امریکی آگ اور فکری مغالطہ


اب جب کہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس کے ایک حصہ میں لگی آگ مایوسی اور تباہی پھیلاتی جا رہی ہے تو ہمارے ہاں اکثریت یہ سوچ کر خوش ہے امریکہ کی شامت اس کے کرتوتوں کی وجہ سے آئی ہے۔

اس طرح کا رویہ گمراہ کن ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاقی طور پر قابل مذمت بھی ہے۔ ایسے خیالات کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے نزدیک انسانی جانوں کا ضیاع، خاندانوں کی نقل مکانی اور آبادیوں کی تباہی خدائی انتقام میں محض ضمنی نقصانات ہیں۔

یہ بیانیہ جہاں ایک طرف ایسے حادثات میں ختم ہونے والی زندگی کو یکسر بھول کر معصوم لوگوں کی حالت زار کو کسی خاطر میں نہیں لاتا تو دوسری طرف آگ بجھانے میں مصروف اداروں اور اشخاص کی بہادری، مقامی لوگوں کی جرات اور استقامت کی توہین بھی کرتا ہے۔

در حقیقت یہ بیانیہ ایک ایسی زہریلی سوچ کو ہوا دیتا ہے جو دنیا میں کسی بھی جگہ ”انصاف“ ، ”جمہوریت“ ، ”انقلاب“ ”تبدیلی“ کے لیے پھیلائی جانے والی تباہی اور بربادی کو ضروری اور فطرتی قرار دیتا ہے۔ یہ بیانیہ، یہ سوچ، یہ مغالطہ انتہا پسندی، عدم رواداری اور نفرت کی آبیاری کرتا ہے۔

ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ لاس اینجلس میں ہونے والی تباہی کسی بھی طور کہیں سے نازل کیا گیا عذاب نہ ہے، بلکہ نوع انسانی کے اجتماعی اور یکساں کمزور ہونے کی ایک ایسی دلیل ہے جو اجتماعی کاوش، انسانیت اور انسانی ہمدردی کی متقاضی ہے۔

ویسے بھی امریکہ ایسے بڑے خطوں میں ایسی آگ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے، اگست 2024 میں امریکی ریاست ہوائی میں لگی آگ گزشتہ ایک سو سال میں سب سے بڑی آگ تھی جس کی وجہ سے 102 کے قریب ہلاکتوں کے علاوہ بستیوں کی بستیاں جل کر خاکستر ہو گئیں، لیکن زندگی نے دوبارہ سے رواں دواں ہونے میں کوئی دیر نہ لگائی۔

لہذا کسی بھی بد نصیبی پر خوش ہونے کی بجائے اپنا قبلہ درست رکھتے ہوئے ایسی دنیا کا خواب دیکھنا چاہیے جہاں ایسے حادثات کم سے کم ہوں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جہاں ”انصاف“ ، ”جمہوریت“ ، ”انقلاب“ ”تبدیلی“ اور ”حصول انصاف“ کی ہر کاوش پہلے سے زیادہ پرامن اور جمہوری ہو

Facebook Comments HS