میر حسن بابا کے چاربیتے : مختصر تجزیہ


مرحوم پروفیسر ہمایوں ہمدرد اپنے پی ایچ ڈی مقالہ میں بحوالہ سید انصار ناصری کے ایک مضمون ’سرحد کی موسیقی‘ سے عبارت نقل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ ’پشتو چاربیتہ کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہے کہ اس میں چار شعر ہوں اس کے اشعار کم از کم سولہ اور زیادہ کی کوئی قید نہیں‘ ۔ موصوف پروفیسر کے خیال میں تا حال فنی طور پر معلوم کامل پشتو چاربیتہ نویس فدا گل پیڈیا بابا تھے جو با روایت فرید گل فرید صوابی سے تھے اور ہزارہ کے تناول لالو گلی میں مقیم تھے ’۔ آپ کا حینِ حیات اورنگ زیب عالمگیر کا زمانہ ہے جبکہ محمد اقبال خان غیاث الدین غوری کے دور ( 650 ہ) میں بود و باش رکھنے والے تائمینی کا مثنوی نما چاربیتہ پہلا سمجھتے ہیں جس سے اتفاق و اختلاف دونوں کی گنجائش ہے۔

ہمارے ممدوح مرحوم اخون میر حسن احسن بابا ( 1904 ع۔ 1987 ع) پشتو ادب کے اس دور سے تعلق رکھتے ہیں جس میں یہی اخوند شعر گوئی کے بے بدل اساتذہ سمجھے جاتے تھے۔ آپ کے پہلے شعری مجموعہ ’موران‘ ( 1982 ع) کے بعد ، 2012 ع میں ان کے ساٹھ سے زیادہ چاربیتوں پر مشتمل شائع ہونے والا دوسرا مجموعہ ’داخون میر حسن بابا چاربیتے‘ ہمارے اس دعوی کی تصدیق کرتا ہے۔ شعری فصاحت و بلاغت، طلاقت لسانی، حاضر دماغی، بدیہہ گوئی اور سلاست چاربیتہ نویسی کا طُرہ امتیاز سمجھا جاتا ہے۔

پشتو ادب میں ماضی قریب میں اس فن کو چار چاند لگانے والوں میں ہزارہ ڈوڈیال کے گل محمد اور پایاب، مویزے، احمد گل، احمد دین طالب، نورہ دین استاد، ملا مقصود، مکرم استاد، نواب خان، اکبر شاہ ملا، قدرت علی عرف قاضی گل، نور شاہ علی، طالب گل، نور محمد استاد، محمد دین تیلی، دلیل اخون، سعید اخون، لعل باز اخون، فیاض، جمشید، سوراج ہندو شاعر، عبدالواحد ٹھیکیدار، علی حیدر جوشی، غریب گل کسکر، شان گل استاد، مولوی عبداللہ استاد، غلام صدیق صدیق ایڈوکیٹ، بادشاہ گل استاد، فقیر شاہ مسکین، منان استاد، رضا خان ناتار، حاجی گل صوفی، نور سید، میاں محمد زمان، نثار محمد نثار، محمد اقبال خان اور متعدد اساتذہ شامل ہیں۔ عمر دراز مروت اپنی تالیف ’د چاربیتو شاعران‘ ( 2013 ع) میں چھیالیس چاربیتہ نویس شعراء کا تعارف و کلام نقل کرتے ہیں۔

ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کے خیال میں میر حسن بابا کے چاربیتوں میں نادر لسانی تراکیب کی کثرت، روزمرہ اور محاورہ کا بر موقع و برمحل استعمال اور فوری موثر ابلاغ آپ کو اپنے معاصرین سے ممتاز قرار دیتی ہے۔

میر حسن بابا کے چاربیتے برجستہ گوئی کے اہم نمونے ہیں جن میں بہ یک وقت چار چار قافیے مستعمل نظر آتے ہیں اور یہ ترتیب ہر مصرع اور ہر بند میں تا آخر اسی طرح جاری رہتی ہے۔ جو آپ کے ذخیرہ الفاظ، بلاغت، اور پُر گوئی پر دلالت کرتی ہے۔ باوجود ناکافی رسمی تعلیم کے، پانچ زبانوں پشتو، اردو، عربی، انگریزی، اور فارسی میں تخلیق کیا گیا چاربیتہ، بابا کی خداداد صلاحیتوں اور شاعری بحیثیت عطیہ خداوندی ہونے کا واضح ثبوت ہے کہ ان متعدد زبانوں میں چاربیتہ کی چستی اور برجستگی برقرار رکھنا، جو کہ مادری زبان میں ہی ممکن ہے، قارئین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔

میر حسن بابا کے چاربیتہ کے موضوعات اخلاقی مواعظ، خساستِ دنیا، فکرِ آخرت، اخلاقی تطہیر اور روایتی رومانی مضامین پر مشتمل ہیں۔ اعنی آپ رو بہ زوال اخلاقی انحطاط کا رونا روتے ہوئے اپنے قارئین کو متحرک زندگی گزارنے کے لئے عملی اور مثبت کوششیں اپنانے کا درس دیتے ہیں۔ تو اپنے اردگرد پھیلی بے کراں محرومی، معاشی اور سماجی عدم مساوات، اور ظلم و ستم کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہیں اور یوں مزاحمت کی تحریکوں کے ہر اول دستے میں بھی فکری طور پر متحرک نظر آتے ہیں۔

قرب و جوار میں پھیلی ہوئی غلط اور اسلامی تعلیمات سے متصادم رسم و رواج کی مذمت بھی کرتے ہیں اور خوش بینی اور خوش امیدی کا پیغام بھی دیتے ہیں۔ ان کی پُر گوئی، خوش نوائی اور شعری پختگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 1936 ع میں جب افغان جرگہ کے زیر سایہ، نوشہرہ میں منعقدہ، ایک طرحی مشاعرہ میں تقریباً بتیس سال کی عمر میں انہوں نے اپنی نظم پیش کی تو ان کی نظم کو دوسرے انعام سے نوازا گیا۔ اس مقابلہ میں پہلا انعام مرحوم سمندر خان سمندر کو دیا گیا تھا۔

ان کا ایک چاربیتہ موسم کے لحاظ سے پشتون مزاج اور نفسیات کو نظم کرنے کا ہے جس میں انہوں نے موسم کے تبدل و تغیر کے لحاظ سے بڑی باریک بینی سے پشتون مزاج کے اتار چڑھاؤ اور ردعمل کا جائزہ لیا ہے۔ آپ کی نظمیات میں مثبت اخلاقی قدروں کو سراہنے کے ساتھ ساتھ ان کے زوال کا مرثیہ بھی نظر آتا ہے کہ یہی زوال قومی اور اجتماعی پستی کا باعث بنتا ہے۔ سماجی موضوعات کے علاوہ بابا نے قرآنِ کریم کے بنیادی عقائد کا اتباع، حب رسول و آل رسول ( ﷺ ) سے عقیدت، امور مصلحہ، اہم سماجی، تاریخی اور مقامی سیاسی واقعات کو اپنے چاربیتوں میں جگہ دی ہے۔ اور یوں اپنے فن کے ذریعے معاشرتی تطہیر کی ذمہ داری بھی نبھائی ہے۔ لسانیاتی تغیر و تبدل کے اس دور میں آپ کے ہاں متروک الفاظ کا ایک بے بدل خزانہ بھی محفوظ کیا گیا ہے۔

ان کا دور چونکہ چاربیتہ گوئی کے عروج کا زمانہ تھا تو اس صنف میں اہم اور مستند شعراء کا سامنے آنا ایک لازمی امر تھا۔ نتیجتا آپ کو ایسے معاصرین ملے جنہوں نے شعری تخلیقات کے ذریعے پشتو ادب کو بے مثال چاربیتوں سے مزین کر دیا۔ اخون میر حسن بابا کی طرح ان کے منفرد معاصرین کے ہاں بھی متعدد شعری امتیازات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے جیسے مولانا عبداللہ کے ہاں علمیت و غنائیت، عروض اور عربی و فارسی کا امتزاج، عبدالواحد ٹھیکیدار بابا کے چاربیتوں میں مقامی لسانی محاسن اور مقامی قصہ گوئی، علاقہ شیدو کے فیاض کے ہاں شعری پختگی اور تلمیحات، علی حیدر جوشی کے ہاں مقامیت، موضوعاتی تنوع اور باریک بینی، شان گل استاد کے ہاں علمیت و فکری علویت، ملک شیر علی خان بابا کے ہاں قرآن فہمی اور اصلاحی و انقلابی رنگ اور دیگر کے ہاں متنوع موضوعات ملتے ہیں۔ عمومی طور پر عشق و محبت اور حسن و جمال کی نزاکتیں، معمہ جاتی اور مکالماتی نظمیں، مختصر کہانیاں اور واقعات بھی معاصر چاربیتہ میں نظم ہوتے رہیں۔

میر حسن بابا کے ہاں روایتی الف نامہ، جو روشانی تحریک سے منسلک شعراء کے ہاں کثرت سے ہے، تعلیمات ِقرآن و سنت، توحید و رسالت، حمد و نعت اور منقبت، متصوفانہ مضامین، مسالمہ اور حماسہ سے لے کر حسن و عشق، مکالماتی نظمیں، اور روایات و اقدار تک کے مضامین پر طبع آزمائی کی گئی ہے۔ حال ہی میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد، سے ڈاکٹر عبداللہ جان عابد کی نگرانی میں اکبر غلام نے ’میر حسن اخون بابا کی شاعری کا فنی و فکری مطالعہ‘ کے عنوان سے ایم فل کا تحقیقی مقالہ تحریر کیا ہے۔ لیکن ابھی آپ کے فکر و شعر کی کئی جہتیں وا ہونا باقی ہیں۔

Facebook Comments HS