مشیت ایزدی یا انسانی لاعلمی؟
مذہب اور سائنس میں اختلاف نظریہ ارتقا، زمین کے گول ہونے، یا سورج کے زمین کے گرد گھومنے کا نہیں ہے۔ ڈارون اور گلیلیو سے کئی ہزار سال پہلے قدیم یونان اور مصر کے پروہت تھیلز اور ایناگزاگورس کو قابل گردن زدنی قرار دے رہے تھے۔ نظریہ ارتقا سے کئی سو سال پہلے ہی غزالی اور ابن تیمیہ جیسے نابغے بوعلی سینا اور الفارابی کو واجب القتل بتا رہے تھے اور مجدد الف ثانی کہلانے والا شیخ احمد سرہندی افلاطون بقراط اور ان کے علم کو آگے بڑھانے والے مسلمان سائنسدانوں کو ہی نہیں بلکہ جیومیٹری اور الجبرا کے پورے علم کو گمراہ کہہ رہا تھا۔
مسئلہ یہ ہے ہی نہیں کہ کچھ سائنسی دریافتیں کچھ مذہبی عقائد کے خلاف ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ سائنس کا بنیادی اصول مذہب کے بنیادی اصول کے اتنا خلاف ہے کہ سائنس کی ہر ترقی مذہب کی موت کی طرف ایک قدم ہے۔ اسی لیے سائنس کے انسانیت پر تمام احسانات کے باوجود سائنسدانوں کو مذہبی طبقات کی طرف سے صرف زبانی مخالفت ہی نہیں بلکہ قتل و غارت کا سامنا کرنا پڑا۔
انسانی تاریخ کے آغاز سے ہی مذہب نے اپنا مقدمہ انسان کی لاعلمی اور بے بسی پر رکھا ہے۔ انسان نہیں جانتا کہ اولاد کیسے ہوتی ہے، زندگی کیسے ملتی ہے، وبائیں کیسے پھوٹتی ہیں، زلزلے کیسے آتے ہیں۔ لہذا تمام خواہش کے باوجود وہ اپنی مرضی سے اولاد نہیں پا سکتا، زندگی نہیں بڑھا سکتا، آفات کو نہیں روک سکتا۔ مذہب ان تمام نعمتوں اور مصائب کو ایک ماوارئی ہستی، خدا یا بھگوان یا اللہ یا دیوتا، کی مرضی کہتا ہے جو جب چاہے اولاد دے، چاہے کسی کو لڑکا دے یا لڑکی، چاہے کہیں عذاب لے آئے تو کہیں نعمتیں برسا دے، لہذا ان تمام نعمتوں کو پانے اور آفتوں سے بچنے کا واحد طریقہ خدا کی مرضی حاصل کر لینا ہے۔ جب خدا چاہے گا تو لازمی ہو جائے گا اور خدا نہیں چاہے گا تو کبھی نہیں ہو گا۔
سائنس کا مقدمہ مذہب کے بالکل مخالف کھڑا ہے جس میں ہر چیز کا ایک سبب ہوتا ہے اور جب تمام اسباب پتہ چل جائیں تو سائنس ہر چیز کے بارے میں پہلے ہی بتا سکتی ہے۔ اور سائنس کا اعلیٰ مقام یہ ہے کہ کسی بھی چیز کی سو فیصد پیش گوئی کردی جائے۔ جب یہ ہو جاتا ہے تو خدا کی مرضی مانگنا ایک ثانوی کیا، بے کار محض شے بن کر رہ جاتا ہے کیونکہ لوگوں کو پتہ ہوتا ہے کہ کیا ہو گا اور کیا نہیں۔ کتنا ہی خدا پر اعتقاد کیوں نہ ہو کوئی شخص یہ دعا نہیں مانگتا کہ اس کی لڑکی لڑکا بن جائے، لیکن میٹرنٹی وارڈز کے باہر لوگ دعاؤں میں مشغول ہوتے ہیں کہ اولاد نرینہ ہو۔ حالانکہ اس بچے کی جنس کا تعین کئی مہینے پہلے ہو چکا ہوتا ہے۔ اب اگر ڈاکٹر چھ مہینے پہلے ہی بچے کی جنس بتا چکا ہو تو کوئی بھی میٹرنٹی وارڈ کے باہر دعا کرتا نہیں ملے گا۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ اگر مستقبل میں سائنس شادی کے وقت ہی دونوں ماں باپ کا ڈی این اے لے کر بچوں کی جنس بلکہ صحت، ذہانت اور شکل و صورت بتا سکے تو لوگ خدا کی مرضی مانگنے کے بجائے درست ڈی این اے کے پارٹنر کی تلاش میں لگ جائیں گے۔
جیسے ہی سائنس ترقی کرتی ہے، مذہب کا دائرہ کار سکڑ جاتا ہے اور لوگ خدا کی مرضی تلاش کرنے کے بجائے ان اسباب کو تلاش کرنے لگتے ہیں جن سے وہ اپنی مراد پا سکیں۔ اسی لیے مذہبی طبقات کو سائنس کی بنیاد، یعنی اسباب کی تلاش سے شدید پرخاش رہی ہے کیونکہ مذہبی فکر کے نزدیک اسباب کی تلاش اور اسباب پر انحصار انسان کو خدا سے دور لے جاتا ہے۔ مثلاً ابن خلدون نے لکھا کہ عقل زیادہ استعمال کرنا خدا سے دور کر دیتا ہے۔ اس لیے جو کچھ بھی ہو اس کے دنیاوی اسباب تلاش نہ کرو کیونکہ سب اللہ ہی کی مرضی سے ہوتا ہے۔ بس اللہ پر بھروسا کرو، اور اللہ کی مرضی پانے کی کوشش کرو۔ غزالی ان معاملات میں اتنا بے عقل تھا کہ وہ تمام اہل فلسفہ کو کافر تک کہتا رہا جو ہر چیز میں اللہ کی رحمت یا اللہ کا عذاب ڈھونڈنے کے بجائے اسباب اور حل تلاش کرتے تھے۔ بوعلی سینا جیسے طبیب اور فارابی جیسے سائنسدان اور فلسفی کو غزالی نے اس لیے بھی واجب القتل قرار دیا کہ وہ ہر معاملے کے اسباب جان کر اس کے عملی حل تلاش کرنے پر زور دیتے تھے۔ اگر ہر چیز کا عملی حل تلاش کر لیا جاتا تو مذہب کہاں جاتا؟
اولاد، زندگی، وبائیں، زلزلے اور تمام قدرتی آفات کا اگر سائنس پہلے سے ہی بتا دے اور پھر ان کا حل بھی بتا دے اور لوگ یہ بھی دیکھ لیں کہ سائنسی حل پر عمل کرنے والے نوے فیصد لوگ اپنی مراد پا جاتے ہیں جبکہ خدا کی مرضی ڈھونڈنے والے ایک فیصد لوگ بھی منزل مراد پر نہیں پہنچ پاتے تو مذہب ایک مذاق بن کر رہ جاتا ہے۔
مذہب کا ایک دفاع تو یہ رہا کہ سائنس تمام معاملات حل نہیں کر سکتی۔ یہ صحت کی دوائی شاید بنا دے مگر زندگی میں کامیابی کا فارمولا نہیں بتا سکتی۔ وہ یقیناً خدا سے ملے گا۔ لیکن سائنس کا دائرہ کار قدرتی مظاہر سے بڑھ کر معاشیات، عمرانیات اور نفسیات تک پھیل گیا جہاں سائنسدان خوشی، غم، کامیابی، ناکامی، کے اسباب تک تلاش کرنے لگ گئے۔ سائنس کا دائرہ کار جیسے جیسے ان علوم میں پھیل رہا ہے، مذہب کا دائرہ سکڑ رہا ہے۔
مذہب کا دوسرا دفاع یہ رہا کہ سائنسی حل کے ساتھ دعا بھی کی جائے لیکن جیسے جیسے لوگوں نے دیکھا کہ سائنسی حل میسر ہونے کے بعد دعا کرنے والے اور دعا نہ کرنے والے برابر کا فیض اٹھا رہے ہیں تو دعا اور مشیت الہی کی تلاش لوگوں کو لایعنی لگنے لگ گئی۔ مثال کے طور پر آج سے سو سال پہلے ڈاک کا نظام انتہائی فرسودہ تھا تو لوگ اپنے لفافوں پر کئی تعویذ بناتے تھے اور اہم خطوط پر دم درود بھی کروا کر ڈاک میں بھیجتے تھے تاکہ ان وظائف کی برکت سے خدا کی مرضی یہ ہو جائے کہ خط بروقت گم ہوئے بغیر پہنچ جائے۔ پھر سائنسی بنیادوں پر ڈاک کا نظام بہتر کیا گیا، ، ایک ایک مسئلے کا سبب دریافت کیا گیا اور اس کو حل کیا گیا تو آج ڈی ایچ ایل اور فیڈیکس سے خط ہی کیا اپنے اصلی ڈاکیومنٹ بھیجتے ہوئے کسی کو خیال نہیں آتا کہ خدا کی مرضی کے بارے میں سوچے بھی۔ سب کو پتہ ہے کہ یہ خط بروقت ملے گا ہی ملے گا۔
خدا کو کتنا ہی ماننے والا کوئی یہ دعا نہیں کرتا کہ کٹی ہوئی ٹانگ اگ آئے لیکن خدا کو نہ ماننے والے بھی کینسر میں مبتلا ہو کر مناجات پڑھتے نظر آتے ہیں کیونکہ کینسر کے معاملے میں ابھی انسان کا علم ادھورا ہے۔ کسی بھی معاملے میں جب اسباب کا مکمل سلسلہ پتہ چل جاتا ہے، تو انسان کی لاعلمی اور بے بسی ختم ہوجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی خدا کی مرضی کا تصور بھی ختم ہوجاتا ہے۔ اس مقام پر آ کر وظائف دعائیں یا خدا سے سوال لایعنی بن کر رہ جاتا ہے کیونکہ کیونکہ انسان سو فیصد پیشین گوئی کر سکتا ہے کہ کیا ہو گا اور کیا نہیں۔
جیسا کہ کارل سیگان کا کہنا ہے کہ خدا انسان کی لاعلمی کا نام ہے۔ جب تک انسان کو کسی چیز کی وجوہات کا علم نہیں ہوتا وہ اس چیز کو خدا کی منشا سمجھتا ہے لیکن جیسے ہی ان وجوہات کا علم ہو جاتا ہے تو خدا کی منشا کی جگہ انسان کی منشا لے لیتی ہے۔ جب تک نزلہ زکام تک کا علاج نہیں تھا تو نزلے سے صحتیابی یا موت اللہ کے ہاتھ میں تھی لیکن آج انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ چاہے تو دوائی لے یا نہیں۔ چاہے تو ان انسانوں تک بھی دوا پہنچا دے جو اس کی استطاعت نہیں رکھتے یا پھر ان کو مرتا چھوڑ دے۔ لیکن کینسر سے شفا آج بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے، کم سے کم اس وقت تک جب تک کینسر کا مکمل علاج دریافت نہیں ہوجاتا۔ لہذا جیسے جیسے سائنس کا دائرہ کار بڑھتا چلا جاتا ہے، خدا کا دائرہ کار کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی سائنس اور مذہب کا بنیادی اختلاف ہے۔ رہا نظریہ ارتقا یا زمین کا گول ہونا، تو یہ محض جنگ جاری رکھنے کے بہانے ہیں


