الفاظ کا مصور۔ محمد سجاد جہانیہ
یادوں کے پرندے جب خیال کے پر لگا کر اڑتے ہیں تو کہانی کار تخیل کی زمین پر کہانیاں بونے لگتا ہے۔ پڑھنے والے ان کہانیوں کی بالیوں سے اپنی اپنی سمجھ کے دانے چنتے ہیں۔ کہانی ایک ہی ہوتی ہے مگر تخیل اسے ذاتی پرواز عطا کرتا ہے۔ یادوں کا آئینہ اور تخلیق کی روشنی مل کر جس انسان کی تصویر بناتے ہیں دنیا اسے محمد سجاد جہانیہ کے نام سے جانتی ہے۔ سجاد جہانیہ، یادیں، قلم اور قرطاس مل کر جب سفر کرتے ہیں تو تخلیقیت اور ماضی کا امتزاج سانس لیتا نظر آتا ہے۔
کہانیاں سجاد جہانیہ کی روح میں بستی اور روم روم سانس لیتی ہیں۔ وہ دل کے قلم کو دماغ کی روشنائی میں بھگو کر زندگی کے کاغذ پر آزاد چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی تحاریر کلاسیکی اور رومانوی مزاج رکھتی ہیں۔ فطرت ان کی کہانی سے جڑی رہتی ہے۔ عام آدمی ہیں اس لیے عوام کے لیے لکھتے ہیں۔ معاشرتی اقدار کا پاس بھی رکھتے ہیں مگر فرسودہ خیالات اور روایات کو ضرب بھی لگاتے ہیں۔ ان کی تحریریں قاری کو ایسی سرزمینوں پر لے جاتی ہیں جہاں محبت، تخیل اور خوابوں کے پھول کھلتے ہیں اور وہ ان پھولوں کو الفاظ سے مصور کر دیتے ہیں جہاں حقیقت اور فینٹسی کی سرحدیں مدہم ہو جاتی ہیں اور حقیقت کا سورج طلوع ہوتا نظر آتا ہے۔ ناسٹلجیا میں مبتلا افسانہ نگار اپنے ماضی کے تجربات، یادوں اور گزرے زمانے سے تخلیق کا جہاں آباد کرتا ہے۔ سجاد جہانیہ ایسے موضوعات پر لکھتے ہیں جن سے وہ جذباتی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی تحریروں میں درد میں خوشی اور کھویا ہوا سکون محسوس کیا جا سکتا ہے۔ قاری ان کی انگلی تھامے ان کی کٹیا میں آ بیٹھتا ہے جہاں کہانیاں پر پھیلائے سوتی اور جاگتی ہیں۔ ان کی کہانیاں رہ گزر کے رہنما ہیں جنہیں دن میں پڑھنے والے راہ بھٹکنے کی بجائے راہ پا جاتے ہیں۔ مضامین ان پر صحیفوں کی طرح اترتے ہیں۔ ان کا رنگ دھرتی کا رنگ ہے جس میں زمین و آسمان کے سبھی رنگ گھلے ہیں اس لیے ان کی کہانیوں کے عفریت بھی ہمیں عام انسان دکھائی دیتے ہیں یہ انداز ہی انہیں اپنی الگ پہچان دیتا ہے گویا سلسلہ سجادیہ کی بنیاد یہیں سے رکھی گئی ہے۔
سجاد جہانیہ کی پانچ کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ”بے ثمر راہ کا مسافر“ (کالمز۔ 2013 ) ”عورت کتھا“ (ناولٹ 2014 ) ”ادھوری کہانیاں“ (خاکے 2018 ) ”ٹاہلی والا لیٹر بکس“ ( 2021 ) اور ”کہانی پوچھتی ہے (“ 2024 ) ۔ ان میں ”عورت کتھا“ کتاب نگر ملتان نے اور باقی چاروں کتابیں سنگ میل پبلی کیشنز لاہور نے چھاپیں۔ ان کے کالم ”عام آدمی“ کو جو ان کی کتاب ”بے ثمر راہ کا مسافر“ میں شامل ہے کو ”آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی“ (اے پی این ایس) کی طرف سے سال 2008 کا بہترین کالم قرار دے کر انہیں بہترین کالم نگار کا ایوارڈ دیا گیا جو اس وقت کے صدر آصف علی زرداری سے وصول کیا جس کی الگ داستان اسی کتاب میں ”شب زادے“ کے عنوان سے موجود ہے۔
سجاد جہانیہ کی کتاب ”کہانی پوچھتی ہے“ کا سرورق ہی نیرنگی زمانہ کی کئی کہانیاں سنا دیتا ہے۔ شکستہ عمارت، موسموں کی سختیاں جھیلتے شدت کرب سے نڈھال در و دیوار اور کھڑکی سے جھانکتا سپید بالوں والا سر، سر سے کچھ نیچے ایک پیشانی اور جھریوں زدہ متجسس چہرہ جس کی ہر جھری میں جلتے گزرے وقت کے چراغ جو اپنی ٹمٹماتی روشنی سے چہرے کی آنکھوں کو کم کم روشنی مہیا کرتے ہیں اور وہ چاند کی بڑھیا زمیں اور زمیں زادوں کو تحیر بھری معصومیت سے تکتی ہے اس کے پیچھے قدرے تاریکی میں جو ہے وہ تاریخ ہے اور کہانیاں ہیں۔ شکستہ بالکنی پر ایک تولیہ ہے جو شاید خاتون بزرگ کا بیٹا دفتر جاتے ڈال گیا ہے اور ماں نے اس کے جاتے ہی اپنی آنکھیں واپسی کی رہ گزر پر رکھ دی ہیں۔ ایک بوسیدہ چادر جو ماضی کے کواڑ چھپانے کی ناکام کوشش کرتی نظر آ رہی ہے۔ اس کتاب میں کل گیارہ کہانیاں ہیں جن میں سے تین ان کی کتاب ”عورت کتھا“ میں بھی شامل ہیں۔
”میں تیری نچائی ناچوں“ محبت اور نا آسودگی کی کہانی ہے انسان کی دو قسموں کے درمیان تیسری قسم کو سماج جن نظروں سے دیکھتا اور سلوک کرتا ہے وہ انسان کو لا انسان بنانے کی داستان ہے۔ اسے حقارت، نفرت اور تکلیفوں کا سامنا ہے اسے کوئی نہیں سمجھتا بجائے خود اس کے، پھاتاں بھی نہیں وہ اپنی نا آسودگیوں کی بیمار ہے۔ مسیحائی کی کوئی صورت نہیں فقیر کی کٹیا خالی ہو تو پھر شہتیر میں پھندا لگا کر پھاتاں کو گہری نیند ہی سونا ہے اس کے ساتھ جاگنے والا جو کوئی نہیں۔
”سایہ زدہ“ سماجی جبر کی کہانی ہے۔ ذات پات، اونچ نیچ اور خاندانی دباؤ کے آگے محبت کی کوئی اوقات نہیں۔ ”منڈیر کی چڑیل“ یہ کہانی بھی عورت کتھا میں شامل ہے۔ جنسی نا آسودگی، بے رحم ازدواجی رشتہ پیچیدہ نفسیاتی اور سماجی مسئلہ ہے جو کسی انسان کو عفریت کا روپ دھارن کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ نوری کا نور خود اسی کو جلا کر خاکستر کر رہا ہے مسجد کا نوجوان امام تو یونہی راہ میں آ گیا۔ ”بازو“ آقا اور غلام کی کہانی ہے۔ عورت جس کی حیثیت جنس، شے یا مال کی ہے جس میں کسی کے گناہ کی سزاوار کوئی اور ہے۔ کسی عورت کو بھگانے یا اغوا کرنے کے بدلے میں اپنی بہن بیٹی کا کھونٹا زبردستی تبدیل کرنے کا نام ”بازو“ ہے پھر وہ بازو انتقاماً کسی کا گلا کاٹے تو کیا غلط ہوا۔ ”مفرور“ محبت میں دھوکے کی روایتی کہانی مگر انجام الگ ہے محبت انسان کو اندھا کر سکتی ہے تو دھوکہ آنکھیں کھول بھی سکتا ہے۔ ”درگاہ کی بھینٹ“ سرداروں، خانوں اور خانوادوں کے مظالم اور مظلوم کے بدلے کی کہانی ہے۔ ”ٹردا فقیر“ تکیوں، مزاروں اور اونچی قبروں کی پیدائش اور ان سے حاصل ہونے والے ثمرات کا قصہ ہے کہانی پڑھ کر غلام عباس کا افسانہ ”آنندی“ جانے کیوں ذہن کے کسی گوشے میں در آیا حالانکہ دونوں کی کہانی بالکل مختلف ہے مگر رزق کی تلاش میں کہیں آنندی کی طوائفیں نئے شہر بساتی ہیں اور کہیں حاجی صاحبان مقبرے سجاتے ہیں۔ ”شب فراق“ مرد کی ناآسودہ محبتوں کی داستان ہے جب اسے محبت ملی تو بیس سال سکون سے گزار بیٹھا مگر بیس سال بعد محبت پھر انگڑائی لے کر بیدار ہوئی تو گزرا وقت اور ماہ و سال بچھو کا ڈنک بن گئے۔
کہانی پوچھتی ہی نہیں بہت کچھ بتاتی بھی ہے۔ کئی ان کہے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے نئے سوالات اٹھاتی ہے پھر ان کے جواب کھوجتے قاری کو گھمن گھیریوں میں ڈوبتے ابھرتے دیکھتی ہے اور یہ کہانی کی محبت ہے کہ اپنے قاری کا ہاتھ کبھی نہیں چھوڑتی۔ سجاد جہانیہ کے ہاں عورت مجبوریوں کے باوجود بے بس نظر نہیں آتی۔ ان کے افسانوں کی عورت بہت بہادر اور شاندار ہے کیونکہ اس کا خالق انہیں طاقتور دیکھنا چاہتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں ”عورت کتھا“ ”اور“ کہانی پوچھتی ہے ”کی مشترکہ کہانی“ رات ”کی۔ بھابی شادی سے پہلے کسی اور کی محبت مبتلا ہے۔ شادی کے بعد جب یہ بات نند کے علم میں آئی تو بھابی نے حاجرہ کو اسی نامراد کے ہاتھوں اغوا کروا دیا جو اس کا اپنا نا ہو سکا۔ پھر ظلم اور جبر کا اندھا کھیل ہے اور حاجرہ کی ہمت اور حوصلہ۔ نہ جبر ہتھیار ڈالتا ہے اور نہ حوصلہ بے حوصلہ ہوتا ہے دونوں کہانی میں خوب پٹ سیاپا ڈالتے ہیں اور آخر حوصلہ فتح یاب ٹھہرتا ہے۔ تخلیق کار اپنے فن کا مالک ہوتا ہے وہ جب چاہے کہانی کا رخ موڑ دے اور اسے نئے انجام سے ہم کنار کر دے۔ 2014 میں چھپی عورت کتھا کی حاجرہ جو آزاد ہو کر بھی اپنی جان نہ بچا سکی 2024 میں کہانی پوچھتی ہے میں موت کے منہ سے باہر آ کر اپنی زندگی جینے کو تیار ہو گئی اب اس کہانی کا انجام دوبارہ لکھتے ہیں۔
حاجرہ اپنے محسن حاجی رحیم بخش کے گھر سے اپنے باپ کے گھر آ گئی اور مراد علی سے اس کی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ اس رات جب گرم ہوا سے رات کا بدن تپتا تھا خوشی محمد کے گھر والے صحن میں گہری نیند سو رہے تھے۔ دو سائے چارپائیوں کے درمیان رینگتے تھے ایک کے ہاتھ میں لاٹھی اور دوسرے کے ہاتھ میں پستول تھا۔ لاٹھی والے نے دایاں ہاتھ سختی سے حاجرہ کے منہ پر جما دیا اور دوسرے ہاتھ سے اسے اٹھا کر کھڑا کر دیا اور اس کے کان میں سرگوشی کی ”چپ چاپ چلی چل نہیں تو یہیں منکا توڑ دوں گا“ حاجرہ بری طرح تڑپی اور سائے کے ہاتھوں سے نکل گئی۔ گھر کے مکین اس ہنگامے سے بیدار ہو گئے خوشی محمد بیٹی کو بچانے آگے بڑھا تو لاٹھی والے نے اسے دھکا دیا اس کا سر چارپائی کے بھاری پائے سے ٹکرایا اور سر سے خون بہنے لگا اس پر غنودگی طاری ہو گئی۔ سائے نے کہا ”شاداں نہیں رہی تو رہے گی تو بھی نہیں“ پستول والا چلایا ”اوئے کر مے! وقت نہیں ہے تقریر بند کر اور یہ لے اس کا قصہ ختم کر“ اس نے پستول کر مے کی طرف اچھالا عین اس وقت پستول اچھالنے والے پر قیامت ٹوٹ پڑی یہ اکرم تھا حاجرہ کا چھوٹا بھائی جو غسل خانے سے نکل کر آیا تھا اور کپڑے دھونے والا تھاپا اٹھا کر پستول والے پر ٹوٹ پڑا اس وار سے پستول والے کا توازن بگڑا اور پستول کچھ دور زمین پر جا گرا۔ اچانک حاجرہ کے جسم میں گویا زندگی بیدار ہوئی اس نے سائے کو پوری طاقت سے دھکا دیا اور تڑپ کر پستول اٹھا لیا ابھی کوئی کچھ سمجھ بھی نہ پایا تھا کہ لگاتار فائر کی آواز گونجی اور دونوں سائے اپنے خون میں نہاتے زمین بوس ہو گئے حاجرہ گویا ہوا میں معلق تھی۔ دودھ دہی بلوتے، گھر کے کام کاج کرتے ہاتھوں نے کیسے پستول تھاما اور چلایا اسے خبر نہ ہوئی۔ حاجرہ نے خود کو روندنے والوں کی لاشوں کی طرف پُرسکون نظروں سے دیکھا اور آہستگی سے چلتی اپنی چارپائی پر آ بیٹھی۔ آج اس نے اپنے جسم اور روح کی تذلیل کا بدلہ لے کر اپنی زندگی بچا لی تھی۔




