190 ملین پاوٴنڈ کیس: یہ اصل میں سندھ کے مظلوم عوام کا کیس ہے
2013 کے انتخابات کے بعد ملک ریاض اور اومنی گروپ پیپلز پارٹی کے ڈارلنگ بن گئے۔ ملک ریاض نے حکومت سندھ کے ساتھ بحریہ ٹاوٴن کراچی کے لیے ملیر اور جامشورو اضلاع کی 16 ہزار 896 ایکڑ زمین کا معاہدہ کیا۔ بحریہ ٹاوٴن کراچی کے لیے سرکاری زمین کے ساتھ نجی زمینیں بھی خریدی گئیں جن کے لیے کہا جاتا ہے کہ طاقت کا ناجائز استعمال کر کے لوگوں پر زندگی مشکل بنا دی گئی۔ مبینہ طور پر بڑی تعداد میں نجی اراضی پر حکومت اور پولیس کی مدد سے قبضے بھی کیے گئے۔ اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے یہ منصوبہ چھیالیس ہزار ایکڑ سے زائد اراضی تک پھیل گیا۔ یہ سندھ کے عوام سے پہلی زیادتی تھی۔ [فیز ٹو سمیت بحریہ ٹاوٴن ایک لاکھ ایکڑ سے بھی تجاوز کر گیا]
قبضہ متاثرین نے بحریہ ٹاوٴن کے خلاف عدالتوں سے رجوع کیا، طویل عدالتی جنگ کے بعد سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاوٴن کی زائد اراضی کو ناجائز قبضہ قرار دے کر ملک ریاض پر 460 ارب روپے جرمانہ عائد کیا مگر متاثرین کے بجائے یہ رقم سرکار کو ادا کرنے کا حکم دیا۔ یہ بحریہ ٹاوٴن کے متاثرین کے ساتھ دوسرا ظلم تھا کہ ان کی زمین کا معاوضہ زمین مالکان کو ادا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔
بحریہ ٹاوٴن انتظامیہ پر عائد جرمانے کی رقم سپریم کورٹ میں جمع ہونے سے پہلے ہی حکومت سندھ نے مذکورہ رقم کے حصول کے لیے عدالت عظمی سے رجوع کر لیا، یہ تیسری بار قبضہ متاثرین کے ساتھ استحصال کی کوشش تھی۔
اس دور میں عمران خان وزیراعظم بن چکے تھے، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی مکمل حمایت کے ساتھ بحریہ ٹاوٴن کی انتظامیہ نے قبضے کیے ہیں اس لیے یہ رقم حکومت سندھ کو ادا کرنا دراصل بحریہ ٹاوٴن انتظامیہ کو ادا کرنے کے مترادف ہے۔
عمران خان نے متاثرین کی رقم کراچی میں وفاقی حکومت کے منصوبوں پر خرچ کرنے کی بھی بات کی مگر ملک ریاض جرمانے کی ادائیگی سے بچنے کی ترکیبیں بنا رہے تھے۔
اسی دوران ہی ملک ریاض کے خلاف ایک برطانوی عدالت نے مالی بے ضابطگیوں کے کیس میں فیصلہ سنا دیا اور ایک سو نوے ملین پاوٴنڈ حکومت پاکستان کو ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ اس فیصلے پر عملدرآمد کو ناگزیر سمجھتے ہوئے ایک ترکیب نکالی گئی کہ بحریہ ٹاوٴن پر سپریم کورٹ کے عائد جرمانے کی رقم کو برطانوی عدالت کے تحت رقم سے منسلک کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کی مدد حاصل کی گئی مگر مسئلہ یہ تھا کہ قانونی طور پر اس کی منظوری کابینہ سے لینا لازمی تھا۔
کابینہ سے منظوری تو لی گئی مگر مبینہ طور پر معاملے کی تفصیلات سے ارکان کابینہ سے پوشیدہ رکھی گئیں، بقول سابق وزرا شیخ رشید، فیصل واوڈا، شیریں مزاری و دیگر کے وزیراعظم نے اجلاس کے دوران ایک بند لفافہ لہرایا اور منظوری لے لی، طریقہ کار پر سوالات اپنی جگہ مگر یہ بات طے ہے کہ پوری وفاقی کابینہ نے ملک ریاض کو غیرقانونی ریلیف دینے کی منظوری دی جو سندھ کے غریب قبضہ متاثرین کے ساتھ چوتھا ظلم تھا۔
وقت بدلا، حالات بدلے تو سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی پر مقدمہ درج کیا گیا، کیس کو پہلے القادر ٹرسٹ کیس کہا گیا، بعد میں اس کا نام تبدیل کر کے ایک سو ملین پاوٴنڈ کیس کے نام سے میڈیا میں رپورٹ کیا جانے لگا۔ ایف آئی آر میں موقف اپنایا گیا کہ اس غیرقانونی ریلیف کے عوض ملک ریاض نے القادر یونی ورسٹی کے لیے زمین اور بھاری رقم بطور رشوت القادر ٹرسٹ کو دی، جس کے کرتا دھرتا عمران خان اور بشری بی بی ہیں۔
بحریہ ٹاوٴن کے قبضہ متاثرین کو انصاف تو نہیں ملا مگر ان کے ساتھ کیے گئے ظلم و زیادتی کی سزا مجرم کی تلاش میں ہے۔ انصاف کا فطری اصول یہ ہے کہ جس جس نے بھی ظلم و زیادتی کی ہے وہ سزا سے بچ نہیں سکتا، یہ بھی سندھ کے مظلوموں کا کیس ہے۔


