میں، میرے دل کی چیر پھاڑ اور فلسطینی ایوارڈ کی کہانی


دسمبر اگر قومی زندگی میں ایک دکھ بھرا ایک کرب انگیز مہینہ ہے تو اِس 2024 کا دسمبر میرے لیے بھی ذاتی حوالے سے کچھ ایسے ہی اندوہناک احساسات کا سامان لے کر آیا تھا۔

سچ تو یہ ہے کہ زندگی کھوتے کی طرح جیون کی بار برداری کی گٹھڑیاں اٹھاتے گزار دی۔ بیماری کیا ہوتی ہے؟ اس سے شناسائی ہی نہ تھی۔ کبھی سالوں میں ایک آدھ دفعہ نزلہ، فلو یا دانت کے درد کی اذیت کے سوا کچھ اور تو یاد ہی نہیں۔ دو اؤں کے نام پر زندگی بھر پینا ڈول کے ایک ڈیڑھ پتے کی ہی ممنون احسان رہی۔ تندرستی جیسی اس عظیم عنایت پر اوپر والے کی احسان مند کتنی رہی؟ اس کا شاید اندازہ یا اس کی گہرائی سے شناسائی کچھ اتنی یاد نہیں۔ شاید زندگی کی تیز رفتاری میں اتنا سوچنے اور غور کرنے کی فرصت نہ تھی۔

یکم دسمبر کی رات بہت بھاری تھی۔ آج تیسرا دن تھا اور میں وقفوں وقفوں سے انجائنا کے دردوں سے گزر رہی تھی۔ سال بھر پہلے ایسے ہی ایک حملے سے نکلنے پر میرا فیصلہ تھا کہ مجھے سرجری نہیں کروانی۔ بس احتیاط، دوائیں اور دعائیں چلیں گی۔ پر بندے کی منصوبہ بندیوں کی کیا اوقات؟ ابھی سال ہی گزرا تھا کہ اس مصیبت کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ دو دن ٹھیک گزرے۔ تیسری رات تکلیف دوبارہ شروع تھی۔ شدید درد نے پورے وجود میں اذیت بھر دی تھی۔ بہتے آنسوؤں کے درمیان میں نے بڑی بہو کو دیکھا جو مضطرب انداز میں میرے پاس کھڑی تھی۔ چھوٹے بیٹے پر نظریں ڈالیں جو پریشانی کی تصویر بنا مجھے تکتا تھا۔ چھوٹی بہو کو دیکھا جسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسے میرا دکھ بانٹ لے؟

میں نے آنکھیں بند کیں اور شکستہ پا سی اُس کے پاس چلی گئی جو ہر درد کا درماں ہے۔ بہتی لڑیوں کے درمیان میں نے سسکاری بھری۔

” میرے لیے کیا بہتر ہے کیا نہیں؟ اس کا فیصلہ اب تجھے کرنا ہے۔ اب جب چیزیں اس موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہیں تو پھر میں کیا اور میری فیصلہ کرنے کی اوقات کیا؟“

ڈاکٹرز ہوسپٹل کی طرف بھاگے۔ دو اؤں کی بھر مار اور درد کو کنٹرول کر کے صبح نے سرجن ڈاکٹر خالد حمید کے سامنے کھڑا کر دیا تھا، جنہوں نے پوچھا تھا اب کیا کرنا چاہتے ہو؟ بچوں نے میری طرف دیکھے بغیر فیصلہ سنا دیا تھا۔ ”آپریشن کروانا ہے۔ اور تو کوئی راستہ نہیں۔ گزشتہ سال ہی ہو جانا چاہیے تھا۔“

بہت سے چہرے میری آنکھوں کے سا منے ابھرے تھے۔ غزالہ نثار، عذرا اصغر، تسنیم، منٹو اور بھی کئی جو سرجری کے بغیر چل رہے تھے۔ کیا میں ان میں شامل نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ چیر پھاڑ آخر میرے ساتھ کیوں؟ سوالوں کی ایک لمبی لام ڈور تھی جو میرے اندر سے نکلی مگر اِسے کسی نے نہیں سنا اور جسے میں سنا نا چاہتی تھی اُس کا تو کچھ پتہ ہی نہیں تھا۔ میں نے منہ پھیر لیا تھا۔

اور شاید یہی وجہ تھی کہ میں ایک ٹرانس کی سی کیفیت میں آ گئی تھی۔ دماغ گم سم، ہونٹوں پر مُہر، نہ کوئی دُعا، اندر جیسے ہرا حساس سے خالی، کھلی آنکھیں جیسے تماشائی بنی ہوئی، جیسے شکوہ کناں ہوں۔ جیسے کہتی ہوں،

”ہن جنا تیری مرضی نچا بیلیا“ ۔ (اب جتنا میری مرضی نچا اے دوست)

اتوار کا دن ٹیسٹوں میں گزرا۔ سینئر سرجن خالد حمید شام کی وزٹ پر تھے۔ جن سے میں نے یہ اصرار کرنا ضروری سمجھا کہ پیر کی صبح پہلا آپریشن میرا کر دیں۔ شاید میں چاہتی تھی کہ اب جو کٹا کٹی نکلنا ہے وہ نکل جائے۔ زندگی میں کہیں اگر خدمت گزاری کا کوئی بوجھ میرے اوپر تھا تو وہ میری محبوب ماں اور میری پیاری بھاوج کا تھا۔ بچوں کے لیے تو بڑے عجیب سے احساسات تھے۔ یہاں انہیں دینا تو ہے پر لینا کچھ نہیں۔ یہ بھی میری ممتا کی سرشت نے اپنے نام کر لیا تھا۔

تاہم اس کڑے موڑ پر دونوں بیٹوں، ان کی بیویوں اور بیٹی نے جو پروگرام مرتب کیا وہ حیران کن تھا۔ پہلا کام بڑے بیٹے غضنفر نے تمام رشتہ داروں کو اسپتال آنے سے منع اور دعاؤں میں یاد کرنے کا کہ کر آسان کر دیا۔

پیر کی صبح جب میں ابھی باتھ روم میں برش کرتی اور منہ ہاتھ دھوتی تھی۔ ایک محبت بھری آواز کمرے میں گونجتی سیدھی باتھ روم کے دروازے میں آن ٹھہری۔ باغ و بہار جیسی شخصیت کی حامل، نامور شاعرہ، ادیبہ اور ماہر تعلیم، یاسمین حمید کی کزن، بوٹل گرین سوٹ اور سفید اور آل میں لپٹی، چھوٹے چھوٹے بال جو سر پر کچھ کھڑے کچھ بیٹھے ہیں جیسی صورت کے غماز، ہونٹوں پر دلنواز سی مسکراہٹ سے اپنا تعارف آپ کرواتی ہوئی ڈاکٹر سارہ۔

یاسمین حمید ہمیشہ سے میری بے حد پسندیدہ اور محبوب شخصیت رہی ہے۔ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں وہ اور میں ایک کمرے میں چار دن اکٹھے رہی تھیں۔ میں یاسمین کی ازلی مداح اس وقت بھی اس کی منفرد شاعری کا راگ الاپنے لگی تھی۔ ڈاکٹر سارہ بے تکلفی اور کھلے ڈلے پن میں مجھ سے بھی چار ہاتھ آگے نظر آئی تھیں۔ مجھے ہاتھ سے تھام کر واش روم سے باہر لا کر بات چیت موبائل پر ریکارڈ بھی کرنے لگیں۔ بہت محبت سے انہوں نے مجھے حوصلہ دیا اور بتایا کہ وہ سرجن خالد کی ٹیم کا حصہ ہیں اور وہیں آپریشن تھیٹر میں ہی ہوں گی۔

سٹریچر پر لیٹ کر آپریشن کے لیے جانا شاید کسی بھی حساس انسان کے لیے جیسے سوئے دار جانے والی بات ہو پر یہاں تو عجیب سے احساسات جیسے بے حسی، لاتعلقی دوسرے لفظوں میں بے نیازی سی جو جیسے ڈھکے چھپے لفظوں میں شکوہ کناں تھی۔ تندرستی والی زندگی کی سدا دعا مانگی۔ یہ ہونی تو کہیں سان گمان میں بھی نہ تھی۔ اور پھر جیسے رگ و پے میں تیرتا پھرتا دکھ بھرا خاموش سا احتجاج جیسے کچھ کہنے لگتا، تیرے سامنے بیٹھ کے رونا تے دکھ تینوں نہیں دسنا۔ ہم لوگ بھی کیا ہیں روٹھنے میں کتنے تگڑے اور شکر کرنے میں کتنے بخیل۔ اس اتنی طویل زندگی میں تندرستی اور صحت جیسی نعمتوں کا کتنا شکریہ ادا کیا تھا میں نے۔ خود سے سوال کیا۔ اور جو جواب تھا وہ سچی بات ہے شرمندگی سے لتھڑا پڑا تھا۔

Facebook Comments HS

One thought on “میں، میرے دل کی چیر پھاڑ اور فلسطینی ایوارڈ کی کہانی

  • 19/01/2025 at 4:08 صبح
    Permalink

    May Allah bless you with health and a speedy recovery
    Aameen

Comments are closed.