تجھے کیا سمجھ میرے فرض کی تجھے حال اپنا معلوم نہیں


بزرگ فرماتے ہیں میاں ضرورت سے زیادہ عقل کا استعمال بھی اچھا نہیں ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے انسان کے ذاتی نقصانات تو ہوتے ہی ہیں۔ لیکن ہاتھوں ہاتھ معاشرے میں بھی بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس بات کا اندازہ شاید وقت گزرنے کے بعد ہو بھی جائے تو پھر جو انسان نے اپنے اندر انا پال رکھی ہے۔ وہ اس غلطی کو تسلیم کرنے کی جسارت ہی نہیں کرنے دیتی کیوں کہ اگر غلطی کو مان لیا گیا تو ہمارے اندر جو منافقت ہے وہ ختم ہو جائے یہ عمل ہمارے سیاستدانوں نے ختم ہی نہیں کرنا۔

میں کافی دنوں سے اپنی نوکری میں انتہائی درجہ مصروفیت کی وجہ سے میڈیا تو کیا بلکہ ہر اس جگہ سے دور تھا جہاں سے مجھے دنیا داری کا پتا چل سکتا بس دن ہو یا رات میں اپنے دفتر ہی ہوتا اور اکثر تو حالات ایسے ہو گئے کہ نہ ماننے والی بات لگے گی آپ کو صبح آٹھ بجے میں دفتر چلا گیا اور سارا دن دفتر میں گزرا جب شام ہو تو کھانے کے وقفے کے بعد پھر کرسی پر بیٹھ گیا اسی روٹین میں تین دن گزر گے اور تب پتا چلتا جب فجر کی اذان کانوں میں پڑتی خیر میرا موضوع یہ تو نہیں تھا مگر بتانا ضروری تھا کہ ایسے ہی ہمارے دو تین ہفتے گزر گے اب کچھ دنوں سے مالک کی مہربانی سے وقت میسر ہوا ہے۔ تھوڑی فرصت ملی اور پچھلے سارے ریکارڈ اٹھا کر دیکھے تو ایسے لگ رہا تھا جیسے ہم کسی ایسی پریشانی میں مبتلا ہیں جس کا کسی کے پاس بھی حل نہیں ہو گا۔ یہاں ہم پر لوگ باتیں کر رہیں ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو اپنی ساری زندگی اپنے دین و اسلام اور ملک کی سالمیت کی بقا کے لیے صرف کر دیتے ہیں۔ مگر یہاں تو کسی شخص کو ہمارے ملک کی سالمیت کی فکر ہی نہیں ہے۔ سب ایک دوسرے سے لڑائی کرتے نظر آتے ہیں اور ہم ہر وقت جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ہمارے لیے تو یہی اعزاز ہے۔ اور انشاءاللہ اسی راہ پر گامزن رہیں گے چاہیے ہماری زندگی ہزار بار قربان کیوں نہ ہو جائے۔ مجھے تو سمجھ اس بات کی نہیں آتی کہ آخر ایک انسان پورے ملک کے امن و سکون کو کیوں داؤ پر لگا رہا ہے۔ کیا یہ فرشتوں سے بھی افضل ہے کیا اس نے گناہ نہیں کیا ہو گا۔ خیر جھوٹ تو میرے سامنے اس انسان نے ہزاروں بولے۔ مگر اب یہ ماننے کو تیار ہی نہیں میں اپنی اس تحریر میں کسی دوسرے سیاست دان کا نام نہیں لوں گا بلکہ فقط فتنہ عمران احمد نیازی کا لوں گا جس نے ہمارے شہیدوں کے مجسمہ کی تذلیل کروائی جس نے ہمارے ملکی املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا باقی بڑے دودھ کے دھلے ہوں گے۔ مگر ایسا شعور جو اس نے نوجوانوں میں پیدا کیا میں لعنت بھیجتا ہوں۔ کیا اسی کو شعور کہتے ہیں۔ میں تو ایسے شعور کو نہیں مانتا۔

شعور کی بات ہے تو سنیں شعور کیا ہے۔ ہمارے دور کی بات ہے ہم پرائمری حصہ میں پڑھتے تھے ہمیں سفری سہولت کارڈ کے لیے تصویر چاہیے تھی ہمیں اس وقت گاؤں سے میاں چنوں جانا پڑتا تھا۔ خیر ہم اقبال نگر سے بس میں داخل ہوئے تو تھوڑے وقفہ کے ساتھ ہی کافی بزرگ بھی پیچھے سوار ہو گئے اور گاڑی پہلے ہی سواریوں سے بھری ہوئی تھی اللہ پر یقین کریں اس وقت کی بات ہے بس چند سیکنڈ کے اندر تمام طلباء نے سیٹ خالی کر دی اور بزرگوں کو آرام سے بٹھا دیا۔ مگر آج آپ کو میری بات کا یقین نہیں تو لوکل گاڑی میں سفر کر کے دیکھ لیں اگر آپ کو سفید پوش بزرگ کھڑے نظر نہ آئے تو میری سزا آپ کے ہاتھ۔ یہ نیازی کے شعور یافتہ یوتھ بڑی بے شرمی کے ساتھ ٹانگیں پھیلائے بیٹھے ہوں گے۔ مجھے بتا دیں بجلی کے بل جلا کر ہمارے ملک کے خلاف بکواس کر کے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں آپ۔ اسی لیے میں کہتا ہوں میں کوئی سیاسی جماعت کا رکن نہیں بلکہ اپنے ملک پاکستان کا ایک مجاہد ہوں میرا لشکر افواج پاکستان ہے۔ اور اس کی بقا کے لیے مجھے سات نسلیں بھی قربان کرنا پڑیں تو اسے اپنے لیے اعزاز سمجھوں گا مگر فتنہ کی طرح اپنے وطن عزیز کے رکھوالوں کی عزت نفس کو کبھی مجروح نہیں ہونے دوں گا۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS