نگرپارکر شہر میں کنویں سوکھ گئے، پانی کا شدید بحران


نگرپارکر (رپورٹ: عبدالغنی بجیر)

 نگر پارکر شہر میں کنویں سوکھ گئے، پانی کا شدید بحران۔ ٹاؤن کمیٹی انتظامیہ پانی مسئلہ حل کرنے سے قاصر۔ شہر میں نصب آرو پلانٹ بھی غیر فعال۔ 25 ہزار کی آبادی پانی کی بوند بوند کو ترس گئی۔ تفصیلات کے مطابق: کارونجھڑ پہاڑ کے دامن میں واقع نگر پارکر شہر کی 25 ہزار کے قریب آبادی پینے کے پانی کو ترس گئی ہے۔ شہر کے بلوچ محلہ، ہریجن محلہ، پورن واھ، خانپور، اور دیگر میں کنویں مکمل طور سوکھ گئے ہیں۔

اس سے قبل ٹاؤن کمیٹی کی جانب سے ہر چوتھے دن پر 25 فیصد آبادی کو سپلائی لائین کے ذریعے پانی کی فراہمی کی جاتی رہی ہے۔ مگر بد انتظامی کے باعث اس میں بھی بااثر لوگوں نے پائیپ لائن کے نیچے گڑھے کھود کر پانی کو آگے جانے سے روک رکھا، یوں بمشکل 10 فیصد آبادی سپلائے پانی سے مستفید ہو رہی تھی۔ مگر اب تو سپلائی دینے والے کنویں بھی سوکھ چکے ہیں۔ اسی اثناء میں تاحال ٹاؤن انتظامیہ نے پانی فراہمی کا متبادل پلان نہیں بنایا ہے۔ اسی حالت میں علاقہ مکین پہاڑی ایریا سے دور 20 کلو میٹر سے پیدل پانی اٹھانے پر مجبور ہیں۔

مذکورہ فاصلے سے فی ٹینکر 2ہزار کے حساب سے پانی بھی فروخت کیا جا رہا ہے۔ جو 95 فیصد غریب آبادی کی پہنچ سے کافی دور ہے۔۔ ذرائع کے مطابق ٹھکیداری نظام کے تحت ٹاؤن کمیٹی کی کروڑوں کی بجٹ پانی مسئلہ کے حل کی بجائے شہر میں من پسند گلیوں اور وڈیروں کے اوطاقوں تک سڑکوں کی تعمیرات میں صرف کی جا رہی ہے۔ تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹاؤن کمیٹی کی بجٹ سے سب سے پہلے پانی کا مسئلہ حل کیا جائے۔ اس سے قبل ایسے حالات میں ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے شہر میں ٹینکرز کے ذریعے بھی پانی کی فراہمی کی جاتی تھی جو اب نہیں کی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں جنگ اخبار کی جانب سے رابطہ کرنے پر ٹاؤن چیئرمین نگرپارکر سردار خان کھوسو نے بتایا کہ نگرپارکر میں کنویں سوکھ چکے ہیں، پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ جس کا حل20 کلو میٹر دور سے پائیپ لائین کو لانا ہے، مگر ہمارے پاس اس وقت صرف تنخواہوں کے لیئے بجٹ ہے۔ تاہم 6 کروڑ کے قریب بجٹ سیونگ میں ہے۔ مگر ہمیں خرچ کرنے کے اختیارات نہیں ہے۔ اگر حکومت اجازت دے تو اس بجٹ سے پانی کے مسئلے کو باآسانی حل کیا جا سکتا ہے۔ ایک کنواں ہم نے کھدوایا مگر اس کو پانی انتہائی کڑوا ہے جس کو آر او پلانٹ کے ذریعی ہی پینے کے قابل بنایا جا سکتا ہے، مگر شہر میں موجود آر او پلانٹ کم گنجائش کا ہونے کے ساتھ تکنیکی طور پر غیر فعال ہے۔ دریں اثناء شہریوں نے حکومت سندھ سے اپیل کی ہے کہ نگرپارکر کے موجود بجٹ سے فل الفور پانی مئلے کو حل کیا جائے۔

Facebook Comments HS