شاردا سنہا۔ بہار کی کوئل


کہتے ہیں کہ ہماری آواز اور ہمارے الفاظ ہمیں دوسری مخلوقات پر فوقیت دلاتے ہیں۔ ہمارے اپنے درمیان ہمیں وہ لوگ زیادہ اچھے لگتے ہیں جو اپنی آواز اور الفاظ کو شعر و ادب اور موسیقی کی دنیا کے لئے مخصوص کر دیتے ہیں۔ اپنے الفاظ اور آواز کے ذریعے یہ لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ ہمیں خوابوں کی دنیا میں لے جاتے ہیں اور ہم تلخی ء ایام کو بھول جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثر لعل و گوہر کی مانند پتھروں کے ڈھیر میں چھپے ہوتے ہیں جنہیں کوئی جوہری ڈھونڈ نکالتا ہے یا پھر وہ اپنی مسلسل محنت کی بدولت لوگوں کی نظروں میں آ جاتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیتے ہیں۔

میٹھی، سریلی اور مدھر آواز کس کو نہیں بھاتی، اس لئے ہمارے ہم عمر لوگوں کا بچپن ریڈیو سیلون اور بناکا گیت مالا کے گانے سنتے گزرا اور جہاں تک خواتین گلو کاروں کا تعلق ہے تو ذہن میں زبیدہ بیگم، کوثر پروین، منور سلطانہ، نسیم بیگم، آئرین پروین، نورجہاں اور لتا کے نام آتے ہیں۔ ان کے گانے ہم یا تو ریڈیو پر سنتے تھے یا فلموں میں ہیروئن پر فلمائے جاتے دیکھتے تھے اور تب ہی ایوب خان کے زمانے میں دختر صحرا ریشماں دریافت ہوئیں اور پاکستان اور ہندوستان میں یکساں مقبول ہوئیں اپنی ایک اور پسندیدہ گلو کارہ تھر پارکر کی مائی بھاگی کو بھی ہم نے ریڈیو پرہی سنا لیکن آج ہم جن گلو کارہ کا ذکر کرنے جا رہے ہیں، ان کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے، اور نام ہے ان کا شاردا سنہا۔

ان سے ہمارے قلبی تعلق کی وجہ کچھ اور ہے جو ہم آگے چل کر آپ کو بتائیں گے لیکن قارئین کی سہولت کے لئے بتاتے چلیں کہ سلمان خان کی ڈیبیو فلم ”میں نے پیار کیا“ کا ایک گانا بے حد مقبول ہوا تھا: ”پل پل لئے جاؤں میں توری بلیاں۔ کہے تجھ سے ساجن یہ تو ہری سجنیا۔“ یہ گانا شاردا کا گایا ہوا ہے۔ اب اہل سیاست کچھ بھی کہتے رہیں، ہم سب جانتے ہیں کہ ہندوستانی فلمیں پاکستان میں اور ہمارے ٹی وی آرٹسٹ اور گلوکار ہندوستان میں بے حد مقبول ہیں۔

اس گانے سے مقبولیت حاصل کرنے والی شاردا بہار میں پہلے سے ایک لوک فنکار کی حیثیت سے مقبول تھیں۔ مذہبی اور شادی بیاہ کی تقریبات میں لڑکیاں ان کے گانے گاتی تھیں۔ جیسے ایک زمانے میں ہمارے ہاں شادیوں پر ”دیساں دا راجا، میرے بابل دا پیارا، امبڑی دے دل دا سہارا، ویر میرا گھوڑی چڑھیا“ گایا جاتا تھا۔ ہم ان کے گیتوں کے سحر میں کیسے گرفتار ہوئے، اس کا سبب اجے برہمتاج اور ان کی بیگم وبھا رانی بنے۔ ہمارے چین میں قیام کے دوران احفاظ بیجنگ میں غیر ملکی زبانوں کے اشاعت گھر میں کام کر رہے تھے تھے تو اجے ماہنامہ چین با تصویر کے ہندی ایڈیشن میں کام کرنے کے لئے آئے اور یوں ہماری ان سے دوستی ہوئی۔

ہندوستان واپس جا کے اجے فلمی صحافت سے وابستہ ہو گئے اور اب وہ ہندوستانی فلمی صنعت کا چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا ہیں اور بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔ وبھا رانی اکیڈیمیا اور تھیٹر سے وابستہ رہیں۔ انہوں نے بھی بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ اجے اور احفاظ سوشل میڈیا کی مہربانی سے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے۔ میں اور وبھا رانی اب بھی واٹس ایپ پر رابطہ کر لیتے ہیں۔ اب تو ہم دونوں کینسر سروائیور ہیں۔ لیکن وبھا اسی طرح تھیٹر اور یو ٹیوب و سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں۔

دس بارہ سال قبل ہندوستانی صحافیوں کا ایک وفد کراچی پریس کلب آیا تو اجے نے وفد میں شامل اپنے ایک دوست کے ہاتھوں احفاظ کے لئے شاردا سنہا کے گانوں کی دو سی ڈیز بھجوائیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ احفاظ کو شاردا جی کے گانے بہت پسند ہیں۔ ہندی فلموں میں پس پردہ گلوکاری سے پہلے ایک لوک فنکار کی حیثیت سے وہ بھوج پوری اور میتھیلی میں گاتی تھیں۔ ان کے گیت بہار میں چھیت پوجا اور شادی بیاہ کی تقریبات کا لازمی جزو بن گئے ہیں احفاظ جب اچھے موڈ میں ہوتے تھے تو گھر میں بھوج پوری زبان بولتے تھے۔

اس شام جب احفاظ نے گھر آ کر مجھے شاردا جی کے گانوں کی سی ڈیز تھمائیں تو میں کمپیوٹر پر بیٹھی کچھ کام کر رہی تھی۔ میں نے اسی وقت ایک سی ڈی لگائی اور شاردا جی کی آواز سن کر مجھ پر سرشاری کی کیفیت طاری ہو گئی۔ میں کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گئی۔ ایسی دنیا میں جہاں کوئی غم کوئی پریشانی نہیں تھی، صرف شاردا جی کی میٹھی آواز تھی اور میں اس کے سحر میں گم تھی۔ خوشی اور سرشاری کے یہ لمحات میرے لئے کس قدر قیمتی تھے، اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو ہمہ وقت غم جہاں، غم یار اور تیر ستم کا نشانہ بنتے ہوئے خوش رہنا بھول جاتے ہیں۔

میں نے اسی وقت واٹس ایپ میسج بھیج کریہ خوشی دینے پر وبھا رانی اور اجے بھائی کا شکریہ ادا کیا۔ یہ وہ دن تھے جب احفاظ کی بیماری کا آغاز ہو چکا تھا۔ وہ ایک فائٹر تھے اس لئے بیماری کا بھی پانچ سال تک خوب مقابلہ کیا لیکن ’مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دعا کی’ کے مصداق اپریل 2020 میں ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تو ہم انہیں گھر لے آئے۔ وہ غشی کے عالم میں رہتے تھے اور میں ان کے سرہانے بیٹھ کر ماضی کے قصے دہراتی رہتی تھی یا پھر شاردا جی کے گانے لگا دیتی تھی۔

بچوں اور مجھے یقین تھا کہ یہ گانے سن کر ان کی تکلیف کم ہو جاتی ہو گی۔ شاردا جی کی آواز تھی ہی اتنی سکون آور۔ یہاں تک کہ آخری رات بھی ہم نے انہیں یہ گیت سنوائے تھے۔ وبھا رانی اور اجے بھائی شاردا جی کے دوست تھے اور وہ انہیں پہلے ہی بتا چکے تھے کہ احفاظ ان کے فین ہیں اور وہ احفاظ کی خیریت دریافت کرتی رہتی تھیں، یہ آخری رات والی بات بھی ان تک پہنچ گئی تھی۔ اتفاق دیکھئے کہ احفاظ کے رخصت ہونے کے چار سال بعد اکتوبر 2024 میں مجھے بریسٹ کینسر تشخیص ہوا۔

سرجری کے لئے اسپتال داخلے کی تیاری ہو رہی تھی کہ وبھا رانی کا فون آیا کہ شاردا جی کینسر کا شکار ہو نے کے بعد اسپتال میں داخل ہیں اور ان کے بیٹے نے درخواست کی ہے کہ ہم ایک وائس میسیج بھیج کر ان کے لئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کریں تا کہ وہ اپنی والدہ کو سنوا سکیں۔ یہ خواہش میرے لئے حکم کا درجہ رکھتی تھی۔ اس لئے اپنی خرابیٔ صحت کے باوجود میں نے وائس میسج بھجوایا اور پھر پانچ نومبر 2024 کو خبر ملی کہ اب شاردا جی ہم میں نہیں رہیں۔

۔ 2018 میں اپنے لوک گیتوں پر انہیں پدم بھوشن اعزاز سے نواز گیا۔ اس سے پہلے انہیں پدم سری اور ناٹک اکیڈمی ایوارڈز مل چکے تھے۔ انہوں نے بچپن میں ہی کلاسیکی موسیقی سیکھنا شروع کر دی تھی۔ لوک گیت انہوں نے بعد میں گائے۔ بہار کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والی شاردا جی بہتر برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں لیکن اپنے مداحوں کے دلوں میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گی اور ان کی میٹھی مدھر آواز ہماری سماعتوں میں رس گھولتی رہے گی۔

Facebook Comments HS