پیش بینی ہزار نعمت ہے


گزشتہ سے پیوستہ ہم اِس موضوع پر اظہارِ خیال کر رہے تھے کہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کم ہونے کے بجائے ہماری سلامتی اور بقا کے لیے سوہانِ روح بنتی جا رہی ہے حالانکہ ہماری عسکری اور سیاسی قیادتوں کی جانب سے بار بار اِس عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ہم آہنی ہاتھوں سے دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کا پوری طرح قلع قمع کر کے ہی دم لیں گے۔ اِس پر ہمارے ذہنوں میں یہ سوال کلبلا رہا ہے کہ اِس حقیقت کے باوجود کہ پاکستان کی مسلح افواج دُنیا کی بہترین فوجوں میں شمار ہوتی ہیں اور اُنہیں دہشت گردوں سے نمٹنے کا تجربہ اور حوصلہ بھی بہت زیادہ ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عسکریت پسندی میں ہولناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور پاکستان کے بعض علاقے اپنے شہریوں کے لیے ’نو گو ایریا‘ بنتے جا رہے ہیں، چنانچہ کامل سنجیدگی اور غیرمعمولی باریک بینی سے اسباب کا سراغ لگانا اور مسئلے کا ایک مستقل اور پائیدار حل تلاش کرنا حد درجہ ضروری ہو گیا ہے۔

ہمارے گزشتہ کالم کی اشاعت کے بعد ملک کے اندر اَور باہر سے سماجی امور کے ماہرین نے ہم سے بڑی تعداد میں رابطہ کیا اور تازہ ترین صورتِ حال کے مختلف اسباب کی نشان دہی کی۔ اُن کی مشترک سوچ یہ سامنے آئی ہے کہ قانون شکنی اور دَہشت گردی پر محض طاقت کے بَل بوتے پر قابو نہیں پایا جا سکتا، کیونکہ انٹیلی جنس بیسڈ فوجی آپریشن فوری خطرے پر کسی قدر قابو پا لیتے ہیں، مگر وہ سرکشی اور اِنتہاپسندی کی مکمل طور پر روک تھام نہیں کر سکتے کہ اُن کی جڑیں دور تک پھیلی ہوتی ہیں اور مختلف عوامل ذہنوں میں باغیانہ جذبات کی پرورش کرتے رہتے ہیں۔ معاشی اور معاشرتی ناہمواریاں اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی نا انصافیاں ذہنوں کو مفلوج کر دینے والی مایوسیاں ایک ایسی ذہنی فضا کی تیاری میں اہم کردار اَدا کرتی ہیں جس میں توڑ پھوڑ، احتجاج اور عوامی طاقت کا استعمال روزمرہ کا معمول بن جاتا ہے۔ نفرتوں سے معمور ماحول کی کوکھ سے دہشت گردی جنم لیتی ہے جو آگے چل کر ایک ہیبت ناک عفریت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اِس بے قابو نفسیاتی کیفیت میں کچھ ایسے لوگ نمودار ہوتے ہیں جو چرب زبانی اور غریبوں سے محبت کے ٹسوے بہا کر ہیرو کا رتبہ حاصل کر لیتے ہیں۔ اِس بنا پر اِس پوری صورتِ حال میں بڑی تبدیلی کے لیے ایک ہمہ جہتی پروگرام وضع کرنا اور اُسے عملی جامہ پہنانا ہو گا۔

ہمیں اُن فہمیدہ شخصیتوں کی باتوں میں بہت وزن محسوس ہوا، چنانچہ ہم نے اپنی تاریخ کے بڑے بڑے زیروبم کا جائزہ لینا شروع کیا اور اِس نتیجے پر پہنچے کہ پاکستان کی تشکیل کے دوران ایسے غیرمعمولی حالات پیدا ہوتے گئے جن کے باعث مستقبل کا ایک صحیح نقشہ تیار نہیں ہو سکا۔ برسوں تک سیاسی اور نظریاتی جدوجہد کرنے والے عوامی خدمت گار بھی مستقبل کے تقاضے ٹھیک طور پر نہیں سمجھ سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہٹ دھرمی اور خودغرضی معاشرے کو تشدد اَور شدید محاذ آرائی کی طرف دھکیلتی چلی گئی۔ آج ہمیں خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ غارت گری کا سامنا ہے۔ اِس کا مظاہرہ اُس وقت بڑی قوت سے ہوا جب قانونی اور آئینی طریقوں اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے ہندوستان کے سیاسی مستقبل کا پُرامن فیصلہ کیا جا رہا تھا۔ کانگریس اور مسٹر گاندھی ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے سخت مخالف تھے۔ صوبہ سرحد جس میں 84 فیصد مسلمان آباد تھے، اُس میں خان عبدالغفار خاں کی قیادت میں خدائی خدمت گار پارٹی قائم ہوئی جو بہت بڑی سیاسی طاقت کانگریس اور مہاتما گاندھی کے زیرِاثر تھی۔ 1946 ء کے انتخابات ہوئے، تو مسلم لیگ کی قیادت آپس میں دست و گریبان تھی جبکہ کانگریس کی حمایت سے ڈاکٹر خان صاحب نے حکومت قائم کر لی تھی جو قیامِ پاکستان کے شدید مخالف تھے، مگر عالمی حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ قائدِاعظم کی لاجواب سیاسی بصیرت اور بے مثل قائدانہ صلاحیت کے آگے انگریزوں اور ہندوؤں کو سرنگوں ہونا پڑا۔ مذاکرات کے نتیجے میں 3 جون 1947 ء کی شام وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے آل انڈیا ریڈیو سے تقسیمِ ہند کے منصوبے کا اعلان کیا جس کی رو سے انڈین یونین اور پاکستان کی آزاد مملکتیں 15 ؍اگست سے قائم ہونا تھیں۔ مسٹر گاندھی نے اِس موقع پر زبردست حقیقت پسندی کا ثبوت دیا اور پاکستان کا وجود تسلیم کر لیا۔ اُنہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد اپنی جان اِس پر قربان کر دی۔ وہ اِس طرح کہ تقسیم کے عمل میں 75 کروڑ روپے پاکستان کے حصّے میں آئے، مگر سردار پٹیل نے وہ رَقم اِس نیت سے روک لی تھی کہ پاکستان اپنے قیام سے پہلے ہی معاشی طور پر دیوالیہ ہو جائے گا۔ اِس پر مسٹر گاندھی نے مرن برت رکھ لیا اور مطالبہ کیا کہ پاکستان کو اُس کا حصّہ ادا کیا جائے۔ پاکستان کے حق میں آواز اُٹھانے پر مہاسبھا کے ایک جوشیلے نوجوان نتھو رام گوڈسے نے 30 جنوری 1948 ء کو مہاتما گاندھی کے سینے میں تین گولیاں اُتار دیں۔ اِس پر سردار پٹیل نے کسی تاخیر کے بغیر پاکستان کا حصّہ ادا کر دیا۔

قانونِ آزادیِ ہند میں شمال مغربی سرحدی صوبے میں اِس معاملے پر ریفرنڈم کی تجویز شامل تھی کہ وہاں کے عوام پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت میں۔ پیر مانکی شریف اور سردار عبدالرب نشتر کی قیادت میں پورا صوبہ نعرۂ تکبیر سے گونج اُٹھا اور کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کی پُرجوش حمایت سے آل انڈیا مسلم لیگ نے ریفرنڈم جیت لیا۔ اِس عظیم تبدیلی کا فوری تقاضا یہ تھا کہ ڈاکٹر خان صاحب اپنی شکست مان کر وزارتِ اعلیٰ سے مستعفی ہو جاتے اور مسلم لیگ کے ساتھ مفاہمت کی روش اختیار کرتے، مگر خان عبدالغفار خاں رِیفرنڈم سے ذرا پہلے دہلی گئے اور گاندھی جی سے ملے۔ اُس ملاقات میں واضح طور پر اُبھرتی ہوئی حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے اُنہوں نے ایک عجیب و غریب ذہنی کیفیت کا برملا اظہار کیا۔ اُنہوں نے کہا ”بہت جلد ہم ہندوستان میں اجنبی ہو جائیں گے۔ آزادی کے لیے ہماری طویل جدوجہد کا خاتمہ پاکستان کی محکومی کی صورت میں ہو گا۔ ہم باپو گاندھی سے دور ہوں گے، بھارت سے دور ہوں گے اور آپ لوگوں سے دور ہوں گے۔ کون جانتا ہے کہ ہمارے ساتھ کیا حشر ہونے والا ہے؟“
(جاری ہے )

Facebook Comments HS