جاوید احمد غامدی کا تجاہل عارفانہ اور آفتاب اقبال کی آفتابیاں


آج کل جاوید احمد غامدی ”جی سی آئی ایل“ غامدی سنٹر آف اسلامک لرننگ کی وجہ سے مالی بے ضابطگیوں کی زد میں ہیں، اب یہ ادارہ کیا ہے؟

اسے آپ آج کے پس منظر میں جدید خانقاہی نظام کہہ سکتے ہیں جس کی شاخیں اندرون کے علاوہ بیرون ملک میں بھی ہوں گی۔

یہ آستانے روایتی طرز کے نہیں ہوں گے اور نا ہی عام افراد کے لیے ہوں گے بلکہ یہ ایک خاص ذہنی استعداد یا طبقے کے لیے ہوں گے جو روبرو باتیں کریں گے اور اس اعزازی وقت یا غامدی جی سے بالمشافہ ملاقات یا سوال پوچھنے کی قیمت سپانسر، کریپٹو کرنسی، کریڈٹ کارڈ یا ڈونیشن کے ذریعے سے ادا کریں گے۔

جدید دور کے جدید تقاضوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے جاوید احمد غامدی کے گرد ایک ایسا پروٹوکول یا بندوبست کا اہتمام کیا جا رہا ہے کہ وہ اب ارزاں نہیں رہے اور ان سے ملنے کے لیے اب بھول بھلیوں سے گزر کے جانا پڑے گا۔

اس جدید خانقاہی سلسلے میں روایتی طور پر مستعمل اصطلاحات مثلاً دست بوسی، چندہ و خیرات یا روحانی خدمت و بندوبست کو ڈیجیٹل ڈونیشن، سپانسر یا کریڈٹ کارڈ میں ری پلیس کر دیا گیا ہے تاکہ روایتی سلسلے کی بدگمانیوں سے محفوظ رہا جا سکے۔

کھلے ڈھلے لفظوں میں کہیں تو کچھ اس طرح کا منظر نامہ بنے گا کہ جوانی سے لے کر بڑھاپے تک اپنی علمی خدمات کے عوض جاوید غامدی نے جو کمایا ہے اب سوال فروشی، جواب فروشی بلکہ جاوید احمد غامدی فروشی کے ذریعے سے بھاری قیمت پر کیش کیا جائے گا اور مختلف ممالک میں قائم ہونے والے غامدی سنٹر آف اسلامک لرننگ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں دین داری کے علاوہ دنیا داری بھی خوب ہوگی۔

آفتاب اقبال نے بھی اس ضمن میں جاوید احمد غامدی اور ان کے داماد حسن الیاس سے کچھ سنجیدہ سوال پوچھے ہیں، جن کا تسلی بخش جواب ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

کیونکہ معیشت و معاشرت کے تقاضوں سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا، آپ جتنے بھی مہان بن جائیں ”پیٹ“ کے تقاضے پورے کیے بغیر آپ سروائیو نہیں کر سکتے، خالی جیب اور بھوکے پیٹ والے کی بات بھلا کون سنجیدگی سے سنتا ہے۔

جتنے بھی محتاط یا پرہیزگار بن جائیں آسمانوں سے من و سلویٰ نہیں اترا کرتا، دنیا داریاں کر کے ہی معیشت و معاشرت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں بھائی۔

آفتاب اقبال نے غامدی جی کے داماد حسن الیاس سے پوچھا ہے کہ امریکہ میں قائم ہونے والے غامدی سنٹر آف اسلامک لرننگ بطور ادارہ امریکہ سرکار سے کوئی مالی منفعت حاصل کرتا ہے؟

جاوید احمد غامدی کو متنازعہ بنانے میں کیا غامدی سنٹر آف اسلامک لرننگ کی کوئی شعوری کوشش بھی شامل ہے؟

کیا جاوید احمد غامدی کی شخصیت کو شہرت کا ٹچ دینے کے لیے مارکیٹنگ کمپنیز کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں؟

کیا آپ اپنے ریکارڈ کا رضاکارانہ آڈٹ کروانے کے لیے تیار ہیں؟

اب یہ سارے سوال آفتاب اقبال کی آفتابیاں تو ہو سکتی ہیں سنجیدہ گوئی نہیں، دنیا سے فرار ممکن نہیں جناب، غامدی جی نے تو جیسے تیسے گزار دی گزر گئی۔

اب گیم نوجوان بریگیڈز کے ہاتھوں میں ہے جو آج کے تقاضوں سے بخوبی آگاہ ہیں، ہر چیز کا ایک وقت اور شیلف لائف ہوتی ہے اس کے بعد اس کی اہمیت کم ہونے لگتی ہے۔

مارکیٹنگ، پراسراریت، لش پش طرز کا لائف اسٹائل، جدید طرز کے سہولیاتی گیجٹس و گاڑیاں جدید طرز زندگی کا جزو لاینفک ہوتی ہیں، فقیرانہ گیٹ اپ میں آپ کوئی منجن نہیں بیچ سکتے اور مذہب کی پریکٹسنگ شرح تو دنیا بھر میں روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔

دنیا بھر میں مندر، گرجے اور سیناگوگ ویران ہوتے جا رہے ہیں سوائے مخصوص تہواروں کے، ہمارے ہاں بھی جذباتیت کی تو خوب ریل پیل ہے لیکن عملی رجحان زوال پذیر ہو رہا ہے۔

نوجوانان غامدی اسی صورت میں اپنے مقاصد یا دنیاوی لش پش حاصل کر سکتے ہیں کہ اگر وہ جاوید احمد غامدی اور پبلک کے مابین ایک ”آئرن کرٹین“ قائم کر کے انہیں ایک پراسرار شخصیت بنا دیں۔

اندر کی باتیں اندر رہیں اور باہر کی باتیں باہر تاکہ دین اور دنیا کے مابین کوئی خلل واقع نہ ہو۔

غامدی جی آرام و سکون سے دین داری کریں اور ان کی روحانی اولاد جی جان سے دنیا داری کریں، باقی رہی ان کی دینی خدمات، اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے اپنی تشریحات کے ذریعے سے جدید اذہان کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔

اپنی اس کاوش میں وہ کتنے کامیاب رہے یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ سوال کو فلسفیانہ موشگافیوں میں الجھا کر مخاطب کو مطمئن تو نہیں البتہ ششدر یا انگشت بدنداں کی سی کیفیت کا شکار ضرور کر دیتے ہیں۔

جاوید احمد غامدی ہوں یا احمد جاوید یہ ٹو دی پوائنٹ اور بالکل سادہ سے سوال پر گاڑھی اصطلاحات کا بے دریغ لیپ کرنا خوب جانتے ہیں، اب سیدھا یا صاف جواب دینے میں کیا قباحت حائل ہوتی ہے یہ بخوبی جانتے ہیں اور انہی موشگافیوں میں عقل والوں کے لیے واضح نشانیاں موجود ہوتی ہیں۔

اب ایسی بات بھی نہیں ہے کہ جو کچھ بھی غامدی جی کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے وہ اس سے لاعلم ہوں گے، وہ سب جانتے ہیں لیکن سمے کے ہاتھوں مجبور ہیں اور تجاہل عارفانہ میں پناہ ڈھونڈے ہوئے ہیں۔

Facebook Comments HS