خیبر پختونخوا میں بدامنی کا چیلنج


چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے پشاور میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات میں کہا ہے کہ دشمن خوف پھیلانے کی کوشش کرے گا مگر ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ملک میں امن خراب کرنے کی ہر کوشش کا فیصلہ کن اور بھر پور جواب دیا جائے گا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس موقع پر کور کمانڈر پشاور نے آرمی چیف کو ملک میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردوں کے خلاف جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر خیبر پٌختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی موجود تھے۔ بعد ازاں آرمی چیف نے خیبر پختونخوا کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں سے الگ ملاقات کی۔ شرکا نے دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ سیاسی آواز اور عوامی حمایت کی ضرورت پر زور دیا۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایک ایسے وقت میں پشاور کا دورہ کر کے صوبے کی اہم سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں سے ملاقات کی ہے جب ایک جانب صوبے میں بدامنی اپنے عروج پر ہے جس میں روزانہ کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز اور پولیس سمیت عام لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب صوبے میں اثر و رسوخ رکھنے والی تمام قابل ذکر جماعتوں بشمول مرکز اور صوبے میں برسر اقتدار جماعتیں مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بدامنی اور خون ریزی کا ذمہ دار سیکیورٹی اداروں اور ماضی کی پالیسیوں کو قرار دیا جا رہا ہے جس میں دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے کردار کو بھی ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح تیسری جانب آرمی چیف کی مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین سے یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب افغان طالبان کے پاکستان کے متعلق تیور مسلسل بدلتے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے بات جہاں پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر بمباری تک جا پہنچی ہے وہاں افغان طالبان نے پہلی دفعہ کھل کر یہ کہہ کر بھی پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے کہ ٹی ٹی پی ان کی مہمان ہے اور افغان حکومت کے پاکستانی مطالبے پر ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنا ناممکن ہے۔ اس حوالے سے ایک اور اہم پیش رفت طالبان حکومت کا پاکستان کو ریڈ کارڈ دکھاتے ہوئے غیر متوقع طور پر بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہے۔

واضح رہے کہ طالبان بھارت سرد مہری کی برف اس وقت پگھلنا شروع ہوئی جب بھارتی سیکرٹری خارجہ نے گزشتہ دنوں پہلے کابل کا دورہ کر کے افغان حکومت سے تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور بعد ازاں اس ملاقات کے فالو اپ میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ دوحا قطر میں باقاعدہ ملاقات اور مذاکرات کیے گئے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شاید افغانستان بھارت بڑھتے ہوئے ان تعلقات ہی نے آرمی چیف کو خیبر پختونخوا میں افغانستان سے ہونے والی دراندازی کے خلاف جاری آپریشن اور اس آپریشن میں ممکنہ تیزی پر صوبے کی سیاسی قیادت کے متوقع ردعمل کے تناظر میں یہاں کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھا ہے جس کا ثبوت آرمی چیف کی جانب سے صوبے میں جاری بدامنی میں دشمن ملک کے ملوث ہونے اور اس حوالے سے خدشات کا اظہار کرنا ہے۔ حیران کن طور پر آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں ان جماعتوں اور ان کے سربراہان کے نام نہیں بتائے گئے جو اس ملاقات میں آرمی چیف کے ساتھ موجود تھے البتہ آئی ایس پی آر کی ویب سائٹ پر جو تصاویر شیئر کی گئیں ہیں ان میں اے این پی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان، سابق وزراء اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی، پرویز خٹک، محمود خان، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ، صوبائی صدر سکندر حیات شیرپاؤ، مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر امیر مقام، جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمٰن، نائب امیر پروفیسر ابراہیم خان اور جمعیت العلماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عطا الرحمٰن شامل ہیں۔

اس ملاقات کی دیگر تفصیلات تو سامنے نہیں آئیں اور نہ ہی اس میں شریک راہنماؤں کی طرف سے ان کے پارٹی موقف سامنے آئے ہیں کہ آیا انھوں نے صوبے میں امن و امان کی مخدوش ترین صورتحال پر آرمی چیف کے سامنے اپنا کیا موقف رکھا اور صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی سے نجات نیز ٹی ٹی پی سے نمٹنے میں افغان حکومت کی بے اعتنائی اور اس کے نتیجے میں دگرگوں ہوتے ہوئے پاک افغان تعلقات مزید یہ کہ وہاں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اس کے پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا پر پڑنے والے اثرات کا مداوا کیسے ممکن ہو گا یا اس کے لئے کیا اقدامات اٹھائے جا سکیں گے نیز اس حوالے سے صوبے کی با اثر سیاسی جماعتوں کا کردار کیا ہو گا اس حوالے سے کوئی بھی بات نہ تو واضح طور پر سامنے آئی ہے اور نہ ہی کسی بھی جماعت نے دہشت گردی کے شکار صوبے کے عوام کو صوبے میں امن وامان کو درپیش چیلنج کے حوالے سے بند دروازے کے پیچھے ہونے والی اس ملاقات کا کوئی حال احوال بیان کیا ہے جس سے صوبے کے عوام کی تشویش میں ہونے والا اضافہ ایک فطری عمل قرار پائے گا۔

Facebook Comments HS