محمد فاروق بمبے والا: تیسری قسط
استاد بڑے غلام علی خان صاحب ( 1902 سے 1968 ) کے ہاں
”آپ آل انڈیا ریڈیو بمبئی سے کیا گاتے تھے؟“ ۔ میں نے پوچھا۔
” میں غزلیں گاتا تھا۔ ایک روز جب میں ریڈیو میں پروگرام کر نے آیا تو استاد بڑے غلام علی خان صاحب بھی وہاں آئے ہوئے تھے۔ وہ کالی رامپوری ٹوپی لیا کرتے تھے۔ میں پہلے ہی لاہور سے استاد بڑے غلام علی خان صاحب کو جانتا تھا۔ میں نے انہیں سلام کیا ان کے وعلیکم السلام کہنے کے بعد میں نے کہا کہ خان صاحب آپ نے مجھے نہیں پہچانا۔ کہنے لگے کہ بیٹا دیکھا تو ہوا ہے لیکن اب یاد نہیں آ رہا۔ میں نے کہا کہ خاں صاحب میں سنگر ہوں ؛ میرا نام فاروق ہے اور آج میرا پروگرام ہے۔ کہنے لگے فاروق بیٹا میرا بھی آج ہی پروگرام ہے تو آ جائیں! میں نے کہا کہ خاں صاحب میرا تو پانچ منٹ کا پروگرام ہے جس میں، میں غزل گاؤں گا۔ کہنے لگے کہ پھر چوپاٹی میرے گھر آنا۔ میں نے کہا کہ خاں صاحب میں بھی موچی گیٹ کا ہوں! آپ محلہ شعیاں کے رہنے والے ہیں پھر میں نے اپنے محلہ اور اہلِ محلہ کے نام لئے۔ اس پر کہنے لگے کہ تم تو میرے بیٹے ہو۔ پھر سنگر بھی ہو! اب تم میرے گھر کب آؤ گے؟ میں نے کہا کہ ایک دو دن میں۔ کہنے لگے نہیں بتاؤ کب آؤ گے؟“ ۔
” خیر پھر میرا استاد بڑے غلام علی خان صاحب کے پاس آنا جانا شروع ہو گیا۔ ان کے ساتھ کھانا بھی کھاتا۔ خان صاحب تان پورہ اور سُر منڈل ٹیون کرتے پھر امیر علی خان صاحب کو کہتے کہ باجا پکڑو۔ امیر علی بڑے غلام علی خاں صاحب کا بھانجا اُن کے پیچھے ہارمونیم بجاتا تھا۔ پھر مجھ سے مخاطب ہوتے کہ فاروق بیٹا! تان پورہ چھیڑ لو گے؟ میں کہتا کہ اگر آپ کہیں تو میں چھیڑ لوں گا۔ پھر وہ گانا گاتے۔ گانے کے بعد کھانا آتا۔ پھر ادھر اُدھر کی باتیں! “ ۔
” یہ کون سا سَن تھا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” یہ 1961 کی ہی بات ہے“ ۔ بمبے والا صاحب نے جواب دیا۔
” گویا آپ 1957 میں بمبئی گئے تو پھر واپس لاہور نہیں آئے؟ میں نے پوچھا۔
” نہیں میں دو سال بعد آیا اور پھر واپس بمبئی چلا گیا تھا۔ تو پھر خاں صاحب بڑے غلام علی خان سے میرا تعلق باپ بیٹے جیسا ہو گیا۔ خان صاحب کے دو بیٹے تھے۔ بڑے، کرامت علی خان اور دوسرے منور علی خان۔ اس کو ہم لوگ مینو کہہ کر بلاتے تھے“ ۔
” نقی علی خان کے والد؟“ ۔
” جی ہاں! تو بڑھتے بڑھتے میری دعا سلام بہت سے فلمی لوگوں سے ہو گئی جیسے شیاما جس کا اصل نام خورشید تھا اور باغبان پورہ لاہور کی رہنے والی تھی، نِمّی سے جس کا نام نوّاب تھا، میاں کاردار صاحب سے اور گلوکارہ اور اداکارہ ثریا سے جو میری رشتہ دار بھی تھی!
فلم ’مُغل ِ اعظم‘ کا گانا ’اے محبت زندہ باد‘
جب فلم ’مُغلِ اعظم‘ ( 1960 ) بنی اس کا گانا ’اے محبت زندہ باد‘ کو میں نے بھی محمد رفیع کے ساتھ گایا ہے۔ اس کی ایک لائن موسیقار نوشاد صاحب کے اسسٹنٹ شفیع اور میں اکٹھے کہتے ہیں۔ شفیع مجھے محبوب اسٹوڈیوز میں ملا جہاں اس گانے کی ریکارڈنگ ہونا تھی۔ کہنے لگا کہ فاروق صاحب! میں تو آپ کو کچھ نہیں کہتا لیکن نوشاد صاحب ناراض ہیں۔ میں نے کہا کہ وہ میرے استاد ہیں میرا تو ان سے بڑا پیار ہے وہ مجھ سے ناراض کیوں ہیں؟ شفیع نے کہا کہ آپ کو نہیں پتا کہ رفیع صاحب کا گانا کرنا ہے؟ اس میں آپ کی بھی لائنیں ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ جب مجھے فاروق کی ضرورت ہے تو غائب ہو گیا۔ میں نے کہا کہ مجھے تو کوئی پتا نہیں! کہنے لگا کہ جاؤ نوشاد صاحب اوپر بیٹھے ہوئے ہیں۔ جب میں اوپر پہنچا تو ہال میں کوئی 70 میوزیشن موجود تھے ”۔
” وائلن والے کتنے تھے؟“ ۔ میں نے تجسس سے پوچھا۔
” تیس پینتیس وائلن والے تھے۔ کم از کم تیس تو تھے ہی! لیں جناب! میں نوشاد صاحب کے پاس آیا۔ وہ کہنے لگے کہ یہی تو بات ہے جب کام ہوتا ہے تو تمہارا کوئی پتا ہی نہیں! میں نے کہا کہ مجھے تو ابھی شفیع بھائی نے بتایا ہے۔ پھر نوشاد صاحب نے مجھے میری لائنیں بتائیں۔ رفیع صاحب بھی کھڑے تھے“ ( یہ بمبے والا صاحب نے ہارمونیم پر گا کر بتائیں ) ۔
شوکت دہلوی المعروف ناشاد صاحب
” کیا یہ صحیح ہے کہ موسیقار ناشاد صاحب آپ کے ذریعے دلیپ صاحب کی کوئی فلم کرنا چاہتے تھے؟ وہ ایسا کیوں چاہتے تھے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” در اصل بات یہ ہے کہ دلیپ کمار صاحب اس وقت عروج پر تھے۔ وہ شروع سے لے کر آخر تک ٹاپ پر ہی رہے! میرے تو وہ سگے بھائیوں کی طرح بڑے بھائی تھے۔ ناشاد صاحب نے مجھ سے کہا کہ دلیپ کمار سے ایک فلم مجھے لے دو تا کہ میں بھی درجہ ’بی‘ سے ’اے‘ میں آ جاؤں۔ میں نے کہا کہ ناشاد بھائی بات یہ ہے کہ میں یوسف صاحب کو کہہ سکتا ہوں لیکن نوشاد صاحب کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات بہت زیادہ ہیں کیوں کہ ان کی کئی فلموں کے گانے میں گا رہا ہوں۔ میرا ان کے ساتھ استادی شاگردی والا تعلق بھی ہے۔ اس لئے میں نہیں کہہ سکتا! آپ میرے ساتھ چلیں میں دلیپ صاحب کے بڑے بھائی نور محمد سے ملواتا ہوں۔ وہ یہ بات کہیں تو زیادہ بہتر ہو گا۔ وہ میرے ساتھ وہاں گئے۔ میں نے ساری بات بتائی تو نور محمد صاحب غصّہ میں کہنے لگے کہ میری بات سُن ناشاد! یہ میرے چچا کا بیٹا میرا بھائی ہے۔ تم نے اسے کہا کہ دلیپ صاحب سے ایک فلم لے دو۔ کیا تم نے اس سے اپنی کسی فلم میں گانے بھی لئے؟
اس پر ناشاد صاحب بولے کہ میں سمن کلیان پور کے ساتھ اِن کے دو گانے لے رہا ہوں۔ فاروق سے پوچھ لو دو دن بعد ریکارڈنگ ہے۔ اس پر نور محمد صاحب نے کہا کہ میں یوسف کو آپ کے لئے کہہ دوں گا۔ اللہ کا حکم ہوا تو کام ہو جائے گا! ناشاد بحیثیت آرٹسٹ بہت اچھے اور خاں صاحب نوری خان کے بھتیجے تھے۔ ناشاد صاحب کی بیوی کا نام لتا تھا۔ یہ موسیقار لکشمی کانت کی فرسٹ کزن تھیں۔ میں انہیں بہن جی کہہ کر بلاتا تھا ”۔
ایک دل دہلا دینے والا واقعہ
” سمن کلیان پور کے ساتھ آپ کی ریکارڈنگ کے فوراً بعد ایسی کیا بات ہوئی کہ آپ کی جان کے لالے پڑ گئے؟ یہ کیا ماجرا ہے؟“ ۔ میں نے پوچھا۔
” وہ بھی میں بتا ہی دیتا ہوں! ہوا یوں کہ محبوب اسٹوڈیو میں سمن کلیان پور کے ساتھ میرے دو عدد گانے ریکارڈ ہوئے۔ رات کے دو بجے ناشاد صاحب نے مجھے 1600 روپے دیے۔ ریکارڈنگ کے بعد جب میں گھر واپس آیا تو مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے میری انتڑیاں کاٹ دی ہوں! جب میں ٹوائلٹ گیا تو میں نے شور مچا کر اپنے ساتھی جگے ناتھ کو گھبراہٹ میں آواز دے کر بلایا اور کہا کہ میں تو مر رہا ہوں! مجھے یہاں سے اُٹھا لے۔ اس نے بعد میں بتایا کہ وہاں اتنا خون تھا جیسے خون کی بالٹی کسی نے گرا دی ہو! مجھے تکلیف تو بہت ہوئی لیکن اللہ پاک نے مجھے بچانا تھا سو بچا لیا۔ بعد میں مجھے کئی لوگوں نے کہا کہ فاروق پر جادو کا وار چلا ہے! “ ۔
” کیا یہ کسی پیشہ ورانہ رقابت میں کیا گیا؟“ ۔ میں نے پوچھا۔
” ہاں کسی نے ایسا کیا کہ فاروق کو مار دیا جائے“ ۔
” ایسا تو نہیں کہ کسی شخص کو گوارا نہیں تھا کہ آپ پلے بیک سنگنگ میں آگے جائیں! “ ۔ میں نے کہا۔
” ہاں! اُس وقت میرے پاس کافی کام تھا“ ۔
فلم ’تاج محل‘ کا گانا ’جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا۔‘
” ہدایت کار ایم صادق صاحب کی فلم ’تاج محل‘ ( 1963 ) میں موسیقار روشن کی موسیقی میں ساحرؔ لدھیانوی کے گیت ’جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا۔ ‘ کو آپ اور لتا نے ریکارڈ کروانا تھا۔ یہ رفیع صاحب سے کیوں ریکارڈ کروایا گیا؟ کچھ اس کے بارے میں بتائیں“ ۔
” دیکھیں میں جو بات کرتا ہوں صاف اور سچی کرتا ہوں! آپ نے اداکارہ شیاما کا نام سُنا ہو گا۔ اس کا اصل خورشید تھا یہ سمجھیں کہ میری بہن ہی تھی۔ اُس نے مجھے فون کیا کہ باؤ صادق ( ہدایت کار ایم صادق ) سے مل لو، میں نے باؤ صادق سے یہ شرط ڈال دی ہے کہ تم یہ گانا محمد فاروق سے کرو گے تو میں تمہاری فلم کروں گی! میں اگلے روز صبح ساڑھے دس بجے ماڈرن اسٹوڈیوز اندھیری، باؤ صادق کے دفتر پہنچ گیا۔ وہ بڑی خندہ پیشانی سے ملے۔ چائے بسکٹ منگوائے۔ پھر کہنے لگے کہ فاروق گانا ریکارڈ کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میری ریہرسل کروا کر گانا ریکارڈ کر لیں! اس پر باؤ صادق کہنے لگا کہ یار بات یہ ہے کہ فیصلہ تم نے خود کرنا ہے۔ میں نے پوچھا کیسا فیصلہ؟ مجھے جواباً کہا کہ یہ گانا تو محمد رفیع ریہرسل کر گیا ہے! “ ۔
” عجیب بات ہے ریہرسل اُن سے کروائی اور ریکارڈ آپ سے کروا رہے ہیں! “ ۔ میں نے حیرانی سے سوال کیا۔
” جی ہاں! میں نے بھی حیرت کا اظہار کیا تھا۔ خیر! باؤ صادق کہنے لگے کہ مجھے شیاما نے کہا ہے کہ یہی گانا فاروق گائے گا تب ہی میں اس فلم میں کام کروں گی۔ اب شیاما کو میں کیا کہوں؟ اسی لئے اب تم ہی فیصلہ کرو! میں نے کہا کہ باؤ جی رفیع صاحب سے میری دوستی ہی نہیں بلکہ وہ میرا بڑا بھائی ہے۔ میں بھی کسی سے کم نہیں گاتا لیکن میں یہ گانا نہیں کروں گا! پھر یہ سنگر ایسوسی ایشن کا قانون بھی ہے کہ جو سنگر گانے کی ریہرسل کرے گا وہی اسے ریکارڈ بھی کرے گا۔ کوئی بات نہیں میں آپ کی دوسری فلم کر لوں گا۔ تب وہ کہنے لگے کہ یہ بات شیاما کو کون کہے گا؟ میں نے کہا کہ میں کہہ دوں گا۔ تیسرے چوتھے دن باؤ صادق نے رفیع صاحب کو کہا کہ یار! فاروق نے گانا گانا تھا ’جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا۔‘ ۔ رفیع صاحب نے کہا کہ باؤ جی فاروق بڑا اچھا سنگر ہے وہ بھی ہماری آنے والی فلموں میں گا رہا ہے۔ باؤ جی کہنے لگے کہ فاروق کہتا ہے کہ وہ یہ گانا نہیں گا سکتا کیوں کہ رفیع صاحب میرے بھائی ہیں اور سنگر ایسوسی ایشن کا ضابطہ بھی ہے اس لئے میں نہیں گاؤں گا۔ یوں اس واقعے کے چوتھے روز میں نے شیاما کو یہ ماجرا بتا دیا۔ اس طرح یہ گانا میرے ہاتھ سے نکل گیا“ ۔
فلم ’میرے محبوب‘ کا گانا ’یاد میں تیری جاگ جاگ کے ہم۔ ‘
” فلمساز و ہدایت کار ایچ ایس رویل Harnam Singh Rawail کی فلم ’میرے محبوب‘ ( 1963 ) میں نوشاد صاحب کی موسیقی میں شکیلؔ بدایونی کے گانے ’یاد میں تیری جاگ جاگ کے ہم رات بھر کروٹیں بدلتے ہیں‘ کی میں ریہرسل کر چکا تھا۔ دماغ میرا بھی تھوڑا اُلٹ تھا، پھر اُچکل لینے کی بھی عادت ہے۔ لاہور جانے کا شوق چرایا۔ میں استاد بڑے غلام علی خاں صاحب کے پاس آیا اور کہا کہ میں لاہور جا رہا ہوں کوئی چیز منگوانا ہو تو بتائیں۔ کہنے لگے کہ کیا تم لاہور جانے کی جلدی نہیں کر رہے؟“ ۔
موسیقار او پی نیّر ( 1926 سے 2007 ) کے استاد علی بخش ظہور ( 1905 سے 1975 )
” اسی طرح میں موسیقار او پی نیّر کو ملا اور کہا کہ لاہور جا رہا ہوں اور جلد واپسی ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں میرے استاد کو سلام کہنا۔ میں حیران ہوا اور پوچھا کہ آپ کے استاد کون ہیں؟ کہا کہ سنگر علی بخش ظہور صاحب!“ ۔
” ارے! علی بخش ظہور صاحب او پی نیّر کے استاد تھے؟“ ۔ میں بے ساختہ بولا۔
” جی ہاں! میں نے بھی حیران ہو کر نّیر صاحب سے یہی پوچھا تھا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ علی بخش ظہور صاحب ٹیلر ماسٹر تھے۔ تو لطیف صاحب! میں ریڈیو پاکستان لاہور آیا اور یہاں سے علی بخش ظہور صاحب کا پتہ لیا۔ یہ سید مٹھے میں رہتے تھے۔ میں ان سے ملا اور کہا کہ کمال ہو گیا مجھے او پی نیّر صاحب نے بتایا کہ آپ اُن کے استاد ہیں! کہنے لگے صحیح بات ہے“ ۔
جناب علی بخش ظہور پاکستانی فلمی صنعت ( اگر چہ پاکستان کی کسی بھی حکومت نے کبھی بھی اس کو صنعت مانا ہی نہیں ) کے اولین مرد پلے بیک سنگر ہیں۔ وہ ہماری اولین فلم ’تیری یاد‘ ( 1948 ) کے بھی پلے بیک سنگر ہیں۔ پاکستان بننے سے پہلے وہ آل انڈیا ریڈیو پر گاتے تھے۔
دلیپ صاحب کی ناراضگی
” پھر میں دلیپ صاحب کے پاس پالی ہِل باندرا گیا۔ لان میں اداکار پران، نوشاد صاحب، دلیپ صاحب کے بھائی ناصر خان اور دیگر شخصیات بیٹھی تھیں۔ اتنے میں دلیپ صاحب بھی آ گئے اور آتے ہی کہا کہ نوشاد صاحب آپ ذرا اِدھر آ جائیں! پھر مجھے کہا کہ فاروق تم بھی آ جاؤ، میں بھی آ گیا۔ ہم تینوں لان میں کھڑے ہو گئے۔ باقی افراد انتظار میں تھے کہ دلیپ صاحب فارغ ہوں تو ادھر آئیں۔ کم و بیش 10 منٹ یہی بات ہوتی رہی کہ نوشاد صاحب فاروق کی ریکارڈنگ کب ہے؟ کہنے لگے کوئی 20 دن لگ جائیں گے۔ میں نے کہا کہ میں اس دوران لاہور سے ہو کر آتا ہوں اور اپنا ٹکٹ نکال کر انہیں دکھایا جو میں نے اپنے سیکریٹری عزیز حسن سے منگوا یا تھا۔ میرا سیکریٹری طلعت محمود کا کزن تھا“ ۔
” وہ طلعت اور میری بُکنگ کرتا تھا کیوں کہ بمبئی کے فنکشنوں میں اب میرا بھی کافی نام ہو گیا تھا۔ خیر میری بات سُن کر دلیپ صاحب نے غصّے میں کہا کہ اس ٹکٹ کو یہاں رکھو! لاہور جانے کا نام مت لو، کام چھوڑ کر مت جاؤ! تمہیں پتا بھی ہے کہ یہ کتنا بڑا کام ہے؟ تمہیں ٹاپ کی پوزیشن مِل رہی ہے۔ پھر لاہور والے کہیں گے کہ تم نے اسے واپس کیوں بھیج دیا تب میں کیا کروں گا؟ پھر میں نے نوشاد صاحب اور دلیپ صاحب سے کہا کہ میں ایک ہفتے میں واپس آ کر ریکارڈنگ کروا دوں گا“ ۔
ٹوٹی کہاں کمند
اب اس سے آگے جناب محمدفاروق بمبے والا صاحب کے ساتھ جو ہوا اس کو قائمؔ چاند پوری ( 1722 سے 1793 ) نے کچھ یوں کہا:
قسمت کی خوبی د یکھیے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا
” میں جب لاہور پہنچا تو وہاں میرے آنے کی کوئی خبر نہیں تھی۔ میری والدہ کی آنکھوں میں بڑی تکلیف تھی۔ میں نے میو اسپتال میں والدہ کا آپریشن کروایا۔ آنکھوں سے 8 دن بعد جب پٹی کھلی تو والدہ نے کہا کہ انہیں تو کچھ نظر ہی نہیں آ رہا! اب ایک اور آپریشن چھ ماہ بعد کرائے جانے کو کہا۔ والدہ نے مجھے کہا کہ جب تک میری بینائی بحال نہیں ہوتی تم نے واپس نہیں جانا! میں نے کہا کہ نہیں جاؤں گا یوں میں لاہور ہی رہ گیا“ ۔







