مہنگی ترین آگ: حذر اے چیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں
جنگل کی آگ وہ قدرتی آفت ہے جس کے نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں مگر اسے مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا۔ اس کا سبب بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہے۔ خشک نباتات تیزی سے آگ پکڑتیں اور نمی سے خالی تیز ہوائیں اسے پھیلنے کے بھرپور مواقع فراہم کرتی ہیں۔ لاس اینجلس، آگ کی تباہ کن قدرتی آفت میں گھرا ہوا ہے، جو اس وقت 160 مربع کلومیٹر تک پھیل چکی ہے۔ جس میں سے 40 کلو میٹر گنجان شہری علاقہ ہے۔ آگ پھیلتے ہی لوٹ مار شروع ہو گئی جس کی وجہ سے کرفیو لگانا پڑا۔ آگ پر قابو پانے کے لئے ہزاروں نیشنل گارڈ اور جیلوں کے قیدی بھی کم پڑ گئے، ہزاروں مکانات جل چکے ہیں۔ آگ کے شعلوں نے اسکولوں، ہسپتالوں، گرجا گھروں، عبادت گاہوں، لائبریریوں، بازاروں، ریستورانوں، بینکوں، شاپنگ پلازوں اور امیر ترین رہائشی علاقوں کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ کار پارکنگز میں جلی ہوئی کاریں جگہ جگہ دکھائی دیتی ہیں۔ دو لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور اتنے مزید بے گھر ہونے کا امکان ہے۔ 190 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں سے ابھی تک 160 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ صرف پولیس، فائر بریگیڈ گاڑیوں کے سائرن اور اڑتے ہیلی کاپٹروں کا شور سنائی دیتا ہے۔ لوگ اپنے بچوں اور پالتو جانوروں کے ساتھ سڑکوں پر حیران کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ہالی ووڈ کی مشہور ایکٹرس لیٹن میسٹر، معروف موسیقار ایڈم بروڈی اور معروف بزنس وومن پیرس ہلٹن کی حسین ترین رہائش گاہیں اور ارب پتی شخصیات کے محلات راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
لاس اینجلس کیلیفورنیا کا اہم ترین امریکہ کا دوسرا بڑا شہر ہے، جو فلمی صنعت ہالی ووڈ کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ امریکی سینما کے زیادہ تر فلم اسٹوڈیوز یہیں ہیں یہ صرف امریکہ نہیں، بلکہ مغرب کی سب سے بڑی فلم نگری ہے۔ فلمی ستاروں کے قیمتی اور پرتعیش گھروں سمیت امریکہ کی مہنگی ترین جائیدادیں بھی یہیں ہیں۔ کیلیفورنیا، امریکہ کی امیر ترین ریاست ہے، جس کی مجموعی ریاستی پیداوار (GSP) 4 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ اس کی معیشت سعودی عرب: 1.068 ٹریلین ڈالر۔ ترکی: 1.108 ٹریلین ڈالر۔ متحدہ عرب امارات: 0.6 ٹریلین ڈالر۔ ایران: 0.4 ٹریلین ڈالر سے بڑی ہے۔ یہ رقبے کے لحاظ سے امریکہ کی تیسری بڑی ریاست بھی ہے، جیسے بلوچستان ہمارا سب سے بڑا صوبہ ہے۔
کیلیفورنیا کا ایک اہم حصہ غیر آباد یا کم آبادی والا ہے، بنیادی طور پر وسیع صحراؤں، پہاڑوں، جنگلات اور محفوظ قدرتی علاقوں کی وجہ سے اس کی آبادی خاصی کم ہے۔ کیلی فورنیا کی 95 % آبادی اس کی صرف 5 % زمین پر رہتی ہے۔ ”اکیو ویدر“ کے چیف ماہر موسمیات جوناتھن بورٹر نے اس تباہی کو جدید دور کی مہنگی ترین آگ کی آفات میں سے ایک قرار دیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم، حکام ہلاکتوں کی صحیح تعداد بتانے سے گریزاں ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ سے لگی۔ اس کے اثرات فوری معاشی نقصانات تک محدود نہیں بلکہ صحت عامہ اور سیاحت پر بھی طویل المدتی اثرات مرتب ہوں گے۔
”حذر اے چیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں
امریکہ میں جنگل کی آگ کی تاریخ خاصی پرانی ہے۔ اس سے قبل 1878 ء کی مشی گن کی آگ مہلک ترین سمجھی جاتی تھی۔ 1836 ء میں نیویارک بھی راکھ کا ڈھیر بنا تھا۔ 1933 ء میں لاس اینجلس کی آگ میں 29 فائر فائٹر ہلاک ہوئے تھے۔ کیلی فورنیا میں 2007 ء کی آگ نے تقریباً 10 لاکھ ایکٹر رقبے کو جلا دیا تھا۔
لاس اینجلس کی آگ نے دنیا کو ایک بار پھر یاد دلایا کہ قدرت کی طاقت کے سامنے انسان بے بس ہے۔ ماحولیاتی سائنسدان ڈاکٹر جیمز کارٹر اور دیگر ماہرین کے مطابق یہ آگ انسانی غفلت، بدلتے ماحولیاتی حالات اور قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال کا نتیجہ ہے۔ حالانکہ اس موسم میں آگ لگنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ آگ بجھانے والے ایک ماہر کا کہنا تھا کہ ”آگ کی شدت اور رفتار نے انہیں حیرت میں ڈال دیا۔ یہ آگ جنگلاتی آگ سے کہیں زیادہ شدید تھی، جیسے کسی نے قدرت کو ناراض کر دیا ہو“ ۔ جیمز ووڈ مشہور ہالی ووڈ اداکار ہیں وہ دو مرتبہ آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد اور تین مرتبہ ایمی ایوارڈز اپنے نام کر چکے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے جیمز سی این این پر انٹرویو دیتے ہوئے رو پڑے اُن کا یہ کلپ کافی وائرل ہوا۔
7 اکتوبر 2023 ء کو اسرائیل نے غزہ پر انسانی تاریخ کا بد ترین حملہ کیا۔ ہزاروں لوگ مارے گئے، لاکھوں بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ ان مظالم پر پتھر دل انسان بھی پسیج گئے جبکہ جیمز ووڈ جیسے لوگ انجوائے کر رہے تھے۔ جیمز نے ٹویٹر پر ایک تصویر شیئر کی جس میں غزہ کی ایک خاتون اپنے تباہ شدہ مکان کے ملبے پر بیٹھ کر اپنے خاندان اور گھر کی تباہی کا ماتم کر رہی تھی۔ جیمز ووڈ نے اس پر اسرائیل کی تعریف کرتے ہوئے گڈ جاب اور ایک دوسری پوسٹ میں لکھا کہ غزہ میں کسی کو بھی معاف نہ کیا جائے بچوں اور عورتوں سمیت سبھی کو مار دینا چاہیے۔
جیمز ووڈ کے رونے کی وجہ کیلیفورنیا کا رہائشی ہونا ہے۔ 7 جنوری 2025 ء کو کیلیفورنیا کے جنگلات میں بھڑکتی آگ میں جلنے والا ایک عالی شان گھر جیمز ووڈ کا تھا۔ نقل مکانی کرنے والے لاکھوں لوگوں میں وہ بھی شامل ہیں۔ جیمز بھی اس عورت جیسی تباہی اور بے بسی کا شکار ہوئے جس کی تصویر کا مذاق جیمز نے اڑایا اور دل کھول کر ہنسے تھے۔ جیمز کی سی این این پر آنسو بہاتے ہوئے بے بسی عبرت کا نمونہ بن گئی۔
گناہ زندہ دلی کہیے یا دل آزاری
کسی پہ ہنس لیے اتنا کہ پھر ہنسا نہ گیا
خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیا
ہنسی میں وعدۂ فردا کو ٹالنے والو!
لو دیکھ لو وہی کل آج بن کے آ نہ گیا


