دہشت گردی میں گاڑیوں کا استعمال

دہشت گردی کے واقعات میں اکثر اوقات گاڑیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کچھ عرصہ سے کم ہوا تھا مگر اب دوبارہ اس طریقۂ کار میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس سے انسداد دہشت گردی اداروں کی بھاگ دوڑ بڑھ جاتی ہے اور سردردی میں اضافہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں امریکی شہر نیو اورلینز لوزیانا میں ایک گاڑی نے اندھا دھند 14 افراد کو روند ڈالا جبکہ درجنوں دیگر افراد زخمی ہوئے۔
ایف بی آئی کی ابتدائی تفتیش کے مطابق اسے ایک دہشتگردانہ کارروائی قرار دیا گیا ہے جبکہ کئی دیگر اداروں نے ملزم کو ذہنی تفکرات سے فرار قرار دیا ہے کیونکہ وہ ان کا اپنا ہم وطن تھا اور وہ مصر وغیرہ کے دورے بھی کرچکا تھا۔ وہ فوج میں کئی برس عسکری خدمات سر انجام دے چکا تھا اور اس کا نام حوالدار شمس الدین جبار تھا۔ وہ افغانستان میں فوجی ڈیوٹی کرتا رہا تھا۔ بنیادیں طور پر وہ ٹیکساس کا رہائشی تھا۔ ہچگ عرصہ سے وہ داعش کے ساتھ وابستہ رہا۔ اسی روز ایک دوسرا واقعہ لاس ویگاس نیواڈا میں ہوا۔ جہاں ایک دہشت گردانہ کارروائی میں ٹیسلا کا ٹرک استعمال کیا گیا جو ٹرمپ ٹاور کے سامنے جا پھٹا۔ اس میں ملوث ملزم کا نام میتھو لاویوزبرگ ہے جو ایک سینتالیس سالہ فوجی اہلکار ہے۔ جس کا تعلق گرین بیریٹ یونٹ سے تھا اور وہ کولوراڈو کا رہائشی ہے۔ اسے بھی ذہنی خلجان کا شاخسانہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل دسمبر دو ہزار چوبیس میں جرمنی کے مرکزی شہر میجبرگ میں ایک شخص نے ایک بی ایم ڈبلیو کو دہشتگردی کے لئے استعمال کیا جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہوئے اور تین سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ کارروائی ایک سعودی عرب کے شہری نے جس کا نام طالب العبدالمحسن ہے۔ جسے موقع پہ ہی گرفتار کر لیا گیا ہے، جرمنی میں اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ کام انفرادی فعل تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات تھے۔
دراصل گاڑیوں کو استعمال کر کے بیک وقت دہشتگردوں کو کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں اولاً اس سے دہشت کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ انہیں بآسانی اپنے ہدف تک رسائی ہوتی ہے اور بڑی خبر بنتی ہے جو ان کا اصل میڈیائی ہلچل ہی ہوتا ہے۔ اس سے ان کو نہ صرف ٹیکنالوجی کے اعتبار سے بلکہ تزویراتی گہرائی اور اہمیت بھی فوراً ملتی ہے۔ آج کل گاڑیاں کرایہ پہ حاصل کرنا اور اپنی شناخت ظاہر نہ ہونے دینا بھی ایک اہم پہلو ہے کیونکہ امریکہ وغیرہ میں لوگ کرپٹو کرنسی کا استعمال کرتے ہیں جس سے آپ کو اپنی شناخت ظاہر کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ لہذا وہ بآسانی یہ گاڑی بک کرلیتے ہیں۔ دہشت گردی ایک بڑی اہم حقیقت ہے جس سے کوئی بھی حکومت اور ملک سرگردانی نہیں کر سکتا ہے۔
امریکی حکومت نے اس کے سدباب کے لئے 2001 سے لے کر آج تک آٹھ کھرب ڈالر خرچ کر ڈالے ہیں۔ اتنے بھاری اخراجات کے باوجود دنیا سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہنوز ایک تشنہ تکمیل خواب ہے۔ گاڑیوں کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ایسے 40 واقعات ہو چکے ہیں۔ ماہرین انسداد دہشت گردی سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے بہتر استعمال کرنے سے اس پہ قابو پایا جاسکتا ہے تاکہ دہشتگرد کرایہ کی جب گاڑی بک کروائیں تو پتہ لگانا آسان ہو سکے۔ اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل کے اندر ایک ٹرک کے ذریعے ہی ایک خوفناک دہشتگردانہ کارروائی کی گئی تھی۔ آج کل دہشتگردانہ کارروائیاں اکلوتے ملزمان خود کرتے ہیں اور تنظیمی ڈھانچے کی انہیں اب زیادہ ضرورت نہیں محسوس ہوتی۔ میڈیا نے اس حوالے سے اتنی سنسنی خیزی پھیلائی ہے لوگ خود ہی اکثر کسی نہ کسی دکھ اور رنجش کا اظہار کرنے کسی گاڑی میں سوار ہو کر اپنے ہدف تک پہنچ جاتے ہیں جس سے وہ نگرانی پہ معمور سپاہ کی تندخو نگاہوں سے بھی بچنے اور انہیں جل دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
جدید دور کے تقاضے پورے کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ دہشت گرد چونکہ اپنی مرضی سے اپنی پسندیدہ جگہوں پہ کارروائی کرتا ہے لہذا وقت اور حالات اس کو موافق مل جاتے ہیں۔ انسداد دہشت گردی اداروں کو جب تک خبر ہوتی ہے تب تک وہ کارروائی کر کے انہیں زچ کر دیتا ہے وہ ہمیشہ ان سے دو ہاتھ آگے ہی ہوتا ہے۔ ہمارے جانبازوں کو ہمہ وقت چوکنا رہنا ہو گا اور دہشت گردی کے ہر حربے کو ناکام کرنا ہو گا۔ ہم بحیثیت مجموعی قومی فریضہ سر انجام دے سکتے ہیں۔

