سوشل میڈیا کے نوجوان نسل پر اثرات


سوشل میڈیا جدید دنیا میں ایک طاقتور قوت کے طور پر ابھرا ہے، جس نے افراد کے رابطے، معلومات کا اشتراک، اور ایک دوسرے سے جڑنے کے طریقے کو تبدیل کر دیا ہے، بلکہ یوں کہیں تو غلط نہیں کہ کافی آسان کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا مختلف ثقافتوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔ نوجوان نسل سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور خود اظہار کو بھی بڑھا رہی ہے۔ فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، اور لنکڈ ان جیسے پلیٹ فارمز دنیا بھر میں نوجوانوں کے لیے روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔

جہاں سوشل میڈیا نے نوجوانوں کے لیے بہت سی آسانیاں اور مواقع پیدا کیے ہیں، وہاں اس نے نوجوانوں کی زندگیوں میں ایک منفی انقلاب برپا کیا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا ہمارے نوجوانوں کی ذہنی، نفسیاتی، اور روحانی صحت کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کی وجہ سے نوجوانوں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ نوجوان لائکس اور فیم کے لیے ایسا مواد بنانے اور ڈالنے پر مجبور ہیں، جو حقیقت سے بہت دور ہوتا ہے۔

”امریکن جرنل آف پریوینٹیو میڈیسن“ کی تحقیق کے مطابق، سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد ایسی ہے، جو تنہائی کی شدید خواہش مند ہے اور یہ چیز انھیں انسانوں سے دور کر رہی ہے۔ اس لیے آج کے نوجوانوں میں ڈپریشن اور بے چینی کی علامات زیادہ تیزی سے سامنے آ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا نوجوانوں میں سیف ایسٹیم یعنی خود توقیری کو بھی کمزور بنا رہا ہے۔ فیس بک اور انسٹاگرام پر نظر آنے والے انفلونسرز، جو مہنگی چیزوں، گھروں، اور زیورات کی نمائش کرتے ہیں، اور یہ چیزیں نوجوانوں میں احساس کمتری کو فروغ دیتی ہیں، جس سے ان کا اپنی ذات اور صلاحیتوں پر اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز کو اس قدر پرکشش بنایا گیا ہے کہ نوجوان ڈیجیٹل ایڈکشن کا شکار ہو کر اپنا وقت اور انرجی ضائع کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا آخر حل کیا ہے؟ میرے خیال میں اگر ہم ان تجاویز پر عمل کریں تو کئی نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔ نمبر ایک: اپنے آپ سے باخبر رہیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آپ کتنا وقت سوشل میڈیا پر لگا رہے ہیں۔ اگر یہ ضرورت سے زیادہ ہے، تو اسے کم کریں۔ نمبر دو: جب بھی موبائل فون اٹھائیں، تو خود سے سوال کریں کہ آپ اسے کیوں استعمال کر رہے ہیں۔ نمبر تین: سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والے مواد کو ضرور پرکھیں۔ نمبر چار: زیادہ سے زیادہ حقیقی دنیا میں جینے کی کوشش کریں۔

کوئی بھی ایجاد اچھی یا بری نہیں ہوتی، بلکہ اسے استعمال کرنے کا طریقہ اسے اچھا یا برا بنا دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط برتیں اور اس کا مثبت استعمال یقینی بنائیں۔

Facebook Comments HS