے نور محمد صاحب کہنے لگے کہ کوئی گانا تو سناؤ! میں نے کہا کہ نور بھائی باجا ہوتا تو میں گانا شروع کر دیتا۔ اس پر دلیپ صاحب نے کہا کہ نوشاد صاحب باجا لے گئے۔ پھر کہا کہ میں نہا لوں پھر بیٹھ کر گپ مارتے ہیں“ ۔
نوشاد صاحب سے ملاقات
” دلیپ صاحب جب نہا کر باہر آئے تو کاپی پینسل لے کر دو تین سطریں لکھیں پھر مجھ سے کہا کہ فاروق! مجھے بتاؤ تمہیں کون سا میوزک ڈائریکٹر اچھا لگتا ہے؟ (دلیپ صاحب سے یہ گفتگو پنجابی زبان میں ہو رہی تھی) میں نے کہا کہ میں تو نوشاد صاحب کے لئے آیا ہوں کیوں کہ میں نے ان ہی کے گانے گانے ہیں۔ اس پر دلیپ صاحب نے کہا کہ دیکھو میں نے اس کاپی پر کیا لکھا ہے۔ اس پر نوشاد صاحب کو مخاطب کر کے لکھا ہوا تھا کہ میرا کزن بھائی فاروق آپ کے پاس آ رہا ہے۔
میں نے کہا کہ میں نے تو نوشاد صاحب سے آج ہی ملنا ہے۔ اس پر اپنے ایک ملازم کو کہا کہ فاروق کو نوشاد صاحب کی کوٹھی پر لے کر جاؤ۔ وہ مجھے وہاں لے گیا۔ نوشاد صاحب گاڑی میں باہر نکلنے ہی والے تھے۔ انہوں نے گاڑی کھڑی کروائی۔ میں نے انہیں دلیپ صاحب والا رقعہ پیش کیا۔ رقعے میں یہ بھی مذکور تھا کہ میں استاد چھوٹے غلام علی خان صاحب کا شاگرد ہوں۔ نوشاد صاحب اپنی گاڑی سے باہر آ گئے۔ مجھے کہنے لگے کہ کیا ابھی آپ یہاں رہیں گے؟
مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ کیا میں جیتے جاگتے نوشاد صاحب سے مِل رہا ہوں! میں خوشی سے پھولے نہ سمایا کہ اب تو میں میدان میں آ گیا! نوشاد صاحب نے پوچھا کہ اب کیا پروگرام ہے؟ میں نے کہا کہ میں تو آپ ہی کے پاس آیا ہوں اور یوسف بھائی کے ہاں ہی ہوں! وہ کہنے لگے کہ ٹھیک ہے میں یوسف صاحب کو کہہ دوں گا کہ آپ سے ملاقات ہو گئی ہے۔ دلیپ صاحب کی وجہ سے میں بہت سے فلمی لوگوں سے ملا“ ۔
شفیع اور پرکاش شرما
” بمبے والا صاحب! کبھی آپ نے نوشاد صاحب سے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ میں فلم میں گانا چاہتا ہوں“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” میں آپ کو بتاتا ہوں۔ مجھے نوشاد صاحب نے کہا کہ شفیع کو مِل لیں۔ شفیع نوشاد صاحب کا چیف اسسٹنٹ میوزک ڈائریکٹر تھا۔ مجھے یاد ہے ماسٹر غلام حیدر، جنہوں نے لتا کو فلم میں گانے کا موقع دیا، اُن کے چیف اسسٹنٹ پرکاش شرما تھے۔ مجھے شفیع اِن شرما جی کے پاس لے گئے۔ اُس وقت ’بیجو باورا‘ نئی نئی ریلیز ہوئی تھی جس کے سارے ہی گانے مقبولِ عام تھے۔ مجھے پرکاش صاحب نے کہا کہ درباری ٹھاٹھ کا گانا ’او دنیا کے رکھوالے۔ ‘ سنا دیں۔ میں نے گایا تو شفیع مجھے کہنے لگا کہ فاروق صاحب آپ تو ماشاء اللہ سنگر ہیں! اب آپ ہماری فلموں کے لئے گانا گائیں گے! پھر شفیع نے نوشاد صاحب کو کہا کہ فاروق صاحب آئے تھے۔ میں نے انہیں سُنا، وہ تو بہت اچھے سنگر ہیں۔ آپ جب کہیں گے تو وہ ضرور گائیں گے“ ۔
موسیقار سجّاد حسین کے ساتھ
” آپ سجاد حسین صاحب سے کیسے ملے؟“ ۔
” آپ لکھ لیں لطیف صاحب! کہ سجاد حسین جیسا میوزک ڈائریکٹر پورے برِ صغیر پاک و ہند میں ایک بھی نہیں! میں نے یادداشت کی شکل میں کافی ساری چیزیں قلم بند کی ہیں کہ بعد میں شائع کروا لینا۔ افضل شادابؔ لاہوری، بھاٹی گیٹ لاہور کے رہنے والے شاعر تھے۔ بمبئی میں اِن کے پاس سجّاد حسین اکثر آتے تھے۔ ایک دفعہ میں بھی وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ تو افضل شادابؔ کہنے لگے کہ فاروق تمہارا (شہرت کا) وقت عنقریب آنے والا ہے۔ تمہارے نام کا ڈنکا بجے گا!
ایسا کرو کہ ایک گانا سناؤ! وہیں موسیقار سجاد حسین بھی بیٹھا ہوا تھا۔ قریب باجا بھی موجود تھا۔ میں سجاد حسین کو نہیں پہچانتا تھا۔ میں نے شادابؔ صاحب کی غزل ’ہاں لطفِ کرم کچھ اسی میں ہے۔ ‘ اور ایک دو چیزیں جو آل انڈیا ریڈیو بمبئی سے گائی تھیں، سنا دیں۔ سجاد صاحب نے شادابؔ سے میرا نام پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بہت اچھا سنگر، فاروق ہے۔ سجاد کہنے لگے میں نے انہیں پہلی مرتبہ سنا ہے۔ یہ تو واقعی بہت اچھا گاتے ہیں۔ یہ گریٹ سنگر اور سب سے اچھا گانے والے ہیں۔ پھر جب شادابؔ نے سجّاد حسین کا تعارف کرایا تو میں نے کہا کہ اِن کے تو مجھے کافی گانے یاد ہیں۔ لیں جناب! اب تو اکثر سجّاد حسین شادابؔ کے ہاں ملنے لگے۔ اور جلد ہی مجھے اپنی فلموں کی موسیقی ترتیب دینے اور بھاگ دوڑ میں اپنا اسسٹنٹ بنانے کی پیشکش کر دی“ ۔
” کیا آپ کو اس وقت پتا تھا کہ یہ تو بہت ٹیڑھے آدمی ہیں؟“ ۔
” سال دو سال کی بات نہیں میری تو اِن سے سالوں دوستی رہی۔ وہ تو اپنے آگے کسی کو بھی نہیں مانتا تھا۔ میرا ہاتھ پکڑ کر کہتا کہ شادابؔ صاحب سُن لو! یہ رفیع وفیع جتنے بھی سنگر ہیں کچھ نہیں! ٹاپ کا سنگر یہ ہے! وہ کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتا تھا۔ پھر میری میوزک ڈائریکٹر سجّاد حسین سے دوستی ہو گئی“ ۔
” ارے باپ رے۔ سجاد حسین تو بے حد خطرناک میوزک ڈائریکٹر تھے“ ۔ میں بے ساختہ فاروق صاحب کی بات کاٹنے پر مجبور ہو گیا۔
” سجاد حسین میوزک ڈائریکٹر، جس کا آپ نے کہا کہ بہت خطرناک تھا، میری تو اُن سے پھر دوستی ہو گئی! “ ۔
” حیرت کی بات ہے! وہ تو کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے! “ ۔ میں نے کہا۔
” سجاد حسین تو میرا بھائی تھا (ہنستے ہوئے ) یوں میں سجّاد حسین کا چیف اسسٹنٹ بن گیا“ ۔
” کمال ہے! ہم نے تو یہ سُنا تھا کہ اُن کے ساتھ تو ایک گھنٹہ گزارنا ناممکن ہے اور کہاں آپ اُن کے چیف اسسٹنٹ۔ ہر وقت کے ساتھی! “ ۔ میں نے کہا۔
” میں یہی تو کہہ رہا ہوں کہ سجاد حسین میرے سگے بھائیوں کی طرح تھا۔ کبھی میں اُن سے کہتا کہ سجاد بھائی آج میرا موڈ آف ہے۔ اس پر وہ اپنے بیٹے کو کہتے کہ چچا (یعنی مجھے ) کو ساتھ لے کر مسجد چلے جاؤ اور نماز پڑھو! اب اس پر اُن سے کوئی کیا کہے“ ۔
قہقہے
” سجاد حسین بہت قابِل آدمی تھا۔ ایک گانا ریکارڈ ہونا تھا، وہ مجھے کہنے لگا فاروق! تم میوزیشنوں کو تیار کرواؤ۔ میں کچھ ہی عرصہ میں سمجھنے لگ گیا تھا کہ بہت سے میوزشنوں میں کیسے معلوم کیا جاتا ہے کہ کون غلط بجا رہا ہے؟ تو اُس روز فلمی دنیا کا ایک بہت بڑا میوزیشن، رام نارائن سارنگیا، جو ستار بھی بجاتا تھا، 35 سازندوں کے ساتھ بجا رہا تھا۔ میں نے مسکرا کر سجّاد کی طرف دیکھا اور انہیں اشارہ دیا کہ رام نارائن سارنگیا غلط بجا رہے ہیں۔ اس پر انہوں نے ہنس کر کہا کہ فاروق تم بڑے تیز ہو گئے ہو! پھر میں رام نارائن صاحب کے پاس گیا اور بات کی تو وہ بھی بہت خوش ہوئے کہ میں سمجھدار ہو گیا! “
” واہ واہ“ ۔ میں نے کہا۔
پروڈیوسر ڈائریکٹر ایس ایس واسن کے جیمنائی اسٹوڈیوز میں
” یوں پھر میں فُل ٹائم میوزک ہی میں آ گیا“ ۔ فاروق صاحب نے کہا۔
” کیا پھر گانے کا خیال بالکل چھوڑ دیا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” میری تو طلعت محمود، منّا ڈے کے ساتھ دوستی تھی یہ کہتے کہ پرائیویٹ فنکشنوں میں ہمارے ساتھ تم بھی گایا کرو۔ پھر میں میوزک کے کام کے ساتھ اِن پروگراموں میں بھی حصّہ لینے لگا۔ میرے ایک دوست جن کا نام جاگیردار تھا کہنے لگا کہ تمہیں مدراس چلے جانا چاہیے! میں بھی اس وقت خوشی میں رہتا اور سب ہی کا لاڈلا بن گیا تھا۔ جاگیردار نے مجھے رقعہ دیا کہ اس کو لے کر فلاں صاحب کو مدراس میں مل لو! یہ صاحب وہاں بڑے ڈائریکٹر پروڈیوسر تھے۔
میں نے دلیپ صاحب کے بڑے بھائی کو مدراس جانے کا بتلایا تو وہ کہنے لگے کہ کوئی بات نہیں تم وہاں چلے جاؤ گھوم پھر بھی آنا۔ تو جناب میں پھر مدراس، تامل ناڈو کے جیمنائی اسٹوڈیوز پہنچ گیا۔ وہاں کے ایک بڑے پروڈیوسر ڈائریکٹر ایس ایس واسن کے نام کا رقعہ مجھے دیا گیا تھا۔ میں اُن سے ملا اور گانا بھی سنایا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کل کھانا میرے گھر پر کھائیں! میں واسن صاحب کے گھر میں گیا۔ تو لطیف صاحب! وہ اپنی بیٹیوں کو کہنے لگا کہ لڑکا سنگر ہے یہ ہیرو کیسا لگے گا؟ اس پر لڑکیاں کہنے لگیں کہ پُرکشش ہے! مجھے کہا کہ تم اچھے سنگر ہو لیکن میں تین سالوں کے لئے اپنی فلموں میں ہیرو کے کردار کے لئے تمہارے ساتھ معاہدہ کرتا ہوں! آپ کی تنخواہ 7000 ہزار روپے ماہانہ ہو گی! “ ۔
” بمبے والا صاحب یہ کون سا زمانہ تھا؟“ ۔ میں نے پوچھا۔
” یہ 1961 کی بات ہو رہی ہے۔ اس وقت 90 روپے تولہ سونا تھا! تو مجھ سے پوچھا کہ 7000 ہزار تنخواہ اور کھانا پینا، رہنا سہنا مُفت! کیا تمہیں منظور ہے؟ میں نے کہا کہ آپ نے کہہ دیا تو ٹھیک ہے! “ ۔
” کیا قسمت کھُلی آپ کی“ ۔ میں نے تبصرہ کیا۔
” میری عمر اس وقت 20 سال تھی۔ اُس رات میں سونے کے لئے لیٹا تو سوچنے لگا کہ لاہور سے بمبئی اور اب بمبئی سے مدراس آ گیا۔ میں تو مر جاؤں گا! لاہور میں میری دادی ہمیں کہانیاں سنایا کرتی تھیں : طوطیا من موطیا۔ تو جناب اُسی رات اِس کہانی کی روشنی میں، میں نے یہاں نہ رہنے کا فیصلہ کر لیا“ ۔
” وہاں پر جگدیپ نام کا ایک لڑکا تھا۔ وہ ایس ایس واسن کے جیمنائی اسٹوڈیوز Gemini Studios مدراس، تامل ناڈو میں کلرک تھا۔ اسے بھی بتایا گیا کہ بمبئی سے ایک خوبصورت لڑکا آیا ہے جو سنگر بہت اچھا ہے۔ اس کے ساتھ راگنی، پدمنی ہیروئن ہیں۔ جگدیپ کہنے لگا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ سنگر بھی اور ہیرو بھی آ گئے اب میں تو آؤٹ ہو گیا! تب میں نے اسے کہا کہ کسی سے نہ کہنا کہ میں واپس بمبئی جا رہا ہوں! میں نے اب اِدھر نہیں رہنا۔
میں 15 دن مدراس میں رہا۔ اس دوران واسن صاحب نے اداکارہ راگنی سے میری ملاقات کروائی۔ میں نے ایک روز واسن صاحب سے کہا کہ ابھی تو اسکرپٹ لکھنے میں وقت لگے گا، کیا میں کچھ دن بمبئی ہو آؤں؟ پوچھا کہ پیسوں کی ضرورت ہے؟ میں نے کہا مل جائیں تو اچھا ہو! پھر واسن صاحب نے مجھے میری ملنے والی تنخواہ کا نصف 3500 روپے دیے! یوں میں انہیں خدا حافظ کہہ کر پندرہ روز بعد واپس دلیپ صاحب کے گھر بمبئی پہنچ گیا۔ سامنے ان کے بڑے بھائی نور محمد خان صاحب مل گئے۔ کہنے لگے کہ وہاں کیسی گزری؟ جاؤ یوسف سے مل لو! انہوں نے پوچھا گانے شانے کیے؟ میں نے کہا کہ انہوں نے تو مجھے ہیرو رکھ لیا تھا۔ اس پر انہوں نے پوچھا کہ پھر؟ میں نے کہا کہ میں تو وہ کام چھوڑ کر واپس آ گیا ہوں۔ تب دلیپ صاحب نے کہا کہ کام شام کر کے واپس آتے تو بہتر ہوتا! “ ۔
” پھر میں سجاد حسین کو ملا۔ کہنے لگے کہ یار فاروق تم پندرہ دن کہاں غائب تھے؟ میں نے کہا کہ آپ کو مبارک باد دے دوں۔ میں تو مدراس کی فلم انڈسٹری میں سنگر اور ہیرو بھی منتخب ہو گیا! کہنے لگے کہ مجھے سب پتا ہے۔ تم اونچے جاؤ گے! میں نے کہا کہ میں تو آپ کے ساتھ ہوں۔ تو جناب پھر اس کے بعد میں سب ہی کے پاس گیا۔ تب میں اپنے پَر کھول بیٹھا تھا! میں اُس زمانے میں آل انڈیا ریڈیو بمبئی سے گاتا تھا“ ۔
…………………………
(جاری ہے )



