سائبیریائی پرندوں کی مقتل گاہ


موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی جہاں ایک طرف لاکھوں سائبیریائی پرندوں کی آمد ہوئی ہے وہیں شکاری امراء کے جہاز یکے بعد دیگرے سر زمینِ پاکستان پر اترنے لگتے ہیں اگر یوں کہا جائے کہ پرندوں سے زیادہ اب شکاریوں کی تعداد ہے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔

اگرچہ ملک میں شکار پر پابندی ہے مگر اس کے باوجود شکار کی سرکاری سرگرمیاں ( سرپرستیاں ) یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ پابندی امراء کے لئے نہیں تھی۔ سرکار کی طرح نجی سطح پر بھی کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ امراء کے آنے جانے سے مقامیوں کو بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ ویسے بھی ہر کوئی ”ناظم جوگھیو“ نہیں ہے جو باوجود اپنی غربت اور کم حیثیتی کہ کسی امیر کو اس لئے شکار سے روکے کہ یہ ہمارے مہمان پرندے ہیں ( اور مہمان ماں سمان ہوتے ہیں، جبکہ ہندی روایات کے مطابق مہمان دیوتا سمان ہوتے ہیں ) ان معصوموں کو نہ مارو، یہ جانتے ہوئے بھی وہ اس احتجاج پر ظالموں کے ظلم کا خود بھی شکار ہو جائے گا، ناظم جوگھیو نے پھر بھی صدائے احتجاج بلند کی اور موت کو گلے لگایا۔ یاد رہے کہ صدیوں سے موسم سرما میں پاکستان سائبیریا کے پرندوں کا مسکن ہے، جہاں وہ کچھ ماہ گزارتے ہیں اور جیسے ہی موسم کروٹ لیتا ہے ان کی واپسی کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔

جانوروں اور پرندوں کا شکار انسان زمانہ قدیم سے ہی کرتا آ رہا ہے مگر ماحولیاتی تغیرات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب اور بے دریغ شکار نما قتل عام کے باعث جانوروں اور پرندوں کی کئی اقسام کو معدومیت کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی شکار پر پابندی ہے۔ لیکن ہر سال غیر ملکی اور ملکی طبقہ امراء کے شکاریوں کو ”شکاری پرمٹ“ جاری کرنا حکومت کی دوغلی پالیسی کو ظاہر کرتی ہے۔ سفارتی وقتی مفادات کے لئے حکومت کا اپنے مہمان پرندے کے قتل عام کی اجازت دینا خاص طور پر نایاب نسل کے وہ پرندے جن کے شکار پر دنیا بھر میں پابندی ہے، نہایت ہی افسوس ناک ہے۔ ہم ہمیشہ سے مہمانوں کی عزت و تکریم کے حوالے سے ممتاز روایات رکھتے ہیں، انسانوں کی طرح یہ پرندے بھی ہمارے مہمان ہیں، مگر کئی سالوں سے پاکستان ان کے لئے مقتل گاہ بن گیا ہے۔

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ سول سوسائٹی اور دیگر سماجی تنظیموں کو اس معاملے پر آگے آنا چاہیے اور طبقہ اقتدار کو اس قسم کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی اور خلاف ورزیوں پر سزاؤں اور جرمانوں کے نفاذ کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ تاکہ سائبریا کے پرندوں کی نسل کشی رک سکے۔

Facebook Comments HS