بصارت سے محروم بچے خصوصی توجہ کے مستحق ہیں
پاکستان میں دو کروڑ 62 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ جن میں زیادہ تعداد بچیوں کی ہے۔ بچوں کو اسکولوں میں داخل نہ کروانے کی کئی وجوہات ہیں جن میں ایک وجہ عدم توجہی بھی ہے۔
اسی طرح بصارت سے محروم بیشتر بچے بھی تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔ والدین میں تعلیم کی کمی اور شعور کے فقدان کی وجہ سے نابینا بچوں کو عام بچوں کی نسبت کم باصلاحیت جان کر بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے۔ انھیں گھروں سے نکلنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ لیکن بصارت سے محروم ہونا ذہنی یا جسمانی معذوری نہیں ہے اور ایسے بچوں میں ذہنی و جسمانی نشوونما دیگر عام بچوں کی طرح ہوتی ہے یا ان سے بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ معاشرے کا کارآمد شہری بننے کے لیے صرف انہیں تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہری پور کی آمنہ بی بی بھی بصارت سے محروم ہیں لیکن وہ ایف ایس سی کر چکی ہیں۔ وہ دو بہنیں اور ایک بھائی نابینا ہیں۔ بڑی بہن بی فارمیسی جبکہ بھائی ایف ایس سی کا طالب علم ہے۔ آمنہ نے نابینا بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک اسکول کھولا ہے۔
گزشتہ روز سماجی تنظیم آئرس ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام ”عورتوں اور معذوروں کو درپیش مسائل کے حل میں کمیونیٹی کا کردار“ کے موضوع پر منعقدہ مکالمہ میں آمنہ بی بی نے شرکاء سے درخواست کی کہ مختلف علاقوں سے نابینا بچوں کی تلاش میں ’وی اسٹیپ اسکول‘ کی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ انہیں دینی و عصری تعلیم مفت دی جا سکے۔ سماجی تنظیم کے زیر اہتمام اس تقریب میں موجود سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات نے آمنہ بی بی کو یقین دلایا کہ وہ بینائی سے محروم بچوں جو اسکولوں سے باہر ہیں کو اپنے طور پر تلاش کر کے ان کے اسکول میں داخل کروانے میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ میڈیا کے نمائندوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو کہا گیا کہ تحریروں اور وی لاگز کے ذریعے اس حوالے سے شہریوں کو آگاہی اور ترغیب دینے کی کوشش کریں۔
آمنہ بی بی نے بتایا کہ ان کی والدہ ایک فلاحی تنظیم چلاتی ہیں۔ انھوں نے ہم تین نابینا بھائی بہنوں کی تعلیم و تربیت اور پرورش میں بہت سارے مسائل کا سامنا کیا ہے لیکن اب وہ چاہتی ہیں کہ دیگر نابینا بچوں کے والدین کو ان مسائل سے نجات دلائیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سے رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ ملنے کے بعد کرائے کی عمارت میں وی اسٹیپ اسکول قائم کیا ہے۔ جہاں ابھی چند ہی بصارت سے محروم بچے داخل ہوئے ہیں۔ لیکن ضلع کے طول و عرض میں بینائی سے محروم بچوں کو تلاش کر رہے ہیں جنھیں داخل کر کے نہ صرف مفت تعلیم دی جائے گی بلکہ کھانے پینے اور رہائش کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ مخیر حضرات اور فلاحی تنظیموں کے مالی تعاون سے اس پرائمری اسکول کے انتظامات اور معاملات چلائے جائیں گے۔ یہاں بچوں کو بریل نصاب کے مطابق تمام مضامین پڑھائیں جاتے ہیں۔ بینائی سے محروم بچوں کو پڑھانے اور لکھانے کے لیے یہ مخصوص نصاب ہوتا ہے۔ جس میں چھو کر حروف کی پہچان کی جاتی ہے اور عبارت پڑھی جاتی ہے۔ اسی طرح لکھائی سکھانے کے لیے مخصوص فریم اور سوئی نما اوزار کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس اسکول میں بچوں کو روزمرہ معاملات کی تربیت کے ساتھ ساتھ حفظ قرآن، انگلش لینگویج، کمپیوٹر کورس اور اخلاقیات سکھانے پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
آمنہ بی بی نے کہا کہ بیشتر معذور بچوں کو والدین چھپا کر گھروں میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اس کی ایک وجہ سماجی منفی رویے بھی ہے۔ کسی بھی معذوری کے شکار بچوں کو معاشرہ میں عام بچوں کی نسبت کم اہمیت دی جاتی ہے۔ جس سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں اور خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا پاتے۔
مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی ذمہ داری ہے کہ وہ محروم طبقات کی بہتری اور فلاح کے لیے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کریں۔ معذوری کا شکار افراد اور بچے دوسروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ اپنے ارد گرد ایسے بچوں کو تلاش کرنے کی کوشش کریں جو اسکول نہیں جاتے اور خصوصی بچے خاص توجہ کے مستحق ہیں۔


