کیا زندگی میں روح جسم سے علیحدہ ہو سکتی ہے؟


اس کالم کو شروع کرنے سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس کالم میں جو واقعات اور مشاہدات درج کیے جا رہے ہیں وہ سائنسی اصولوں کے مطابق ثابت شدہ نہیں ہیں۔ گو کئی دہائیوں سے کئی ڈاکٹر اور سائنسدان ایسے واقعات کو شائع کر رہے ہیں لیکن ایک طویل عرصہ سے ان دعووں کو نا قابل یقین قرار دے کر نظر انداز کیا گیا تھا۔ لیکن اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ ان کو حتمی طور پر غلط ثابت کر دیا گیا ہے تو سائنسی طور پر یہ دعویٰ بھی غلط ہو گا۔

یہ بھی درست ہے کہ اس قسم کے تجربات سے گزرنے کے دعوے کئی مرتبہ غلط اور من گھڑت بھی نکلے ہیں اور اس لئے آنکھیں بند کر کے ان پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس کے ساتھ اس قسم کے تجربات سے گزرنے والے کئی لوگ علمی اور سائنسی طور پر ایسا مقام رکھتے ہیں کہ ان کو چھوٹتے ہی جھوٹا قرار دینا مشکل ہو گا۔ بلکہ خود ان کے مطابق وہ ایک طویل عرصہ ان کا ذکر اس لئے نہیں کرتے رہے کہ لوگ ان کی ذہنی حالت پر شک کریں گے۔ لیکن اب سائنٹیفک امریکن جیسے ٹھوس سائنسی جرائد بھی ان پر تحقیقی مقالے شائع کر رہے ہیں۔ یہ واقعات کس نوعیت کے ہیں اس کی ایک مثال درج کی جاتی ہے جو اسی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

ایک سفارت کار جن کا نام François D ’Adesky ہے اور اب برسلز میں رہائش پذیر ہیں کئی دہائیوں تک اس واقعہ کا ذکر کرنے سے گریز کرتے رہے۔ جب وہ تیرہ برس کے تھے تو اپینڈکس کے آپریشن کے دوران انہوں نے یہ دیکھا کہ وہ اپنے جسم سے علیحدہ ہو کر فضا میں بلند ہو رہے ہیں اور وہ ایک سرنگ میں تیزی سے سفر کرتے ہوئے اس سے باہر نکلے ہیں۔ اور وہاں انہیں کئی روشنی کے بنے ہوئے وجود نظر آئے اور ان میں ان کے فوت ہونے والے دوست اور دادی بھی شامل تھے۔

اور ایک وجود نے انہیں بتایا کہ ابھی ان کا وقت نہیں آیا اور اسی تیز رفتاری سے وہ اپنے جسم کی طرف واپس آئے اور جب اپنے جسم میں واپس آ گئے تو انہیں درد کا احساس شروع ہوا۔ وہ ساری عمر یہ سوچتے رہے کہ وہ کیا کام تھا جس کے لئے انہیں واپس آنا پڑا۔ ان کا خیال تھا کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں ماحولیات کے لئے ایسی کاوشیں کی تھیں جو کہ دنیا کے مستقبل کے لئے اہم تھیں۔ جب انہوں نے یہ پڑھا کہ اس قسم کے تجربات پر سائنسی تحقیق ہو رہی ہے تو انہوں نے اپنے اس تجربہ کا ذکر کرنا شروع کیا۔

جو لوگ اس قسم کے تجربات سے گزرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ان میں اکثر اس وقت اس قسم کے واقعات کا سامنا کرتے ہیں جب وہ موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہوں۔ لیکن بعض لوگ اس کے علاوہ بھی ایسے تجربات سے گزرے ہیں۔ دماغ پر کام کرنے والے بعض سائنسدان کہتے ہیں کہ جو لوگ دل کی دھڑکن رکنے کے بعد موت کے منہ سے واپس آئیں ان میں سے دس پندرہ فیصد اس قسم کے مشاہدات ملاحظہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور کئی سائنسدان اب ان کی سچائی کے قائل بھی ہوئے ہیں اور کئی سائنسدان اس کی تردید بھی کرتے ہیں۔ اس کو Near Death Experience یا Out of Body Experience کا نام دیا جاتا ہے۔

اس موضوع پر کچھ واقعات اس وقت سامنے آئے جب 1975 میں ریمنڈ موڈی نام کے ایک ڈاکٹر نے اس قسم کے واقعات کو لائف آفٹر لائف نامی کتاب میں شائع کیا۔ گو کہ اس وقت بہت کم ڈاکٹروں اور سائنسدانوں نے ان دعووں کی طرف توجہ دی لیکن اب کئی سائنسی ٹیمیں اس موضوع پر تحقیق کر رہی ہیں۔ مشی گن یونیورسٹی کے میڈیکل سکول کے سائنسدان جیمو بورجیگن کا کہنا ہے کہ ایک سوال جو سائنسدانوں کو پریشان کرتا ہے کہ جب دل کی دھڑکن رکتی ہے تو آکسیجن کی کمی کے باعث سب سے پہلے دماغ کو کام بند کرنا چاہیے لیکن ایسے واقعات میں ایسی صورت حال کے باوجود انسان کس طرح ایک طویل نظارہ دیکھ سکتا ہے یا سوچ سکتا ہے۔ یا ایسے تجربات کی یاد اس کے ذہن میں کیسے محفوظ رہ سکتی ہے؟

(Lifting the Veil on Near-Death Experiences , Scientific American (Neuroscience) 14 May 2024)

اب اس موضوع پر بہت سی تحقیقات سامنے آ چکی ہیں لیکن کچھ اس سلسلہ میں ریمنڈ موڈی کی پہلی کتاب کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ اس کتاب پر یہ اعتراض ضرور ہوتا ہے کہ مصنف اس میں واقعات کو سائنسی طرز پر درج نہیں کیا لیکن کتاب کے آغاز میں ہی مصنف نے یہ واضح کر دیا تھا کہ ان واقعات کو محض درج کیا جا رہا ہے ان پر کوئی سائنسی تحقیق پیش نہیں کی جا رہی۔ مصنف کا دعویٰ ہے کہ اکثر واقعات کے درمیان بہت سے مشترکہ پہلو نظر آتے ہیں۔

مثال کے طور پر اکثر نے اپنے آپ کو اپنے جسم سے علیحدہ ہو کر بلند ہوتے دیکھا۔ اور وہ واضح طور پر اپنے آپ کو دوسروں کو دیکھ رہے تھے اور ان کی باتیں بھی سن رہے تھے۔ پھر ایک سرنگ نما چیز سے تیزی سے گزر کر دوسری طرف روشنی میں برآمد ہوئے۔ وہاں انہوں نے فوت ہونے والوں اور دوسرے وجودوں کو بھی دیکھا اور ان سے مکالمہ بھی ہوا۔ لیکن یہ مکالمہ کسی زبان میں نہیں تھا بلکہ ذہن سے ذہن خیالات منتقل ہو رہے تھے۔ کوئی خوف یا درد محسوس نہیں ہو رہا تھا بلکہ ایک سکون کی کیفیت تھی اور جب انہیں یہ احساس دلایا گیا تھا کہ انہیں واپس جانا ہے تو یہ خیال انہیں پسند نہیں آیا۔

اس دوران وقت کسی اور پیمانے پر چل رہا تھا۔ اور کئی لوگوں کی آنکھیں کے سامنے تمام زندگی کے حالات تیزی سے گزر رہے تھے جیسے کوئی فلم چل رہی ہو۔ اور اس دوران ذہن بالکل صاف تھا خیالات دھندلائے ہوئے نہیں تھے۔ اور بعد میں بھی انہیں یہ واقعات خوب یاد رہے۔ جب یہ لوگ اپنے جسم میں واپس آئے تو انہیں تکلیف بیماری اور درد کا احساس شروع ہوا۔

اس قسم کے واقعات کو اگر صحیح تسلیم کیا جائے تو تمام مذہبی پہلو ایک طرف رکھ کر ان تجربات کی کیا سائنسی طبی اور نفسیاتی وجوہات ہو سکتی ہیں؟ بعض کا نظریہ ہے کہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے یہ نظارے نظر آتے ہیں لیکن اصولی طور پر اس صورت حال میں تو دماغ کو کام بند کرنا چاہیے اور انسان کو مکمل طور پر بیہوش ہونا چاہیے۔ کیا یہ علاج کے دوران استعمال ہونے والی ادویات کا کوئی اثر ہے؟ لیکن اس نظریہ کے حق میں بھی کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔ یا پھر یہ سب کچھ ایک وہم اور مبالغہ سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔

ڈاکٹر موڈی نے اس موضوع پر بہت سی کتب لکھیں۔ ایک کتاب Mindsight بھی یہ شائع ہوئی جس میں مصنفین نے بعض پیدائشی نابیناؤں کے واقعات درج کیے ہیں جنہوں نے موت کے منہ میں جا کر ایسے نظارے دیکھے لیکن اس کتاب کے محققین کے نزدیک یہ دیکھنا اس طرز پر نہیں تھا جس طرح بینا لوگ دیکھتے ہیں بلکہ یہ لوگ اپنے ذہن سے دیکھنے کے انوکھے تجربہ سے گزر رہے تھے۔ اور اسی کتاب میں اس قسم کے بعض واقعات کو غلط بھی قرار دیا گیا ہے۔

اگرچہ اس رو میں مذہبی اور دہریہ خیالات کے احباب میں بحث شروع ہونا ایک قدرتی بات ہے لیکن ان پیچیدہ بحثوں سے علیحدہ ہو کر اس عمل کا محض سائنسی اور نفسیاتی اعتبار سے بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کی گئی تھی کہ یہ شواہد ابھی اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ انہیں سائنسی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ کیا کبھی بھی ہم ان واقعات کی تہہ تک پہنچ سکیں گے یا یہ ہمیشہ معمہ ہی بنے رہیں گے۔ جیسے مذہبی بحثیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔

برٹرینڈ رسل دہریہ نظریات کے تھے۔ ایک انٹرویو کرنے والے نے ان سے دریافت کیا فرض کریں کہ اگر مرنے کے بعد آپ کی خدا سے ملاقات ہو گئی اور اس نے پوچھا کہ تم مجھ پر یقین کیوں نہیں لائے تھے تو آپ کیا کہیں گے انہوں نے کہا کہ میں جواب دوں کہ مجھے کافی ثبوت نہیں ملا تھا۔ یا جیسے اقبال نے لینن اور خدا کی ملاقات کی روئیداد ایک نظم میں بیان کی ہے۔ اس میں خدا کے حضور لینن کہتے ہیں :

میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے
ہر دم متغیر تھے خرد کے نظریات

Facebook Comments HS