مذاکرات یا چوہے بلی کا کھیل


سیاسی حلقوں کا سب سے زیادہ پسندیدہ موضوع عمران خان کی ممکنہ رہائی ہے۔ ہر محفل اور سیاسی بیٹھک میں عمران خان کی رہائی پر ہی بات چیت ہو رہی رہی ہے۔ ہر سیاسی شعور رکھنے والے شخص کی نظریں اڈیالہ جیل سے آنے والی خبروں پر ہے۔ سر دست حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی میز دو بار ہی سج سکی ہے۔ تیسرا دور شروع ہونے سے پہلے ہی مذاکرات کا کھیل غیر یقینی صورت حال سے دو چار ہو گیا ہے۔ چوہے بلی کے کھیل میں پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم عمران خان تک رسائی کی منت سماجت کر رہی ہے لیکن تا حال بیرسٹر گوہر خان کو ہی عمران خان تک رسائی ملی ہے۔ ممکن ہے مذاکراتی ٹیم کی عمران خان سے ملاقات کرا ہی دی جائے لیکن عمران خان نے بیرسٹر گوہر خان کو حکومت کو تحریری طور پر ”چارٹر آف ڈیمانڈ“ پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی بیرون ملک سے واپس آ گئے ہیں۔ آئندہ ہفتہ تیسری بار مذاکرات کی میز سج سکتی ہے۔ سردار ایاز صادق عمران خان سے پی ٹی آئی کی ٹیم کی ملاقات نہ کرائے جانے پر پی ٹی آئی کی تنقید پر مذاکرات سے الگ ہونے کا عندیہ دے دیا ہے اور کہا ہے ”عمران خان سے ملاقات کرانا میرا مینڈیٹ ہے اور نہ ہی ذمہ داری حکومت اور اپوزیشن جب کہے گی اجلاس بلا لوں گا“ ۔

ہر سیاسی محافل میں ہر شخص اپنی خواہش اور اندازے کے مطابق عمران خان کی ممکنہ رہائی کے بارے میں اظہار خیال اور موجودہ سیاسی بحران کا حل تلاش کرتا نظر آئے گا کیونکہ ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے ملکی سیاست پر اثرات مرتب ہوں گے۔ فارم 47 والی حکومت کا کیا بنے گا؟ جب کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے ذمہ داران کی گفتگو سنی جائے تو ان تمام قیاس آرائیوں کی تردید اور نفی ہو جاتی ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ”نشستند، گفتند، برخواستند“ سے زیادہ نہیں بڑھ سکا۔ پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم نے تا حال حکومت کو چارٹر آف ڈیمانڈ نہیں دیا اور پی ٹی آئی کی ٹیم مذاکرات ٹیم کی عمران خان سے ملاقات کرانے میں حکومت کی طرف سے لیت و لعل سے کام لے لینے کے حربوں کی وجہ سے بھی مذاکرات کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی پی ٹی آئی ٹیم کی جانب سے اس بات پر اصرار کیا جا رہا ہے۔ وہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر اپنے مطالبات کو حتمی شکل نہیں دے سکتی لیکن یہ بات نوٹ کی گئی کچھ نادیدہ قوتیں اس ملاقات کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی جس کے باعث پی ٹی آئی کی پوری ٹیم کی ملاقات نہیں ہو سکی چارٹر آف ڈیمانڈ کو عمران خان کی اونر شپ ملے بغیر اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

بظاہر پی ٹی آئی ٹیم عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی اور 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ”چوری شدہ“ کی واپسی پر اصرار بھی نہیں کر رہی اگر عمران خان کو کسی نہ کسی طرح رہائی مل جائے تو پی ٹی آئی دوسرے مطالبات دستبردار ہو سکتی ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی نے فارم 47 کی حکومت تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا لیکن عملاً اس کے فعل و عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے طوعاً و کرہاً ”فارم 47 کی حکومت“ سند قبولیت ”دے دی ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت اصل“ حکمرانوں ”سے بات چیت کرنے کا عندیہ دیتی تھی۔ 26 نومبر کے ناکام پاور شو کی ناکامی کے بعد اس کے طرز عمل میں اچانک کیا تبدیلی آئی کہ پی ٹی آئی نہ صرف فارم 47 کی حکومت سے مذاکرات پر آمادہ ہو گئی بلکہ اپنے مطالبات پر نظر ثانی کر دی۔

ایسا دکھائی دیتا ہے بظاہر مذاکرات کی میں سپیکر قومی اسمبلی کی زیرصدارت مذاکرات کی میز سجائی جا رہی ہے لیکن در پردہ مذاکرات اڈیالہ جیل کے مکین سے اس کی ”کوٹھڑی“ میں ہو رہے ہیں جن کے بارے میں محدود چند افراد کو ہی پتہ ہے۔ اس لحاظ سے مذاکرات کے حوالے سے متضاد خبریں اور قیاس آرائیاں منظر عام پر آ رہی ہیں۔ مذاکرات کی اصل کہانی وزیر اعظم محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اسٹیبلشمنٹ، وزیر اعلٰی کے پی کے علی امین گنڈاپور، بشری بی بی اور علیمہ خان آگاہ ہیں۔

اڈیالہ جیل کے مکین کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کے کیس کا فیصلہ محفوظ ہے۔ فیصلہ کی تاریخ دو بار تبدیل کی گئی ممکن ہے۔ فیصلہ کا اعلان کسی جائز وجہ سے ہی موخر ہو رہا ہو لیکن عمران خان کا کہنا ہے کہ ان پر دباؤ برقرار رکھنے کے لئے مقدمہ کا فیصلہ موخر کیا جا رہا ہے۔ بہرحال مقدمہ کا فیصلہ کچھ بھی ہو یار لوگوں نے اس مقدمہ کے فیصلے کو بھی مذاکرات سے منسلک کر دیا ہے۔

نومبر 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت نے امریکہ کو ”ایبسلیوٹلی ناٹ“ کا نعرہ لگانے والے لیڈر کی جماعت کے کارکنوں امریکہ سرکار سے بے پناہ امیدیں وابستہ کر دی ہیں جوں جوں 20 جنوری 2025 کی تاریخ قریب آ رہی ہے۔ پی ٹی آئی آئی کے کارکنوں میں جوش و جذبہ بڑھتا جا رہا ہے۔ عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ میں موجود پی ٹی آئی کے حامی پورا زور لگا رہے ہیں اور عمران خان کی رہائی کے لئے ہر فورم استعمال کر رہے ہیں۔ سر دست ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی رچرڈ کرنیل کا ٹویٹ ہی سامنے آیا ہے جس سے یہ تاثر دینے کی کو شش کی جا رہی ہی ہے کہ بس واشنگٹن سے فون آنے کی دیر ہے۔ اڈیالہ جیل کے دروازے کھل جائیں گے جب کہ اس بارے میں بعض وفاقی وزراء کھل کر یہ بات کہہ چکے ہیں جب ہمیں کسی کا فون آئے گا تو ہم اسے کما حقہ جواب بھی دے دیں گے جب کہ عمران خان کی ٹیم ایسے کسی رابطے کی تردید کرتی ہے اور اس بات پر زور دے رہی ہے کہ عمران خان اپنی عدالتی جنگ جیت کر ہی رہائی حاصل کریں گے۔

شیر افضل مروت اور عمران خان کہ ہمشیرہ علیمہ خان کی گفتگو سے کچھ اشارات ملتے ہیں جن کے مطابق عمران کی رہائی بارے مختلف فارمولے زیر بحث ہیں۔ شیر افضل مروت نے دعوٰی کیا ہے اگر 26 نومبر 2024 کا واقعہ پیش نہ آتا تو خان نے رہا ہو کر کے پی پہنچ جاتے جب کہ گورنر ہاؤس نتھیا گلی کی صفائی بھی کرا لی گئی تھی جب کہ علیمہ خان کا دعوٰی ہے عمران خان کو علی امین گنڈاپور کے ذریعے 3 سالہ جلاوطنی قبول کرنے پر رہائی کی پیش کش کی گئی لیکن انہوں نے ڈیل کے نتیجے میں رہائی قبول کرنے سے انکار کر دیا پھر ان کو بنی گالہ میں 6 ماہ کی قید خاموشی سے گزار نے کی بات کی گئی لیکن عمران خان ڈیل کے نتیجے میں رہائی کے لئے تیار نہ ہوئے

علیمہ خان نے تو عمران خان کو رہائی کی پیش کش کی سورس بھی بتا دی ہے۔ فی الحال سیاسی منڈی میں غیر مصدقہ ”افواہیں اور کہانیاں“ گردش کر رہی ہیں۔ ان کہانیوں کو مرچ مصالحہ لگا کر اپنا مال فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران کی بنی گالہ منتقل کرنے کی آفر گنڈا پور لائے تھے۔ حکومتی حلقوں کی جانب کہا جا رہا ہے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش کس نے کی کیونکہ ایسی پیشکش مذاکراتی عمل کے دوران کی گئی اور نہ ہی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بیک چینل مذاکرات میں زیر بحث آئی۔ بیک چینل مذاکرات کے دوران تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کو خیبرپختونخوا منتقل کرنے کی تجویز آئی ہے لیکن حکومت کی طرف سے اس تجویز کو پذیرائی نہیں مل سکی علی امین گنڈا پور عمران خان کو راولپنڈی جیل سے خیبرپختونخوا منتقل کرانا چاہتے تھے لیکن طاقت ور حلقوں نے یہ رسک لینے انکار کر دیا۔

Facebook Comments HS

One thought on “مذاکرات یا چوہے بلی کا کھیل

  • 13/01/2025 at 2:02 شام
    Permalink

    اگر تحریر کی سرخی کچھ یوں ہوتی

    بلیوں کی ڈبل روٹی کے لئے لڑائی اور کرانا بندر کا تصفیہ

    زیادہ لطف آتا اور بات بہ آسانی سمجھ بھی آجاتی

Comments are closed.